سُوت سے بُنے ہوئے رنگین پایوں کے پلنگ!


یہ حادثہ کب برپا ہوا اور کیسے؟ پوچھتا پھر رہا ہوں کوئی بتاتا نہیں۔ نہ کسی کو معلوم ہے۔

ہماری عمر کے لوگوں کو بلکہ کم عمروں کو بھی یا د ہوگا کہ اب جس کمرے کو بیڈ روم کہتے ہیں، وہ پہلے 18 ضرب 16 فٹ کا ہوتا تھا (بعد میں 18 ضرب 12 فٹ کا بھی ہونے لگا)۔ اس میں کم از کم نو چارپائیاں ہوتی تھیں۔

کمرے میں داخل ہوں تو سامنے، دیوار کے ساتھ تین چار چارپائیاں بچھائی جاتی تھیں، دائیں طرف والی دیوار کے ساتھ دو اور بائیں بھی دو ہوتیں تھیں۔ دروازہ درمیان میں تھا ایک چارپائی دروازے کے دائیں طرف اور دوسری بائیں طرف، بعد میں یہ رواج پڑ گیا کہ دروازہ بائیں کونے کی طرف سرک گیا، دونوں چارپائیاں دائیں جانب بچھائی جانے لگیں، کمرے کے سامنے صحن ہوتا تھا، جس کا مطلب تھا دھوپ براہ راست کمروں پر حملہ نہیں کرسکتی تھی۔

ان آٹھ نو چارپائیوں پر پھولوں بھری چھیبی ہوئی چادریں بچھی ہوتی تھیں، کڑھے ہوئے غلافوں والے تکیے دھرے ہوتے تھے۔ خاندان بھر کے افراد یہاں بیٹھتے تھے، جاڑا ہوتا تو دروازہ دن کو بھی بند رکھا جاتا، گرمیوں میں دروازہ اور کھڑکیاں کھول دی جاتیں۔ کھڑکیاں اس حساب سے بنی ہوتی تھیں کہ ہوا چلتی تو جھونکے کمرے کے اندر بھی آتے، سردیوں میں سب بیٹھ کر مونگ پھلی، گُڑ، ریوڑیاں اور اخروٹ کھاتے۔

غور کیجئے، ایک ہی کمرے میں ان چارپائیوں کا خوبصورت پہلو یہ تھا کہ خاندان کے افراد میں قربت تھی۔ باہم مل بیٹھنے کے مواقع زیادہ سے زیادہ میسر تھے۔ حقہ نوشی سے لے کر کھانا کھانے تک سب ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے۔ جہاں تک رشتہ داروں کا تعلق تھا، مجلسیں مخلوط تھیں، خواتین بھی یہیں بیٹھتیں۔ ان میں حقہ پینے والی خواتین بھی شامل تھیں۔ خواتین کا حقہ پینا معمول کا منظر تھا۔ ، عام بات تھی!اس میں کسی کو بے حیائی نظر آتی نہ مذہب خطرے میں پڑتا، ہمارے علاقے اٹک میں اسے چلم کہتے ہیں۔ ثقافتی لحاظ سے یہ وہی ہے جو سندھ کے پار کے علاقوں میں پی جاتی ہے، رشتے کی ایک نانی جان باقاعدگی سے چلم پیتیں، یہ کالم نگار کم سن تھا۔

ایک بار خطرناک شرارت سوجھی، چلم سے پانی نکال کر اس میں مٹی کا تیل بھر دیا۔ نانی نے تمباکو ہتھیلی پر رگڑا، جمایا، دیا سلائی دکھائی تو آگ بھڑک اٹھی، یاد نہیں کیا سزا ملی تھی۔ غالباً زبانی ہی جھڑکا گیا تھا، مار کٹائی کی نوبت آتی تو یاد ہوتا، مار کٹائی والی سزائیں ساری کی ساری تفصیل سے یاد ہیں۔

جملہ معترضہ تھا دور نکل گیا۔ پلٹتے ہیں۔ پھر نجانے کیا ہوگیا، خواب گاہ بیڈ روم کہلانے لگی، رنگین پایوں والی، ریشم نما سوت سے یا نوار سے بنی ہوئی چارپائیوں کو نام نہاد بیڈ روم سے نکال دیا گیا۔ کمرے کا سائز تھوڑا سا سکڑ گیا، بیڈ درمیان میں بچھا دیا گیا۔ اب پورا کمرہ سمٹ کر صرف دو افراد کے لیے رہ گیا۔ یہ دو افراد عمومی طور پر میاں بیوی ہوتے، ، ڈبل بیڈ کی ساخت، پھر اس کا درمیان میں بچھایا جانا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جو خاندان کے سارے یا زیادہ تعداد میں افراد بیٹھتے تھے، باتیں کرتے تھے، یا کھاتے پیتے تھے، وہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ کمروں کی تعداد زیادہ ہونے لگی، یہ کیا ہے؟ یہ ماسٹر بیڈ روم ہے، یعنی بڑا کمرہ، وہ کس کا ہے؟ وہ بڑے لڑکے اور اس کی بیوی کا ہے، فلاں بیڈ روم منجھلے کا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کیسی انوکھی بات رے !

کیا زمانہ تھا کہ سب ساتھ رہا کرتے تھے
اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے!

نیچے دستر خوان بچھتا تھا تو سب ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے، تہذیب سکھائی جاتی تھی، کہ پہلے بڑے کھانا ڈالیں گے، اب ہر گھر میں ایک ڈائننگ روم بنا دیا گیا ہے۔ کھانے کی میز بچھی، ساتھ چھ یا ساتھ کرسیاں، عملی طور پر یہ شیش محل غیر آباد رہتا ہے۔ خاندن بھر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت قتل کردی گئی، ماں باپ پہلے اٹھ کر ناشتہ کرلیتے ہیں، جوان بچے بعد میں اٹھتے ہیں، ہر ایک کا منہ، الگ ناشتہ، الگ کچھ ناشتہ ہاتھ میں پکڑے بھاگ رہے ہیں۔ کہ کالج سکول دفتر، کارخانہ جانے میں دیر ہوگئی، چلتے چلتے کھا رہے ہیں۔ ان للہ و انا علیہ راجعون، وقت پر اٹھتے تو آرام سے، تہذیب سے، طریقے سے، بیٹھ کر ناشتہ کرتے، سمجھانے کی کوئی کوشش کرے تو سنی ان سنی کردیں گے۔

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو

کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ ڈبل بیڈ کتنا تکلیف دہ، کتنا ناگوار، کتنا پریشان کن، اور کتنا خلش انگیز ہے۔ سارا دن محنت اور دوڑ دھوپ کرنے کے بعد ایک چارپائی ہی تو اپنی ہوتی تھی۔ جس پر اپنی مرضی سے پہلو بدل سکتے تھے۔ اٹھ بیٹھ سکتے تھے، ادھر ادھر گھسٹ سکتے تھے، اب وہ آزادی ڈبل بیڈ کی نذر ہوگئی۔ ایک پہلو بدلتا ہے تو دوسرے کی نیند میں خلل پڑتا ہے۔ ، ٹیبل لیمپ جلا کر پڑھیں گے تو روشنی ادھر بھی جائے گی، گویا یہ حماقت کم نہ تھی کہ ”ڈبل رضائی اور ڈبل کمبل“بھی ظہور پذیر ہوگئے۔ نہلے پر دہلا، ایک رضائی یا کمبل کھینچتا ہے تو دوسرا جاگ اٹھتا ہے، نیند نصف موت ہوتی ہے، خدا کے بندو اس میں بھی دوسرے کو شریک کرلیا۔ کل کو خدانخواستہ“ڈبل قبر ”کا فیشن شرو ع ہوگیا تو ستی کی رسم زندہ کرنا پڑے گی۔

میں بقائمی ہوش و حواس اس بیہودہ نظام سے بغاوت کررہا ہوں۔ اوپر کے لاؤنج سے صوفے ہٹا کر اسے بیٹھک میں تبدیل کررہا ہوں۔ چار چار پائیاں، رنگین پائیوں والی، ریشم نما سوت سے بُنی ہوئی، خریدنے کا ا رادہ کرلیا ہے۔ ریسرچ کی تو معلوم ہواکہ ایسے پلنگ دو جگہوں کے مشہور ہیں ایک پنڈی گھیپ کے قریب ایک بستی جس کا نام اخلاص ہے۔ یہ بندوقوں کے علاوہ فرنیچر کے لیے بھی مشہور ہے، دوسرے چکوال شہر، جہاں سنا ہے پائیدار اور دیدہ زیب چارپائیاں بنتی ہیں، چھوٹی بیٹی نے یہ پروگرام سن کر بھیڑا سا منہ بنایا، کہنے لگی آپ کا کیا خیال ہے، آپ کی نواسی اور پوتے ان پر سوئیں گے؟

جواب دیا، ہاں، میں سوؤں گا تو وہ بھی سوئیں گے، اس لیے کہ ان کی دلچسپی مجھ میں ہے، میں فٹ پاتھ پر لیٹ جاؤں تو انہوں نے بھی وہیں لیٹنا ہے، روز کہانی کا تقاضا کرنا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ہمارے بادشاہ لوٹا دو!

پلٹنے کا عمل صرف رنگین چارپایوں والی منقش چارپائیوں تک محدود نہیں، ایک زمانے میں کوئٹہ سے بلوچی گدیاں توشک اور ہاتھ سے بنا ہوا برے سائز کا قالین لایا تھا، اب ٹائلوں اور سنگ مرمر کے فرش کا فیشن ہے، قالین اٹھا دیے گئے ہین، بیگم سے کہا ہے کہ اوپر ایک بیڈ روم کو خواب گاہ میں بدلنا ہے، فرش پر قالین بچھائیے اور دیواروں کے ساتھ توشکیں بچھا کر گدیاں رکھیے۔

کچھ سوچ کر کہنے لگیں، صفائی زیادہ کرانی پڑے گی، میں نے کہا تو کرائیے، ویکیوم کلینر سے ایک دن چھوڑ کر کروا دیجئے، سن کر خاموش ہوگئیں، جان گئیں کہ اس کے لہجے میں آج سارا رنگ پیار محبت والا نہیں، وہ راجپوت ہیں تو میں بھی اعوان ہوں، ایک اکھڑ گنوار شخص اب بھی اندر کہیں موجود ہے، کیا ہوا جو شہر میں رہ رہ کر بزدل ہوگیا ہوں۔ اب بھی سال میں ایک آدھ بار خم ٹھونک کر بیگم کے سامنے کھڑے ہوجانے کا حوصلہ باقی ہے۔

تجارتی ڈھکوسلوں کا یہ عالم ہے کہ اب ڈبل بیڈ پر بچھائے جانیوالے فوم اور سپرنگ کی نئی نئی اقسام فروخت ہورہی ہیں، پہلے دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ فلاں فوم چھ سال چلے گا، فلاں کی دس سال گارنٹی ہے، ، فلاں کی پندرہ سال، ، تاجروں کو معلوم ہے کہ گاہک نے سال شمار کرنے ہیں، گارنٹی والا کارڈ سنبھال کررکھنا ہے، چارپائی کی ادوائن تو ہر روز کس لی جاتی تھی، کمر درد کے مسائل نہ تھے، اب یہ فوم شروع ہوا تو ساتھ ہی کمر درد اور کندھوں کے درد کے سلسلے بھی شروع ہوگئے، “زمانے کی قسم کہ انسان خسارے میں ہے“ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ محنت کی کمائی دے کر درد والے فوم او ر گدے اپنے ہاتھوں سے خریدیئے، اب تاجر کہتا ہے فلاں گدا خریدیے، وہ
Medicated
ہے، یعنی ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اس سے کمر، کندھے اور پیٹھ متاثر نہیں ہوں گے، واہ سرمایہ داری، واہ مارکٹنگ کے ہتھکنڈے! یعنی پہلے خشک ستو بیچے، خریدنے والا کھائے تو پیاس لگے گی، ، اب پانی اپنی مرضی کے نرخ پر فروخت کیجئے، خریدے گا نہیں تو کہاں جائے گا۔

قرب ِ قیامت کی علامت دیکھیے کہ دو دو تین تین چار چار لاکھ روپے کے بیڈ خریدے جا رہے ہیں، اسی کو تبذیر کہا گیا ہے، اور انہی حضرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ”تبذیر کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں“۔

بادشاہ کے محل کے سامنے تنور تھابجھے ہوئے تنور کے ارد گرد حرارت باقی تھی۔ ، ایک فقیر گدڑی لپیٹ کر سو رہا، سامنے بادشاہ کے پاس سمور والا لحاف تھا، وہ اس میں سویا، صبح فقیر نے گدڑی جھاڑی اور نعرہ لگایا، شب ِ سمور گزشت و شبِ تنور گزشت“سمور والی رات بھی کٹ گئی اور تنور والی بھی گزر گئی“۔
سوچ رہا ہوں گاؤں پلٹ جاؤں اور گلہ بانی کروں!

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔