سینما کے ریٹائرڈ دادا


ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں لوگ پستول کے استعمال سے بہت ہی کم واقف تھے۔ مخصوص علاقوں میں چھوٹے موٹے غنڈے ضرور ہُوا کرتے تھے لیکن صحیح معنوں میں بدمعاش اسی کو مانا جاتا تھا جس کا ایک خاص لب و لہجہ، عجیب سی چال ڈھال اور ایک کراہت انگیز انداز ہوتا تھا۔ اور ان سب ’محاسن‘ کے ساتھ ساتھ بدمعاشوں کے پاس بدمعاشی کی بڑی علامت یعنی گراری والا چاقو بھی ہُوا کرتا تھا۔

گراری والے ایسے چاقو کی زبان جھگڑوں کے دوران تو لازماً لال ہوجایا کرتی تھی لیکن کچھ لوگوں کو ڈرانے، بعضوں کودھمکانے، چند ایک پر ہیبت طاری کرنے اور باقیوں پر دھونس جمانے کے لیے گراری والے چاقو کا لہرایا جانا ہی کافی تھا۔ اور بدمعاشوں کی ’بہادری کا ایسا مظاہرہ ‘ دنگے فساد کے مقام کے علاوہ اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ سینما گھروں کے احاطوں میں دیکھنے کو زیادہ ملتا تھا۔


سینما مالکان ان ’داداؤں‘ کو اپنے سینما گھروں میں کام کرنے کے لیے بڑی بڑی تنخواہوں کی پیشکش کیا کرتے تھے

جب پاکستان میں سینماگھر کا کاروبار بامِ عروج کو چھو رہا تھا۔ جب ٹکٹ کے لیے قطاریں لگا کرتی تھیں، جب ٹکٹیں بلیک ہوا کرتی تھیں اور جب سینما ہال کے باہر ٹکٹ بلیک کرنے والے آوازیں بھی لگایا کرتے تھے۔ یہ سینما کا دور تو تھا ہی لیکن ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی بہت ہی سنہری دور تھا، جو قطاریں لگوایا کرتے تھے، جو ٹکٹ بلیک کیا کرتے تھے، جن کے منہ میں پان، ہاتھ میں ہنٹر یا چھڑی اور شلوار میں گراری والا چاقو ہوا کرتا تھا۔

لیکن وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ بدمعاش بھی بدل گئے اور بدمعاشی کے انداز بھی۔ چاقو کی جگہ جدید ترین اسلحے نے لے لی اور سینما گھروں کی بجائے بدمعاشی کے اڈے انڈر گراؤنڈ یا زیرِ زمین بن گئے۔ فلمی صنعت کی ناکامی کے بعد سینما گھروں کا کاروبار متاثر ہوا تو انہیں قطاریں لگوانے والوں کی ضرورت نہ رہی۔ اکثر سینما گھر پہلے شادی ہال اور پھر کاروباری مراکز میں تبدیل ہوگئے۔

طرح حیدرآباد میں مسمار کیے گئے کوہ نور سینما گھر میں بھی کبھی ٹکٹیں بلیک ہوا کرتی تھی اور وہاں بھی ایک شخص قطاریں لگوایا کرتا تھا۔ ’پرانے زمانے‘ کے اس ’دادا‘ کو لوگ ڈیمی کہتے تھے اور ڈیمی دادا کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی دھاک بھی بہت تھی۔

ڈیمی کا اصل نام محمد یوسف تھا لیکن سینما کے مالک نے ان دنوں آئی ہوئی ایک انگریزی فلم کے طاقتور ولن سے متاثر ہو جس کا فلم میں نام ڈیمی تھا، محمد یوسف کا نام بھی ڈیمی رکھ دیا تھا۔ اب ان کے عزیز و اقارب کے علاوہ شاید ہی کسی کو پتا ہو کہ ڈیمی کا نام محمد یوسف ہے۔

سینما گھروں پر آنے والی بربادی کے بعد دادا ڈیمی اور ان جیسے دوسرے ’داداؤں‘ پر بھی بہت کڑا وقت آیا۔ کچھ تو کسی نے کسی طرح انڈر گراؤنڈ بننے والے اڈوں سے وابستہ ہوگئے لیکن جن کا درجہ ذرا کم تھا وہ ڈیمی دادا کی طرح بے سر و سامان ہوگئے۔

دادا ڈیمی حیدرآباد میں سینما کی دنیا کا نہ صرف قدیم ترین کردار ہیں بلکہ کسی دور میں رعب و دبدبے کے لحاظ سے بھی ان کا کوئی جوڑ نہ تھا۔ آج ان کا نہ کوئی گھر ہے نہ ٹھکانا۔ وہ پچھلے بیس برس سے ’نانگا شاہ‘ کے دربار کے قریب بنے ہوئے ’چنڈو خانے‘ میں رہتے ہیں۔ وہ ستر سال کے ہو چکے ہیں اور انہوں نے تقریباً پچاس سال اسی شہر میں مختلف سینما گھروں میں گزارے ہیں۔ وہ بیس سال کے تھے جب انہیں نیو میجسٹک سینما میں قطاریں سیدھی کرنے کا کام دیا گیا تھا۔

ڈیمی دادا کو سینما میں کام کا پہلا دن اسی طرح یاد ہے جیسے وہ کل کی بات ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے کام کا پہلا دن اس لئے بھی نہیں بھول سکتا کہ اسی دن دلیپ کمار کی فلم ’آن‘ کی نمائش ہوئی تھی۔‘ اور یہ فلم ڈیمی کو اس وجہ سے بھی یاد ہے کہ اس فلم کے گولڈن جوبلی کرنے پر سینما گھر کے مالکوں نے ڈیمی دادا کی تنخواہ ڈبل کر دی تھی۔ تب ٹکٹ چار آنے کا ہوا کرتا تھا، لیکن فلم ’آن‘ کے ریلیز ہونے کے ساتھ ہی چار آنے والا تھرڈ کلاس کا ٹکٹ بارہ آنے کا ہوگیا۔ دادا ڈیمی بتاتے ہیں کہ ’تب میں نے پہلی بار ٹکٹ بلیک کی تھی اور چار آنے والی ٹکٹ دو روپئے تک بیچی تھی۔‘

ڈیمی دادا اگرچہ اب چنڈو خانے کے مکین ہیں لیکن وہاں بھی ان کے دوست یار ان سے ملتے رہتے ہیں اور کچھ چیلے بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ستر برس کے ڈیمی دادا اب پانچ وقت کے نمازی ہیں۔ چند روز قبل جب بات چیت کے لیے، میں ان کے مسکن‘ میں ان کا انتظار کر رہا تھا تو جب وہ نماز پڑھ کر آئے تو ان کے چیلوں نے انہیں سلفی بنا کر پیش کی اور پورا کمرہ چرس کے دھوئیں سے بھر گیا۔

انہوں نے وضاحت کی۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ’مانگ‘ کر گزارہ کر لیتے ہیں ۔ انہوں نے پوری زندگی شادی نہیں کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک عورت سینما دیکھنے آتی تھی اس کے ساتھ آنکھ لڑی لیکن شادی نہ ہو پائی۔ پھر عمر بھر شادی کرنے کو جی ہی نہیں چاہا۔‘ سینما کا دور ختم ہونے کے بعد ڈیمی دادا کی طرح غلام رسول نے بھی ایک ’دربار‘ میں جائے پناہ ڈھونڈ لی۔ انہوں نے اپنی شادی کا خرچہ ایک فلم کی ٹکٹیں بلیک کر کے نکالا تھا۔ غلام رسول کا کہنا ہے کہ تب وہ حیدرآباد کے ’شالیمار‘ سینما پر کام کیا کرتے تھے۔

جب سینما کا دور ختم ہوا تو شالیمار سینما گھر میں بھی قطاریں لگنا ختم ہوگئیں اور غلام رسول کو سینما والوں نے پبلسٹی بورڈ لگانے کے کام پہ لگا دیا۔ ایک دن بجلی کے ایک کھمبے پر بورڈ لگاتے ہوئے غلام رسول نیچے گر گئے اور انہیں ایک ٹانگ سے معذور ہونا پڑا۔


میں ’مولا علی قدم گاہ‘ کی زیارت کرنے والوں کی جوتیوں کی رکھوالی کرتے ہیں۔ غلام رسول نے بیس سال تک سینما گھروں میں کام کیا۔ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’تب تو ہم ہیرو ہوا کرتے تھے۔ فلموں کا شوق رکھنے والے ہمارے قریب آنے اور ہماری دوستی پر فخر کیا کر تھے۔ ٹکٹ کے لیے لوگ ہمارے پاس بڑی سفارشیں لاتے تھے۔‘

کہا جاتا ہے کہ سینما مالکان ایسے ’داداؤں‘ کی بڑی قدر کیا کرتے تھے۔ اور وہ سینما کی دنیا میں نام کمانے والے ’داداؤں‘ کو اپنے سینما گھروں میں کام کرنے کے لیے بڑی بڑی تنخواہ کی پیشکش کیا کرتے تھے۔

راحت سینما پر کچھ عرصہ پہلے تک پبلسٹی بورڈ لگانے کا کام کرنے والے گلو سولنگی کہتے ہیں’مجھے فردوس سینما چھوڑنے کے لیے ایک سینما مالک نے نہ صرف ڈبل تنخواہ کی پیشکش کی بلکہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے رہنے کے لیے اپنے خرچے پر ایک کوارٹر بھی فراہم کیا۔‘

اپنے دور کے ’گلو دادا‘ کی پوری زندگی کا اثاثہ اب راحت سینما کے پچھواڑے میں پڑی ہوئی ایک چارپائی ہے۔ اس چارپائی کے نیچے ایک لوہے کی پیٹی پڑی ہوئی ہے جس میں ان کے کپڑے اور پرانی فلموں کی ان ہیروئینوں کی تصاویر رکھی ہوئی ہیں، جو انہیں جوانی کے دنوں میں بڑی پسند تھیں۔ اپنے اس سامان کو دیکھ کر کل کے گلو دادا اپنی جوانی، رعب اور دھاک اور قدر والے دنوں کو یاد کر کے اب اپنی بے قدری پہ آنسو بہاتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 594 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp