مفتی نعیم، خواتین اور دیگر آراء


مصطفی کمال

mustafa kamal برسنے والے خوب برسے۔ لفاظی کی گئی اور پھر لفاظی کی وضاحت  میں مزید لفاظی کی گئی! جب ذاتی خواہش کو مذہب کا نام دیا جائے تو شاید فاحشہ کہہ کر ہی بات کی جا سکتی ہے۔

بات فقط اتنی سی ہی تھی کہ دنیا برابری کی طرف جا رہی ہے سو ہمیں بھی اپنے تیور بدلنے ہوں گے۔ اور یہ کہ خواتین کو ان کا حق دینا ہو گا جو کہ بنیادی طورپر ان کا ہے۔

دلیل دی گئی کہ مذہب اور اخلاقیات کا جنازہ نکلے گا! اور یہ کہ عورت بے راہ رو بنے گی!

پر بات یہ بھی ہے کہ نہ تو پنجاب اسمبلی تاریخ میں پہلی بار اس طرح کی گستاخی کی مرتکب ہوئی تھی اور نہ ہی انصار عباسییوں کی منطق کوئی انہونی چیز تھی۔

برسوں پہلے مصر کے مشہور قانون دان قاسم امین نے اپنی تحقیق میں یہ بات کہی تھی کہ مصر کے ان علاقوں میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے جہاں خواتین نسبتا کم پڑھی لکھی ہیں۔ یہ شرح ان علاقوں میں بہت کم  تھی جہاں خواتین پڑھ لکھ گئی تھیں اور اپنے حقوق کے بارے میں جانتی تھیں۔

قاسم امین نے، جو اسلامی دنیا میں فیمینزم کے خالق جانےجاتے ہیں، ایک سے زیادہ شادیوں کی، پردے کی اور خواتین کو تعلیم نہ دلانے کی شدید مخالفت کی۔ “اگر قوم کی آدھی سے زیادہ آبادی خوف، جہالت اور غلامی میں زندگی گزار رہی ہو تو آپ حضرات قوم کی مجمو عی ترقی کا کیسے سوچ سکتے ہیں؟”

(قاسم امین )

“یہ غلط فہمی ہے کہ پردہ دارخواتین بے پردہ خواتین سے زیادہ با کردار ہوتی ہیں۔ کردار کا تعلق پردے سے نہیں بلکہ شعور سے ہوتا ہے۔”  (قاسم امین )

مشرق وسطی کے تمام ممالک میں وقتاً فوقتاً خواتین کے حق میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ تحریکیں خواتین کی کمزوری کا ماتم کرتی نظر آتی ہیں وہاں یہ عرب مردانگی پر گہری طنز کرتی ہیں۔ شام کے سب سے مشہور شاعراور ڈپلومیٹ نزار قبانی کا کہنا تھا کہ “مرد کو  اب تک چار بیوییوں کے علاوہ  قران میں کچھ نظرنہیں آ سکا”

بات آرا کی نکلی ہے تو چلتے چلتے کچھ اور بھی سن لیں ؟

“افسوس کہ انہوں نے تمہیں قدیم روایات کے زندان میں قید کیا

جہاں روایات کی بییڑیاں تمہارےپاؤں کی زنجیر بنی ہیں

وحشی باپ اور چالاک ماں نے

تمہاری شادی اس لاغر بوڑھے سے کروا دی

یہ کتنے دکھ کی بات ہے

کہ آدمی بہار کی موسم میں پھول مرجھاتا دیکھے”

(فہد الاکثر کویتی شاعر)

“مذمت کرو

کہ اب تم اتنے لچکدار نہیں رہے

جسے کسی بھی سانچے میں ڈھالا جا سکے

تم ایک سچائی ہو

اور خالق کی سب سے بہترین تخلیق

تم میں تہذیب اپنا وجود ڈھونڈتی ہے

سر اٹھائے رکھو

اےبنت آدم!!”

(حامد اریانی)

“بجاۓ یورپ کی خواتین کی بدکرداری کا رونا رونے کے مصری علما مصر کی خواتین کے مسائل پر بات کر لیں “

(نباویا موسی)

“ایک خاتون شوہر کی وفات کے بعد یتیموں کو پال پوس کر جوان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے باوجود اس کے اپنی زندگی میں مرد کبھی کسی مسئلے میں اپنی بیوی سے مشورہ لینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا”

(نباویا موسی)

“مجھے اس خاتون پر بہت ترس اتا ہے جو اپنی گناہ چھپانے کی خاطر داڑھی نہیں رکھ سکتی”

(علی شریعتی)

“آپ سب سے پہلے اپنے لئے مسجدوں میں نماز قایم کرنے کی آزادی مانگیں۔ اگر مرد آپ کو مسجد میں نماز پڑھنے کی آزادی نہیں دیتا تو پھر اپ کس چیز کی توقع رکھ سکتی ہیں؟” (سلطان محمد شاہ، آغا خان سوئم)

پر مفتی نعیم ٹی۔وی پر اور انصار عباسی اخباروں میں یہ باور کروانے میں لگے ہیں کہ عورت کا صحیح مقام گھر کی اندر ہی ہے۔ اور یہ کہ ان حضرات کی بات ماننا ہم پر فرض ہے۔


Comments

FB Login Required - comments