کیپٹن صفدر: کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ


کیپٹن صفدر نے قومی اسمبلی میں احمدیوں کے خلاف جو تقریر کی ہے، کیا اس کا نشانہ احمدی ہیں یا کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ والا معاملہ ہے؟ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج سمیت کسی بھی محکمے میں اعلی عہدوں میں بیٹھے ہوئے احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں اس لیے اُنھیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔

اپنے خطاب میں کیپٹن (ر) صفدر نے عدلیہ میں بیٹھے لوگوں سے بھی ختم نبوت سرٹیفیکیٹ پر دستخط لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انصاف کی کرسی پر کسی بھی ایسے شخص کو نہیں بٹھانا چاہیے جس کا تعلق احمدی برادری سے ہو۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق یہ تقریر پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی نشر کی گئی۔

گزشتہ دنوں انتخابی اصلاحات کے ترمیمی بل کا معاملہ چلا تھا۔ اس بل پر کئی ماہ تک اہم نمایاں سیاسی جماعتوں، جن میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور خود شیخ رشید بھی شامل تھے، نے غور و فکر کیا تھا۔ ان تمام جماعتوں کے اراکین اس کمیٹی میں شامل تھے جنہوں نے یہ قانون بنا کر پارلیمان میں پیش کیا تھا اور اسے منظور کیا تھا۔

مگر قانون کی منظوری کے بعد اچانک شیخ رشید جاگے اور اس میں حلف نامے اور اقرار نامے کے معاملے کی نشاندہی کی اور اسے یوں پیش کیا گیا جیسے یہ مسلم لیگ ن کی سازش ہے۔ میاں نواز شریف نے تیزی سے اس سے اظہار برات کرتے ہوئے اسے اصل شکل میں بحال کرنے کا حکم دیا۔

اب جس طرح کیپٹن صفدر نے احمدیوں کے خلاف دھواں دھار تقریر کرتے ہوئے خاص طور پر فوج اور عدلیہ کا ذکر کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ہدف صرف احمدی نہیں ہیں بلکہ یہ ”کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ“ والا معاملہ ہے۔ وہ طاقت کے ان دو مراکز کو ہدف بنا رہے ہیں جو ان کو پاناما کیس میں مسلم لیگ کے خلاف کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں تاکہ ان مراکز پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے وقت نئے آرمی چیف کی تقرری پر علامہ ساجد میر نے ایک غلط الزام لگایا تھا کہ چیف کے لئے زیر غور ایک نام احمدی ہے جس کی انہوں نے بعد میں تردید کر دی تھی کہ انہوں نے ایسا الزام ناقص معلومات کی بنیاد پر لگایا تھا۔ اس وقت عمومی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کا ہدف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔

فوج کا ادارہ روایتی طور پر ایک سیکولر ادارہ رہا ہے۔ ادھر مسلکی رنگ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ غیر مسلموں نے پاک بھارت جنگوں میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور بہادری کے اعلی اعزازات پائے ہیں۔ عدلیہ میں بھی جسٹس رانا بھگوان داس اعلی ترین عہدے تک پہنچے ہیں اور مشرف دور میں عدلیہ کے بحران کے دوران وہ عارضی طور پر بطور چیف جسٹس بھی کام کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی آئین کے مطابق ختم نبوت کا حلف اٹھانا صرف صدر اور وزیراعظم کے لئے لازم ہے۔ باقی حلفوں میں مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہے۔

اب معاشرتی تنازعوں کے بعد سیاسی سکور سیٹل کرنے کے لئے بھی بلاسفیمی اور اس کے بعد ختم نبوت کے حساس معاملات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جانے لگا ہے۔ یہ رجحان ملک کے لئے شدید نقصان دہ ہے اور مزید خونریز تقسیم کا باعث بنے گا۔ جو بھی سیاسی و غیر سیاسی طاقتیں یہ ہتھیار استعمال کر رہی ہیں، ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس ہتھیار کا نقصان صرف ان کے مخالفین کو ہی نہیں ہو گا، بلکہ وہ خود بھی اس کی زد میں آئیں گے اور مملکت پاکستان بھی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 695 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar