(3)کیا ماونٹ بیٹن نے کشمیر بھارت کو دیا؟


 گورنر جنرل لاج ۔ شملہ ۔ 20 نومبر 1947ء

12 نومبر کے ”ڈان“ نے قدرے تاخیر سے ”سقوط جونا گڑھ“ پر تبصرہ کیا ہے کہ ہندوستانی حکومت یا جونا گڑھ کے دیوان صاحب خواہ کچھ ہی کہیں، ریاست کا پاکستان سے الحاق اپنی جگہ پر قائم ہے اور برطانوی پارلیمان کے منظور کردہ قانون آزادی ہند 1947ءکی روشنی میں مقدس قرار پاتاہے ۔ الحاق کشمیر کے تقدس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میرے تحریر کردہ نوٹس کے مطابق 29اگست کی اشاعت میں ”ڈان“ نے دعویٰ کیا تھا ”وقت آ گیا ہے کہ مہاراجہ کشمیر پر واضح کر دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کریں ۔ اگر کشمیر نے ایسا نہ کیا تو پھر بدترین خدشات واقع ہو کر رہیں گے“

وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج کی پوزیشن دفاعی اعتبار سے اہم قصبے اڑی پر قبضے سے مزید مستحکم ہو گئی ہے لیکن جموں اور پونچھ کے علاقے میں جہاں آبادی کی اکثریت مسلمان ہے ۔ بھارتی اور ریاستی افواج کی حالت پتلی ہے۔ مواصلاتی رابطہ بھی مضبوط نہیں موسم سرما میں دروں پر برف جمنے کے باعث فوجی نقل و حرکت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ امید کی جاتی ہے کہ ان قبائلیوں کا جوش و جذبہ جنھیں جہاد کی بجائے لوٹ مار میں زیادہ دلچسپی ہے جلد ہی ٹھنڈا پڑ جائے گا اور وہ اپنے اپنے گھروں کی راہ لیں گے۔ باایں ہمہ کشمیر کی مسلم آبادی میں بے حد جوش پیدا ہو گیا ہے۔

پچھلے ہفتے ممکنہ معاہدے کا جو مسودہ سامنے آیا تھا اس پر غور و فکر کے بعد لیاقت نے ایک بار پھر ”تصفیے“ کی جانب قدم بڑھایا ہے اپنے تازہ ترین بیان میں انھوں نے شیخ عبداللہ کو ”دم چھلا، خوشامدی اور کانگریس کا ازلی ایجنٹ“ قرار دیا ہے جو اپنے ”ذاتی مفادات اور اقتدار کی خاطر عوام کی جان، عزت اور آزادی ک سودا کرنے کے در پے ہے“ شیخ عبداللہ اور نہرو کی ذاتی دوستی کے پس منظر میں اس سے زیادہ تکلیف دہ زبان کا تصور کرنا مشکل ہے۔ ماﺅنٹ بیٹن لندن میں ہیں لیکن لیاقت نے ان ”شرائط“ کا انکشاف کرنا مناسب سمجھا ہے جو جناح نے لاہور مذاکرات میں ماﺅنٹ بیٹن کو پیش کی تھیں یعنی دونوں حکومتوں کی جانب سے جنگ بندی ، ہندوستانی افواج اور قبائلی حملہ آوروں کا بیک وقت انخلاق دونوں گورنر جنرلوں کی مشترکہ انتظامیہ اور ان کی مشترکہ نگرانی میں رائے شماری کا انعقاد۔ ماﺅنٹ بیٹن نے یہ تجاویز فوری طور پر غور و فکر کے لیے ہندوستانی حکومت کے حوالے کر دی تھیں اور میرے علم کے مطابق لیاقت کے انکشاف سے پہلے ہی ہندوستانی حکومت کا جواب کراچی بھیجا جا چکا ہے۔

گورنر جنرل لاج ۔ شملہ ۔ 26 نومبر 1947ء

نہرو نے کشمیر پر ایک اہم بیان میں اگرچہ یہ الزام دہرایا ہے کہ پاکستان ریاست کشمیر پر حملے میں شریک تھا لیکن شیخ عبداللہ کی طرف سے حال ہی میں دی گئی ایک خطرناک تجویز کی بالواسطہ مذمت بھی کی ہے کہ اب ریاست کشمیر میں استصواب رائے کی ضرورت نہیں رہی۔ اگر نہرو نے بروقت ایسا نہ کیا ہوتا تو ماﺅنٹ بیٹن کی پوزیشن خاصی خراب ہو جاتی۔ نہرو نے صرف ان شرائط کا اعادہ کیا ہے جن پر الحاق کی درخواست منظور کی گئی تھی یعنی عبوری حکومت کا قیام اور پھر ایک غیر جانبدار ٹریبونل کے زیر اہتمام استصواب رائے کا انعقاد۔ نہرو نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے کہ ریاست سے دونوں ممالک کی افواج کا انخلا بیک وقت عمل میں لایا جائے اور کہا ہے کہ اس تجویز سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان حملے کی سازش میں شریک تھا۔

گورنر جنرل لاج ۔ شملہ ۔ یکم دسبر 1947ء

مسئلہ کشمیر ہندوستانی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ہندوستانی رہنماﺅں پر واضح ہو رہا ہے کہ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ رکھنا ہے تو کشمیر کے تیس لاکھ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنا اور انھیں یونین میں جذب کرنا ہو گا۔ شیخ عبداللہ بھی رفتہ رفتہ استصواب کے حق میں مائل ہوئے نظر آتے ہیں جس کا وعدہ ہندوستانی حکومت نے کیا ہے۔ اس مسئلے پر ہندو مہاسبھا کے خلاف گاندھی، نہرو اور عبداللہ کا اتحاد بنتا دکھائی دیتا ہے۔ کانگریس کے اندر فرقہ پرست اور قوم پرست مکاتب فکر کا باہمی تصادم کھل کر سامنے آ رہا ہے کانگریس کا وہ دھڑا جو ہندوستان میں ہندو ریاست کا خواب دیکھ رہا ہے کشمیر حاصل کرنے کے حق میں نہیں لیکن کشمیر میں حکومت کے اقدامات نے عارضی طور پر ان لوگوں کو خاموش کر دیا ہے۔

اس دفعہ بھی نہرو اور لیاقت کی آمنے سامنے ملاقات ممکن بنانے میں ماﺅنٹ بیٹن کو مشکلات پیش آئیں کیونکہ ایک بار پھر لیاقت نے دیباچے کے طور پر نہرو کے نام ایک اشتعال انگیز تار بھیج دیا جس میں شیخ عبداللہ کو ایک ”خوشامدی طفیلی“ قرار دیتے ہوئے ہندوستان پر ریاست کی پوری مسلم آبادی ختم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ نیز فوری طور پر ایک غیر جانبدار اور آزاد انتظامیہ کے قیام کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔ خوش قسمتی سے نہرو باجواز غم و غصے کو بھی جھوٹی انا کا رنگ نہیں دیتے ۔ چنانچہ ماﺅنٹ بیٹن نے کشمیر کے الحاق کے بعد پہلی بار دونوں رہنماﺅں کو رو در رو گفتگو کےلئے قائل کر لیا ۔ نہرو نے لیاقت کے سامنے تفصیل سے اپنا موقف پیش کیا بعدازاں لیاقت نے چند بر محل نکات اٹھائے اور کچھ تجاویز پیش کیں جن پر نہرو نے غور کرنے کا وعدہ کیا۔ اسمے نے منین اور محمد علی کی مدد سے ان تجاوز کو رسمی شکل دی چنانچہ اگلے دو روز کے دوران مذاکرات کی مزید چار نشستوں کے لیے بنیاد فراہم ہو گئی۔ مختصراً یہ تجاویز حسب ذیل ہیں

-1            پاکستان ”آزاد کشمیر“ کی باغی افواج کو جنگ بند کرنے کی ترغیب دے گا۔ قبائلیوں اور دیگر حملہ آوروں کو جلد از جلد کشمیر کی حدود سے واپس بلانے اور مزید در اندازی سے روکنے کی سعی کرے گا۔

-2            ہندوستان اپنی افواج کا معتدبہ حصہ واپس بلا لے گا صرف اتنی تعداد میں نفری کو ریاست میں رکھا جائے گا جو امن و امان کی ضمانت کے لیے ضروری ہو

-3            اقوام متحدہ سے کشمیر میں استصواب رائے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی جائے گی۔ یہ کمیشن ہندوستان، پاکستان اور کشمیر کی حکومتوں کو منصفانہ اور آزادانہ رائے شماری کے لیے ضروری اقدامات بھی تجویز کرے گا۔

-4            چند اقدامات مثلا ً سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پناہ گزینوں کی واپسی وغیرہ کا اعلان فوراً کر دیا جائے گا۔

اگرچہ اسمے کی مساعی کے باوجود مذاکرات کے اختتام پر کوئی باقاعدہ معاہدہ طے نہیں پا سکا تاہم نہرو کو ان تجاویز میں صرف چند تفصیلات سے اختلاف باقی رہ گیا ہے۔دوسری طرف لیاقت علی خان جو دہلی آتے وقت فریقین کی افواج کے مکمل انخلا، استصواب سے قبل غیر جانبدار انتظامیہ کے قیام اور منصفانہ استصواب رائے پر اصرار کر رہے تھے صرف اپنے پہلے مطالبے کو جزوی طور پر اور آخری مطالبے کو مکمل طور پر تسلیم کروانے میں کامیاب ہو سکے۔ چنانچہ انھوں نے ثابت کیا کہ وہ اپنے موقف میں رعایت دینے کے لیے تیار ہیں۔ اسمے اس اعتماد کے ساتھ لندن روانہ ہوئے کہ سیاسی اور انتظامی سطح پر قابل عمل حل کے ذریعے مصالحت کی قابل اعتماد بنیاد رکھ دی گئی ہے تاہم مصالحت کے میدان میں مایوسیوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔

دو روز قبل ماﺅنٹ بیٹن کو خود ان کے مطابق زندگی کے سب سے مایوس کن اجلاس کی صدارت کرنا پڑی۔ پٹیل اور بلدیو سنگھ دوسری دفعہ دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فریادی بن کر پیش ہوئے دونوں ابھی ابھی محاذ سے لوٹے ہیں۔ ان کے بیانات اورنہرو کو دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے باعث کابینہ میں نہ صرف فوری استصواب رائے کے خلاف ردعمل پیدا ہو گیا بلکہ کابینہ نے مداکرات جاری رکھنے کی بھی مخالفت شروع کر دی۔ ہندوستانی حکومت کو سہ گونہ شکایت پیدا ہوئی ہے۔ (الف) مغربی پنجاب میں قبائلیوں سمیت حملہ آوروں کی بڑی تعداد کے ارتکاز کی اطلاعات ملیں۔ (ب) الزام لگایا گیا ہے کہ لیاقت علی خان نے دہلی سے واپس پہنچتے ہی مزید حملہ آوروں کے ریاست میں گھس جانے کی ہرممکن حوصلہ افزائی کی۔ (ج) غیر مسلموں کے بڑے پیمانے پر قتل عام اور کشمیری لڑکیوں کی خرید و فروخت کی اطلاعات میں تخفیف نہیں ہوئی۔

فریقین کے درمیان رابطہ اسی وقت بحال ہو سکا جب ماﺅنٹ بیٹن کی خفیہ تجویزپر لیاقت نے نہرو کے نام تار کے ذریعے مذاکرات کی نئی تاریخ کی تصدیق کر دی ۔ لیاقت نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات ہی خونریزی روکنے کا واحد راستہ ہیں ۔ نہرو مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گزشتہ پیر ماﺅنٹ بیٹن کے ہمراہ مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے لاہور پہنچ گئے۔

کشمیر پر گفت و شنید طعام کے لیے وقفے کے سوا شام تین بجے سے نصف شب تک مسلسل سات گھنٹے جاری رہی۔ کہیں کہیں جذباتی گرما گرمی کے علاوہ عمومی طور پر دوستانہ ماحول قائم رہا ۔ باایں ہمہ ان مذاکرات نے ماﺅنٹ بیٹن کو قائل کر دیا کہ تعطل اس قدر بھرپور ہے نیز خارجی اور داخلی سطح پر سیاسی دباﺅ اس قدر شدید ہے کہ تیسرے فریق کے طور پر کسی بین الاقوامی ادارے کی شمولیت کے بغیر جسے فریقین کا اعتماد حاصل ہو مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ ماﺅنٹ بیٹن نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ تیسرے فریق کا کردار اقوام متحدہ کو سونپا جا سکتا ہے۔ لیاقت نے اس تجویز کا یہ کہتے ہوئے خیر مقدم کیا کہ یہ اقدام قبائلی حملہ آوروں پر قابو پانے میں ان کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ لیاقت نے جناح کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کیا کہ قبائلی حملہ آوروں کو کراچی سے فقط ایک حکم جاری کر کے واپس بلایا جا سکتا ہے۔ نہرو جاننا چاہتے تھے کہ اقوام متحدہ کے منشو رکی کونسی شق کے تحت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔ رات آدھی نکل چکی تھی ۔ اس لیے اس نکتے پر مزید غور و فکر کے لیے اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔ دہلی واپس پہنچ کر ماﺅنٹ بیٹن گاندھی اور وی پی منین سے ملاقات کر چکے ہیں۔ دونوں نے اقوام متحدہ سے درخواست کی تجویز کو سراہا ۔ آج ماﺅنٹ بیٹن دوبارہ نہرو سے ملے ۔ اس تجویز کے حوالے سے آج نہرو کا رویہ لاہور کے اجلاس کی نسبت کم منفی تھا۔

گورنمنٹ ہاﺅس ۔ نئی دہلی۔ 18دسمبر 1947ء

گورنمنٹ ہاﺅس میں اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور جنگ کی طرف پیش قدمی بڑی سرعت سے جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پٹیل نے یہ تباہ کن ہدایت جاری کر دی ہے کہ جب تک پاکستان حملہ آوروں کی امداد بند نہیں کرتا پاکستان سے کئے گئے کسی اقتصادی معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو گا۔ یہ تقریباً پچپن کروڑ روپے کا معاملہ ہے۔ وسیع تر سیاسی اور اخلاقی عواقب سے قطع نظر پاکستان کے لیے اس اقدام کے اقتصادی نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ پاکستان میں گونا گوں ضروریات کے علی الرغم صرف دو کروڑ روپے کے ذخائر باقی ہیں ۔ پٹیل کا کہنا ہے ”کیا ہم انھیں اس لئے رقم دیں کہ وہ ہتھیار خرید کر ہمارے سپاہیوں کو قتل کریں“ جب یہ موقف کابینہ کے سامنے پیش ہو گا تو اس پر کسی خاص مزاحمت کی توقع نہیں۔

چونکہ ہندوستانی رہنماﺅں کوقبائلی حملہ آوروں کے لیے پاکستان کی پشت پناہی کی مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں اس لئے ان کا رویہ خاصا بے لچک ہو رہا ہے۔ ان میں سے بعض تو کشمیر کو اصل کھیل سے توجہ ہٹانے کا حیلہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان ہندوستانی افواج کو کشمیر میں الجھا کر حیدر آباد میں مشکلات پیدا کرے گا اور پھر دہلی کی طرف بڑھنا چاہے گا ۔ایک نسبتاً کم جنونی لیکن خطرناک خیال یہ ہے کہ اگر پاکستان قبائلی حملہ آوروں کو روکنے سے قاصر ہے تو پھر یہ فرض ہندوستانی افواج کو ادا کرنا ہو گا لیکن اس کے لیے ہندوستانی فوج کو سرحدپار کرنا ہوگی ۔ اگر پاکستان نے مزاحمت کی تو کھلی جنگ اس بالواسطہ جنگ سے کہیں بہتر ہو گی۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ”اگر یہ کام کرنا ہی تو ہے اسے فوراً کر ڈالا جائے“ سرکاری حلقو ںمیں اس امر پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے کہ کشمیر سے سکھوں کے مسئلے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کشمیر میں کشیدگی جس قدر طول کھینچے گی حکومت کے لیے سکھوں کے جذبات پر قابو رکھنا اتنا ہی دشوار ہوتا جائے گا۔ قرائن کے مطابق اگرلیاقت علی خان پاکستان میں ممکنہ مخالفت کے علی الرغم متوازن سیاسی تجاویز پیش نہیں کرتے تو صورت حال بہت تیزی سے خطرناک حد تک سنگین ہو جائے گی۔

گورنمنٹ ہاﺅس ۔ نئی دہلی ۔ 22 دسمبر 1947ء

ہندوستانی کابینہ نے بالآ خر حملہ آوروں کی امداد کرنے پر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ میں درخواست کافیصلہ کیا۔ گزشتہ شام سے لیاقت اور محمد علی دہلی میں ہیں لیکن مذاکرات میں ایسی پیش رفت نہیں ہوسکی کہ اس گھمبیر فیصلے کو منسوخ یا ملتوی کیا جائے۔ مداکرات میں زیادہ وقت دو طرفہ الزام تراشی میں صرف ہوا۔ آج نہرو نے اپنی شکایات پر مبنی سرکاری خط لیاقت کے سپرد کر دیا جو کہ اقوام متحدہ سے درخواست کے لیے رسمی کارروائی ہے۔ لیاقت نے مناسب وقت پر خط کا جواب دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یوں کشمیر کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔