نگران حکومت کی افواہیں گپ ہی رہ گئیں


اسلام آباد میں مسلسل افواہیں گرم ہیں کہ بہت جلد ایک نگران حکومت قائم ہونے والی ہے۔ ٹیکنوکریٹ کی یہ حکومت ایک لمبے عرصے کے لیے آئے گی۔ سب کا احتساب کرے گی اور ملکی معیشت پر توجہ دے گی۔ ساتھ سول حکومت کا پھیلایا ہوا گند صاف کرے گی۔ حقیقت میں ایسا لگتا نہیں ہے۔ فوج جب بھی آئی ہے، کسی ایکشن کے ردعمل میں آئی ہے۔ اس وقت حکومت کا فوج کے ساتھ کوئی تنازع موجود نہیں ہے۔

وزیر اعظم شاھد خاقان عباسی سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس ہر ہفتے ہوتے ہیں۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس تواتر سے ہو رہے ہیں۔ ان اجلاسوں میں سول اور فوجی قیادت مشترکہ لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔ اصل میں دونوں کے درمیان فاصلے کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کچھ رپوٹروں کے مطابق تازہ تیار کردہ پالیسی پیپر کے عین مطابق ہے۔ عدالتوں میں اس وقت ایسا کوئی کیس موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر حکومت ہی فارغ ہو جائے۔ ویسے ایک طریقہ آدھی رات کو پیار محبت سے استعفی لینے کا ایک سینیر کالم نویس نے بھی لکھ کر پیش کیا ہے۔

ٹرمپ کی تقریر کے بعد جو پہلا اثر ہوا، وہ پاکستان کی بجائے کابل پر ہوا۔ افغان حکومت نے ایک دم سے پاکستان پر الزامات لگانے بند کر کے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔ اس کی وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ افغان لیڈر شپ سمجھ گئی کہ ٹرمپ کے ایڈونچر کا مطلب افغانوں خاص طور پر پختونوں کی مزید خونریزی ہے۔

جنرل باجوہ نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے فوری بعد سپیشل کور کمانڈر کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ دو دن بعد جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ دی تو انہوں نے بس اتنا کہا کہ خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے اس پیغام کو بھی حکومت کے خلاف ایک وارننگ کے طور پر بیان کرنا شروع کر دیا۔ کوئی اعلامیہ جاری نہ کرنا دراصل اتفاق رائے پر نہ پہنچنے کی بھی تو ایک نشانی ہے کہ ابھی غور ہو رہا ہے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے۔ اس اینگل سے بات پر کوئی غور نہیں کر رہا۔

پاکستانی ادارے اس وقت یقینی طور پر اپنی پالیسی ریویو کی ایک بڑی مشق کر رہے ہیں۔ وہ واضح طور پر حالات کے پریشر میں ہیں۔ فوکس رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوازشریف کی برطرفی کے بعد کہا جا رہا تھا کہ ان کی پارٹی تقسیم ہو گی۔ نون لیگ میں بے چینی کی لہر کے باوجود تقسیم ہونے کی کوئی واضح علامت سامنے نہیں آئی ہے۔ خواہش کے باوجود کوئی ممبر پارٹی چھوڑنے کی جرات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حیران کن طور پر نوازشریف کی پارٹی کی بجائے استعفی فوج سے آیا ہے۔ جنرل رضوان اختر مستعفی ہوئے ہیں۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو ایک بڑا نوازمخالف سمجھا جاتا تھا۔ ان کے استعفے کی کئی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں لیکن اہم بس یہ ہے کہ فوج سے نوازشریف کا ایک بڑا مخالف رخصت ہوا ہے، ٹوٹے دل کے ساتھ۔

برطرف ہونے کے بعد نوازشریف نے اپنی سیاسی اہمیت روڈ پر بھی اور اسمبلی میں بھی ثابت کی ہے۔ سیاستدان پوری طرح ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ سیاست میں باتوں سے زیادہ اہمیت عمل کی ہوتی ہے۔ نوازشریف کی برطرفی کے بعد آصف زرداری سابق وزیراعظم کو بری طرح تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دبئی سے پاکستان آئے۔ جب سینیٹ میں نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ نون کا صدر بنانے کا بل پاس ہو گیا تو آصف زرداری دبئی واپس چلے گئے۔

ملک ریاض آصف زرداری اور نوازشریف کے مشترکہ دوست ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے میاں صاحب سے طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات کو جب سیاست سے جوڑا گیا تو ملک صاحب نے غصے کا اظہار کرتے پائے گئے۔ ملکی سیاست جب اوپر نیچے ہوا کرتی ہے تو ملک صاحب کی آنیاں جانیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ سب اہم جگہوں پر مثبت بندہ سمجھے جانے والے جاوید اقبال چئرمین نیب بن گئے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال ایبٹ آباد کمیشن کے بھی سربراہ رہے ہیں۔ اس کی رپورٹ بھی کامیابی سے کسی کھوہ کھاتے ڈالی جا چکی ہے۔ کچھ عرصے سے جتنے نیب کے سربراہ آئے ہیں، سپریم کورٹ میں ان کی ایسی تیسی ہوتی رہی ہے۔ یہ سلوک جاوید اقبال کے ساتھ نہیں ہو سکے گا۔

ان کی تعیناتی کے بعد نوازشریف کیس پر کرپشن تحقیقات کے لیے تعینات نگران جج کتنے موثر رہ جاتے ہیں، یہ دیکھنا ہو گا۔ ریلیف ملے نہ ملے، ٹیکنوکریٹ حکومت کی افواہ اب گپ ہی لگتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 252 posts and counting.See all posts by wisi