گھر بنانے والی عورت اور نام کی تختی


ہم لوگ گھر کے باہر نیم پلیٹ لگاتے ہیں، جاوید ولا، صدیقی ہاؤس، زیدیز، رانا پیلس وغیرہ وغیرہ۔ خود میرے گھر کے باہر “جمالز” لکھا ہے۔ بچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ گھر عورت بناتی ہے، اس کی خوشیوں کا گہوارہ گھر ہوتا ہے، چادر اور چار دیواری کی امین عورت ہوتی ہے، گھر عورت سے بنتا ہے، عورت کے بغیر گھر، گھر نہیں ہوتا مکان ہوتا ہے، اور پتہ نہیں کیا کیا۔ لیکن وہی عورت جو گھر بساتی ہے وہ اس گھر کو اپنا نام نہیں دے سکتی۔ نارمل سی بات ہے۔ آپ طنزیہ ہنسی میں اس بات کو اڑا سکتے ہیں، لیکن کتنے گھروں کے باہر دیکھنے میں آتا ہے کہ وہاں موجود کتبے پر “ممتاز محل” لکھا ہو، زینت پیلس درج ہو، عظمیٰ ہاؤس پڑھنے کو ملے؟ ایسا سوچ کر ہی عجیب لگتا ہے مگر کیا یہ واقعی حیرت کی بات نہیں کہ ہمیں یہ سوچنا ہی عجیب لگے؟ کبھی ہم نے سوچا نہیں لیکن بہت چھوٹی چھوٹی سی چیزیں ہیں جن پر غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ مردانہ معاشرے میں عورت کس حد تک پس سکتی ہے۔

عورت پڑھنے جا سکتی ہے، عورت نوکری کر سکتی ہے، عورت شاپنگ کر سکتی ہے، عورت گاڑی چلا سکتی ہے، عورت کمپنیاں کھڑی کر سکتی ہے، عورت صحافت میں ہے، عورت عدالت میں ہے، عورت اسمبلیوں میں ہے، عورت زندگی کے ہر میدان میں وہی سب کام کر رہی ہے جو ہم کرتے ہیں لیکن اس گھر کے باہر اس کا نام نہیں لکھا جا سکتا جس گھر کی وہ “ہوم منسٹر” کہلاتی ہے۔ یہی لفظ ہوتا ہے جو عام طور پہ دوستوں میں ہم استعمال کرتے ہیں، یار وہ ہوم منسٹر اجازت نہیں دے رہیں، یا ہوم منسٹر سے فلاں مسئلے پر بحث ہو گئی، تو جب ہر چیز اس قدر واضح ہے، ہم ذہنی طور پر کلئیر ہیں کہ گھر کو گھر ایک عورت ہی بنا سکتی ہے اور اسے ہوم منسٹر بھی کہا جاتا ہے پھر وہی عورت اسی گھر کو اپنا نام کیوں نہیں دے سکتی؟

بہت زیادہ محبت جتائی جائے گی تو روائتی اچھا شوہر ساری عمر کما کے جو پلاٹ خریدے گا اسے اپنی اہلیہ کے نام کر دے گا اور اس پر ایک عدد مکان تعمیر ہو گا۔ دروازے، کھڑکیاں، کچن، چھتوں کے ڈیزائن، فرش کا ماربل، ایک ایک چیز عورت اپنی پسند سے جا کر لے گی، نہیں جا سکتی تو بھی گھر بیٹھے بیٹھے جتنا ممکن ہو گا دلچسپی لے گی، ضرورت پڑنے پر زیور بیچ دے گی، کوئی بانڈ رکھے ہوں گے انہیں تڑوا لے گی، ساری کمیٹیاں لا کے سامنے دھر دے گی، گھر آخرکار بن جائے گا‘ لیکن تختی، وہ اب بھی لگنا مشکل ہے۔ شاید عورتوں کو اس کی خواہش بھی نہ ہوتی ہو لیکن کمال غربت ہے کہ ایک انسان پورے گھر کے دھندے سنبھالے مگر اس کا نام گھر کو دیا نہ جا سکے۔

ورکنگ وومین کا معاملہ اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ وہ بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم عورت ہوتی ہے۔ گھر سے باہر وہ مرد ہو گی۔ فائلوں پر سائن کرے گی، وہ کمپیوٹر آپریٹ کرے گی، وہ کسٹمر ڈیل کرے گی، وہ انتظامی امور سنبھالے گی، ڈاکٹر ہے تو مریض دیکھے گی، وکیل ہے تو کیس لڑے گی، سوفٹ وئیر بناتی ہے تو کلائنٹس سے مغز کھپائے گی، مطلب سب کچھ وہی ہو گا جو کسی مرد نے اس جگہ پہ ہوتے ہوئے کرنا تھا۔ اب جیسے ہی وہ گھر آئے گی تو وہ عورت بن جائے گی۔ وہ سالن بنائے گی، روٹی پکائے گی، گھر کی صفائی دیکھے گی، بچوں اور میاں کے سارے کپڑوں کی دھلائی اور استری کا معاملہ سر اٹھائے گا، گھنٹی بجے گی تو دروازے پر پوچھنے جائے گی، سب کو کھانا وانا کھلا کر جب بیٹھے گی تو بچوں کو ہوم ورک کروائے گی۔ یہ سب کچھ کرتے کرتے سونے کا وقت ہو گا اور اگلی صبح پھر یہی روٹین ہو گی۔ یار ہم لوگ گھر آتے ہیں تو کوئی سونے تک ٹی وی کے آگے سے نہیں ہلتا، کسی کو دوبارہ باہر جاتے ہوئے موت پڑتی ہے، کوئی دوستوں میں چلا جاتا ہے، کسی کے دوست آ جاتے ہیں، کوئی شام کو ہی نیندیں پوری کرنے لگتا ہے، یعنی دفتر سے واپسی کے بعد ہمارا سارا وقت آرام کا ہوتا ہے۔ ورکنگ وومین وہ آرام بھی نہیں کر سکتیں بلکہ جو خاتون چوبیس گھنٹے گھر میں ہوں اس طرح دن کو مختلف حصوں میں بانٹ کے اپنی مرضی سے کام اور آرام تو وہ بھی نہیں کر سکتیں۔ تو جب سارا رولا ہی گھر چلانے کا ہے تو گھر کے باہر لکھا گیا نام “حسنین ولا” کی جگہ “عظیمہ ہاؤس” کیوں نہیں ہوتا؟

یہ ساری تقریر بالکل بے معنی سی لگتی ہے، جہاں گول روٹی نہ پکنے پر بیٹی کو جان سے مارنے والا باپ موجود ہو، جہاں ہر دوسرے ہفتے ایک غیرت مند بھائی اپنی غیرت کا جنازہ نکال کے فخر کرتا ہو، جہاں شوہر اچھی خاصی پڑھی لکھی عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہوں، جہاں میریٹل ریپ کو بات کرنے لائق بھی نہ سمجھا جاتا ہو، جہاں عورت ایک کموڈٹی سے زیادہ کا درجہ نہ رکھتی ہو، جہاں مرضی کی شادی کا مطلب ماں باپ کی مرضی ہو وہاں یہ بات دیوانے کی بڑ ہی سمجھی جانی چاہئیے لیکن اس پہ غور تو کیا جا سکتا ہے۔ غور کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عورت کو مردوں کی فوٹو کاپی بنا دیا جائے، اسے عورت رہنے دیا جائے، اسے ایک ماں، ایک بہن، ایک بیٹی، ایک ہاؤس وائف، ایک ورکنگ وومن کے روپ میں ہی وہ تمام سہولیات دینے کا موڈ بنایا جائے جو ایک باپ، ایک بھائی یا ایک شوہر کو حاصل ہوتی ہیں۔

ویسے ورکنگ مین کبھی سنا ہے لفظ؟ یعنی عورت نوکری کرے تو ورکنگ وومن اور مرد جاب کرے تو کوئی اضافت نہیں لگتی، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، مرد بندھ چکا ہے روزی کمانے کے دھندے سے، وہ گھرداری کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا جو اپنی ذات میں خود ایک قابل اعتراض سوال ہے۔ عورت اگر اس میدان میں آئے گی تو اسے “وومن” والا کردار نبھاتے ہوئے “ورکنگ” بننا پڑے گا۔ یعنی گھر کی ساری ذمہ داریاں چپکائے ہوئے وہ دفتری کام کرے گی اور اس کے بعد ورکنگ لیڈی کا طغریٰ لگا کے گھر کو لوٹ جائے گی تاکہ باقی نوکری پوری کر سکے۔

اپنے ملک کی بات کریں یا ویسٹ میں دیکھ لیجیے، عورت اگر کبھی نوکری چھوڑے گی تو اس کی وجہ ہمیشہ گھر داری سے متعلق ہو گی۔ اپنے یہاں تو اچھی خاصی پڑھی لکھی ڈاکٹرز شادی کے بعد گھر میں بیٹھی پائی جائیں گی، انجینئیرز فیلڈ جاب سے دور ہوں گی، پی ایچ ڈی کرنے والی زیادہ سے زیادہ اپنے بچوں کو “آ، با، کھا، ڈا” سکھا رہی ہوں گی، وجہ پوچھیے تو ایک مختصر جواب ہو گا۔ سسرال سے اجازت نہیں ملی۔ ٹھیک ہے، مناسب بات ہے۔ گھر میاں بیوی دونوں کی قربانیوں سے ہی بنتا ہے۔ سسرالی رشتوں کا احترام نہ ہو تو مرد ہو یا عورت، دونوں کے لیے شادی شدہ زندگی عذاب مسلسل ہوتی ہے۔ لیکن، وہی عورت جو زندگی کے بہترین سال تعلیمی سرگرمیوں میں کھپا چکی ہے، وہ اگر اپنے گھر کی خاطر، اپنے بچے پالنے کی خاطر، اپنے سسرال کے احترام میں، اپنے شوہر کی خواہش کو سر آنکھوں پہ رکھتے ہوئے اگر اپنا پروفیشنل کیرئیر ختم کرتی ہے تو کیا اسے اتنا احترام بھی نہیں مل سکتا کہ گھر، جو شادی شدہ زندگی کی بنیادی اکائی ہے، وہ اس کے نام سے منسوب ہو؟ نہ صرف کاغذوں میں ہو بلکہ گیٹ کے باہر بھی اس کی ملکیت کا احترام جگمگاتا ہو؟

یہ اتنا آسان کام نہیں ہے مگر یہ ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف اپنے گھر کی عورت کو ہی مضبوط کر دیں گے، اسے معاشرتی طور پر اہم مقام دیجیے گا تو “اولاد نرینہ” کے اشتہار باہر دیواروں پہ لگنا بھی کم نظر آئیں گے۔ مردوں پر انحصار کم ہو گا، ملک کی آدھی آبادی ڈولتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے زیادہ دلجمعی سے موجود ہو گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس کی وجہ سے گھر گرہستی ہے، کم از کم اس کے نام کی تختی تو ہو گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 320 posts and counting.See all posts by husnain