جمہوریت میں سنجیدگی کہاں سے لائیں؟


پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم این ایز کا موڈ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ جمہوریت کو خطرہ باہر سے نہیں پارلیمنٹ کے اندر سے ہے۔

ویسے ان سب کو داد دینا بنتی ہے۔ پہلے حکومتی ایم این ایز اور ان کی حلیف جماعتوں نے قانون میں متنازع تبدیلی کی‘ سب نے اس میں ووٹ ڈالے‘ اور اب سب مل کر نامعلوم قوتوں کی سازش کی مذمت کر رہے ہیں۔ وزیر قانون زاہد حامد نے وہ ترمیم ہائوس میں پیش کی اور سپیکر ایاز صادق نے منظوری کے لیے آگے پیش کر دی۔ مزے کی بات ہے کہ جب یہ ترمیم پیش ہو رہی تھی‘ اس وقت ہائوس میں ہنگامہ تھا۔ شور تھا۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ارکان شور مچا رہے تھے کہ نواز شریف کو نااہلی کے باوجود پارٹی کا قانونی سربراہ بنانے کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔ اس شور شرابے کے دوران ہی دیگر ترامیم بھی پیش کر دی گئیں اور حکومتی ایم این ایز سے ایاز صادق نے پوچھا کہ انہیں یہ ترمیم منظور ہے؟ اس پر حکومتی ایم این ایز نے گلے پھاڑ کر کہا: جی منظور ہے۔ خورشید شاہ کہتے رہ گئے کہ بہتر ہو گا‘ ماضی کی طرح معاملہ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ لیکن ایاز صادق بہت جلدی میں تھے۔ انہوں نے ترامیم فوراً ہائوس میں پیش کیں‘ اور سب نے دیکھا کہ یہ پروسیس بلڈوز کیا گیا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ سب سازش تھی۔ تو کیا سپیکر قومی اسمبلی‘ جنہوں نے اس ترمیم کو منظور کرایا‘ کو علم نہ تھا کہ اس میں کیا ہے؟ کیا وزیر قانون کو علم نہ تھا؟ اور وہ سب ایم این ایز‘ جنہوں نے گلے پھاڑ کر ترمیم کے حق میں ووٹ دیا‘ وہ بھی اس سے لاعلم تھے؟ تو کیا ہائوس میں جو بھی بزنس پیش کیا جاتا ہے‘ سپیکر سے لے کر ایم این ایز تک وہ کوئی نہیں پڑھتا؟ وہ سب اندھا دھند ووٹ ڈالنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں؟ کسی کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ ایسی ترامیم پڑھیں اور پھر جی چاہے تو ووٹ ڈالیں؟ ہم سب دیکھ رہے تھے کہ وزیر قانون زاہد حامد سپیکر کے اشارے کے منتظر تھے‘ اور آگے ایم این ایز زاہد حامد کے اشارے کے منتظر۔ کسی نے کچھ نہیں پڑھا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا کہ پارلیمنٹ سے ایسی ترامیم پاس کرائی گئیں‘ جنہیں ہائوس میں کسی نے نہیں پڑھا ہوتا۔ انہیں صرف یہ حکم ہوتا ہے کہ جب انہیں کہا جائے انہوں نے کسی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالنا ہے تو پھر ووٹ ڈالنا ہے۔ آنکھوں سے محروم لوگ بھی شاید کسی دستاویز پر اس طرح دستخط نہ کرتے ہوں گے۔

اب سپیکر قومی اسمبلی سے لے کر وزیر قانون اور ایم این ایز تک سب ایسے ظاہر کر رہے ہیں جیسے کسی کو علم نہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔ لگتا ہے کوئی آسمانی مخلوق اتری اور اس نے ترمیم کر دی۔ ویسے یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ دو ہزار تیرہ میں نواز شریف حکومت آئی تو دو ہفتے کے اندر اندر پلان بنایا گیا کہ بجلی گھروں کو چار سو اسی ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔ اسے سرکلر ڈیٹ کا نام دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت یہ پیسے ادا کرنے سے کترا رہی تھی۔ خیر اسحاق ڈار نے فیصلہ کیا کہ وہ جون کے ماہ میں ہی معاملہ ختم کریں گے تاکہ حکومت کا مالی خسارہ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈلے۔ سوال یہ تھا راتوں رات چار سو اسی ارب روپے کہاں سے لائے جائیں۔ وزرات خزانہ سے کسی نے مشورہ دیا کہ مختلف وزارتوں کا پنشن اور گریجوٹی فنڈ نکالتے ہیں‘ بینکوں سے قرضہ لیتے ہیں اور انہیں سٹیٹ بینک کے ایک ایسے اکائونٹ میں ڈالتے ہیں جسے consolidated fund کہتے ہیں۔ وہاں سے پھر ان کمپنیوں کو ادائیگیاں کر دیں گے۔ یوں 62 ارب روپے ایسے نکالے گئے جو پس ماندہ علاقوں میں آئی ٹی کی ترقی کے لیے استعمال ہونے تھے۔ جب یہ سب کام ہو گیا تو سٹیٹ بینک کو وزارتِ خزانہ کی طرف سے کہا گیا کہ فوراً ان کمپنیوں کے اکائونٹس‘ جو لاہور کے ایک بینک میں تھے‘ ان میں ٹرانسفر کر دیے جائیں۔ اس حکم کی تعمیل ہوئی اور لاہور کے ایک بینک سے ایک گھنٹے کے اندر اندر یہ سب پیسے ان کمپنیوں کے اکائونٹس میں ٹرانسفر ہو چکے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  وزیر اعظم جھوٹ بول رہے ہیں

جب اس کا پتا آڈیٹر جنرل آف پاکستان بلند اختر رانا کو چلا تو وہ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیسے ممکن تھا‘ کیونکہ قانون کے تحت اس طرح کی ادائیگی ہرگز سٹیٹ بینک نہیں کر سکتا تھا۔ یہ کام اکائونٹنٹ جنرل آف پاکستان کا تھا۔ قانون کے تحت ایک روپے کی ادائیگی ہو تو بھی اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا پری آڈٹ کیا جائے۔ تمام بلوں کو چیک کیا جائے اور پھر سٹیٹ بینک کو کہا جائے کہ وہ اکائونٹنٹ جنرل کے کھاتے میں پیسے ڈالے اور پھر وہ چیک جاری کرتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں نہ تو بل چیک کیے گئے اور نہ ہی قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ اس پر آڈیٹر جنرل نے انکوائری شروع کر دی۔ جونہی انکوائری شروع ہوئی اسحاق ڈار نے کارروائی شروع کر دی۔ سب سے پہلے یہ کام ہوا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی مدد لی گئی کہ فوراً ایسے آڈیٹر جنرل کو ہٹانے کی کارروائی کی جائے۔ اس کے لئے الزام لگایا گیا کہ انہوں نے تیس ہزار روپے اپنی تنخواہ بڑھائی تھی۔ اس پر خورشید شاہ بھی ایکشن میں آ گئے کیونکہ آڈیٹر جنرل نے ان کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا‘ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہی ہیں‘ وہ سب پیپلز پارٹی دور کی کرپشن کے بارے میں ہیں۔ اور تو اور جس وزارت کو خورشید شاہ چلاتے رہے اس کی رپورٹس بھی اس میں شامل تھیں لہٰذا ان کا اخلاقی سٹینڈ یہ تھا کہ خورشید شاہ کے چیئرمین ہوتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ اس پر خورشید شاہ بھی بلند اختر رانا سے ناراض ہو گئے اور یوں پی ٹی آئی کو بھی ساتھ ملا کر انکوائری شروع کر دی گئی کہ آڈیٹر جنرل نے اپنی تنخواہ تیس ہزار روپے بڑھا لی تھی۔ اس پر ان کے خلاف باقاعدہ ایک ریفرنس سپریم جیوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا‘ اور چند دنوں کے اندر اندر اس کا فیصلہ سنا کر انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ ویسے درجنوں ریفرنس پڑے تھے لیکن بلند اختر کا ریفرنس فوراً سنا گیا۔

اسی بارے میں: ۔  منٹو کا منگو، بندہ ناچیز اور ایجنٹ مافیا

اسحاق ڈار نے سوچا‘ یہ تو مستقل سر درد رہے گا۔ جب بھی انہوں نے اربوں روپوں کی ادائیگی کرنی ہو گی تو انہیں بل پیش کرنے ہوں گے۔ ان بلوں کو چیک کیا جائے گا کہ وہ درست ہیں یا غلط۔ اس پر انہوں نے خاموشی سے پارلیمنٹ میں ترمیم منی بل میں ڈال دی‘ جس کے تحت اب اسحاق ڈار کی وزرات کو یہ اختیار مل گیا کہ آئندہ اکائونٹنٹ جنرل سے پری آڈٹ یا بلوں کو چیک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ براہ راست سٹیٹ بینک کو حکم دے کر براہ راست کسی کے اکائونٹ میں جمع کرا سکتے تھے۔ تاہم اتنی رعایت کی گئی کہ اس بل میں یہ لکھ دیا گیا‘ اربوں روپے کی ادائیگی کرنے کے بعد وزارت خزانہ سے ایک نوٹ صدر پاکستان ممنوں حسین کو بھیج کر اطلاع دی جائے گی۔

اب بتائیں‘ جب آپ راتوں رات قانون بدل کر اس طرح کی ترامیم لائیں گے اور ہائوس میں بیٹھے ایم این ایز کو علم نہیں ہو گا تو پھر جمہوریت کون کمزور کر رہا ہے؟ بلند اختر رانا نے تمام تر مشکلات کے باوجود اور اپنے اوپر ایف آئی اے کے مقدمات بھگتنے کے باوجود اس کا آڈٹ کرایا اور پتہ چلا کہ اس میں دو سو ارب روپے کے قریب ایسی ادائیگیاں کی گئیں جو غلط تھیں۔ اگر اسحاق ڈار ان بلوں کو چیک کرانے دیتے تو ملک اور قوم کے دو سو ارب روپے بچ سکتے تھے۔ جب وہ رپورٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پیش ہوئی تو خورشید شاہ نے اسے ختم کرکے اسحاق ڈار کو کلین چٹ دے دی۔ اور ابھی کچھ ماہ پہلے پیپلز پارٹی کے لیڈرز لاہور میں ہونے والے جلسے میں یہ الزام لگا رہے تھے کہ اسحاق ڈار چار سو اسی ارب روپے کے سکینڈل میں ملوث تھے۔ پارلیمنٹ کے اندر پیپلز پارٹی نے اسحاق ڈار کو اس سکینڈل میںکلین چٹ دے تھی اور پارلیمنٹ کے باہر وہ الزام لگا رہے تھے۔
یہ ہے وہ سیاست اور جمہوریت جو خطرے میں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔