لڑکی کس طرح خاندان کی عزت کو بٹہ لگاتی ہے؟


ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں خاندان کی عزت گھر کی عورتوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ عورتیں جب چاہیں، جیسے چاہیں، جہاں چاہیں خاندان کی عزت کو بٹہ لگا سکتی ہیں۔ اس لئے یہ بہت اہم ہیں کہ ہم ان سب باتوں کو احاطہ کریں جن کا سہارہ لیتے ہوئےخواتین اپنے اپنے خاندان کی عزت کو ایک چٹکی میں ہوا میں اڑا دیتی ہیں تا کہ ان کی ایسی حرکتوں کی بر وقت پکڑ کر کے خاندانی عزت کو بچایا جا سکے۔

لڑکی کا پیدا ہونا

سب سے پہلے تو ایک لڑکی کا پیدا ہونا ہی خاندان کی عزت کو بٹہ لگانے کو کافی ہے۔ یہ لڑکیاں پورے نو ماہ چپکے چپکے ماں کی کوکھ میں گزار دیتی ہیں اورخاندان والوں کو کبھی بھنک بھی نہیں پڑنے دیتیں کہ وہ نوماہ بعد کیسا دھماکا کرنے والی ہیں۔ ان چالاک و ہوشیار لڑکیوں کا ساتھ دینے کے لئے لیڈی ڈاکٹرز بھی آگے آ جاتی ہیں۔ بے شک پورا خاندان ان ڈاکٹرنیوں کے آگے کھڑا ہو جائے یہ فوراَ ڈانٹ دیں گی مگر بچے کی جنس نہیں بتائیں گی۔ کچھ اچھی ڈاکٹرز بھی ہوتی ہیں جو ایسے نیک و پارسا خاندانوں کی عزت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں پہلے ہی خبردار کر دیتی ہیں کہ جی ایک لڑکی پوری تیاری کے ساتھ آنے والی ہے۔ اپنا بچائو کرلو۔

خاندان کے منظور شدہ کپڑے نہ پہننا

خاندان کی عزت کو تار تار کرنے لے لئے سب سے پہلا طریقہ جو ہر لڑکی فوراً آزماتی ہے وہ ہے اپنی مرضی کے کپڑے پہننا۔ خاندان کے منظور شدہ کپڑوں کو یہ فورا ریجیکٹ کر دیتی ہیں اور بڑے بڑے مالز سے اپنی مرضی کی خریداری کرتی ہیں ۔ ایسا کرتے ہوئےانہیں یہ تک خیال نہیں ہوتا کہ یہ جو ان کی ادھا انچ کلائی نظر آ رہی ہے اس سے خاندانی عزت کو کتنا بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔

تعلیم حاصل کرنا

خاندان کی عزت کو بٹہ لگانے میں دوسرا نمبر لڑکی کے سکول، کالج یا یونیورسٹی جانےکا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے دوسروں سے متاثر ہو کر اپنی لڑکیوں کو ان تعلیمی اداروں میں بھیجنا شروع کر دیا ہے مگر ان کے کچھ عقل مند رشتے دار انہیں گاہے بگاہے خبردار کرتے رہتے ہیں کہ “بھیا! سنبھل جائو۔ ہٹوا لو بیٹی۔” اب جن میں عقل ہوتی ہے وہ ایسے مخلص رشتے داروں کی بات سن لیتے ہیں اور بیٹی کو آگے پڑھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ جو زیادہ عقل مند ہوتے ہیں وہ ان رشتہ داروں کو بتاتے ہیں کہ “اجی! ہم تو بس اس لئے پڑھا رہے ہیں کہ اچھا سا رشتہ آ جائے۔ آج کل تو آپ کو پتہ ہے جہیز میں ایک ڈگری بھی دینی پڑتی ہے ۔” ڈگری ہوگی تو اچھا رشتہ ملے گا ورنہ گھر بیٹھی رہ جائے گی۔

نوکری کرنا

خاندان کی عزت کو سب سے بڑا خطرہ خواتین کے جس قدم سے پہنچتا ہے وہ ان کا نوکری کرنا ہے۔ بعض چالاک لڑکیاں جب دیکھتی ہیں کہ ابھی بھی خاندان کی عزت سلامت ہے تو وہ نوکری کا شوشا چھوڑ دیتی ہیں۔ اب ہمیں نہیں معلوم کہ یہ دفتروں میں کیسا ماحول ہوتا ہے؟ اور انہیں ضرورت بھی کیا ہے نوکری کی۔ گھر میں دال روٹی مل تو جاتی ہے مگر نہیں، انہیں چین کہاں۔

سوشل میڈیا اکائونٹ بنانا

ابھی بھی ان لڑکیوں کی تسلی نہ ہوئی ہو توسوشل میڈیا پر اپنا اکائونٹ بنا لیتی ہیں ۔ ان کی پروفائل دیکھو تو ایسے ایسے معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہوتی ہیں جن پر صرف ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مرد حضرات بات کرتے ہیں۔ لو بھلا بتائو اب یہ مردوں کی طرح رائے کا اظہار کریں گی؟

پسند کی شادی

سب سے بڑا طوفان تو تب آتا ہے جب یہ لڑکیاں کسی لڑکے کو پسند کر لیتی ہیں۔ بعض زبان دراز تو یہ تک کہہ دیتی ہیں کہ میرا مذہب مجھے یہ حق دیتا ہے۔ کتنی بے شرمی کی بات ہے یہ۔ ارے تم لوگ پہلے اپنی نماز تو سیدھی کر لو۔ یہ خاندانی عزت بچانے کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ خاندان والوں کو خاندان کی عزت کو بچانے کے لئے لڑکی کوقتل کرنا پڑتا ہے۔

ان لڑکیوں کے برعکس لڑکے ہیں جو اپنی پیدائش کے ساتھ ہی پورے خاندان کا نام روشن کرنے کے لئے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ بے شک نکمے ہوں، کماتے نہ ہوں، اوباش ہوں مگر ان کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہوتا جس سے خاندانی عزت و ناموس پر حرف آ رہا ہو۔ اس کی تازہ مثال آج کل سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر ہر دوسری پوسٹ میں آپ کو رابعہ یا انکل مجبور کا ذکر ملے گا۔ یہ صاحب جو کوئی بھی ہیں ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ قارئین وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان صاحب کی وجہ سے ان کے خاندان کی عزت پر ابھی بھی کوئی حرف نہیں آیا لیکن اگر ان کی جگہ ان کے خاندان کی کوئی لڑکی ہوتی تو اب تک پاکستان کے کسی قبرستان میں ایک قبر کا اضافہ ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ ہماری عزت صرف لڑکی کی ذات سے منسوب ہوتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔