جسم فروشی اور قومی مفاد


تین برس پہلے امریکی فوجی اڈے کے نزدیک کام کرنے والی 120 سابق طوائفوں نے جوبی کوریا کی حکومت کے خلاف معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے جسم فروشی میں ان کی اعانت کی اور انھیں بڑھاپے میں غربت سے دوچار کر دیا ہے۔ خبر کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ کیجیے۔ 

تاریخ میں جب بھی بڑی فوجوں نے کہیں قیام کیا وہاں چھاونیوں کے گرد ونواح میں خستہ حال بستیاں قائم ہوتی رہی ہیں۔ اور جنوبی کوریا میں ان بستیوں کی دیواریں امریکی فوجی اڈوں کی دیواروں تک پھیل گئی تھیں جو رات بھر بلند آواز موسیقی کی تھرتھراہٹ اور جلتےبجھتے برقی قمقموں میں ڈوبی رہتیں اور دن گذشتہ رات کی دھمکا چوکڑی کی باقیات کو سمیٹنے میں گزر جاتا تھا۔

آج یہ بستیاں ایک عجیب قانونی چارہ جوئی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہاں بڑھاپے کی دھلیز پر کھڑی 120 سے زائد غریب خواتین نہ صرف امریکی حکام بلکہ اپنی حکومت کے خلاف 10 ہزار ڈالر فی کس کے ہرجانے کے دعوے لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے امریکی فوجیوں کو خوش رکھنے کی خاطر جسم فروشی میں ان کی اعانت کی تھی۔

گذشتہ دنوں یہ خواتین یوجینبو نامی شہر کے نواح میں امریکی فوجی اڈے کے قریب واقع ایک کمیونٹی سینٹر میں جمع ہوئیں اور لوگوں کے سامنے اپنے مقدمے کی وضاحت کی۔

سنہ 1972 میں جب میں ملازمت کے لیے ایک سینٹر پر پہنچی تو وہاں پر موجود افسر نے مجھے کہا کہ ذرا کرسی سے اٹھو اور پھر بیٹھ جاؤ۔ اس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے ایک ایسی ملازمت دلائے گا جہاں سونے اور کھانے کو جگہ ملے گی اور باقی سب چیزیوں کے ذمہ داری میرے باس کی ہو گی۔

’ہم ساری رات کام کرتی تھیں۔ میں کوریا کی حکومت سے یہ چاہتی ہوں کہ وہ یہ بات تسلیم کرے کہ یہ نظام اس نے بنایا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ میرا مطالبہ یہ ہے کہ میرے مالی نقصان کی تلافی کی جائے۔‘

سابقہ طوائفوں کا مقدمہ یہ نہیں ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے انھیں جسم فروشی پر مجبور کیا تھا، اس لحاظ سے یہ کوئی جنسی غلامی کا مقدمہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے چونکہ سرکاری سطح پر ان کی جنسی صحت کے معائنے کا باقاعدہ نظام ترتیب دیا تھا اس لیے حکومت اس جرم میں شریک تھی اور حکومت کے نظام کی وجہ سے ہی وہ آج غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جنسی صحت کے معائنوں کے علاوہ حکومت انھیں محفل کے ’مغربی آداب‘ اور انگریزی زبان کی تربیت بھی دیتی رہی ہے۔ کمیونٹی سینٹر میں جمع تمام خواتین نے تسلیم کیا کہ جسم فروشی کی جانب راغب ہونے کی وجہ یہی تھی کہ وہ خود بھی غریب تھیں اور ایک انتہائی غریب ملک میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے نوکری کی درخواستیں دی تھیں تو ان میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ کس قسم کی ملازمت ہوگی۔چنانچہ ہوتا یہ تھا کہ ملازمت کے لیے منتخب ہونے کے بعد یہ خواتین خود کو کسی شراب خانے یا جسم فروشی کے اڈے پر پاتی تھیں، جہاں جلد ہی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہیں بار یا اڈے کے مالک سے ادھار لینا پڑ جاتا تھا، جس کے بعد وہ جسم فروشی کے نظام میں جکڑ لی جاتی تھیں۔

جو عورت کلبوں میں کام کر کے ڈالر کماتی تھی اسے محب وطن سمجھا جاتا تھا

ایک خاتون کا کہنا تھا: ’سنہ 1972 میں جب میں ملازمت کے لیے ایک سینٹر پر پہنچی تو وہاں پر موجود افسر نے مجھے کہا کہ ذرا کرسی سے اٹھو اور پھر بیٹھ جاؤ۔ اس نے مجھے دیکھا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے ایک ایسی ملازمت دلائے گا جہاں رہنے کو جگہ اور کھانے کو ملے گا اور باقی سب چیزیوں کی ذمہ داری میرے باس کی ہو گی۔‘ سینٹر میں جمع خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جسم فوشی میں حکومت کی خاموش رضامندی شامل تھی کیونکہ اس وقت ملک کو غیر ملکی کرنسی کی بھی ضرورت تھی۔ ’ہر کوئی طوائفوں کو تو برا بھلا کہتا تھا، لیکن طوائفیں ملک میں جو ڈالر لا رہی تھیں وہ حکومت کو بہت اچھے لگتے تھے۔‘

یہاں تک کہ اگر کوئی عورت کلبوں میں کام کر کے ڈالر کماتی تھی تو اسے کہا جاتا تھا کہ وہ محب وطن ہے، یعنی ایک محنتی کوریائی خاتون۔ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ان برسوں میں بہت ڈالر کمائے تھے۔

اپنی دکھ بھری داستانیں سناتے ہوئے کبھی تو غصے سے ان خواتین کی آواز بلند ہو جاتی تھی اور کبھی غم میں ڈوب جاتی تھی۔

میں نے ایک ملازمت کی پیشکش قبول کر لی اور میں بار میں پہنچ گئی۔ لیکن میں بار میں پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ آخر کار کلب کے مالک نے مجھے دوبارہ پکڑ لیا اور مجھے ایک دوسرے کلب کے مالک کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے پہلی مرتبہ جسم فروشی کی۔

ایک خاتون نے بتایا: ’میں نے ایک ملازمت کی پیشکش قبول کر لی اور میں بار میں پہنچ گئی۔ لیکن میں بار میں پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ آخر کار کلب کے مالک نے مجھے دوبارہ پکڑ لیا اور مجھے ایک دوسرے کلب کے مالک کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نے پہلی مرتبہ جسم فروشی کی۔‘

ان خواتین کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا مقدمہ پیچیدہ ہے۔

یہ سچ ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت نے جنسی صحت کے مراکز قائم کیے تھے، لیکن ان مراکز کی جگہ پہلے غیر سرکاری ڈاکٹر کام کر رہے تھے ان میں کچھ کی طبی تربیت درست نہیں تھی اور وہ ہر عورت کو یہ سرٹیفیکیٹ دے دیتے تھے کہ اس کی جنسی صحت بالکل ٹھیک ہے اور اس سے کسی مرد کو جنسی بیماری منتقل ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔

کوریا کی حکومت ان خواتین کے مقدمے پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے، تاہم جب مقدمہ عدالت میں پہنچے گا تو ممکن ہے حکومت یہ موقف اختیار کر لے کہ جنسی صحت کے مراکز قائم کرنے کا مقصد خواتین کی صحت کا خیال رکھنا تھا، نہ کہ جسم فروشی کی ترغیب دینا۔

دوسری جانب اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سنہ 1970 کے عشرے میں جنوبی کوریا کی حکومت کو واقعی خدشہ تھا کہ امریکہ یہاں سے اپنی فوجیں واپس بلا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں برکنگز انسٹیٹیوٹ سے منسلک تجزیہ کار اور جنوبی کوریا میں جسم فروشی اور اس میں امریکی فوجیوں کے کردار پر مستند ترین کتاب ’اتحادیوں میں سیکس‘ کی مصنفہ ڈاکٹر کیتھی مون نے بھی اس مقدمے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

’میرا خیال ہے جہاں جنوبی کوریا کی حکومت کا کچھ کردار نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ سنہ 1970 کے عشرے میں مرکزی حکومت کے کچھ افسران نے امریکی چھاونیوں کے قریب ان بستیوں میں جا کر جسم فروشی کرنے والی خواتین سے کہا تھا کہ وہ امریکی فوج کے افسران سے تعاون کیا کریں۔‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 601 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp