میں‌ نے شیخ محمد عبداللہ کے کشمیر کے بارے میں‌ خیالات پر کیوں‌ لکھا؟


اپنے نظریات کو سمجھنا ایک “ورک ان پروگریس” یعنی کہ ترقی پذیر کام ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ میرے لیے وہ امریکہ میں‌ ہوا جو کہ وہ ملک ہے جو اپنی ملٹری انڈسٹریل طاقت پر فخر کرتا ہے۔ یہاں‌ پر میں‌ نے اپنے اندر یہ لگن پائی کہ جنوبی ایشیا کی سیاست اور تہذیب کے امتزاج اور خاص طور پر کشمیر کے تنازعے کا مطالعہ کروں۔ تعلیم اور تدریس سے میرا لگاؤ غیر متزلزل رہا ہے اور مجھے تعلیم کے زریعے حاصل ہونے والی تنقیدی سوچ پر ملکمل اعتماد ہے۔ چاہے لوگ میرے خیالات سے اتفاق کریں‌ یا اختلاف، کسی کے لئیے اس بات سے انکار کرنا ناممکن ہوگا کہ میرے سیاسی نظریات پختہ ہیں۔ میں‌ نے اپنا بہت وقت اور توانائی کشمیر کی تاریخ‌ اور سیاست کو سمجھنے پر خرچ کی ہے۔ مجھے خود کو اپنے وطن کشمیر کی ثقافت، تہذیب اور سیاست میں‌ ڈبونے کا موقع ملا جس کے بغیر وادی کشمیر کے پیچیدہ سیاسی اور سماجی تانے بانے کو سمجھنا ناممکن ہوتا۔

ایک عام پڑھنے والے کو کشمیر کے پیچیدہ سیاسی مسئلے کو سمجھانے کے لئیے مختصر حالات بیان کروں‌ گی۔ اس وقت ریاست کا ایک بڑا حصہ انڈیا کے زیر نگرانی ہے اور ایک چھوٹا حصہ پاکستان کے زیر نگرانی ہے۔ 1962 میں‌ چین نے زمین کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا تھا جس پر اس نے روڈ بنائی جو تبت کو زیاجیانگ سے ملاتی ہے۔ جیسا کہ میں‌ نے اس سے قبل اپنی کتاب کشمیر، اسلام، خواتین اور کشمیر میں‌ تشدد میں‌ لکھا ہے، انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے اور چین اور افغانستان کے ساتھ بارڈر ملنے کی وجہ سے کشمیر جغرافیائی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔

کشمیر کے تنازعے کو قوم پرستی اور مذہبیت سے ہوا دی جاتی ہے جس میں‌ ہر فریق اپنے دکھ درد کے لئیے دوسرے کو الزام دیتا دکھائی دیتا ہے۔ عدم اعتماد، شبہے، اور دماغی توازن کے بگڑے ہونے کی فضا نے جموں‌ و کشمیر اور انڈین یونین کے افراد کے درمیان تعلقات پر منفی اثر ڈالتے ہوئے اس تنازعے کو ہوا دی ہے۔ 1990 سے لے کر ریاست میں‌ گوریلا جنگ کئی ادوار سے گذری لیکن سیاسی اور فوجی طاقتیں‌ ایک ظالمانہ حقیقت رہی ہیں جن کو سطحی جمہوری خیالات اور امیدوں‌ کے ساتھ نظر انداز نہیں‌ کیا جا سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں‌ خود مختاری اور سیاسی مخالفت کی منظم تباہ کاری نے اختلاف رائے کو غیر قانونی بنا کر ریاستی اداروں‌ اور تنظیموں‌ کی مخالفت کو ہوا دی ہے۔

ہمارا امن اور خوشحالی کا خواب انڈیا اور پاکستان کے لاکھوں عوام سے جڑا ہوا ہے۔ ہم سب ایک ہی خطے کے شہری ہیں۔ ہماری امیدیں، خواہشات، خوف اور خطرات ایک ہی ہیں۔ ہم مسئلہ کشمیر کا عوامی رضامندی سے مستقل حل چاہتے ہیں۔ اسی میں‌ تمام لوگوں‌ کی عزت، بھلائی اور ترقی ہے۔ ریاست کشمیر میں خود مختاریت کا بحال ایک نئے دن کا آغاز کرے گا جس میں‌ قانون کی بالادستی ہو۔ دنیا کی دیگر قومی ریاستوں‌ پر اپنے مفاد کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ملکر کشمیری عوام کی فلاح و بہبود خاص کر نوجوانوں‌ کی فلاح و بہبود پر کام کرنا ہے جن کی زندگیاں‌ ابھی شروع تک نہیں‌ ہوئی‌ ہیں۔ چلیے خود کوان لوگوں‌ کی جگہ رکھ کر سوچتے ہیں جنہوں نے وہ صدمات برداشت کیے جن کے زخم وقت کبھی نہیں‌ بھر پائے گا۔ اس سیاسی بحران سے نکلنے کے لئیے ہمیں مقامی افراد کی سیاست میں شرکت کی ضرورت ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے آگے دیکھنے کی اور پالیسیوں‌ اور طریقہ کار پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ ان کو وقت کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔

شیخ محمد عبداللہ وہ واحد کشمیری لیڈر تھے جن کو اتنی زیادہ مقامی سپورٹ حاصل تھی۔ ان کی تقاریر پر غور کرتے ہوئے میں‌ اس قابل ہو سکی ہوں کہ یہ سمجھ سکوں کہ ہمیں نفرت اور مخالفت کو ہوا دینے کے بجائے مختلف گروہوں‌ کے مابین تعاون سے تعمیری سیاست کو بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے۔ شیخ محمد عبداللہ کی تقاریر ان کے قریبی دوستوں‌ نے ریکارڈ کی تھیں جنہوں نے ان کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ یہ وہ ساتھی تھے جنہوں نے ان کے شانہ بشانہ لڑائی کی۔ اس وقت انڈیا کی حکومت کی نظر میں‌ شیخ محمد عبداللہ اور ان کے ساتھی سیاسی مجرم قرار دیے گئے تھے جن کو پرنٹنگ پریس استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اسی وجہ سے مجھے پرانی دستاویزات پر سے مٹی جھاڑ کر یہ معلومات اکھٹی کرنی پڑیں جن سے ان کی جمہوریت اور امن کے لئیے کاوشوں‌ پر روشنی پڑی۔ اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لئیے مجھے نوجوان کشمیری کالج اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں‌ سے تحریک ملی جو مجھ سے کشمیر میں‌ ملنے آئے۔ انہوں‌ نے مشاہدہ کیا کہ کسی بھی ایک انسان یا ایک تنظیم کا شیخ‌ محمد عبداللہ پر کاپی رائٹ نہیں‌ ہے اور ان کی شخصیت اور خیالات کے جائزے سے تقسیم کے زخم بھرنے میں‌ مدد ملے گی۔ اگر مقامی عوامی دھارے کو سیاست کا حصہ نہ بنایا جائے تو وہ اس صحت مند راستے کے بجائے شدت پسند راہ کی بھینٹ چڑھ کر تباہی کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔

پچھلے کئی برس میں‌ میں‌ نے جتنی بھی کتابیں‌ لکھی ہیں، جو بھی مضامین لکھے ہیں، ریڈیو انٹریو کیے ہیں یا فیس بک پوسٹس یا ٹوئیٹس لکھی ہیں، ان سب میں‌ کشمیری عوام کے حقوق کے لئیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کتابوں‌ پر کام کرنے سے مجھے سیاسی، سماجی اور سیاسی معاملات پر تنقیدی نظر ڈالنے کا موقع ملا۔ میرے لیے ابتدائی سوال یہ ہے “کون بات کررہا ہے اور کس کو خاموش کیا جارہا ہے؟” جس سے مجھے یہ پہچاننے میں مدد ملتی ہے کہ مقامی نقطہ نظر سے کون سی معلومات قابل بھروسہ ہیں۔ سیاست ایک طرف لیکن کشمیری عوام پر میرا یقین کبھی متزلزل نہیں‌ ہوا۔ ہر سانس کے ساتھ میری یہ دعا ہے کہ کشمیری نوجوان اپنے غصے کے لئیے ایک تعمیری راستہ ڈھونڈیں اور کسی کے ہاتھوں‌ میں کھیلنے کے بجائے خود سیاسی راہ سے کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کریں۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازعے نے ہمارے سماج کو غیر سیاسی بنایا جس سے تشدد کو ہوا ملی۔ ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔

ترجمہ: ڈاکٹر لبنیٰ‌ مرزا (ایم ڈی)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 21 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan