اکیلے سفر کا اکیلا مسافر۔۔۔ یوسف کامران


آج پرانے ٹی ہاؤس کو یاد کرتا ہوں تو یوسف کامران کی یادوں کی پرچھائیاں بھی ساتھ چلی آتی ہیں۔ اس کا پہلا اور آخری مجموعہ کلام ’’اکیلے سفر کا اکیلا مسافر‘‘ جس کا دیباچہ منو بھائی نے لکھا تھا شائع ہوا تو اسے نظم کے بہترین شعرا میں شمار کیا گیا۔۔۔ ٹیلی ویژن پر ادیبوں سے ملاقات کا سلسلہ پروگرام ’’داستان گو‘‘ کی صورت میں شروع ہوا تو میزبان کی حیثیت سے اسے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی اگرچہ وہ پہلے بھی مشہور تھا لیکن صرف کشور ناہید کا خاوند ہونے کی وجہ سے اور اسے یہ وجہ پسند نہ تھی کہ وہ خود ایک عمدہ شاعر تھا۔۔۔ ان دونوں کی دوستی مشاعروں میں پروان چڑھی۔۔۔ یوسف اندرون شہر کا ہینڈ سم گورا چٹا کشمیری نوجوان اپنی شاعری پڑھتا تو لڑکیوں کے دل اس کی شباہت دیکھ کر دھک سے رہ جاتے۔ دوسری جانب بلند شہر کی سانولی سلونی غلافی آنکھوں والی بوٹے سے قد کی کشور ناہید اپنی اداس آواز میں شعر پڑھتی تو سبھی دل تھام کے رہ جاتے۔ ان زمانوں میں لڑکیوں نے زرد اوڑھنیاں اوڑھنا شروع کر دیں کہ کشور کی اوڑھنی کا رنگ زرد تھا۔ دونوں جانب برابر کی آگ لگی ہوئی تھی اور یہ آگ دونوں کے گھر والوں میں بھی لگی کہ۔۔۔ یہ شادی نہیں ہو سکتی۔۔۔ یہ ٹھیٹھ لاہوری کشمیری گورے چٹے موٹے تازے اور وہ نستعلیق دھان پان لوگ ۔۔۔ یہ ملاپ تو ممکن نہ تھا لیکن دونوں نے ساحر لدھیانوی کے اس مشورے پر عمل کیا کہ ۔۔۔ تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کردو۔ ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو۔۔۔ انہوں نے دنیا سے بغاوت کر دی اور شادی کر لی۔

یوسف ایک لاابالی اور زندگی سے لطف اندوز ہونے والا یاروں کا یار شخص تھا، میرا بھی یار تھا اور اس کے کرشن نگر والے گھر کے علاوہ ٹی ہاؤس میں بھی اس کے ساتھ نشست رہتی۔۔۔ اس کے سگرٹ پینے کا انداز ایک خاص رومانوی مزاج کا حامل تھا۔۔۔ کسی حد تک اشوک کمار اور ہمفری بوگارٹ کا امتزاج تھا، وہ زندگی میں سے خوشی اور شادمانی کا ایک ایک قطرہ کشید کر لینا چاہتا تھا۔۔۔

دائیں سے بائیں: مختار مسعود، نور الحسن جعفری، محمد طفیل، اشفاق احمد، یوسف کامران، اصغر بٹ

ایک مرتبہ کراچی سے ایک شاعر لاہور تشریف لائے اور ادیبوں سے ملنے ٹی ہاؤس چلے آئے۔ یوسف نے ان کی بہت خاطر کی اور پوچھا کہ حضرت قیام کہاں ہے تو وہ کہنے لگے بھئی گلبرگ میں ہمارے عزیزوں کی ایک وسیع و عریض کوٹھی ہے اس کا ایک حصہ ہمارے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔۔۔ اب یوسف کو اطلاع ملی تھی کہ وہ دراصل ٹی ہاؤس کے نزدیک ہی اندرون شہر کے کسی مکان میں ٹھہرے ہوئے ہیں تو اسے بہت تاؤ آیا کہ دیکھو ہم پر رعب جھاڑتا ہے۔۔۔ اس کا کچھ بندوبست کرنا پڑے گا۔۔۔ شاعر صاحب ٹی ہاؤس سے باہر نکلے تو یوسف نے انہیں اپنی کار میں بٹھا لیا کہ آئیے صاحب رات کے اس پہر آپ رکشا ٹیکسی کی تلاش میں کہاں مارے مارے پھریں گے میں آپ کو گلبرگ چھوڑ آتا ہوں۔ وہ صاحب نروس ہو گئے، نہیں نہیں آپ کو زحمت ہو گی۔ یوسف کہنے لگا، حضور آپ ہمارے مہمان ہیں آپ کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔ چنانچہ یوسف انہیں گلبرگ چھوڑ کر واپس آیا۔

اسی بارے میں: ۔  چاکیواڑہ میں خانہ بدوش

اگلے روز بھی وہ صاحب شام گزار کر ٹی ہاؤس سے باہر آئے تو وہاں مسکراتا ہوا سگرٹ پھونکتا یوسف منتظر تھا، آئیے صاحب، کیسا حسین اتفاق ہے کہ میں بھی گلبرگ ہی جا رہا ہوں۔ ان صاحب کی توسٹی گم ہو گئی۔ بہت منت سماجت کی کہ یوسف صاحب ابھی گھر نہیں جانا لیکن یوسف میزبانی کے تقاضوں کے عین مطابق انہیں پھر گلبرگ چھوڑآیا۔ وہ صاحب تین چار روز تو ٹی ہاؤس سے غائب رہے، ہم نے سوچا کراچی واپس چلے گئے ہیں لیکن ایک شام نمو دار ہوئے، پہلے اندر جھانک کر اطمینان کیا کہ کہیں یوسف کامران تو موجود نہیں اور پھر ادیبوں کی ایک محفل میں جا بیٹھے اور شعر سنانے لگے۔۔۔ ٹی ہاؤس بند ہونے لگا تو وہ اٹھے، ادھر یوسف جانے کس کونے میں گھات لگائے منتظر تھا لپک کر آیا اور کہنے لگا، آہا حضرت ہم نے تو آپ کی غیر حاضری میں آپ کو بہت یاد کیا، کہاں چلے گئے تھے۔ انہوں نے یہ تو نہ کہا کہ میں آپ کی مہمان نوازی سے فرار ہوا تھا، یونہی بہانے بنانے لگے کہ دراصل کچھ دوستوں سے ملاقات کرنی تھی، لاہور کے قابل دید مقامات دیکھنے تھے اور میں انشاء اللہ پرسوں واپس کراچی جا رہا ہوں۔ یوسف نے کف افسوس ملا کہ ہائے ہائے آپ کی مدارات کا ہمیں موقع ہی نہیں ملا۔ آپ کے لیے خصوصی طور پر ایک محفل مشاعرہ برپا کرنے کی تمنا تھی۔ بھلا روز روز آپ جیسے نابغۂ روزگار شاعر لاہور کہاں آتے ہیں، اب پرسوں آپ کی روانگی ہے۔ چلئے آپ کو گلبرگ چھوڑ آتے ہیں، راستے میں ذرا شعر و ادب پر گپ شپ رہے گی۔

ان صاحب کا تو رنگ فق ہو گیا، بہت بہانے کیے کہ نہیں نہیں آپ کو زحمت ہو گی، گلبرگ بہت دور ہے، میں خود چلا جاؤں گا، خداحافظ لیکن یوسف نے نہایت جذباتی انداز میں اُن کا ہاتھ تھام لیا کہ نہیں جناب آخر میری کار کس روز کام آئے گی۔ مجھے مہمان نوازی کی سعادت سے محروم نہ کیجیے۔۔۔ لاہور کی روایت ہے۔۔۔ مجھ پر احسان کیجیے۔۔۔ میں بہر صورت آج تو آپ کو گلبرگ چھوڑ کر ہی آؤں گا ورنہ میرا ضمیر مجھے ملامت کرے گا، آئیے۔۔۔ جب فرار کے تمام راستے مسدود ہو گئے تو وہ صاحب باقاعدہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ یوسف صاحب میں نے دراصل اس روز بے دھیانی میں کہہ دیا کہ گلبرگ میں قیام ہے ورنہ میں تو یہاں سے نزدیک ہی ایک عزیز کے ہاں ٹھہرا ہوا ہوں۔۔۔ پہلے روز مجھے آپ اس ویرانے میں چھوڑ آئے تو وہاں واپسی کی کوئی سواری دستیاب نہ ہوئی۔ پیدل واپس آیا۔ صبح دو بجے گھر پہنچا۔۔۔ ٹانگیں اکڑ گئیں۔۔۔ ازاں بعد بھی یہی حال ہوا۔۔۔ آپ کی میزبانی کا معترف ہوں لیکن آج مہربانی کیجیے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہیں۔۔۔ یوسف اس اعتراف کے بعد ان صاحب کا گرویدہ ہو گیا۔ اگلے روز بہترین ریستوران میں کھانے پر مدعو کیا اور ان کے فضول سے شعر نہایت دل جمعی سے سنے۔۔۔ یہ تھا یوسف کامران۔۔۔ پھر وہ روزگار کے حصول کے لیے کسی عرب ریاست میں چلا گیا اور جب واپس آیا تو ایک تابوت میں بند آیا۔ اسے ہم نے اقبال ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا۔

اسی بارے میں: ۔  150 برس بعد بھی کارل مارکس زندہ ہے, "سرمایہ" باقی ہے؟

یوسف کامران نے اپنی موت سے بہت پہلے اپنے قلم سے لکھ دیا تھا

’’اپنی قبر کی تلاش میں‘‘

برسوں پہلے جب میری لاش کو غسل دے کر

مسجد سے مانگی ہوئی چارپائی پر لٹایا گیا

تو میرے کفن پر ایک منقش سیاہ چادر اور پھول چڑھائے گئے

جنازہ گھر کی دہلیز سے نکلا تو ایک کہرام بپا تھا

مجھے باری باری کندھا دینے اور جنازے کے ساتھ چلنے والوں نے جناز گاہ پہنچ کر دم لیا تو میں نے ان کے چہروں پر لکھا سب کچھ پڑھ لیا

میری لاش کو مسجد میں اکیلا چھوڑ کر جب لوگ وضو کرنے لگے تو میں چپکے سے اٹھ کر گھر لوٹ آیا لیکن دروازہ کھٹکھٹانے پر، مجھ پر دروازہ نہ کھولا گیا

میری بیوی ماتم گساروں کی تواضع میں مصروف تھی اور عورتیں ٹولیوں میں بٹی مختلف موضوعات پر محو گفتگو

میں اُن کی بے اعتنائی دیکھ کر واپس قبرستان لوٹ آیا

اب میں اپنی قبر کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہوں۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔