کرسمس تب اور اب


جسے اب ہم کرسمس کہتے ہیں راج کے زمانے میں اسے بڑا دن کہتے تھے۔ بڑا دن اس حساب سے کہ وہ حضرت عیسیؑ کا یوم ولادت جانا جاتا ہے۔ اسی حساب سے منایا جاتا ہے۔ پھر یوں بھی سنتے آئے تھے کہ جاڑے کے دنوں کو جتنا گھٹنا تھا گھٹ چکے۔ اب کل سے بڑے ہوئے شروع ہو جائیں گے۔

اب بعد از خرابی بسیار ہمارے ارباب بست و کشاد کو خیال آیا ہے کہ پاکستان میں جو اقلیتیں بستی ہیں انھیں بھی اس سرزمین پر شاد آباد رہنے کا حق ہے۔ اگر اس حق میں کوتاہی ہوئی تو اب اس کی تلافی ہونی چاہیے تو ادھر دیوالی پر بھی انھیں خیال آیا کہ ہمیں بھی اس تیوہار پر تیوہار والوں کو مبارک باد دینی چاہیے۔ کچھ اسی قسم کا خیال کرسمس کے سلسلہ میں بھی شاید آیا ہے۔ چلتے چلتے یہ بات ہم ایسے یاران طریقت تک پہنچ گئی اور ہمارے ایک دوست کو خیال آیا کہ ارے میں بھی تو دسمبر ہی میں پیدا ہوا تھا۔ پھر اسے کچھ دوستوں کا خیال آیا کہ ارے فلاں فلاں دوست کی تاریخ پیدائش تو اسی ٹھنڈے میٹھے مہینے سے منسوب ہے جیسے ہمارے خالد احمد اور یہ خاکسار۔ یہ سوچ کر اس عزیز نے اپنے ساتھ ان یاروں کی سالگرہ منا ڈالی۔ اور ہمارا یہ یار کوئی بھی موقعہ ہو اپنے پدر بزرگوار کو نہیں بھولتا۔ تو ساتھ کیا مضائقہ ہے کہ مبارک احمد مرحوم کی سالگرہ بھی منا لی جائے تو اس خوشی میں صاحبزادے ایرج مبارک نے بڑے دن کی مبارک شب کو اپنے گھر کو ایک ڈنر سے رونق بخشی۔ بس پھر کیا تھا ع
کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا

اب ہماری سنو۔ ہمیں پاکستان کے ابتدائی ایام بے طرح یاد آئے۔ خاص طور پر اپنے ان دوستوں کے حوالے سے جن میں اکثر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ ہمارے نجی کیلنڈر کے حساب سے یہ ناصر کاظمی کے رتجگوں کا موسم تھا۔ اور مال روڈ رات گئے تک اس شب زندہ دار کے قدموں کی زد میں رہتی تھی۔ ہم قدم یاراں بھی تھے۔ مظفر علی سید‘ احمد مشتاق‘ حنیف رامے‘ شیخ صلاح الدین وغیرہ وغیرہ ع
ساتھ اس کارواں کے ہم بھی تھے

سفر شب شروع ہوتا تھا مال روڈ سے‘ ختم صبح منہ اندھیرے لاہور کی کسی بھی گلی میں ہو سکتا تھا۔ بھاٹی میں نہیں تو لوہاری دروازے کے کسی نکڑ پر۔ اور مال روڈ یوں تو رات کو جلدی ہی سو جاتی تھی اور ناصر کو کہنا پڑتا تھا
میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
خالی رستہ بول رہا ہے

مگر کرسمس کی شب وہ کتنی رات تک شب بیداری کرتی تھی۔ اور مال روڈ اس زمانے میں رستوراں اسٹریٹ بنی ہوئی تھی۔ ہمارے ٹی ہاؤس سے لے کر چیئرنگ کراس سے آگے تک قدم قدم پر رستوراں ہی رستوراں۔ کرسمس کی شب وہ رات گئے تک جگمگ جگمگ کرتے نظر آتے تھے۔ خاص طور پر جہاں کرسمس کی شب اور نئے برس کی شب اس طرح منائی جاتی تھی کہ داخلہ ٹکٹ سے جس کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی۔ رش جو بہت ہوتا تھا کہ وہاں بال روم ڈانسنگ اور کیبرے کا بھی اہتمام ہوتا تھا اور کیبرے ایسا ویسا نہیں نرتکی اینجلا ان دنوں اپنے عروج پر تھی۔
تو یہ شب ناصر کاظمی کے لیے آسمان سے اتری ہوئی نعمت کا درجہ رکھتی تھی۔ اسے یاروں کو یہ بتانا نہیں پڑتا تھا کہ سلسلہ روز و شب میں شب کے پچھلے پہر کا کیا درجہ ہے ؎
دھیان کی سیڑہیوں پہ پچھلے پہر
کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے

ارے اس زمانے میں ہمیں کب خیال تھا کہ یہ کوئی اقلیتی گروہ کا تیوہار ہے۔ بس اتنا معلوم تھا کہ ہم مسلمان ہیں وہ عیسائی ہیں۔ عیسیٰ بدین خود موسیٰ بدین خود حضرت عیسیٰ ان کے لیے اللہ میاں کے بیٹے ہیں۔ ہمارے حساب سے حضرت عیسیٰ پیغمبروں میں پیغمبروں سے بڑھ کر پیغمبر ہیں۔ باقی وہ اہل کتاب‘ ہم بھی اہل کتاب۔ آل ابراہیم وہ بھی ہم بھی۔ مگر بھائی بھائی مت کہو۔ آل ابراہیم کو بھائی بھائی کا رشتہ کچھ زیادہ راس نہیں آیا ع
بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے

اور ہاں یہ بھی سنتے چلیے ؎
آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہی اور بھائی بہت

ویسے تو جب اماں حوا نے دو بیٹے جنے تھے تب ہی بھائی بھائی کے رشتے کو شیطان کی نظر لگ گئی تھی۔
لو ہم کدھر نکل گئے۔ ذکر تو کرسمس کی اس رونق کا تھا جس کی اڑتی سی جھلک ہم نے ناصر کاظمی کی سنگت میں لاہور کی ان پاکیزہ راتوں میں دیکھی۔ اب وہ راتیں کہاں اور وہ مال روڈ کہاں۔ کتنی جلدی وہ رونق رخصت ہو گئی۔ ارے وہ لاہور ہی بدل گیا۔ مال روڈ بھی مال روڈ نہیں رہی اور وے لوگ کہاں گئے
اب انھیں ڈھونڈھ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

باہمی محبت‘ وضعداری‘ کشادہ قلبی‘ مذہبی رواداری ختم جیسے ہمارے بیچ تھی ہی نہیں۔ اور ہاں جیل روڈ پر ہمارے اڑوس پڑوس میں جو عیسائی گھرانے شاد آباد تھے ان پر کیا افتاد پڑی کہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ ایک بزرگ بی بی تھیں جنھیں ہماری مرحوم بیگم اپنی ٹیچر جی کہہ کر وقتاً فوقتاً ان کی قدمبوسی کو جاتی تھیں۔ اور ہر کرسمس پر ان کی طرف سے ایک کیک موصول ہوتا تھا۔ ارے ہاں ہماری گلی میں تھوڑا آگے چل کر وہ نامی گرامی فوٹو گرافر ایف سی چوہدری رہتے تھے جن سے بھلے دنوں میں ہماری مڈھ بھیڑ علی الصبح جیل روڈ کے فٹ پاتھ پر ہوا کرتی تھی۔ وہ سو برس کی عمر پا کر دنیا سے سدھارے اب آس پاس ایسی کوئی روح نہیں ہے۔ وہ جو پچھواڑے میں عیسائیوں کے چند کچے پکے گھر تھے جہاں سے برس کے برس کرسمس کی رات کو ڈھول ڈھمکے کی آواز آتی تھی وہ بھی نہیں آتی۔ آخر یہ ساری مخلوق کہاں چلی گئی۔ بس اب تو ایسی خبروں سے ہی ان کے وجود کا پتہ چلتا ہے کہ فلاں عیسائی لڑکا بلاسفیمی لا کی زد میں آ گیا۔ فلاں فلاں کے گھروں کو آگ لگ گئی۔ فاعتبروا یا اولی البصار۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔