پاکستان کھپے…. پاکستان دی ستے خیراں…. مگر کیسے؟


اس برس عجیب اتفاق ہوا ہے، عاشورہ محرم اکتوبر کے مہینے میں آیا۔ افسردگی سوختہ جاناں ہے قہر میر…. اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کو پاکستان کی تاریخ میں عاشورہ جمہوریت سمجھنا چاہیے۔ سات اور آٹھ اکتوبر 1958 کی درمیانی شب سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے ملک کا پہلا دستور توڑ کر مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ خدا یوسف رضا گیلانی کو سلامت رکھے، دسمبر 2011ءکے پرآشوب دنوں میں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اناطول لٹویک کی 1967ءمیں بننے والی فلم نائٹ آف دا جنرلز (Night of the Generals) کا حوالہ دیا تھا۔ اس فلم میں پیٹر او ٹول نے جنرل ٹرانز اور عمر شریف نے فرض شناس افسر کے یاد گار کردار ادا کئے تھے۔ ہماری تاریخ میں یہ رات آٹھ اکتوبر 1958 سے شروع ہوئی تھی۔ ٹھیک چالیس برس بعد بارہ اکتوبر 1999 کو اسی رات کی چوتھی مشکل گھڑی ہم پہ گزری۔ یہ جاں گسل مرحلے ہماری نسلوں کو نڈھال کر گئے۔ ہمارے دھان بے آب و گیاہ رہ گئے۔ ہماری روشنیاں اندھی ہو گئیں۔ ہماری معیشت بغیر انجن والی گاڑی کی طرح ٹیلوں اور کھائیوں کے درمیان گہری دلدل میں اتر گئی۔ ہماری قوم کا وقار مٹی میں مل گیا۔ اس پر برادر عزیز حامد میر سوال کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف سقوط ڈھاکہ کا بار بار ذکر کیوں کرتے ہیں؟

فیض صاحب کی معروف پنجابی نظم کا مصرع ہے۔ میرے سر دا منڈاسا ڈھے گیا…. گویا صدمہ اس قدر بے پناہ تھا کہ میرے سر پہ بندھی پگڑی کھل کر گلے میں آن گری۔ اس کیفیت کی تصویر دیکھنا ہو تو پشاور کی عدالت میں مشال خان کے باپ اقبال خان کو دیکھ لیجیے۔ کمرہ عدالت میں ایک طرف سینتالیس بے خوف ملزم اور بائیس دندناتے وکیل کھڑے ہیں، دوسری طرف مقتول بیٹے کا باپ رضاکارانہ طور پہ کام کرنے والے چار وکیلوں کے ساتھ تہی دست بیٹھا ہے۔ ظلم امید کی کھیتی اجاڑ چکا۔ اب یہاں کیا دھرا ہے کہ درد کا درماں ہو۔ فیض صاحب نے اپنی نظم میں ہمارے سر سے منڈاسا پھسل جانے کا نوحہ لکھا تھا۔ فیض صاحب نے قیامت اور اس کے ہم رکاب آنے والے تین مرحلے دیکھے تھے۔ اکتوبر 1999ءمیں سزا کی چوتھی مدت شروع ہوئی تو شاعر کو آسودہ خاک ہوئے پندرہ برس گزر چکے تھے۔ سانحہ یہ ہے کہ ہماری قبروں پہ گھاس اگ آتی ہے، پھانسی گھاٹ کی سیڑھیوں پر ہم گھاس نہیں اگنے دیتے۔ بے سماعت سزا پانے والوں کے قافلے میں مہلت کا کوئی وقفہ ہو تو پھانسی گھاٹ پر گھاس کی پتی نظر آئے۔

اسی بارے میں: ۔  گلا گھونٹنے کا موسم !

اکتوبر 1958 کی بغاوت کو تقریباً دو مہینے گزرے تھے۔ 11 دسمبر 1958ءکو کراچی بار ایسوسی ایشن کا سالانہ اجتماع تھا۔ مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رستم کیانی صدر مجلس تھے۔ جنرل ایوب خان مہمان خصوصی تھے۔ ابھی انہیں کابینہ نے فیلڈ مارشل کا رتبہ بلند عطا نہیں کیا تھا۔ اس مجلس میں رستم کیانی کا خطاب ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ ایک جملہ تو مرزا داغ دہلوی کی غزل کی طرح دور دور تک پھیل گیا۔ فرمایا، ’مارشل لا کا نفاذ سب سے بڑی آفت ہے جو کسی ملک پر نازل ہوتی ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی، دستے بنا کر اترتی ہے اور اس مرتبہ تو پوری فوج اتر آئی ہے‘۔ ایوب خان بہت بلبلائے۔ انہیں مقفع و مسجع زبان میں سپاس نامے سننے کی عادت ہو چلی تھی۔ تقریب کے بعد جہاندیدہ سرکاری افسروں نے ایوب خان کو ہالے میں لے لیا۔ اقتدار کے سورج کی دھوپ کسے اچھی نہیں لگتی۔ رستم کیانی کھانے کی پلیٹ اٹھائے ایک پرانے دوست کے پاس کھڑے تھے۔ دوست نے سوال کیا، ’پاکستان کی فوج کا کیا بنے گا؟‘ کیانی صاحب نے حسب معمول ہلکے پھلکے انداز میں کہا، ’کیا ہوا؟ کیا فوج بندوق اٹھائے پیٹ کے بل رینگ کر جنگی مشقیں نہیں کر رہی‘؟ دوست مگر سنجیدہ تھا، بولا، ’جناب فوج نے بندوق کے زور پہ حکومت چھین لی ہے، جلد یا بدیر سیاسی قیادت دوبارہ اقتدار میں آئے گی، اگر ملک کا دفاعی ادارہ اور سیاسی راہنما اقتدار کی کشمکش میں فریق بن گئے تو ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی فکر کریں گے، ملک کا کیا بنے گا؟‘ اس کا جواب رستم کیانی کے پاس نہیں تھا۔ یہ جواب ہمیں سولہ دسمبر 1971ءکو ملا۔ عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمن کے پاس 300 کے ایوان میں 160 نشستیں تھیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے پاس 81 نشستیں تھیں۔ یحییٰ خان اپنی صدارت کے تسلسل کی ضمانت مانگتے تھے۔ تین فریق سامنے آ گئے، ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔

نواز شریف سقوط ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہیں تو زخموں پر نمک نہیں چھڑکتے۔ میاں نواز شریف خبردار کر رہے ہیں کہ ریاستی اداروں اور منتخب قیادت میں کٹاچھنی سے قوم کو نقصان پہنچتا ہے۔ آپ لکھنے والے پر نوازشریف کی خوشامد کا الزام شوق سے دھریں۔ لیکن چار اکتوبر کو لاہور کے الحمرا ہال میں نواز شریف نے جو کہا، اس پر توجہ ضرور فرمائیے۔ ’اگر قوم جمہوریت کے لیے جدوجہد کا جذبہ زندہ رکھتی ہے تو پاکستان کی ستے خیراں ہے‘۔ یاد کیجیے، 29 دسمبر 2007 کو سندھی ہم وطنوں کے بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے آصف علی زرداری نے کہا تھا، ’پاکستان کھپے‘۔ آصف علی زرداری نے ان دو لفظوں میں پاکستان کے وفاق کی ایسی خدمت کی جو پانچ مختلف مواقع پر بلوچستان میں آگ اگلتی بندوقیں نہیں کر سکیں۔ یہ کام ڈھاکہ کی سڑکوں پر شور مچاتے ٹینک نہیں کر سکے۔ آصف علی زرداری نے وفاق کی رسی چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ الحمدللہ، پاکستان سلامت ہے۔ میاں نواز شریف لاہور والوں کی زبان میں ’پاکستان کھپے‘ کا ترجمہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں، پاکستان کی ہر طرح سے سلامتی ہو۔ نیز یہ کہ پاکستان کی سلامتی جمہوریت میں ہے۔ پاکستان کی سلامتی یہاں رہنے والوں کے ووٹ کے احترام میں ہے۔ پاکستان کے خیر کا راستہ وفاق کی اکائیوں کو حقوق اور اختیار میں برابری کی بنیاد پر شریک کرنے میں ہے۔ ہم نے جولائی 1971 میں امریکہ اور چین کو ایک میز پر بٹھا کر دنیا کا نقشہ بدل دیا، مگر دنیا صرف پانچ ماہ بعد دسمبر 1971 میں ہمارا ملک نہیں بچا سکی۔ کیوں؟ اس کا جواب 1972ءمیں عدالت عظمی نے عاصمہ جیلانی کیس میں دیا تھا۔ ’یحیی خان غاصب حکمران تھا‘۔ اس نے غیر آئینی طور پہ ایوب خان سے حکومت چھینی اور سازش کی بساط پر 81 اور 160 مہروں کی مدد سے اپنی حکومت کو بچانے کی لاحاصل کوشش میں ملک گنوا دیا۔ یحییٰ خان کہتے تھے،

اسی بارے میں: ۔  زرداری، ہٹلر اور گئے دن کی مسافت

I have decided to shoot my way through.

گولیاں چلاتے ہوئے اپنا راستہ بنانے کی حکمت عملی میدان جنگ میں اختیار کی جاتی ہے۔ قوم جنگی محاذ نہیں، اہل دل کی بستی ہے۔ یہاں مکالمہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ موجود ہے۔ گفت و شنید کے لئے ہمارے آئین نے بہترین دائرہ کار عطا کر رکھا ہے۔ جولائی 1971ءکی طرح آج بھی دنیا بدل رہی ہے۔ آج بھی ہمارے ملک میں بے یقینی ہے۔ سازش کے ہرکارے بحران کی منادی کر رہے ہیں۔ یہ’پاکستان کھپے‘ کا اعادہ کرنے کے دن ہیں۔ ’پاکستان کی ستے خیراں‘کے لئے راستہ نکالنا ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔