بیئر 95 فیصد حلال ہے


1954ء میں پرنسٹن یونیورسٹی اور امریکی کانگریس نے ایک بین الاقوامی مجلس مذاکرہ کرائی۔ اس وقت امریکا میں پاکستان کے سفیر سید امجد علی نے منتظمین سے ایسی ہی ایک مجلس پاکستان کرانے کی درخواست کی، جسے منظور کر لیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد سید امجد علی وزیر خزانہ بن گئے۔ انہوں نے اس اہم کام کے لئے حکومت کی طرف سے سات لاکھ کی منظوری دی۔ مجلس مذاکرہ کے انعقاد کی ذمہ داری پاکستان کی یونیورسٹیوں کو تفویض ہوئی۔ انتظامی کمیٹی نے اس کام کے واسطے حکومت کے مشورے سے مجلس کے انتظامات اور اس میں پڑھے جانے والے مقالہ جات کی ترتیب و اشاعت کی ذمہ داری کے لئے محمد اسد کو منتخب کیا۔ محمد اسد اس کام کے لئے جٹ گئے لیکن پنجاب یونیورسٹی ،جہاں اس کانفرنس کا ہونا طے پایا تھا، اس کے وائس چانسلر محمد اسد کو پسند نہ کرتے تھے۔ وہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالتے اور دق کرتے۔ محمد اسد کے تقرر کو انہوں نے دل سے قبول نہ کیا ۔ محمد اسد نے بہر حال کام کا آغاز کر دیا۔ ان کی مدد کے لئے ایک سیکرٹری کا تقرر بھی کیا گیا لیکن اسد اس کی کارکردگی سے مطمئن نہ تھے ،اس لیے ان کی بیوی نے بغیر کسی عہدے یا مالی منفعت کے اپنے شوہر کی بطور اعزازی سیکرٹری بننا قبول کیا۔ دونوں نے لگن سے کام کیا۔

Muhammad Asad

پولا حمید اسد کے بقول ’’ہم دونوں نے جوش و جذبہ سے اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لیے دن رات کام کیا۔ ہم علی الصبح ٹانگے پر دفتر آتے اور رات گئے اپنے کرائے کے مکان پر واپس پہنچتے۔ اسد کو کانفرنس میں اپنی مرضی کے مطابق اسلامی سکالروں کو مدعو کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن وائس چانسلر ان کے کام میں بے جا مداخلت کرتے اور مدعوئین کے بارے میں استفسارات کرتے اور ناموزوں لوگوں کو بلانے کیلئے اسد پر زور ڈالتے۔ اسد کا موقف تھا کہ کانفرنس میں جمال عبدالناصر کے حامی و مخالف دونوں فکر کے علماء کو مدعو کرنا چاہیے لیکن وائس چانسلر ایسا نہ چاہتے تھے اور ان کی رائے تھی کہ صرف ناصر کے مخالف علماء کو بلایا جانا چاہیے۔ اسد کی مخالفت میں شدت آتی گئی اور آخر کار انھوں نے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔ وائس چانسلر نے ایک دن ان کی بیوی کو بھی سخت سست سنائیں۔ اس واقعہ سے دونوں کے درمیان شکر رنجی میں مزید اضافہ ہوا۔ وہ مستعفی ہوئے۔ اس کانفرنس کی کارروائی اور مقالات کتابی صورت میں شائع ہوئے تو ان میں علامہ اسد کا نام تک نہ تھا۔ اکرام چغتائی کے بقو ل ’’ یہ غیر علمی یا غیر اخلاقی طرز سلوک پنجاب یونیورسٹی کے معتبر اور ذی علم اصحاب کے ساتھ جانبدار رویے کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  حامد میر، محمد حنیف اور بانی ایم کیو ایم
prof-dr-hamidullah

ہمارے ہاں سچے اور کھرے عالموں کے ساتھ نارواسلوک کی یہ واحد مثال نہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ عالم اسلام کے عظیم مفکر تھے ۔ ان کی علمی و تخلیقی مساعی کا ایک زمانہ قدر دان ہے ۔ ایوب خان اور ضیاء الحق کے دور میں انہیں پاکستان آکر کام کرنے کی پیشکش ہوئی، پر وہ آمادہ نہ ہوئے ، کہ وہ جان گئے تھے کہ یہاں ان کی قدر نہ ہو گی۔ ایوب خان نے ڈاکٹر جاوید اقبال کو ذمہ داری سونپی کہ وہ ڈاکٹر حمیداللہ کوپاکستان آکر کام کرنے کے لئے قائل کریں۔ وہ اپنی خونوشت ’’اپنا گریبان چاک‘‘ میں لکھتے ہیں

’’پاکستانی سفارت خانہ کی وساطت سے ڈاکٹر حمید اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک نہایت چھوٹے سے کمرے میں مقیم تھے۔ میں نے انہیں جنرل ایوب خان کا پیغام پہنچایا لیکن انہوں نے پاکستان آنے سے صاف انکار کر دیا۔ فرمایا: ’’ میں جب حیدر آباد دکن سے نکلا تو پہلے پاکستان ہی آیا تھا۔ مگر یہاں کی یونیورسٹیوں کے باسیوں نے مجھے آباد ہونے نہیں دیا۔ میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جیسا ڈاکٹر عبدالسلام سے کیا گیا تھا۔ اب پیرس میں ہر روز چند فرانسیسی میری دعوت پر اسلام قبول کرتے ہیں مجھے پاکستان آنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ ایوب خان کے بعد ضیاء الحق نے بھی ڈاکٹر حمید اللہ کو پاکستان آکر کام کرنے کی دعوت دی اور اصرار کیا لیکن وہ راضی نہ ہوئے۔

ایوب خان کے دور میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن روایتی مذہبی طبقہ کے دباؤ پر پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے بقول ’’میری نگاہ میں علامہ اقبال کے بعد ڈاکٹر فضل الرحمان ہی ایک ایسے عملی اسلامی اسکالر تھے، جن کے مشوروں سے پارلیمنٹ کے لئے فقہ اسلام کی تعبیر نو ممکن تھی۔‘‘ وارث میر نے لکھا تھا، ’’شخصیتوں، کتابوں یا اداروں کے بارے میں احتجاج اور اعتراض کے پیچھے عموماً اسلام دوستی اور خدا خوفی سے زیادہ حریفانہ چشمک کارفرما ہوتی ہے مثلاً ڈاکٹر فضل الرحمان کی کتاب ’’اسلام‘‘ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس میں چھپی لیکن مصنف پاکستان میں ایک تحقیقی ادارے کے سربراہ تھے اور ان کی کرسی پر بہت سے لوگوں کی نگاہ تھی۔ لہٰذا ان کے خلاف ان عناصر نے ہنگامہ کھڑا کیا جو انگریزی میں فلسفیانہ انداز میں لکھی گئی اس کتاب کے اکثر مباحث اور حصوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔‘‘ وارث میر نے مزید لکھا، ’’ڈاکٹر فضل الرحمان جیسے لوگ ملک کے اندر موجود رہیں تو ان کے علم و فضل سے قوم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور ٹھوکروں سے بچا جا سکتا ہے جو ہماری حکومتیں قدم قدم پر کھاتی رہتی ہیں۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  ہندوستان کے بانکے۔۔۔ عبدالحلیم شرر کی ایک نادر تحریر (1)

ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے دیس نکالے کا ذکر ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے ’’ زرگزشت ‘‘ میں پرلطف طرز بیان میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

’’ خدا جانے کہاں تک صحیح ہے ، دشمنوں نے اڑائی تھی کہ ایوب خان کے عشرہ انحطاط میں سرکاری مفتی اعظم ڈاکٹر فضل الرحمٰن میگل یونیورسٹی سے علم دین کی سند لائے تھے، یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ ازبسکہ بیئرمیں فقط پانچ فیصد الکحل اور95فیصد پانی ہوتا ہے ، اس کا پینا ازروئے شرع حلال ہے۔ اسی نوع کے دو تین فتاویٰ پر فتور کی پاداش میں انھیں جلاوطن ہو کر دس گنی تنخواہ پر امریکا جانا پڑا۔ اگر ڈاکٹر صاحب قبلہ ذرا بھی سمجھ اور سائنس سے کام لیتے تو فتویٰ میں عاقلوں کو بس اتنا اشارہ کافی تھا کہ بیئر 95 فیصد حلال ہے!‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔