بلوچستان میں پشتونوں کے مسائل، محمود اچکزئی اور جمعیت علمائے اسلام


جناح روڈ کے تھڑوں سے لے کر بلوچستان یونیورسٹی کے کینٹین تک ہر طالبعلم چار مبہم اصطلاحات تواتر سے سنتا رہا ہے۔ استعمار، سامراج، طاغوت اور پنجابی اسٹیبلشمنٹ۔ چونکہ بلوچستان میں رائے عامہ کے بہت سے متوازی دھارے موجود ہیں اس لئے ان اصطلاحات کے مفاہیم وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ مذہبی بنیادوں پر سیاست کرنے والوں کے لئے کبھی سویت یونین سامراج اور طاغوت ہوا کرتا تھا جبکہ امریکہ بہادر ان کا حلیف تھا۔ آج پراناحلیف نیا طاغوت ہے۔ پشتون قوم پرستوں کی مشکل یہ ہے کہ تعین کے ساتھ وہ خود بھی یقین سے نہیں بتا پاتے کہ آج کل استعمار اور پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے ان کی کیا مراد ہے۔ مدت پہلے جب بلوچستان کے در و دیوار پر ایک مسیحا کو پکار کر یہ گل کاری کی گئی تھی کہ’ خان صاحب توپ کامنہ لاہور کی جانب رکھو‘ تو معلوم ہوتا تھا قوم پرست حضرات تخت لاہور کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ سمجھتے ہیں۔ اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ خان صاحب تخت لاہور کے اتحادی ہیں۔ کارکن البتہ ابھی تک پنجابی اسٹیبلشمنٹ جیسی بے معنی اصطلاح سے جی بہلاتے رہتے ہیں۔ ادھر عوام بنیادی صحت و تعلیم، روزگار، پانی اور بجلی جیسے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

پارلیمانی جمہوریت میں سیاست دان دو اہم امور سر انجام دیتے ہیں۔ ان کا پہلا کام قانون سازی کا ہے اور ان کی دوسری ذمہ داری عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ اچھی جمہوریتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے پارلیمانی نمائندوں کا کام، ترقی اور روشن مستقبل کی ضامن ٹھوس اور پائیدار پالیسیاں تشکیل دینا ہے۔ عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کام لوکل باڈیز سر انجام دیتی ہیں کیونکہ وہاں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو چکے ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ستر سال میں ہم اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کر سکے اس لئے اسکول، سڑک، ڈسپنسری، نالی، ٹرانسفارمر اور ٹیوب ویل کے لئے بھی عوام وزراء، ایم این ایز اور ایم پی ایز کے دروازوں پر کھڑے رہتے ہیں۔ بلوچستان کے دارلخلافہ کی لوکل باڈیز کی تصاویرالبتہ گاہے گاہے اخبارات میں نظر آتی ہیں جن میں وہ دکانوں کے تھڑے توڑنے یا کچرے کے ڈھیر کے سامنے سرخ فیتے کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تناظر میں بلوچستان کے پشتون بیلٹ (بلوچ بیلٹ کو پھر کسی موقع پر اٹھا رکھتے ہیں) کو دیکھا جائے تو تصویر کے خدوخال واضح کرنا کچھ ایسا مشکل نہیں ہے۔

بلوچستان کی پشتون بیلٹ کے مسائل میں ایک تو افغانستان اور ڈیورنڈ لائن کا قضیہ شامل ہے اور دوسرا معاملہ پشتون قومی شناخت کا ہے جبکہ دیگر مسائل عوام تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ہیں۔ پشتون بیلٹ سے پارلیمان میں ہمیشہ دو سیاسی جماعتوں پہنچتی رہی ہیں۔ ایک مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام ہے اور دوسری محمود خان اچکزئی صاحب کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی سیاست کی نیو آفاقی مطالبات پر رکھی گئی ہے۔ ان کی سیاسی منزل ایک خلافت کا قیام ہے۔ قومی شناخت کا سوال ان کے ہاں شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ قوم پرستی کو یہ غیر اسلامی فعل سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان کو سیاسی طور پر پشتون یا بلوچ قومی شناخت جیسے معاملات سے نہ کبھی دلچسپی تھی اور نہ انہوں نے اس معاملے پرکبھی کوئی ٹھوس موقف اپنایا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  عقل چوس کرسی!

افغانستان کے معاملے میں البتہ ان کا موقف معلوم ہے۔ روسی جارحیت کے وقت یہ افغان جہاد یا امریکی جنگ کے بھرپور حامی تھے۔ طالبان دور میں یہ نہ صرف طالبان کے جہاد کے قائل تھے اور ان کی بھرپور حمایت کرتے تھے بلکہ ان کے مدارس سے طالبان افغانستان جا کر لڑتے رہے تھے۔ پشتون بیلٹ سے طالبان کے لئے بھرتی اورچندے ابھی کل کی باتیں ہیں۔ ایک مولانا محمد خان شیرانی نقارنے میں طوطی کی طرح مختلف لے اٹھاتے مگر ان کو نہ صرف جماعت کی صدارت سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ منکر جہاد کے طعنے بھی سننے پڑے۔ جہاں تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا تعلق ہے تو 1972 سے مختلف مواقع پر حکومت کا حصہ رہنے والی جمعیت علماء اسلام نے پشتون بیلٹ میں کچھ کردار ضرور ادا کیا ہے۔ ان کے کریڈٹ پر بلاشبہ کچھ دیہی سڑکیں، چند پرائمری سکول یا ان کی اپ گریڈیشن، چند مدارس، کچھ ٹیوب ویل اورکچھ نوکریاں شامل ہیں۔ پچھلی حکومت میں البتہ عوام میں بلکہ شاید کسی حد تک خواص میں پلاسٹک کے ٹینکیوں اور مرغیوں کی تقسیم جیسے دیرپا ترقیاتی منصوبے بھی شروع ہو چکے تھے۔

اس کے برعکس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ڈیورنڈ لائن سے لے کر پشتون قومی شناخت، مادری زبان میں تعلیم اور افغانستان کے مسائل تک ایک الگ موقف رکھتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک متنازعہ سرحد ہے۔ بلوچستان میں پشتون قومی شناخت کے حوالے سے ان کا پہلا مطالبہ تو خیبر پختوا سے لے کر بشمول اٹک اور میانوالی اور بلوچستان کے پشتون بیلٹ پر مشتمل ایک الگ صوبے کا قیام تھا۔ گاہے چیف کمشنر صوبے کی بحالی آوازیں بھی آتی رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بلوچستان ایک دو قومی صوبہ ہے اس لئے یہاں زندگی کے ہر شعبے میں پشتون بلوچ حقوق کا تعین عمومی اور آیئنی طور پربرابری کی بنیاد پر ہونے چاہیں۔ بنیادی تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ اس نوع کے دیگر منشوراتی مطالبات کی ایک طویل فہرست ہے۔

مشکل یہ ہے کہ ان معاملات پر محمود خان اچکزئی صاحب خود صراحت سے وضاحت نہیں کرتے کہ ان کا حتمی موقف کیا ہے؟ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر1 میں جہاں جمہوریہ اور اس کے علاقوں کا تعین کیا گیا ہے وہاں شق الف میں واضح طور پر موجود ہے کہ بلوچستان ( موجود جغرافیائی شکل میں) پاکستان کا حصہ ہے ( اس میں ڈیورنڈ لائن کی پٹی شامل ہے)۔ سوال یہ ہے کہ کیا اچکزئی صاحب اسے افغانستان کا حصہ سمجھتے ہیں؟ کیا وہ اس علاقے کے لئے نئے سرے سے کسی ریفرنڈم کا مطالبہ کرتے ہیں؟ کسی بھی صورت میں ان کو اس سوال کا جواب تو دینا چاہیے کہ وہ اسمبلی میں اس تنازعے کے حل کے لئے کوئی قرار داد لائے ہیں؟ یا ان کا کوئی ایسا ارادہ ہے بھی ہے؟ یہی معاملہ پشتون قومی سوال پر درپیش ہے۔ اس وقت اچکزئی صاحب کی جماعت صوبائی حکومت کا حصہ ہے۔ مرکز میں وہ مسلم نواز کے حلیف ہیں۔ صوبے میں ان کا بھائی گورنر ہے۔ ان کو واضح کرنا چاہیے کہ کیا وہ بولان سے چترال تک ایک الگ صوبے کے قیام کے مطالبے پر قائم ہیں؟ اگر قائم ہیں تو کیا اس مطالبے میں خیبر پختونخوا کے عوام کی حمایت ان کو حاصل ہے؟ کیا وہ اس مجوزہ صوبے کے لے اسمبلی میں کوئی قرارداد لائے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  جمال نقوی، نازش نقوی۔۔۔ اپنے اپنے ”نقوی “

دوسری صورت میں اگر ان کا مطالبہ بلوچستان کے پشتون بیلٹ پرمشتمل ایک الگ انتظامی یونٹ کا ہے ( جس کی مانگ ان کا حق ہے) تب بھی ان کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ ان کی جماعت کی نمائندگی 1988 سے پارلیمان میں ہے۔ ان سے سوال بنتا ہے کہ گزشتہ تیس سال سے پارلیمان میں نمائندگی کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک الگ انتظامی یونٹ کے لئے کیا آئینی تقاضا کیا ہے؟ یہی سوال مادری زبانوں میں بنیادی تعلیم کے مطالبے کے حوالے درپیش ہے کہ ان کی جماعت نے اس کے لئے آیئنی طور پر کیا بندوبست کیا ہے؟ ان کی جماعت نے 1998 کی مردم شماری کا بائیکاٹ کیا تھا جس کی وجہ سے پشتون بیلٹ کے بہت سے علاقوں میں مردم شماری نہ ہو سکی۔ کیا وہ قوم کو بتانا پسند کریں گے کہ 2017 کی مردم شماری کے بعد 1998 کے بائیکاٹ کی وجہ سے جو پشتون آبادی مردم شماری سے محروم رہ گئی تھی یا کم ہوئی تھی اس کا کیا تدارک انہوں کیا؟ ادھر جب سی پیک پر مختلف صوبے اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے علاقوں کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے تو ان کا موقف تھا کہ سی پیک ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت ہو گی۔ اس حسن تغافل پر کیا کہیے!

سیاست میں مدتوں کی خاک چھاننے کے بعد اچکزئی صاحب کو یہ تو ضرور معلوم ہو گا کہ قوموں کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کا راستہ راہداری سے ہو کر گزرتا ہے۔ دیکھیے بلوچستان تعلیم، صحت، روزگار، پانی اور بجلی کی کمی کے حوالے سے تینوں صوبوں سے پسماندہ ہے۔ پشتون بیلٹ میں معاش کا واحد ذریعہ زراعت تھی۔ پانی اور بجلی کی کمی کی وجہ سے زراعت کا شعبہ تباہ ہو چکا ہے۔ پشتون عوام کی قسمت میں مگر اہل اقتدار کی طرف سے چنددیہی سڑکیں، نچلے اسکیل کی کچھ نوکریاں اور فٹ ہاتھ و نالیاں آتی رہی ہیں۔ بڑے ڈیم بنانے، نئی ٹرانسمیشن لائنز بچھانے، سی پیک کے تحت ہی سہی صنعتی زونز کے قیام کی جدوجہد تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں، نئی یونیورسٹیوں کا قیام یا اس قبیل کی دیگر دیر پا پالیسیاں اہل اقتدار کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستانی سیاست بالعموم اور بلوچستان کی سیاست بلخصوص اب محض مبہم سیاسی نعرہ بازی اور عارضی و ذاتی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ رہ گئی ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah