کیا آپ کا بچہ بڑا ہو کر شاعر یا دانشور بن سکتا ہے؟


میرا ایک شعر ہے

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں

نسلوں نے کسی شخص کو باہر نہیں دیکھا

جب ہم ادیبوں، شاعروں، سائنسدانوں اور دانشوروں کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جب تخلیقی بچے روایتی ماحول میں جوان ہوتے ہیں تو انہیں بہت سے مسائل اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے بچے بہت سی ناجائز روایتوں کو چیلنج کرتے ہیں، بغاوت کرتے ہیں اورانہیں اس بغاوت کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

بہت سے روایتی والدین اور اساتذہ کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ فنکار بچوں کی کیسے تربیت کریں۔ وہ ان کے مسائل کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ جوں جوں ہم ادیبوں، شاعروں، سائنسدانوں اور دانشوروں کی نفسیات کو بہتر سمجھنے لگے ہیں ہم ان کے مسائل کی بہتر تفہیم کر سکتے ہیں تا کہ انہیں ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جن سے وہ اپنے تخلیقی خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کر سکیں اور اپنے خاندانوں اور معاشروں کی بہتر خدمت کر سکیں۔ میں اس مضمون میں تین ایسی شخصیتوں کا ذکر کروں گا جنہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تاکہ آپ کو ان کی آزنمائشوں کا اندازہ ہو سکے۔ یہ شخصیتیں والٹ وٹمین، البرٹ آئن سٹائن اور چارلز ڈارون کی ہیں۔

walt whitman

والٹ وٹمین انیسویں صدی کے امریکی شاعر تھے جن کی کتاب LEAVES OF GRASS ان کی انسان دوستی کے فلسفے کی ترجمانی کرتی ہے۔ والٹ وٹمین کی کتاب اگرچہ اب امریکہ کے سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے لیکن وہ خود ہائی سکول کی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ ان کے استاد اور والد کا روایتی رویہ تھا۔ وٹمین اپنی کلاس میں خلائوں میں گھورتے اور نظمیں سوچتے رہتے۔ ان کے استاد BENJAMIN HALLECK نے ایک دفعہ والٹ وٹمین کے والد کو سکول بلا کر کہا ’یہ بچہ بہت سست الوجود اور کاہل ہے۔ یہ بالکل پڑھائی نہیں کرتا۔ یہ بڑا ہو کر کچھ نہیں بنے گا۔ یہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ وٹمین کے والد نے اپنے بیٹے کو سکول سے نکال کر ایک پرنٹنگ کی دوکان پر ملازم رکھوا دیا۔ وٹمین کے استاد اور والد کو اندازہ نہ تھا کہ والٹ وٹمین بڑے ہو کر مشہور شاعر بنیں گے اور شاعر بچپن سے خیالوں کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں اور کائنات کے رازوں پر غور کرتے ہیں۔

دوسری مثال البرٹ آئن سٹائن کی ہے۔ وہ یورپ کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اساتذہ سے بہت ناامید ہوئے۔ آئن سٹائن سے جب کوئی سوال پوچھتا تھا تو چند لمحے خاموش رہنے کے بعد جواب دیتے تھے کیونکہ وہ سوال کا جواب سوچ سمجھ کر دینا چاہتے تھے۔ آئن سٹائن کے استاد نے بھی ان کے والد کو سکول بلا کر کہا ’ یہ بچہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ یہ کند ذہن ہے۔ اس کا مستقبل بہت تاریک ہے،

آئن سٹائن جب کالج گئے تو وہاں بھی انہیں ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں روایتی چیزیں پڑھائی جاتی تھیں جو ان کے ذہن کو بالکل بھی تحریک نہیں دیتی تھیں۔

آئن سٹائن اس حوالے سے خوش قسمت تھے کہ ان کے ایک چچاCASAR KOCH ان کی صلاحیتوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ آئن سٹائن کے سولہ برس کی عمر میں اس چچا کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنی سائنسی نظریہ پیش کیا تھا جو بعد میں ان کی THEORY OF RELATIVITY میں بہت ممد ثابت ہوا۔

Charles Darwin

تیسری مثال چارلز ڈارون کی ہے۔ ان کے والد انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن ڈارون خون اور ڈائسکشن سے بہت گھبراتے تھے۔ وہ ایک سائنسدان بننا چاہتے تھے۔ جب ڈارون کے والد کو اندازہ ہوا کہ وہ ڈاکٹر نہیں بننا چاہتے تو انہوں نے انہیں پادری بنانے کی کوشش کی۔ ڈارون نے جتنا بائبل کا مطالعہ کیا وہ مذہب کے قریب آنے کی بجائے اس سے دور ہوتے چلے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ بائبل دیومالائی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ وہ خیالی باتوں سے زیادہ حقائق میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ڈارون بھی کالج اور یونیورسٹی کی روایتی تعلیم سے مایوس ہوئے۔ انہوں نے اپنے بھائی کو خط میں لکھا کہ میں کالج کی تعلیم سے بہت بور ہو رہا ہوں۔

ڈارون کئی برس تک خاموشی سے سائنسی تحقیق کرتے رہے پھر انہوں نے اپنی تحقیق کو اپنی مشہور کتاب THE ORIGIN OF SPECIES میں پیش کیا۔ ڈارون سے پہلے جن دانشوروں نے نظریہ ارتقا پیش کیا تھا ان میں مسلم دانشور ابن خلدون بھی شامل تھے لیکن وہ نظریہ فلسفے کی کتابوں میں پڑھایا جاتا تھا۔ ڈارون نے اس نظریے کے لیے سائنسی ثبوت مہیا کیا اس لیے اب نظریہِ ارتقا سائنس کی کلاسوں میں پڑھا یا جاتا ہے۔

اب جبکہ سائنس اور نفسیات نے ترقی کی ہے اب والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے ۔ اب انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ تخلیقی بچوں کے مسائل کو سمجھیں اور ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ اپنے تخلیقی جوہر پروان چڑھا سکیں۔ ورنہ والٹ وٹمین، البرٹ آئن سٹائن اور چارلز ڈارون کے روایتی والدین اور اساتذہ کی طرح انہیں بھی اس دن ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا جب ان کے جوان بچوں کی سوانح عمریاں چھپیں گی۔

مشہور تاریخ دان ARNOLD TOYNBEE کا کہنا ہے کہ ہر قوم کی روایتی اکثریت کو تخلیقی اقلیت کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ یہی اقلیت روایتی اکثریت کی ارتقا کی اگلی منزل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم ان بچوں کی حوصلہ افزائی کریں جو بڑے ہو کو ادیب، شاعر، سائندسدان اور دانشور بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے بچے ساری قوم کا اثاثہ ہیں۔

میری ایک غزل کے تین اشعار ہیں

نئی کتاب مدلل جواب چاہیں گے

ہمارے بچے نیا اک نصاب چاہیں گے

روایتوں کے کھلونوں سے دل نہ بہلے گا

بغاوتوں سے منور شباب چاہیں گے

حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا

ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔