وہ اندلسی شہزادہ جو افریقہ سے تعلق رکھتا تھا


میرے والد صاحب مطالعہ کے شوقین ہیں اور ان کی عادت ہے کہ جو بھی کتاب پڑھتے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ۔ انہیں ایک اور شوق تھا، عظیم لوگوں کی تصویریں جمع کرنا۔ہر روز میرے والدصاحب ہم سے ان تصویروں کے بارے میں پوچھتے ۔ ان تصویروں میں سے ایک تصویر غلام افریقی شہزادے کی بھی تھی۔

اپنے سفید فام آقاﺅں سے زیادہ مہذب ‘ تعلیم یافتہ سیاہ فام غلاموں میں ایک افریقی شہزادہ بھی شامل تھا ۔ کرنل ابراہیم عبد الرحمن ثوری جنھیں سیاہ فام عرف عام میں پرنس کہہ کر مخاطب کرتے تھے ، 1762میں وسطی مغربی افریقہ ٹمبکٹو(مالی )میں فیوٹا جالون کے لمامی ثوری شاہی خاندان میں پیداہوئے ۔

پرنس عبد الرحمن کے والد کی حکومت کا پایہ تخت ٹیمیومیں تھا جو المامی شاہی خاندان کے موروثی حکمران اور متقی و پرہیز گار مسلمان تھے ۔ عبد الرحمن اپنے 33بھائیوں میں دوسرے تھے اپنی اعلیٰ تعلیم ‘ قد قامت ‘ شخصیت ‘ ذہانت اور بہادری کی وجہ سے بلاشبہ موروثی بادشاہت کے امید وار کے امید وار تھے لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منطور تھا ۔ پرنس عبد الرحمن نے جینی اور ٹمبکٹو کی درس گاہوں سے علم حاصل کیا جو اٹھارہویں صدی میں افریقہ کے مشہور علمی مراکز تھے ۔ تحصیل علم کے بعد وہ اپنے والد کی فوج میں کیولری رجمنٹ میں کیپٹن کے عہدے پر تعینات ہوئے اور کئی علاقائی لڑائیوں میں جواں مردی دکھائی۔

مسلسل فتوحات اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے وہ 26سال کی عمر میں کرنل بن چکے تھے ۔ 1788میں غیر مسلم افریقی قبائل کے بڑے اتحاد ہیبوز سے لڑائی کے دوران وہ شدید زخمی حالت میں دشمنوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ۔ گرفتاری کے بعد انہیں دریائے گیمبیا کے راستے بحراوقیانوس کے ساحل پر لایا گیا جہاں انہیں ایک برطانوی تاجر نے آٹھ ہاتھ تمباکو‘ دوتھیلی بارود‘ چار بندوقوں اور دو گیلن رم کے عوض خرید لیا ۔ یہاں سے انہیں تین ہزار میل دور پابہ سلاسل جزائر غرب الہند میں ڈو مینیکا روانہ کر دیا گیا ۔ یہاں کچھ دن غلامی کی تربیت دینے کے بعد انہیں غلاموں کی بڑی منڈی نیو آرلینز (لوئز یانا‘ امریکہ)لایا گیا ۔ نیو آرلینز سے انہیں نیٹ چز (مسی سپی)کے نیلام گھر پہنچایا گیا جہاں تھامس فوسٹر نے انہیں ٹمبکٹو کے ایک اور غلام کے ہمراہ 930ڈالر میں خرید لیا‘ یوں پرنس عبد الرحمن 465ڈالر میں فروخت ہوگئے۔(ایڈمز کاﺅنٹی چانسری کلرک آفس ریکارڈ:1788)

تھامس فوسٹر نے پرنس عبد الرحمن کو جس محنت مشقت پر لگایا ‘ جس طرح ان کی تحقیر کی گئی اور ان کے لمبے بالوں کو ان کی مرضی کے خلاف کاٹا گیا وہ اس کے عادی نہیں تھے۔ نتیجتاً وہ موقع ملتے ہی یہاں سے فرار ہو گئے۔ دو چار ماہ پکڑے جانے کے خوف سے دلدلوں ‘ جنگوں اور بیابانوں میں چھپتے پھرنے کے بعد عبد الرحمن تھامس فوسٹر کے پاس واپس آگئے ۔ تھامس فوسٹر جو ‘ ان کے یوں باآسانی واپس آجانے سے پہلے ہی حیران تھا پرنس عبد الرحمن کی اس پیشکش پر مزید حیران ہوا کہ اگر وہ انہیں افریقہ واپس بھیج دے تو ان کے والد جو وہاں ایک ریاست کے بادشاہ ہیں میرے برابر سونا تول کر اسے دے دیں گے۔ اس پیش کش کا مثبت جواب پا کر نہ پرنس عبد الرحمن نے تھامس فوسٹر کی بیوی کا پاﺅں اپنے گردن پر رکھا اور کچھ اقوال پڑھے جو کسی کی سمجھ میں نہ آسکے ۔ افریقی قبائل میں کسی کا پاﺅں گردن پر رکھ لینا اس سے عہد نبھانے کا استعارہ تھا۔ پرنس عبد الرحمن نے جان بخشی کی شرط پر عہد نبھانے کا قول باندھا‘ انہوں نے اپنا عہد یوں نبھایا کہ پھر وہ 40سال تک تھامس فوسٹر کے پاس اپنی مشیت نبھاتے رہے۔پرنس عبد الرحمن کی قائدانہ صلاحیت ‘ دیانت اور راست بازی سے متاثر ہو کر تھامس فوسٹر نے انہیں اپنے زرعی فارم کا نگران مقرر کر دیا اور وہ رفتہ رفتہ غلام سے تھا مس فوسٹر کے دست راست بنتے گئے اسی دوران پرنس عبد الرحمن ایک عیسائی خاتون ازابیلا سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ان کے نو بچے پیدا ہوئے ۔پرنس عبد الرحمن کو ایسی مراعات حاصل تھیں جو عام طور پر غلاموں کو حاصل نہیں تھیں ۔ ان مراعات میں آزادانہ نقل و حمل‘ محدود پیمانے پر اشیاءکی خریدو فروخت ‘ سبزیوں کی فروخت سے منعفت اور دوسرے غلاموں سے میل جول شامل تھا ۔ پھر 1807میں ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا جس کی گونج وائٹ ہاﺅس سے لے کر مراکش کے امیر مولائے سلیمان ثانی تک اور مسی سپی سے ٹمبکٹو تک یکساں سنی گئی۔

1807کے موسم گرما میں ایک دوپہر سبزی منڈی میں پرنس عبد الرحمن اپنی کاشت کردہ سبزیاں فروخت کر رہے تھے کہ قریب سے گزرتا ایک پختہ عمر گھوڑسوار سفیر فام ڈاکٹر جان کا کس پرنس عبد الرحمن کو دیکھ کر ٹھٹکا ‘ کچھ دیر غور سے دیکھا اور دونوں کے درمیان درج مکالمہ ہوا جسے اردگرد کے بہت سارے سفید فام سن کر سکتے میں آگئے:ڈاکٹر کاکس : لڑکے تم کہاں سے آئے ہو؟پرنس: تھامس فوسٹر کے پاس سے۔ڈاکٹر کاکس : کیا تم اسی ملک میں پلے بڑھے ہو۔پرنس: نہیں‘ میرا تعلق افریقہ سے ہے۔ڈاکٹر کاکس : کیا تم ٹیمبو سے آئے ہو؟پرنس: ہاں مجھے ٹیمبو سے لایا گیا ہے ۔ڈاکٹر کاکس : کیا تمہارا نام عبد الرحمن ہے ؟پرنس: میرا نام یہی ہے ۔ڈاکٹر کاکس : کیا تم مجھے جانتے ہو؟پرنس: ہاں میں تمہیں جانتا ہوں تم ڈاکٹر جان کاکس ہو۔(ٹیری الفورڈ:1977) اس مکالمے کے بعد ڈاکٹر کاکس اپنے گھوڑے سے اترے اور پرنس عبد الرحمن سے بغل گیر ہو گئے اس منظر کو دیکھنے والے سینکڑوں سفید فام ششدر رہ گئے ۔ اور یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کہ وہ جو پرنس ہونے کا دعویدار تھا حقیقتاً پرنس ہی ہے ۔

ڈاکٹر جان کاکس کی گواہی سیاہ فام مسلمان غلاموں کے حق میں پہلی ایسی سفید فام شہادت تھی جس نے امریکی صدر کے عام امریکی شہریوں تک کو یہ سوچنے‘جاننے اور ماننے پر مائل کیا کہ اغوا کردہ سیاہ فام غلام محض جاہل اور غیر مہذب نہیں ہیں بلکہ ان میں اپنے سفید فام آقاﺅں سے زیادہ مہذب اور تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔ غلامی کی کمند بالا امتیاز علمائ‘ شہزادگان ‘ معالج‘ اساتذہ‘ فلاسفر‘ اہل قلم ‘ اہل کتاب‘ صاحب فکر و نظر اور صائب الرائے جانے کس کس کو کھینچ لائی تھی۔

واقعہ یہ ہوا کہ1780میں ڈاکٹر جان کاکس جو اصلاً آئرش تھے‘ غلاموں کو اغوا کرنے والے ایک برطانوی جہاز پر ڈاکٹر متعین تھے۔ جہاز جب افریقہ پہنچا تو جان کاکس شدید بیمار پڑ گئے اور ان کے بچ جانے کی امید نہ رہی۔ سست روی کے باعث وہ اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے اور ان کے مقامی افریقیوں کے ہتھے چڑھ گئے وہ انہیں پکڑ کر اپنے بادشاہ ابراہیما ثوری کے پاس لے گئے ۔ ابراہیما‘ ڈاکٹر کاکس سے رحمدلی سے پیش آئے اور ایک خاتون طبیب کو ان کے علاج پر مامور کر دیا۔

 چند ماہ کے علاج و نگہداشت سے ڈاکٹر کا کس صحت یاب ہو گئے۔ اور ایک سال ابراہیما ثور کے شاہی مہمان رہے۔ اسی عرصہ مہمان داری میں وہ ایک لمبے تڑنگے مضبوط قد کاٹھ اور گھڑ سواری کے شوقین پرنس عبد الرحمن سے متعارف ہوئے۔ ایک سال بعد ڈاکٹر کا کس کی واپس جانے کی فرمائش پر بادشاہ نے کچھ سونا ‘ زاد وراہ کے لیے عنایت کیا اور سولہ محافظوں کی معیت میں ڈاکٹر کاکس کو بحر اوقیانوس کے لیے رخصت کیا کہ وہ کسی جہاز سے برطانیہ چلے جائیں ۔ ڈاکٹر کاکس جلد ہی ایک جہاز پرسوار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور برطانیہ پہنچے ۔ سن 1800میں برطانیہ سے ہجرت کر کے وہ امریکہ آن بسے اور مسی سپی میں مقیم ہو گئے۔ یہاں وہ ایک نیک نام اور کامیاب سرجن مشہور تھے ۔ 1807میں پرنس عبد الرحمن سے اچانک ملاقات نے ہر دونوں کی زندگی کادھارا بدل دیا۔

پرنس عبد الرحمن اپنی سوانح میں لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر کاکس نے کہا کہ ان آلوﺅں کو یہیں رکھو اور میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ میں نے کہا کہ میں نہیں جا سکتا البتہ یہ آلو تمہارے گھر پہنچانے جا سکتا ہوں ۔ یہ سن کر وہ تیزی سے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ایک نیگر و عورت کو میرے سر پر سے آلوﺅں کا بوجھ اتارنے کا حکم دیا۔ پھر ڈاکٹر کا کس نے اپنے گھر مسی سپی کے گورنر ڈبلیو (وارے )کو مجھ سے ملانے کے لیے بلایا۔گورنر سے ڈاکٹر کا کس نے کہا کہ میں اس کے والدین کے گھر رہ چکا ہوں اور انہوں نے گورنر سے میرے والدین کی طرح رحمدلی کا سلوک کیا تھا ۔ ڈاکٹر نے گورنر سے کہا کہ اگر کوئی بھی رقم مجھے خرید سکے تو وہ مجھے خرید کر افریقہ واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔ اگلی صبح ڈاکٹر کا کس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ میری کیا قیمت لگائی جائے گی ۔ لیکن میرا آقا تھامس فوسٹر مجھے کسی بھی قیمت پر بیچنے میں رضا مند نہیں تھا۔ ڈاکٹر کاکس نے مجھے خریدنے کے لیے بڑی رقم کی پیشکش کی لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا ۔ اس پر ڈاکٹر کاکس نے میرے آقا سے کہا ”اگر تم اسے آزاد نہیں کر سکتے تو اسے اچھی طرح پیش آﺅ “ڈاکٹر کاکس کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے میرے آزادی کے لیے خطیر رقم کی پیشکش کی۔ “ (پرنس ابراہیما عبد الرحمن :1828)

سفید فاموں کا جو مجمع ڈاکٹر کاکس اور پرنس عبد الرحمن کو حیرانی سے دیکھ رہا تھا اسی مجمع میں اخبار نیٹ چز ایڈورٹائزر کے ایڈیٹر اینڈ ریو مارز چک بھی شامل تھے انہوں نے مورپرنس (اندلسی مسلمان شہزادہ)کے نام سے ایک اخباری فیچرشائع کر دیا جو زبان زد عام ہو گیا ۔ یوں پرنس عبد الرحمن کا تذکرہ مسی سپی سے نکل کر بالٹی مور‘ نیو یارک‘فلا ڈیلفیا‘ بوسٹن اور واشنگٹن کے اخباروں میں پہنچ گیا فریڈ م جرنل‘ ساﺅ درن گلیکسی اور بالٹی مورایڈورٹائزر جیسے بڑے اخبارات میں پرنس عبد الرحمن پر خصوصی مضامین لکھے جانے لگے یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ امریکہ کے مشہوراور اہم فرد بن گئے۔ خصوصاًشمالی ریاستوں میں ان کی بہت پذایرائی ہوئی چونکہ ان امریکی ریاستوں میں غلامی کے خاتمے کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں۔ پرنس عبدالرحمن کا پس منظر ‘ شخصیت ‘ ذہانت اور ان کی تحیر بھری کہانی ان تحاریک کے لیے مہمیز ثابت ہوئی ۔ انہیں جگہ جگہ سے غلامی کے موضوع پر اپنا تجربہ بیان کرنے کے لیے مدعو کیا جانے لگا ۔ ڈاکٹر ایلن آسٹن لکھتے ہیں: ”پرنس عبد الرحمن 1820کے آخر عشرہ میں امریکہ کے مقبول ترین سیاہ فام شخصیت شمار ہوتے تھے۔“ (ایلن آسٹن:1984)

کسی نا معلوم اور پر اسرار وجہ سے پرنس عبد الرحمن نے خو د کو ’مور پرنس ‘مشہور کر رکھا تھا ۔ جبکہ حقیقتاً وہ جالونی پرنس تھے۔ وہ اندلسی شہزادوں جیسا لباس پہنتے اور مورش پرنس پکارے جاتے حالانکہ ان کا تعلق وسطی افریقہ کے مشہور اسلامی مرکز ٹمبکٹو سے تھا۔ ہمارے خیال مین اس کی وجہ یہ رہی ہو گی کہ چونکہ اٹھارہویں صدی تک مسلمانوں کے بارے میں امریکی علم ملکہ ازابیلا اور ہسپانیہ کے حوالے سے اندلسی مسلمانوں تک ہی محدود تھا سو عین ممکن ہے کہ پرنس عبد الرحمن نے اس امریکی لا علمی کی درستگی پر ووقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا ہو۔ اخبارات نے بغیر کسی تحقیق و تصدیق کے انہیں مورش پرنس لکنا شروع کر دیا ‘ پرنس عبد الرحمن نے اس کی تردید مناسب نہ سمجھی اور وہ مورش پرنس مشہور ہو گئے ۔

1810کے عشرے میں ایک طرف تو امریکہ میں پرنس عبد الرحمن کی شہرت و مقبولیت بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف تھامس فوسٹر کی پرنس عبد الرحمن کو آزاد نہ کرنے کی ضد۔ تھامس فوسٹر کسی بھی قیمت پر ‘ پرنس کو آزاد کر دینے پر تیار نہیں تھا۔ وہ ڈاکٹر جان کاکس کی ہر پیشکش کا ٹھکرا چکا تھا اور ہر کوشش ناکام بنا چکا تھا ۔ ڈاکٹر کاکس پرنس عبد الرحمن کو افریقہ واپس بھیج کر ابراہیما وری کے جس احسان کا بدلہ چکانا چاہتے تھے کوشش کے باوجود ان کی زندگی میں ایسا نہ ہو سکا۔ اپنی زندگی کے آخری دس سال انہوںنے پرنس عبد الحمن کی آزادی کی جنگ لڑی لیکن ان کا مقابلہ تھامس فوسٹر جیسے تنگ نظر اور پیچیدہ ذہنیت کے ایسے جاگیر دار سے تھا جو جنوبی ریاستوں میں غلامی کے حق میں کمر بستہ و متفق جاگیر داروں کے گھٹ جوڑ کا اہم مہرہ تھا ۔ ڈاکٹر جان کا کس پرنس عبد الرحمن کو آزاد ہوتے اور افریقہ جاتے نہ دیکھ سکے اور 1816میں انتقال کر گئے ۔ ڈاکٹر کاکس کے بعد ان کے بیٹے ولیم روسیو کا کس نے اپنے باپ کے مشن کو 1828تک جاری رکھا۔

ڈاکٹر جان کاکس اور ولیم کاکس کی جدو جہد اپنی جگہ لیکن پرنس عبد الرحمن کی جد و جہد آزادی میں فیصلہ کن لمحہ انتہائی غیر متوقع طور پر 1826میں اس وقت آیا جب وہ اپنے پرانے رفیق کا ر اور ہمنوا مسی سپی ہیر الڈ کے نامہ نگار اور نیٹ چیز ایڈورٹائزر کے ایڈیٹر اینڈ ریو مارز چک سے محو گفتگو تھے ۔ دوران گفتگو پرنس عبد الرحمن نے ایک خط افریقہ بھیجنے کا عندیہ ظاہر کیا جس کے جواب میں اینڈ ر یو مارز چک نے خط کو افریقہ تک پہنچانے کی ذمہ داری لے لی۔ ٹیری الفورڈ لکھتے ہیں۔”40سال بعد اپرنس عبد الحمن قرآنی آیات کے سوا بیشتر عربی گرامر اور عربی لکھنا بھول چکے تھے۔ لہٰذا اس خط میں بھی انہوں نے قرآنی آیات لکھیں لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ انہوںنے کونسی سورة تحریر کی۔“ (ٹیری الفورڈ :1977) (وضاحت : پرنس عبد الرحمن کے اس خط کا کوئی ریکارڈ یو ایس سٹیٹ دیپارٹمنٹ واشنگٹن ڈی سی یا مراکش کی وزارت خارجیہ میں موجود نہیں ہے ۔ نہ ہی اس خط کا کوئی حوالہ رائل لائبریری رباط یا رباط آرکائیوز میں موجود ہے ۔ مصنف ) پرنس عبد الرحمن کا یہ خط تو محفوظ نہیں رہ سکا لیکن اینڈ ریو مارز چک ‘ سینیٹر تھامس ریڈ کے نام تعارفی سر نامہ میں لکھتے ہیں: نیٹ چیز 3اکتوبر 1826 ڈیر سر:یہ منسلکہ خط عربی میں ‘ میرے سامنے ایک قابل احترام پرنس نامی بوڑھے غلام نے تحریر کیا ہے جو اس کاﺅنٹی میں مسٹر تھامس فوسٹر سے متعلق ہے۔ میں اسے عرصہ 15سال سے جانتا ہوں اور میں اس کے صاحب کردار ہونے کی گواہی دیتا ہوں۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا تعلق مراکش کے شاہی خاندان سے ہے اور یہ خط جیسا کہ اس نے مجھے بتایا ہے اپنے رشتہ داروں کا حال احوال جاننے اور ان سے جا ملنے کی امید میں لکھا گیا ہے ۔ میں اس خط کو منزل مقصود تک پہنچانے کی ذمہ داری لی ہے اور اس معاملہ کو آپ کی نگرانی میں دیتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ آپ بوڑھے غلام کی خواہشات کی تکمیل میں اس کی مدد فرمائیں گے ۔ اینڈریو مارز چک (سٹیٹ دیپارٹمنٹ مائیکرو فلم ریکارڈ :1827)

سینٹیر تھا مس ریڈ نے اس خط کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا وہاں سے یہ خط طنبحہ میں امریکی سفیر کو روانہ کیا گیا ۔ 14مارچ1827کو یہ خط امریکی سفیر تھامس ملاﺅ نے کو موصول ہوا تو وہ ایک موقع ہاتھ آجانے کے خیال سے اس عربی تحریر کو دیکھ کر سر شار ہو گیا۔ افریقی ساحلوں پر مراکشتی حکومت نے سیاہ فاموں کے اغوا پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ ان پابندیوں کوتوڑتے ہوئے چند ایک امریکی مہم جو مراکشی حکومت کے ہتھے چڑھ گئے تھے امریکی سفیر ان امریکی خرکاروں کی رہائی کے بدلے میں مورش پرنس کی رہائی کا منصوبہ باندھ کر پاشا عبد الرحمن دوئم امیر مراکش کی خدمت میں پیش ہوا اور پرنس عبد الر حمن کا خط پیش کیا۔ امریکہ کے قیام سے انیسویں صدی کے وسط تک مراکش واحد ایسی اسلامی مملکت تھی جس سے امریکہ کے خصوصی اور سفارتی تعلقات قائم رہے تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ حققیت پر مبنی ہے کہ امریکہ کے نزیدک اسلامی دنیا صرف مراکش تک محدود تھی۔ یہ تاریخی ستم ظریفی بھی اپنی جگہ خوب ہے کہ امریکہ کے اعلان آزادی کے بعد برطانوی مخالفت‘ دباﺅ اور دبدبے کے باوجود امریکہ کو تسلیم کرنے والا سب سے پہلا ملک مراکش ایک اسلامی ملک ہی تھا ۔ 1777میں مراکش نے سب سے پہلے امریکہ کو بحثیٹ آزاد و خود مختار ریاست تسلیم کر کے اسلامی دنیا کی امریکہ سے تعاون کی جو بنیاد رکھی تھی اسے اسلام دشمنی سے آلودہ ملکہ ازابیلا کے ورثاءنے کوئی اہمیت نہ دی۔ ورثائے ازابیلا کے موجودہ اسلام دشمن رویے پر حیران ہونے کی بجائے امہ کی اس لا علمی پر ماتم کیا جانا چاہیے کہ وہ امریکی سر شت میں پوشیدہ مسلمان مخاصمت اور اسلام دشمنی کے رجحان اور رویے کو پہنچاننے میں ہمیشہ نا کام رہی ہے ۔
پاشاعبد الرحمن دوئم نے پرنس عبد الرحمن کے خط کو غور سے پڑھا ‘ تشویش سے دیکھا اور سرعت سے فیصلہ کیا کہ شاہی حکومت کے اخراجات پر اس شخص کو فوراً امریکہ سے مراکش لایا جائے ۔ پاشا نے سفیر کو دو ٹوک ہدایت دیتے ہوئے کہا ”اس مد میں تمام مصارف فوراً ادا کر دئیے جائیں گے ۔“ (ہنری کلے پیپرز :1827)

پاشا عبد الرحمن دوئم کے اس دو ٹوک فیصلے کے بعد امریکی سفیر تھامس ملاﺅ نے ‘ نے سیکرٹیر ی آف سٹیٹ ہنری کلے کو خط بھیجا:

24مارچ1827، قابل احترام سیکرٹیری آف سٹیٹ کے نام میں یہ مشورہ بھیج رہا ہوں کہ اس شخص (پرنس عبد الرحمن)کو آزاد کر کے گھر بھیج دیا جائے اس سے مستقبل میں ہمارے ان بد قسمت اشخاص کو فائدہ ہو سکتا ہے جو کسی حادثے کی وجہ سے اس سلطنت کے قبضے میں آسکتے ہیں۔(یعنی سیاہ فاموں کو اغوا کر تے ہوئے امریکی اغوا کار اور جہاز راں وغیرہ۔ مصنف)۔ میں انتہائی اخلاص سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اس شخص کو مجھے بھیج دیا جائے تاکہ میں خود اسے بادشاہ کے حوالے کر وں۔ اگر سیکرٹیری آف سٹیٹ میری تجویز سے اتفاق کریں تو اس شخص کو جبرالڑ میں امریکی سفارت خانے بھجوا دیں۔ اس (پرنس عبد الرحمن)کی آزادی سے مجھے یہاں خصوصی قوت حاصل ہو گی ۔ اس سے مسلمانوں پر ہمارا احسان ثابت ہو جائے گا ۔ جو کہ پہلے ہی شکرگزاری کی اضافی صفت کے حامل ہیں۔تھامس ملاﺅ نےدستخط24مارچ 1827 (تھامس ملاﺅ نے : 1827سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مائیکرو فلم ریکارڈ :1827)

5جون ا1827کو اس خط پر سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کلے نے اپنے نوٹ میں لکھا: ”رحمدلی کی مروجہ روایت میں اس غلام کو خرید کر با عزت طریقے سے اس کے وطن روانہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے ۔“ہنری کلے ۔ سیکرٹیر ی آف سٹیٹ دستخط5جون 1827

دس جولائی 1827کو یہ خط وائٹ ہاﺅس میں صدر جان کیونسی ایڈمز کو پیش کیا گیا ۔ اسی رات صدر نے اپنے ذاتی روز نامچے میں لکھا:”مسٹر برنٹ ایک افریقی کے بارے میں کچھ کاغذات لائے جو مرا کو کے بادشاہ کا تعلق دار لگتا ہے لیکن یہ جار جیا میں غلام ہے مسٹر برنٹ نے مجھے وہ خط دکھایا جو اس غلام کے بارے میں مراکو کے بادشاہ نے مسٹر ملاﺅنے کے توسط سے بھجوایا ہے۔ مسٹر ملاﺅ نے ‘ نے ترجمہ کیئے ہوئے اس خط پر زور سفارش کی ہے کہ حکومت امریکہ اس شخص کو خرید کر مراکش کے بادشاہ سے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر روانہ کر دے میں نے مسٹر برنٹ سے کہا ہے کہ وہ جار جیا خط لکھ کر پوچھیں کہ اسے کتنے میں خریدا جا سکتا ہے اور اگر یہ عملی طور پر ممکن ہو تو مسٹر ملاﺅ نے کی خواہش پر عمل در آمد کیا جائے۔“ (میسا چوسٹس ہسٹار یکل سو سائٹی ریکارڈ ‘ جان کیونسی ایڈمز پیپرز :1827)

یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیف کلرکر مسٹر برنٹ کا خط 20اگست 1827کو اینڈ ریو مارز چک کو وصلو ہوا جس مین صدر جان ایڈمز کی طرف سے پرنس عبد الرحمن کو ان کے آقا سے خریدنے کا معاملہ طے کر نے کی ہدایت کی گئی۔ اینڈریو مار ز چک نے جو اس معاملے میں روز اول سے ہی شریک تھے انہوں نے بلا توقف تھامس فوسٹر سے سودا طے کرنے کی پوری کوش کی لیکن ادھر ایک ہی جواب تھا ‘ یہ نہیں ہو سکتا‘ یہ ممکن نہیں ہے ۔ پرنس عبد الرحمن کی آزادی کے لیے ڈاکٹر جان کا کس کی 1807سے شروع کر دہ جدو جہد پر ناکامی کے بیس سال گزر چکے تھے۔ اس دوران تھامس فوسٹر کی ایک ضد اور ایک ’ناں‘نے ہر اس کوشش کو نا کام بنا دیا تھا جو پرنس عبد الرحمن کو آزاد کرانے کے ضمن میں کی گئی تھی حالانکہ ا ن کوشش کرنے والوں میں گورنر‘ سینیٹر‘ ڈاکٹر‘ چرچ کے نمائندے ‘ سیاہ فاموں کے حقوق کی تنظیمیں‘ حریت پسند خیالات کے رہنما‘ صحافی‘ اہل قلم اور صدر امریکہ تک سب شامل تھے۔ پھر ایک دن یکا یک پرنس عبد الرحمن کی قسمت نے یاوری کی۔

22فروری 1828کو چشم فلک نے ایک مختلف منظر دیکھا۔ دو ہم عمر بوڑھے آدمی جو ایک ہی سال پیدا ہوئے تھے اور ایک ہی سال فوت ہوئے خاموشی سے گھوڑوں پر سوار نیٹ چزکاﺅنٹی آفس کی طرف جا رہے تھے۔ 40سال پہلے 1788میں بھی وہ اسی طرح اس دفتر میں آئے تھے اس وقت وہ جوان ‘ اولو لعزم‘ باتونی اور جارح تھے انہیں آنے والے سالوں کی سوچ در پیش تھی لیکن آج وہ خاموش ‘ دفاعی ‘ تھکے ہارے ‘ غمزدہ اور تقدیر پر شاکر تھے ۔ اب انہیں برسوں کا نہیں مہینوں کا سوچنا رہ گیا تھا ۔ ان کے بال سفید ہو چکے تھے‘ وہ قدرے ٹھہر کر بولتے تھے اور گھوڑوں پر سواری کرتے ہوئے ان کی بے زاری صاف دیکھی جا سکتی تھی لیکن چہروں پر یکساں بے زاری کے باوصف ان کی مشیت مختلف تھی۔ یہ دو بوڑھے تھامس فوسٹر اور پرنس عبد الرحمن تھے۔ تھامس فوسٹر غیر متوقع طور پر ‘ پرنس عبد الرحمن کو آزاد کرنے پر رضا مند ہو گئے بشر طیکہ انہیں فوراً امریکہ سے افریقہ روانہ کر دیا جائے اور وہ یہاں امریکہ میں بطور آزاد شہری قیام نہیں کرسکتے ۔ اگر کسی بھی وجہ سے انہیں افریقہ نہ بھیجا جا سکے تو وہ دوبارہ میری غلامی میں آجائیں گے او رپرنس عبد الرحمن پر میری ملکیت بر قرار رہے گی ۔ (ٹیر الفورڈ:1977)

چالیس پرس قبل تھامس فوسٹر  نے اسی دفتر میں پرنس عبد الرحمن کو خریدنے کی دستاویز پر دستخط کیئے تھے آج وہ انہیں آزاد کرنے کی دستاویز پر دستخط کر نے آرہے تھے ۔ گوکہ تقدیر دونوں کے فیصلوں پر بہت پہلے اپنے ددستخط کر چکی تھی لیکن فیصلہ ہنوز باقی تھا ۔ ایک اپنے ترکش میں زہر بجھا ہر تیز آزمائے ‘ سر نیہوڑے ‘ آنکھیں سکیٹرے کا نپتے ہاتھوں سے لگا میں تھامے محو سفر مگر اختتام سفر پرتھا اور دوسرا محض اس لیے محو سفر تھا کہ ایک اور طویل سفر پر روانہ ہو سکے ۔ غالباً بہت ہی طویل ۔

تھامس فوسٹر نے پرنس عبدالرحمن کے پروانہ آزادی پر دستخط کرتے ہوئے لکھا: ریاست مسی سپی ایڈمز کاﺅنٹیمطلع کیا جاتا ہے کہ میں تھامس فوسٹر سکنہ ایڈمز کاﺅنٹی ‘ ریاست مس سپی اس وقت پرنس نامی غلام کا مالک ہوں۔ آج کے دن سے میں اس غلام کو اینڈریومارز چک رہائشی نیٹ چنر ریاست مسی سپی کی تحویل میں صرف اور واحد اس مقصد کے لیے دیتا ہوں کہ حکومت امریکہ اس نوشتہ میں تحریر کر دہ شرط پر متفق ہوتے ہوئے اس پرنس نامی غلام کو اس کے آبائی وطن روانہ کر دے لیکن پرنس کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں آزادشہری کی مراعات وحقوق حاصل نہیںہوں گے۔اس نوشتہ کی تصدیق کرتے ہوئے بمقام نیٹ چز‘ آج ماہ فروری کے بائیسویں دن سال مسیح ایک ہزار آٹھ سو اٹھائیس ‘ اپنے دستخط ثبت کرتا ہوں۔تھامس فوسٹر عینی گواہ نوشتہ:مہر/دستخط گیبر یل ڈنبار چانسری کلرک آفس نیٹ چنر ‘ مسی سپی 1828 (ایڈمز کاﺅنٹی چانسری کلر ک آفس ریکارڈ:1828)

40سالہ غلامی کے مصائب ’ذلّت ‘بے وطنی اور تحقیر کے بعد حامل پروانہ آزادی کے جذبات کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ میں اور آپ نہ تو ایسی جذبات بھری ساعت کا تعین کر سکتے ہیں نہ اس دلی مسرت کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو اس طرح کی ساعت خوش بخت سے پھوٹتی ہو گی ۔ لیکن ہمارے اندازوں کے برعکس اس ساعت خوش ندا نے پرنس عبد الرحمن کو آزاردہ کر دیا ۔ تھامس فوسٹر کی شرف کے مطابق آزاد شہری کی حیثیت سے وہ امریکہ میں رہ نہیں سکتے تھے جبکہ ان کے نو بچے اور بیوی ازابیلا جس سے 37سالہ رفاقت رہی تھی ہنوز تھامس فوسٹر کی غلامی میں تھے اب ان کے ایک ہاتھ میں اپنے لیئے پروانہ آزادی تھا اور دوسرے میں اپنے اقرباءکے لیے نذرانہ آزادی ۔ ان کے پاس وقت کم تھا اور فیصلہ کٹھن ‘ راہ دشوار گزار تھی اور ابتلا کڑی ۔ انہوں نے ہمت نہ ہارنے اور حالات سے لڑتے رہنے کا فیصلہ کیا۔ اینڈریو مارز چک ایک بار پھر تھامس فوسٹر سے عرض گزار ہوئے ۔ ”ایسی آزادی کا کیا فائدہ؟ وہ احسان ہی کیا جو ادھورا ہو۔۔۔۔۔ جانے لمحہ قبولیت کا تھا کہ مزید آزمائش کا تھامس فوسٹر نے دو سو ڈالر میں ازابیلا مسز عبد الرحمن کو آزاد کر دینے کی حامی بھر لی جو فوری طور پر نیٹ چز کے شہریوں نے چندہ کر کے اکٹھے کیئے اور ازابیلا کو رہائی نصیب ہوئی۔ تاہم پرنس عبد الرحمن کے بچے ابھی تک تھامس فوسٹر کی غلامی میں تھے ان کی بازیابی کے لیے انہوں نے صدر امریکہ سے ذاتی طور پر مل کر عرض گزارنے کا قصد کیا۔“

پرنس عبدالرحمن 9اپریل 1828کو نیٹ چز سے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے ۔ دوران سفر اہم شہروں میں ملاقاتیں اور تقریریں کرتے ہوئے الٹی مور پہنچے جہاں وہ بنجامن لندی کے مہمان ہوئے۔ بنجامن لنڈی غلاموں کے خلاف امریکہ کے موثر ترین اخبار ”جینیس آف یونیورسل اما نسی پیشن “ کے ایڈیٹر تھے۔ دس مئی کو اس اخبار کے وقائع نگار ولیم سویم نے پرنس عبد الرحمن پر اپنے خصوصی فیچر میں لکھا:”اگرچہ ظلم و ستم کے شکار اس شخص کو خاصی تاخیر سے زندگی کے فطری حقوق سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ہے تاہم اس کے بچے ابھی تک غلامی میں ہیں۔ ہمیں اپنے در د برے حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے آنسو بے ساختہ اس کی آنکھوں سے نکلے اور ‘ رخساروں پر بہنے لگے۔“ (ولیم سویم : 1828)

اسی روز (دس مئی)کو سیکرٹری ہنری کلے بالٹی مور میں موجود تھے ۔ پرنس عبد الرحمن ان سے ملے۔ سیکرٹری ہنری کلے پرنس کے اطوار ‘ گفتگو اور ذہانت سے متاثر ہوئے۔ انہیں واشنگٹن آنے کی دعوت دی اور ان کے مسئلے پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا۔

15مئی کو پرنس عبدالرحمن وہائٹ ہاﺅس میں صدر کیونسی ایڈمز سے ملنے آئیے اور ان سے دو معاملات میں مدد کی درخواست کی۔ اول ۔۔۔۔۔ وہ مراکش نہیں بلکہ لائبیریا جانا چاہتے ہیں جہاں کے ساحل سے ان کا گھر قریب تر ہے ۔ دوئم ان کے بچے اور پوتے ‘ پوتیاں نیٹ چز میں تھامس فوسٹر کی غلامی میں ہیں جنہیں وہ ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ انہیں چھوڑ کر جانا ان کی آزادی کو سوالیہ بنا دے گا ۔ انہوں نے صدر جان ایڈمز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ:”مجھے آزاد کر اکے آپ نے ایک مسئلہ ختم کرتے ہوئے تیرہ مزید پیدا کر لیئے ہیں حتیٰ کہ ان کو بھی آزاد کرادیا جائے۔“ (جان ایڈمز ڈائری:1828)

اس نئی صورت حال نے صدر سمیت امریکی انتظامیہ کو ایک عجیب مخمصے سے دو چار کر دیا۔ اب جبکہ پرنس عبد الرحمن کی آزادی کی بنیاد مراکش کے پاشا عبد الرحمن دوئم کی اس خواہش پر رکھی تھی کہ انہیں آزاد کر کے مراکش بھیج دیا جائے اور اب وہ وہاں جانا نہیں چاہتے تھے۔ مراکش جانے سے انکار نے منطقی طور پر ان وجوہات کی نفی کر دی جن کی بنیاد پر امریکی انتظامیہ پرنس عبد الرحمن کو آزادی دلا کر مراکش بھیجنا چاہتی تھی۔ پرنس عبد الرحمن کے انکار نے اس معاملے میں امریکی دلچسپی اور مفادات پر پانی پھیر دیا۔ امریکی انتظامیہ کی عدم دلچسپی پرنس عبد الرحمن کی آزادی پر خط تنسیخ کھینچ کر انہیں دوبارہ تھامس فوسٹر کے پاس پہنچا سکتی تھی لیکن ان کی دل زدہ سنجیدگی ‘ قوت استدلال‘ مہذب اطوار اور متاثر کن شخصیت نے امریکی انتظامیہ کو ہمدردانہ رویے پر مائل کیئے رکھا۔

صدر جان ایڈمزسے پرنس عبدالرحمن کی ملاقات کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی کے ایک مذہبی رہنما آربی سی ہاول جو ہوان موجود تھے لکھتے ہیں:”اس (پرنس عبد الرحمن) کے طور طریقوں میں نچلے طبقے کے افراد جیسی کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی ۔ وہ کسی بھی قابل احترام ‘ تعلیم یافتہ اور باوقار شخص کی طرح پیش آیا۔ اس کے پرسکون رویے میں ذہانت ‘ برابری اور آزادی نمایاں تھی۔“ (آر ۔ بی ۔ سی ۔ ہاول :1829)

صدارتی انتخابی سال ہونے کی وجہ سے ایک طرف تو صدر ایڈمز کوئی بھی فیصلہ کرنے میں خاصے محتاط تھے جو تنقید کا دروا کر دے اور دوسری طرف انہیں ایک ایسا فیصلہ کرنا تھا جس کی بنیاد میں شگاف پڑ چکا تھا ۔ اس معاملے پر ان کے ہر فیصلے پر تنقید کی جا سکتی تھی۔

سیکریٹری ہنری کلے اپنی یاد داشتوں میں لکھتے ہیں:”صدر جان ایڈمز کو ایک مشکل فیصلہ کرنا تھا ان کے سامنے بظاہر دو ہی راستے تھے اول یہ کہ پرنس کو اس کی مرضی کے خلاف مراکش بھیج دیا جائے ۔ دوئم اسے واپس تھامس فوسٹر کے پاس نیٹ چز بھیج دیا جائے۔ لیکن صدر ایڈمز نے ایک تیسرا فیصلہ کیا جو‘ ان دونوں سے نسبتاً کہیں کم باعث شرمندگی تھا۔“ (ہنری کلے :نیشنل آرکا ئیوز ریکارڈ:1829)

15مئی 1828کو صدر جان ایڈمز نے پرنس عبد الرحمن سے ملاقات کا احوال اپنے روز نامچے میں قلم بند کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرنس عبد الرحمن کی آزادی تنسیخ کے کس قدر قریب آچکی تھی ۔ صدر لکھتے ہیں:عبد الرحمن ایک مور(اندلسی مسلمان)ہے جسے پرنس یا ابراہیم کہا جاتا ہے وہ اس ملک میں 40سال سے غلام ہے اس نے دو تین سال پہلے ایک خط عربی میں مراکش کے بادشاہ کو ارسال کیا تھا جس کے نتیجے میں مراکش کے بادشاہ نے اس شخص کو آزاد کر کے مراکش بھیجنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ نیٹ چز‘ مسی سپی میں اس کے مالک نے اسے اس شرط پر آزاد کیا کہ حکومت امریکہ اسے واپس بھیج دے۔ وہ آج مجھ سے اس وقت ملنے آیا جب مسٹر ساﺅ تھا رڈ(سیکریٹری نیول فورسز)بھی میرے پاس تھے ۔ ہم نے بات چیت کے دوران ان سے بھی رائے لی کہ اسے کب اور کیسے اس کے گھر بھیجا جائے جو کہ اب اس کے کہنے کے مطابق ٹمبکٹومیں ہے ۔ چونکہ مراکش کے بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اسے بھیج دیا جائے سو ‘ اسے واپس بھیجنے میں ہماری حکومت کی دلچسپی صرف اسی وجہ سے تھی۔“ (ایڈمز پیپرز:1828)

صدر جان ایڈمز سے ملاقات کو 6ماہ ہو چکے تھے اور 1829آن پہنچا تھا ۔ پرنس عبد الرحمن اور ان کی زوجہ ازابیلا پر شک ‘ بے یقینی اور ناکامی کے خوف کی پر چھائیاں گہری ہوتی جاتی تھیں۔ انہیں صدر جان ایڈمز کے فیصلے کا شدید انتظار تھا ۔ بالٹی مور ‘ بوسٹن ‘ واشنگٹن‘ نیو جرسی وغیرہ میں ان کا قیام 8ماہ سے زیادہ ہو چکا تھا ۔ یوں تو اسد اللہ خان غالب نے مر جانے کو نا امیدی کی انتہا قرار دیا ہے لیکن ناامیدی کی مسلسل توقع بھی کسی انتہا سے کم نہیں ہے ‘ سو کچھ اسی طرح کی امید وبیم میں پرنس عبد الرحمن صبح سے شام کرتے اور شام سے سحر کہ اچانک انہیں سیکرٹیر آف سٹیٹ ہنری کلے کی جانب سے جاری کردہ خصوصی پاسپورٹ مع راہداری سفر موصول ہوا۔ پرنس عبد الرحمن کو مراکش کی بجائے لائبیریا جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ واشنگٹن ڈی سی17جنوری 1829صدر‘ ریاستہائے متحدہ امریکہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ حامل راہداری ہذا عبد الرحمن ایک امریکی شہری کی غلامی میں پابندہے جس کا تعلق مورش (اندلسی مسلمانوں )سے ہے ۔ یہ شخص افریقہ کے اپنے آبائی وطن میں احترام و مراعات کا حامل ہوتا۔ مراکش کے بادشاہ اس کی موجودہ غلامی کے خاتمے پر متفق ہیں۔ زیر دستخط سیکریٹری آف سٹیٹ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے صدر امریکہ کی ہدایت پر مذکورہ مورش مسلمان عبد الرحمن کی آزادی اور اس کے آبائی وطن بھیجنے کے اقدامات کیئے ہیں ۔ امریکی شہری سے کہ یہ جس کی غلامی میں تھا جائز طریقے سے اس کی آزادی حاصل کی گئی ہے ۔ پچھلے موسم بہار میں حکومت امریکہ کے اخراجات پر عبد الرحمن کو اس شہر (واشنگٹن) میں لایا گیا ۔ صدر کا ارادہ تھا کہ اسے شہنشاہ مراکش کی تحویل میں دینے کے لیے طنجہ بھیج دیا جائے لیکن جیسا کہ عبدالرحمن کی خواہش ہے کہ اسے افریقہ کے ساحل پر لائیبریا بھیج دیا جائے جہاں سے وہ اپنے رشتہ داروں کے پا س پہنچ جانے کی توقع رکھتا ہے ۔صدر نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس امر کی اجازت دے دی ہے ۔ عبدالرحمن اپنی بیوی کی معیت میں نار فورک سے حکومت امریکہ کے اخراجات پر بذریعہ ہیریٹ نامی جہاز پر جیسے امریکن کا لو نیز سو سائٹی نے لائبیریا جانے کے لیے کرایہ پر حاصل کیا ہے جو ‘ اس ماہ کی قریب 20تاریخ کو روانہ ہو گا۔
میں اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے دستخط اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مہر آج بتاریخ 17جنوری سال مسیح 1829ثبت کرتا ہوں۔ہنری کلےمہر/دستخط (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ریکارڈ نیشنل آرکائیوز :1829)

7فروری 1829کو ہیر یٹ نار فورک(ورجینیا)سے لائبیریا کے لیے روانہ ہوا جس کے مسافروںمیں پرنس عبدالرحمن اور مسز ازابیلا عبد الرحمن کے علاوہ جوزف رابرٹس بھی سوار تھے جو 1837میں لائیبریا کے صدر بنے۔ پرنس عبد الرحمن اس امید اور مشورے پر اپنے بچوں کو امریکہ چھوڑ گئے کہ وہ افریقہ جاتے ہی بچوں کی آزادی کے لیے طلب کردہ قیمت چھ ہزار ڈالر روانہ کر دیں گے جو تھامس فوسٹر کو بچوں کیاآزادی کے عوض ادا کر دی جائے گی اور انہیں ان کے والدین کے پاس لائبیریا بھیج دیا جائے گا لیکن ابھی پرنس عبدالرحمن کی بلائیں تمام نہیں ہوئی تھیں اور ان بلاﺅں میں مرگ ناگہاں بھی شامل تھی۔ 14مارچ1829کو بچوں کی جدائی سے بے حال غمزدہ ماں باپ لائبیریاکے ساحل پر اترے اب انہیں ٹیمبو جانے کا مرحلہ در پیش تھا جو ساحل لائبیریاسے 15دنوں کی دشوار گزار مسافت پر واقع تھا ابھی وہاں جانے کے انتظامات بھی نہیں ہوئے تھے کہ پرنس عبدالرحمن بیمار پڑگئے۔ وطن آتے ہی انہیں شام غریباں نے آلیا جبکہ بے وطنی میں وہ طویل غریب الوطنی پہلے ہی کاٹ چکے تھے۔ ادھر انہیں گھر جانے کی جلدی تھی ادھر اجل ان کی تاک میں تھی ۔ بیماری نے زور پکڑا‘ وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہے ۔ پرنس عبد الرحمن کی موت  نے انہیں 6جولائی کو سر ساحل ہی آلیا۔

پرنس عبد الرحمن سر ساحل افریقہ انتقال کر گئے ۔ اپنی مملکت میں جانا اور اپنے عزیزو اقارب سے ملنا ان کے نصیب میں نہیں تھا ۔ دم آخر روتی سسکتی بلکتی غمزدہ ازابیلا کے سوا‘ اور کوئی ان کے پاس نہیں تھا ۔ ان کے بچے تھامس فوسٹی کی غلامی میں اس رقم کے منتظر رہے جو پرنس عبدالرحمن نے ان کی آزادی کے لیے بھیجنی تھی اور گھر والے اس انتظار میں رہے کہ عبدالرحمن آتے ہی ہوں گے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔