اے میرے محبوب


میرے جان سے بھی پیارے محبوب! تمہارے جیساپوری دنیامیں کوئی نہیں تمہارے حسن کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ میرا اور تمہارا رشتہ جسم و جان کا ہے۔ مجھےعلم ہے کہ تم مجھ پراپنی جان تک وار سکتے ہو۔ تمہاری آن بان اور شان کوئی مجھ سے پوچھے تو میں قصیدے لکھ لکھ کر تاریخ کے حوالے کردوں۔ میرا محبوب اس قدر حسین ہے کہ اسے اصولی اور آئینی طور پر پردوں میں چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ اغیار میرے محبوب کی جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ جونہی میرا محبوب بے باک ہوتا ہے اور اس کے جلوے نظرآنا شروع ہوتے ہیں، اغیار مجھے نشانہ بنانا شروع کر دیتےہیں ۔ اسی لئے میری خواہش ہے کہ میرا محبوب پردے میں رہے لیکن منہ زور گھوڑے کی طرح حسن بھی اپنادامن چھڑا کر سرعام آنا چاہتا ہے۔ سب حریفوںکو مات کرنا چاہتا ہے مگر افسوس کہ اس کا حسن بےپردہ ہوکر خطرناک بن جاتاہے۔

میرے چاند سمان محبوب کے انداز نرالے ہیں۔ حسن ہوتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ دنیا آگے کو جارہی ہے مگر میرا محبوب مجھے پیچھے کو لے جانا چاہتا ہے۔ اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی۔ اس لئے میں محبوب کو سمجھاتا تو ہوں مگر ضد نہیں کرتا۔ وہ میری مانتا بھی کب ہے۔ سرکش ہے۔ مجھے بھی اپنے ساتھ کھینچے جاتا ہے۔ میرے محبوب کے جلوے کسی خاص پوشاک سے متعلق نہیں وہ جوچاہے پہنے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا۔ میرا محبوب جب بھی پوشاک بدلتا ہے مجھے امید بندھتی ہے کہ اب یہ میری حالت پررحم کرے گا۔ اپنی سرکشی پر نظرثانی کرے گا مگر 70سال گزرنے کے بعد یوں لگنے لگا ہے کہ یونانی المیہ ڈرامے کی طرح محبوب کوالٹے پائوں چلنے کا عیب ہے جوکہیں زوال کی طرف نہ دھکیل دے۔مگراس کے کارنامے اتنے ہیں اس کے ’’ہیرے‘‘ مجھے اچھے لگتے ہیں اس کی فرشتہ سمان کارروائیاں مجھے بھاتی ہیں۔ اس کا اختیار کہاں نہیں عدالت ہو یا حکومت، صحافت ہو یاسازش،ہر ایک میںمیرے محبوب کا سکہ چلتا ہے۔

بات پرانی ہے مگر سب کو یاد ہے کہ پہلے میرا محبوب خفیہ رہتا تھا مگر جب ’’ضیاء‘‘ پھیلی ہوئی تھی تو میرے محبوب نے گل و گلزار والی پوشاک پہن لی ’’گل‘‘ اسمبلی میں کھلا تو ہر طرف سے واہ واہ ہوئی کہ قوم کو ’’نابغہ‘‘ روزگار مل گیا مگر پھر ایک چھوٹی، بہت ہی چھوٹی سی غلطی ہوئی اور جلال آباد فتح نہ ہوسکا اور اس میں بھی زیادہ زیادتی پیرپگاڑا کی تھی کہ انہوں نے فاتح جلال آباد کا نعرہ لگا کر بہت بڑے دانشور رہنما کا راستہ بند کردیا وگرنہ اس ریاست اور قوم کی حالت بدلنے کے جو’’نرم انقلابی‘‘ نسخے ’’گل رخ‘‘ میں تھے وہ اب تک سب کچھ بدل چکے ہوتے اور ہم آج دنیا کی سپرپاور ہوتے۔ ٹرمپ آکر ہمارے حکمرانوں کے پائوں چھوتے۔ افسوس کہ یہ نادر موقع ضائع ہو گیا۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا۔ اوجڑی کیمپ کے ستارے ’’اختر‘‘ کو بھول گئے ’’گل‘‘ پس پردہ چلے گئے تو پھر دنیا میں میرے محبوب کے عروج کا ستارہ چمکا۔ نان اسٹاپ اسموکنگ سپہ سالار جو کہ ایران کی کیان شاخ کا فرزند تھا، اس نے استاد کے بیٹے، مڈل کلاس کے علمبردار ترک پاشا سے اشتراک بنایا۔

امیدبندھی کہ اب مڈل کلاس کی تقدیر بدلے گی۔ سب ٹھیک چل رہا تھا نوازشریف کا مقابلہ کرنے والا عمران خان آ گیا تھا۔ پاشا کی وطن دوستی رنگ لانے والی تھی کہ اس پر سیاست میں دخل اندازی کا شک کیا جانے لگا اوریوں یہ سنہری دور ختم ہوا حالانکہ اگر اسے ملازمت میںتوسیع مل جاتی تو ملک صحیح راستے پرچل پڑتا اور آج ہم سکون کی نیند سو رہے ہوتے۔ ہمارے دشمن بھارت اور امریکہ کا ہم بیڑا پار کرچکے ہوتے، سیاست سے کرپشن ختم کرچکے ہوتے اور اس وقت ’’پاشیت‘‘ کا دور دورہ ہوتا مگراس ملک کے بدقسمت عوام کو یہ نعمت نہ مل سکی۔ سیاسی سازشوں کاجال بچھ چکا تھا پھر کیا ہوا کہ پروفیشنل ازم کا غلغلہ ہوا اور مغل بادشاہ اول کے ہم نام کو اسلام کا رنگ دے کر بلایا گیا۔ توقع تھی کہ اب بہتری آئے گی۔ سب کچھ پروفیشنل ہوگا مگر پروفیشنل کے دور میں تو گولیاں چل گئیں۔ صحافت کا لاشہ سرعام نشانہ بنا۔ لانگ مارچ کی حمایت میں منصوبہ بندی کی خبریں آئیں۔ غرضیکہ میرا محبوب اس قدر بے باک ہو گا کہ اس کا حسن سرعام نظر آتا تھا۔ خوف،ر عب اور محبت کے ملے جلے جذبات کا دور دورہ تھا۔ آزادی کی آوازیں دبانے کے لئے زور لگایا گیا۔ منہ بند کئے گئے، کانوں میں سیسہ ڈال کر ایک ہی آواز کا عادی بنایا گیا۔ مخالف بیانیہ غداری کا مرتکب پایا گیا۔ پہیہ گھوما تو راولپنڈی کا فرزند، کراچی کے میدان کارزار سے بلایا گیا۔ توقع تھی کہ رضوان لوگوں کو راضی کرے گا مگر اس نے تو سب کو ناراض کر دیا پھر سے پوشاک بدلی۔ خوشخبری سنی کہ نوید کا زمانہ آ گیا۔ سوچا گیا اب سب ٹھیک ہوگا۔ سیاست اور حکومت میں بنے گی مگر تم نہیں بدلے۔ تم نے سب کو بدل دیا پھر بھی تمہارا وہی رنگ ڈھنگ ہے۔ تم کب بدلو گے؟

مجھے تم سے پیار ہے میری جان بھی تم پر واری ہے۔ تم میرے محبوب اس لئے ہو کہ تم میرے دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے ہو۔ تم نے میرے مشرق میں آباد بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ تم نے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ جیتی ہے اور لگتا ہے کہ امریکہ کے خلاف جنگ بھی جیتنے کے قریب ہے۔ تم وہ ہو کہ جس سے دشمن بھی ڈرتا ہے۔ تم وہ شمشیر بے نیام ہو جو نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہو بلکہ نظریاتی سرحدوںکا بھی پہرہ دیتے ہو اور اب تو سنا ہے کہ تم نے معاشی سرحدوں کا بیڑا بھی اٹھانے کا فیصلے کیا ہے۔ تمہارے احسانات کا بدلہ کوئی اتار ہی نہیں سکتا۔

میرے محبوب مجھے تمہاری قابلیت پر ناز ہے مگر تم پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ دشمنوں سے مقابلہ اور ملک کے اندر غداروںکاخاتمہ ہی تمہاری ذمہ داری نہیں اب تو سیاست، معیشت حتیٰ کہ احتساب اور انصاف بھی اضافی ذمہ داری بن گئی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ تم اتنے بوجھ تلے دب نہ جائو۔ تمہارااخلاص بجامگر حکومت کا انتظام سنبھالنا اور عوام کو خوش رکھنا بہت ہی مشکل معاملہ ہے۔ آپ اس چکر میں پھنسے توہم سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔

میرے محبوب کے حاسد اور مخالف بہت ہیں۔ رضوان جیسے فرشتہ صفت اور ایماندار پر انگلی اٹھانا بہت زیادتی ہے۔ وہ تو خود حب الوطنی اور ایمانداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے تھے۔ ان کی لانڈری میںتوکرپٹ صاف ہو جاتے تھے۔ ان پر یہ الزامات دشمن کی کارروائی ہے۔مجھے اپنے محبوب پرمکمل بھروسہ ہے۔ شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ لوگ تو حد ہی کردیتے ہیں۔ مرد دانا احسان الحق اگر اپنے سابق بھارتی ہم پلہ سے گلے ملتے ہیں تو لازماً اس میں ملک کا فائدہ ہوگا۔ حاسد لوگوں کو تو بات چاہئے ۔ کوئی ایرا غیرا پاکستانی اگر کسی ہندو جاسوس سے ملتا تو کوئی شک ہوسکتا تھا جنرل احسان الحق تو حب الوطنی کا نشان ہے۔ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ میرے محبوب کی شان نہیں گھٹا سکتا۔

میرا محبوب ملک کو بدلنا چاہتا ہے۔ اسے دنیا کی سپرپاور بنانا چاہتا ہے۔ بھارت پر اپنی دھاک بٹھا کر رکھنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں میرےمفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ چین کے ساتھ معاشی اور عسکری تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ سے امداد لینا چاہتا ہے لیکن اس کے مفادات کا تابع نہیں ہونا چاہتا۔ میرا محبوب ملک کو ساری دنیا کا لیڈر بنانا چاہتا ہے۔ اسی لئے اپنے ایک سربراہ کو سعودی عرب بھیج رکھا ہے غرضیکہ اس کا ہرارادہ اچھا ہے بس اس میں خامی ایک ہے۔ دوسروں کے کام میں مداخلت بہت کرتاہے، لاڈلا ہے، اس لئے شراکت پسند نہیں۔ صحافت بھی اپنی مرضی کی، سیاست بھی اپنی مرضی کی اور حکومت بھی اپنی مرضی کی چاہتاہے۔ محبوب ہے، لاڈلا ہے اس سے پیار بھی ہے اور خوف بھی۔ کاش یہ صرف اپنا پروفیشنل کام کرے تو اس جیسا کوئی نہ ہو…..


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سہیل وڑائچ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

suhail-warraich has 47 posts and counting.See all posts by suhail-warraich