لاہور میں سوشلزم اور بسوں کا انتظار کرتا آخری بوڑھا ہندو


ادب کی دنیا میں رام  نارائن بھاٹیہ کو فکر تونسوی کے نام سے جاناجاتا ہے۔ تونسوی لاہور کے تاریخ سازادبی رسالوں کے مدیر رہے ۔شاعری  کی ،لیکن شہرت طنز و مزاح کی وجہ سے ملی۔

وہ اپنے اصل نام کو واہیات کہتے تھے،اورخودساختہ نام فکر تونسوی کو پسند کرتے تھے۔ وہ 7اکتوبر 1918 میں پیدا ہوئے، آبائی گاؤں تونسہ شریف،ضلع ڈیرہ غازی خان ہے۔ان کی زندگی بہت مفلسی کے عالم میں گزری، بہت جد وجہد کی۔ انہی کے لفظوں میں؛ کئی پیشے اختیار کیے ،ٹیچری ،خوش نویسی ،تاجروں کی ایجنسی ،گھٹیا اور سستے اخباروں کی ایڈیٹری وغیرہ۔ نیم ادبی و نیم فلمی ہفتہ وار’’من کی موج‘‘ تھا یہ آٹھ نو ماہ اس سے وابستہ رہے، اس وقت فکر تونسوی کی عمر 22 سال تھی۔

صلاح الدین احمد کے مؤقر میگزین ‘ادبی دنیا’ میں نظم ‘تنہائی’ (1942)کواپنی ادبی زندگی کا سنجید ہ آغاز کہتے ہیں،حالاں کہ وہ پہلے بھی غزلیں کہہ چکے تھے،آٹھویں جماعت میں ہی شعر موزوں کرنے لگے تھے ۔ ان کی نظم تنہائی کو بقول انہی کے ادبی سنگھٹن حلقہ ارباب ذوق نے سال کی بہترین نظم قرار دیا تھا۔معروف فکشن رائٹرممتاز مفتی کے ساتھ مشترکہ ادارت میں دو ماہی میگزین سویرا نکالا۔ادب لطیف کی ادارت بھی کی ۔ 1947کے بعد میں بطور رفیوجی ہندوستان آئے ۔ 1947میں ہی نظموں کا پہلا مجموعہ ہیولے کے نام سے شائع ہوا۔ سینتالیس کے بعد شاعری ترک کردی ۔مزاح اور طنز میں نثر لکھنے لگے ۔ان کی پہلی نثریہ تصنیف ‘چھٹا دریا ‘ تقسیم پر ایک دردناک ڈائری کے فارم میں ہے۔ان کی کتاب ‘ساتواں شاستر ‘بھی  اسی موضوع پر ہے۔

ابتدائی زمانے میں اخباروں میں خوشنویس کے طور پر کام کیا۔ایک رنگریز جیمنی داس کے ہاں ملازم ہوئے ،اور پگڑیاں اور دوپٹے رنگنے اور چھپائی کا کام بھی کیا۔کتب خانے میں پیکٹ بھی بناتے تھے۔انہوں نے کتب خانے میں ایک چپراسی کی طرح جھاڑو بھی لگایاہے۔

فسادات کے دوران لاہور میں ان کی حالت بقول سہیل عظیم آبادی یہ تھی کہ؛شاید سارے لاہور میں وہ تنہا ہندو تھا جو ان ہنگامہ خیز دنوں میں شہر کے اندر مسلمانوں کے ساتھ شہر میں گھومتا رہا ،ہوٹلوں میں چائے پیتا رہا۔’ قتیل شفائی کی بائیو گرافی ’’گھنگھرو ٹوٹ گئے‘‘میں یہ پورا واقعہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

ان کے طنز ومزاح میں تقسیم کا کرب اور لاہور سے ہجرت کا دکھ بھی شامل ہے۔وہ ہندی ادب میں بھی مشہور ہوئے ۔ہندی میں انکی کم و بیش آٹھ  کتابیں شائع ہوئیں۔

اردو میں ایک سوسالہ کالم نگاری پر رسالہ چنگاری کا ایک ضخیم نمبر مرتب کیا۔ دلی میں دو بڑے تین ایکٹ کیے ،دو اسٹیج ڈرامے تحریر کیے۔دربار اکبر ی ،گاندھی شتابدی(منظوم اسٹیج ڈرامہ )،شاہراہ کی ادارت کی۔

ریڈیو اسٹیشن جالندھر اور دہلی پر سینکڑوں ڈرامے ،فیچر اور تقریریں پیش کیں۔ٹیلی ویژن پر متعدد ڈرامے پیش کیے۔ان کا ایک ریڈیو ڈراما آج کا سچ ہندوستان کے ہر ریڈیو اسٹیشن سے براڈکاسٹ ہوا۔روزنامہ ‘نیازمانہ’ جو کمیونسٹ پارٹی کی پنجاب برانچ کا اخبار تھا،اس میں ایک طنزیہ کالم ‘آج کی خبر’ کے نام سے لکھتے تھے ۔روزنامہ ملاپ میں ‘پیاز کے چھلکے’ کے نام سے  25برس تک کالم لکھا۔1954میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے فل ٹائم ممبر بنے ۔لیکن تین چار سال تک ہی پارٹی میں رہے۔

وہ اپنی ڈھب کے اکیلے سیاسی طنز نگار تھے اوربقول کنہیا لال کپور انہوں نے اردو ادب میں ایک لفظ تونسہ کا اضافہ کیا ہے۔اپنی کتاب ‘وارنٹ گرفتاری’ میں انہوں نے اپنا تعارف ‘مصنف کا کچا چٹھا’ کے عنوان سے لکھا ہے ،آپ بھی ملاحظہ فرمائیں؛

‘مصنف کا نقلی نام فکر تونسوی ہے (اصلی نام کافی واہیات تھا)پہلی جنگ عظیم میں پیدا ہوااور تیسری جنگ عظیم میں کوچ کر جائے گا۔والدین غریب تھے اس لیے والدین یعنی غریبوں کے حق میں لکھنے کی عادت پڑ گئی ۔اس کی خواہش ہے کہ غریب ہمیشہ قائم رہیں کہ کوئی ہمیشہ لکھتا رہے۔شروع شروع میں نظمیں لکھتا تھا جو اس کی اپنی سمجھ میں بھی نہیں آتی تھیں ۔بڑی مشکل سے اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ وہ گھٹیا شاعر اور بڑھیا نثر نگار ہے۔چنانچہ نثر میں مزاحیہ اور طنزیہ چیزیں لکھنے لگا۔پہلے ا سے یقین نہیں آتا تھا کہ وہ اچھا لکھتا ہے ۔لیکن جب قارئین نے شور مچادیا کہ وہ اعلیٰ ترین طنز نگار ہیں، تب اسے بھی اپنے اعلیٰ ترین ہونے کا یقین آگیا ۔جس دن یہ یقن ٹوٹ گیا وہ خود کشی کرلے گا۔

شکل بھونڈی ہے ،تحریر خوبصورت ہے اور یہ دونوں چیزیں خداداد ہیں ۔لوگ اس کی تحریر پڑھ کر اسے دیکھنا چاہتے ہیں ،جب دیکھ لیتے ہیں تو اس کی تحریریں پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے مصنف دنیا سے منھ چھپاتا پھرتا ہے ۔عزت قائم رکھنے کے لیے انسان کو سب کچھ کرنا پڑتا ہے ۔

و ہ اب تک ہزاروں صفحے لکھ چکا ہے اور لاکھوں مداح پیدا کرچکا ہے ۔اس کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں صفحے اور کروڑوں مداح اس کی ارتھی کے ساتھ جائیں گے۔ جن میں زیر نظر کتاب اور اس کے پڑھنے والے بی شامل ہوں گے۔ (یہ کچا چٹھا مصنف نے خود اپنے منھ میاں مٹھو بن کر لکھا)’دہلی ،جولائی 1966

انہوں نے سیاسی طنز نگاری میں مثال قائم کی تھی ۔ان کی کتاب ‘چوپٹ راجہ’اس باب میں یوں مشہور ہے کہ یہ ایک مسلسل سیاسی طنز ہے ،جس میں بقول کنہیا لال کپور نہایت تیکھے انداز میں برسراقتدار طبقے کی قلعی کھولی گئی ہے۔

کنہیا لال کا یہ جملہ بہت بامعنی ہے کہ ؛ان کا ہر فقرہ ایک نشتر کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر پیراگراف نیش عقرب کی یاد دلاتا ہے۔

اس کتاب کے تعارف میں فکر نے لکھا ؛ہاں یہ کتاب میں نے کلوا دھوبی کے لیے لکھی ہے ،جو اسے پڑھ نہیں سکتا ۔ہم دانشمند لوگ بہت سے کام ایسے کرتے ہیں جن کا مقصد شانتی لال کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے ،مگر فائدہ کانتی لال اٹھاتا ہے ۔اور اسی کو ہم ڈیموکریسی کہتے ہیں۔ ڈیموکریسی کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ شانتی لال اور کانتی لال دونوں کے لیے ہوتی ہے۔اس لیے شانتی لال روتا ہے اور کانتی لال ہنستا ہے ،اور اس رونے اور ہنسنے کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ایک زبردست کارنامہ ہے ،جس سے تاریخ جنم لیتی ہے اور نہ جانے اس طرح کی کتنی الم غلم عظیم چیزیں جنم لیتی ہیں۔’ آخری جملہ ہے ؛ اور یہ کتاب میری معصومیت کی لاش کا نوحہ ہے۔

انہوں نے اپنی کتابوں کے دلچسپ انتساب لکھے ۔مثلاًفکر نامہ کا انتساب ہے ؛ اپنےہی نام –اپنے پہ اعتماد ہے ،غیر کو آزمائے کیوں۔

پروفیسر بدھو ان کا طنزیہ ناول ہے۔ اس کا انتساب بھی اپنے ہی نام ہے۔اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے بطور طنز نگار مصنف کو سوائے نقادوں کے سبھوں نے تسلیم کرلیا ہے۔فکر بانی ان کے طنزیہ مضامین کا مجموعہ ہے ،اس کا انتساب ہے ؛ان بوڑھوں کے نام ۔۔۔۔جو پیدا نہ ہوتے تو کبھی بوڑھے نہ ہوتے ۔

ایک زمانے میں وہ کناٹ پلیس کے موہن سنگھ کافی ہاؤس میں اٹھتے بیٹھتے تھے ۔کہتے ہیں پیاز کے چھلکے، یعنی ان کے کالم کی وجہ سے طلبا ،اساتذہ ،دکان دار ،رکشا پلر وکیل ،ڈاکٹر پروفیسر سبھی ملاپ پڑھتے تھے ۔ فکر کئی معنوں میں طنز کو عوام  تک پہنچانے والے ادیب تھے ۔ انہوں نے دلی کی بسوں پر خوب لکھا ۔بقول تونسوی ؛

دہلی کو ایک وحدت ،ایک اکائی ،ایک شہر ایک تہذیب کی حیثیت اس وقت ملتی ہے جب ڈی ٹی سی بسیں ان ہجر زدہ ٹکڑوں کا ایک دوسرے سے وصال کراتی ہیں۔اس اعتبار سے دہلی کی بسیں ایک ایسے ایجنٹ کی طرح ہیں جو طالب ومطلوب کو ایک دوسرے سے ملادیتا ہےاور اپنی دلالی کھری کرلیتا ہے۔

نہ جانے کس کا جملہ تھا کہ فکر صاحب بسوں اور سوشلزم کا انتظار کرتے کرتے بوڑھے ہوگئے۔ وہ زندہ دل اور شگفتہ ادیب کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

ان کی چند اہم کتابیں یہ ہیں؛تیرنیم کش (1953)، پروفیسر بدھو (1954) ماڈرن الہ دین (1955) خدو خال (1955) ساتواں شاستر (1955) ہم ہندوستانی ہندی (1957) بدنام کتاب (1958) آدھا آدمی (1959) آخری کتاب (1959) پیاز کے چھلکے (1972) چھلکے ہی چھلکے (1973) فکر بانی (1982) گھر میں چور (1983) میں آپ بیتی حصہ اول (1987) میری بیوی آپ بیتی حصہ دوم (1987) فکر نامہ، وارنٹ گرفتاری، چوپٹ راج، بات میں گھات، فکریات اور فکر بیتی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔