شیر آیا شیر آیا کا شور


ہمارے ایک دوست نے تحریر کے اکابرین کی فہرست گنوا دی ہے جو پاکستان میں ایک بار پھر فوجی اقتدار کی بازگشت کا ذکر کرکے متنبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تب نہ کہنا کہ پاکستان میں لوگ فوج کے بر سر اقتدار آنے پر مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے۔ میں مسکرا دیا کہ کیا نویسندہ اکابرین عام لوگوں میں شامل ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا عام ہونے کے بعد تو ایسا نہیں رہا کیونکہ صارفین کے معاشرے کو قائم و دائم رکھنے کی خاطر چینلوں پر مسلسل دکھائے جانے والے اشیائے صرف کے اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنیوں کے سبب اس کا کچھ حصہ چھ صفری بلکہ بعض اوقات سات صفری اعداد میں ان اکابرین کے اکاؤنٹس میں بھی منتقل ہوتا ہے۔

عام لوگ ویسے تو ہر جگہ تقسیم ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ملکوں کے عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مصائب سے نجات دلانے والے کی منتظر ہوتی ہے۔ اب ظاہر ہے لوگ امام مہدی یا مسیح موعود کی آمد کی تو فی الحال توقع نہیں رکھتے۔ چار کتابوں کے ساتھ اترنے والے اس ڈنڈے والے کی راہ دیکھتے ہیں جو انہیں زندگی کے عام مسائل سے فوری طور پر فارغ کر دے۔ مٹھائیاں بھی عام لوگ نہیں بانٹتے بلکہ ان سیاستدانوں کے حامی بانٹتے ہیں جو بعد میں فوجی حکمران کے دست و بازو بنتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے کہی اس بات کہ امریکہ کو پاکستان کی حکومت کی ناپائیداری پر تشویش ہے چنانچہ خواہاں ہے کہ پاکستان میں حکومت پائیدار ہو کی دو طرح کی تعبیریں کی جارہی ہیں۔ اول یہ کہ امریکہ پاکستان میں کسی مستحکم حکومت کی توقع کر رہا ہے، متمنی ہے یا ایسی کسی سرگرمی کے بر آنے سے متعلق باخبر ہے۔ دوسری یہ کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں موجود سیاسی حکومت مستحکم ہو جائے۔ ساتھ ہی امریکہ کے وزیر دفاع جنرل (ریٹائرڈ ) جیمز میٹس نے کانگریس کے سامنے پیش ہو کر پاک چین اقتصادی کاریڈور کو متنازعہ علاقے سے گزارے جانے کا ذکر کیا ہے، جس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ امریکہ ہندوستان کی گراؤنڈ میں کھیل رہا ہے۔

چاہے پاکستان کی عسکری قیادت ہو چاہے امریکہ کی سیاسی عسکری قیادت، موجودہ حالات میں نہیں چاہے گی کہ پاکستان میں پھر سے عسکری حکومت قائم ہو۔ اس بات کو سمجھنے کی خاطر جاننا پڑے گا کہ یہ دونوں کب ایسے اقدام کے حق میں ہوتے ہیں۔ جی ہاں یہ دونوں کیونکہ پاکستان میں کوئی بھی مارشل لاء چاہے وہ ایوب خان کا تھا، ضیاءالحق کا تھا یا پرویز مشرف کا امریکہ کے مفادات کے بغیر نہیں آیا۔ ایوب خان کے زمانے میں پاکستان امریکہ کی منڈی بنا۔ ضیاء کے زمانے میں پاکستان نے امریکہ کی ”پراکسی وار“ لڑی اور پرویز مشرف کے دور میں بین الاقوامی دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کی کوششوں میں اعانت فراہم کی گئی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان تینوں اعمال سے امریکہ کے علاوہ اور کس کو یا اور کس کس کو فائدہ پہنچا۔

چنانچہ یہ دیکھے جانے کی ضرورت ہے کہ آج امریکہ کو کیا چاہیے ہے جو اسے پاکستان کی عسکری اشرافیہ کی مدد درکار ہو سکتی ہے؟ ایک ہی معاملہ ہو سکتا ہے افغانستان کے مسئلے کا حل۔ بین الاقوامی سیاست سے بہرہ ور ہر شخص جانتا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ پہلے بھی مقامی مسئلہ نہیں تھا اور اب بھی مقامی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی مسئلہ ہے جس میں افغانستان کے نزدیکی ہمسایوں پاکستان، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے علاوہ منسلک ہمسایوں چین ہندوستان اور روس کے علاوہ بہت دور کا ملک امریکہ بھی شریک ہے۔ یہ بات امریکہ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا اور جو اس سے کچھ کم جانتے ہیں وہ اس کی اس رگ کے درد سے شناسا ہونے کے سبب اس درد کو کم و بیش کرتے رہتے ہیں یوں تنہا پاکستان چاہے وہاں کسی کے خیال میں عسکری شکل میں مستحکم حکومت ہی کیوں نہ ہو، امریکہ کے کام نہیں آ سکتا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہندوستان میں بنیاد پرست مودی کی حکومت ہو اور امریکہ کا زیادہ رجحان ہندوستان کی جانب ہو۔

اسی بارے میں: ۔  غریب کی ماں کو مر جانا چاہیے

امریکہ اور روس کا پاکستان سے متعلق ایک مشترکہ مسئلہ ضرور ہے اور خاصا تیکھا اور تند بھی، وہ ہے پاک چین اقتصادی کاریڈور۔ اس لیے امریکہ اور ہندوستان، چین کو ایک اور مقام پر بحرہند تک پہنچ کر مغرب کے مطابق ” موتیوں کی لڑی“ سے موسوم کی گئی، ہندوستان کو بحری راستے سے گھیرے میں لیے جانے کی پالیسی کو مزید مضبوط ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ دوسرے یہ کہ اس طرح چین کسی بھی وقت کسے جانے والے امریکہ کے اس شکنجے سے نکل جائے گا جو ”آبنائے ملاکا“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہندوستان یہ بھی نہیں چاہے گا کہ چین کا افغانستان اور ایران پر اثر بڑھے۔ اب اس کے لیے کیا کیا جائے۔

ظاہر ہے سی پیک بنیادی طور پر چین کا منصوبہ ہے اور اس کو روک کر چین سے براہ راست جھگڑا مول نہیں لیا جا سکتا۔ نہ ہی ہندوستان شاہراہ قراقرم کو استعمال کیے جانے کے خلاف کوئی عسکری کارروائی کر سکتا ہے کیونکہ یہ شاہراہ ایک عرصے سے بنی ہوئی ہے۔ گلگت ہنزہ والوں نے تو ہندوستان سے اپنے طور پر لڑ کر آزادی لی تھی۔ اگر ہندوستان چاہتا تو اس معاملے کو کب کا بین الاقوامی عدالتوں میں لے جا سکتا تھا اور چین پاکستان میں انفراسٹرکچر بنانا شروع ہی نہ کرتا۔ سی پیک منصوبے کی تکمیل کی ضمانت دیے جانے کی جتنی زیادہ بات پاکستان کی فوجی اشرافیہ کرتی ہے اتنی سیاسی حکومت نہیں کرتی۔ اگر امریکہ نے پاکستان کی فوجی اشرافیہ سے کوئی مفاد لینا ہے تو وہ سی پیک سے متعلق زیادہ سخت مخالفانہ رویہ نہیں اپنا سکتا۔ امریکی سیکرٹری برائے دفاع نے متنازعہ علاقے کی جو بات کی ہے وہ پاکستان کی عسکری اشرافیہ کو چوکنا رکھنے کی خاطر کہی ہے۔ ویسے ہی جیسے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان بہت سی سیاسی باتیں پاکستان کے سیاستدانوں کو ان کی کمزوری جتانے کی خاطر کرتے ہیں۔

ادارے اگر ایک دوسرے کو اپنی غلطیوں کو احساس دلائیں تو وہ کمزور ہونے کی بجائے اپنی اصلاح کرکے مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں۔ اب یہ مخصوص ادارے پر منحصر ہے کہ کیا وطیرہ اپناتا ہے۔ ظاہر ہے پانامہ کیس کے باعث موجودہ حکمران پارٹی کو مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مگر پانامہ کا معاملہ پاکستان سے نہیں جنوبی امریکہ سے شروع ہوا تھا۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ عسکری اشرافیہ اپنے پتے زیادہ شاطر پن سے کھیل رہی ہے۔ پاکستان کی عدلیہ عسکری اشرافیہ کی ممد و معاون ہے یا نہیں اس بارے میں کچھ بھی کہنا سازشی تھیوری کو پروان چڑھانا ہوگا۔ بظاہر جو دکھائی دیتا ہے وہ بباطن ہوا نہیں کرتا۔

اسی بارے میں: ۔  مجھے قائدین ہونے پر شرمندگی ہے

کیا کسی ملک میں فوج بنا کسی بنیاد کے اقتدار میں آ سکتی ہے؟ جی آ سکتی ہے مگر ایسی فوج کی قدر باقی نہیں رہتی۔ البتہ جس ملکوں کے سیاستدان اپنے اعمال سے وہ بنیاد فراہم کریں تو فوج نہ صرف اقتدار میں آتی ہے بلکہ اس کے لیے انہیں بدنام کرنا آسان ہوتا ہے۔ مستزاد یہ کہ کسی سیاستدان میں اتنی ہمت بھی نہ ہو کہ وہ فوجی امور پر بات کرے۔ البتہ سیاستدانوں کو جتنا مرضی بدنام کیا جائے مگر ان کی جڑیں لوگوں میں ہیں اور رہیں گی۔ فوجی اشرافیہ کی جڑیں نہیں ہیں ان کا سہارا بھی مفاد پرست سیاستدان ہی بنتے ہیں۔

اس وقت ملک میں شیر آیا، شیر آیا کا شور ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ کہیں آ کے کسی کو کھا ہی نہ جائے۔ جبکہ وہ نہیں آنے کا۔ جس جس کو کھانا ہے وہ رات کو کچھار سے نکل کر کھائے چلا جا رہا ہے مگر اس پر سب چپ ہیں۔ شیر کبھی بلوچستان میں نکل آتا ہے، کبھی سندھ میں، کبھی کہیں کبھی کہیں۔ مارشل لاء آنے سے متعلق میرے اس اختلافی نوٹ کے آخر میں اپنی ایک نظم پیش کرنا چاہوں گا:

میں کیسے مان لوں کہ محرم گزر گیا
کیا سوریہ میں خون کا بہنا ہوا ہے بند
کیا ملک پاک میں بھی فضا ہو گئی ہے صاف
کیا بچہ اب یمن میں نہیں مر رہا کوئی
کیا بے یقینی سے بھی ملی ہے ہمیں نجات
کیا پانی مل رہا ہے سبھوں کو بقدر ظرف
کیا اب کہیں سے کوئی اٹھایا نہیں گیا
کیا جھوٹ بول بول کے کند پڑ گئی زباں
کیا آرزوئیں سب کی بر آنے لگی ہیں اب
کیا اضطراب ذہنی میں آئی کوئی کمی
کیا بے گھری کے درد سے واقف نہیں کوئی
کیا چادروں کو کھینچنے کی رسم مر چکی
کیا بے سروں کے لاشے بھی ملنے ہوئے ہیں بند
کیا سچ کو جھوٹ کہنے کی عادت بدل گئی
کیا قافلہ یتیموں کا محلوں میں جا بسا
کیا اختلاف سہنے کا اب حوصلہ ہوا
کیا اب بزور بازو کوئی روکتا نہیں
کیا اقتدار آج بھی ان کے نہیں ہے پاس
میں کیسے مان لوں کہ محرم گزر گیا؟

( پہلی سطر کے لیے فیس بک فرینڈ سسی گل کا شکریہ )


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔