تارس بلبا اور محبوبہ کی خاطر دشمن کا ساتھی بننے والا غدار بیٹا


روس کا ایک مشہور ناول نگار ہوا کرتا تھا نکولائی گوگول۔ اس نے 1835 میں ایک کلاسیک ناول لکھ ڈالا ”تارس بلبا“۔ اس وقت روس پر زار حکومت کرتے تھے جو ملک کی دفاعی کے علاوہ دینی اور نظریاتی سرحدوں کے بھی محافظ تھے۔ انہوں نے گوگول کو سمجھایا کہ اس ناول میں روسی حب الوطنی کی مقدار کم ہے اور اس کی بجائے روسی صوبے یوکرین کی زیادہ تعریف کر دی گئی ہے۔ معاملہ گوگول کی سمجھ میں آ گیا کہ نازک ہے۔ سات برس بعد 1842 میں ناول کا اگلا ایڈیشن آیا جس میں حسب ذائقہ روسی حب الوطنی ڈال دی گئی تھی۔

”تارس بلبا“ ایک دلچسپ ناول ہے۔ اس میں مرکزی کردار تارس بلبا نامی ایک کاسک سردار کا ہے۔ کاسک ترکی زبان کے اسی لفظ سے ماخوذ ہے جس سے قزاق نکلا ہے، مطلب اس کا ”آزاد آدمی“ بیان کیا جاتا ہے۔ کاسکوں کے متعلق روایت ہے کہ یہ خزر ترک ہیں۔ اس زمانے میں یہ پولینڈ کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

تارس بلبا کے دو بیٹے تھے جن کو اس نے فوجی اکیڈمی سے تربیت دلوا دی۔ بڑا بیٹا اوستاپ تھا۔ چندے آفتاب، چندے ماہتاب، دلاوری اور شہزوری میں مثال، فرمانبرداری میں کمال۔ چھوٹا بیٹا آندرے تھا۔ وہ لڑ بھڑ تو اچھا لیتا تھا مگر بدقسمتی سے شاعرانہ طبیعت رکھتا تھا۔ حسیناؤں پر مرتا تھا۔ وہ فوجی تربیت کے دوران ہی وہ پولینڈ کی ایک عفت مآب شریف زادی کو دل دے بیٹھا تھا۔

بہرحال سردار تارس بلبا کے دونوں بیٹے تربیت پا کر واپس آئے تو اس نے فوراً اپنی فوجی وردی ڈانٹی اور بندوق اور دونوں بیٹوں کو لے کر کاسکوں کے مرکزی قلعے پہنچ گیا۔ وہاں سب کاسک بیٹھے موج میلہ کر رہے تھے۔ تارس بلبا نے کوشش کی کہ وہ طاؤس و رباب چھوڑ کر شمشیر و سناں سنبھال لیں مگر ان کا سردار پولینڈ سے معاہدہ امن توڑنے پر آمادہ نہیں ہوا حالانکہ تارس بلبا نے یہ وضاحت بھی کی تھی کہ پولینڈ کا کیتھولک بادشاہ یہودیوں سے مل کر آرتھوڈاکس مسیحیوں کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہے اور یہ دین کی سربلندی کا معاملہ ہے۔ تارس بلبا کو حکومت بدلنے کی مہم چلانی پڑ گئی۔

فوجیں تیار ہوئیں اور شہر کے مقامی یہودی تاجروں کو قتل کرنے کے بعد دین کی سربلندی کے لئے پولینڈ کی طرف چل پڑِیں۔ کاسکوں نے دشمنوں کے قلعے کا محاصرہ کر لیا اور پولینڈ والے بھوکے مرنے لگے۔ ایک رات ایک عورت آندرے کے خیمے میں آئی۔ آندرے نے اسے پہچان لیا کہ وہ اس کی دلربا محبوبہ کی خادمہ ہے۔ خادمہ نے بتایا کہ آندرے کی محبوبہ بھوک سے مرنے والی ہے۔ آندرے نے روٹی ٹکر اپنے تھیلے میں ڈالا اور خادمہ اسے ایک خفیہ راستے سے قلعے کے اندر اس کی محبوبہ تک لے گئی۔ اس نے دیکھا کہ محبوبہ اور اس کی ماں دونوں بھوک سے مرنے والے ہیں۔ آندرے اپنے رشک قمر کو گرہن زدہ دیکھ کر ہوش و حواس بے بیگانہ ہو گیا۔ اس کا دماغ پلٹ گیا۔ کہاں تو وہ پولینڈ فتح کرنے نکلا تھا، کہاں محبوبہ کی ایسی بیچارگی دیکھ کر اپنا دل فتح کروا بیٹھا اور پولینڈ کی طرف سے تارس بلبا اور اس کے کاسک لشکر کے خلاف لڑنے لگا۔

لشکر میں تارس بلبا نڈھال تھا۔ اسے یقین تھا کہ پولینڈ والے اس کے پھول جیسے بیٹے کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔ اوپر سے پولینڈ کے لشکر میں ایک نئی جان آ گئی تھی۔ انہیں کچھ کمک بھی مل گئی تھی اور پولینڈ کا ایک نیا سردار کاسکوں کو خوب مار بھی رہا تھا۔ لیکن جب اسے ایک واقف حال یہودی نے خبر دی کہ یہ نیا سردار آندرے ہے جو پولینڈ کی فوجی وردی پہنے کاسکوں سے لڑ رہا ہے تو تارس بلبا غصے سے دیوانہ ہو گیا۔ عزت غیرت کا معاملہ تھا۔ بیٹے نے سردار تارس بلبا کی عزت کو بٹا لگا دیا تھا۔ قلعے کی آخری جنگ ہوئی۔ آندرے کو تارس بلبا کے آدمی گھیر کر ایک طرف لے گئے جہاں تارس بلبا نے خود اس کا سامنا کیا۔ تارس بلبا نے اسے گھوڑے سے اتارا اور فرمایا ”میں نے تمہیں زندگی دی تھی، میں تم سے زندگی واپس لیتا ہوں“ اور ایک گولی اس کے سینے میں دھائیں سے اتار دی۔

اس کے بعد تارس اور اوستاپ نے پولینڈ والوں کا جینا حرام کر دیا۔ اوستاپ پکڑا گیا۔ اسے قیدی بنا کر لے جایا گیا اور بہیمانہ طریقے سے تشدد کر کے مار ڈالا گیا۔ تارس بلبا بھیس بدلے وہیں کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے مزید جنگیں لڑیں اور پولینڈ پر خدا کا قہر بن کر ٹوٹ پڑا۔ آخر میں پولینڈ والوں کے جھانسے میں آنے کے سبب کاسکوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ تارس بلبا جنگ لڑتا رہا۔ پکڑا گیا اور پولینڈ والوں نے اسے زندہ جلا دیا۔

تو بہرحال اس مشہور عالم کلاسیک ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی دشمن حسینہ کی خاطر اپنی فوج چھوڑ کر دشمنوں کی صفوں میں شامل ہو کر اپنوں سے لڑنے والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور ایسا کرنے والا بھی دشمن گنا جاتا ہے۔ وہ اپنوں کے ہاتھوں ہی مارا جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar