اردو بولنے والوں کا مستقبل….


ذیشان یٰسین شیرازی

 

10923245_979285792084025_1790229940509619998_nدنیا کے بہترین میئر، متحدہ قومی موﺅمنٹ کے سابق رکن سینیٹ اور عروس البلاد کراچی کے سابق میئر ڈاکٹر سیّد مصطفی کمال نے دبئی سے اچانک واپسی پر اپنے ہمراہی انیس قائم خانی کے ہمراہ ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کردی۔ تجزیہ نگاروں نے اس پریس کانفرنس کو سال رواں کی سب سے بڑی پریس کانفرنس قرار دی ہے جو کسی حد تک صحیح بھی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مصطفی کمال نے اپنے ضمیر کی آواز پر ان خرافات کو میڈیا اور پاکستان کی لاشعور عوام کے سامنے پیش کیا ہے جن سے وہ پارٹی کے اندر نبردآزما رہے ہیں۔ مصطفی کمال کو جب کراچی کے میئر کا عہدہ سونپا گےا تھا کے بعد سے اپنے اس عہدے پر رہنے تک دنیا شہر قائد کی تعمیر و ترقی کےلئے دن رات ایک کرکے کراچی کا نقشہ ہی بدل ڈالا تھا۔ پریس کانفرنس سے پہلے تک پاکستان کے با شعور عوام ان کے گن گاتے تھے، ان کے کارناموں کو یاد کرکے انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے رہے۔ مصطفی کمال ایم کیو ایم کا وہ صاف و شفاف چہرہ تھا جسے وہ ہر برے وقت میں سامنے لے آیا کرتی تھی کہ ہمارے ایک نوجوان نے کراچی کا نقشہ بدل دیا ہے کراچی کو ترقی یافتہ شہروں میں شامل کردیاہے۔ مگر یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مصطفی کمال کے میئر کی مدت کے بعد یعنی 2008ءسے کراچی میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ مِنی پاکستان کراچی 2008ءسے آج 2016ءتک لاوارث ہی رہا۔ یہ تو اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے جنرل راحیل شریف کی صورت میں اس ملک کو بہترین سپہ سالار عطا کیا جس کی کاوشوں سے کراچی تھوڑا بہت عروس البلاد کی شکل میں نظر آیا۔

بات تھی مصطفی کمال کی دھواں دھار جارحانہ پریس کانفرنس کی۔ جس میں مصطفی کمال نے ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے ”را“ سے تعلقات اور فنڈنگ کے حوالے سے جو الزامات لگائے ہیں، ان سے پاکستان کی تمام حکومتیں، اسٹیبلشمنٹ، سیاسی پارٹیاں، میڈیا اور باشعور عوام بخوبی واقف ہیں۔ ایم کیو ایم نے جس طرح مہاجروں کا قتل عام کروایا، اور بحیثیت مجموعی ان سب کو ”را“ کا ایجنٹ تصور کرایا وہ کسی سے ڈھکا چھپا بھی نہیں ہے۔ بھتہ خوری، بوری بند لاشیں، جبری زکوٰة ،فطرانہ، چرم قربانی یہ سب ایم کیو ایم کے کریڈٹ پر ہیں۔ مگر پھر بھی ہر حکومت کراچی کو چلانے کےلئے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ رکھتی رہی ہے۔ کراچی کی 80 فیصد آبادی اردو بولنے والوں پر محیط ہے اور اردو بولنے والوں کی اکثریت بہ امر مجبوری آج بھی ایم کیو ایم کو ہی ووٹ دیتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم کے نعم البدل کے طورپر عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو آزمانے کی بھی کوشش کی مگر وہ اس میں ناکام رہے۔ اب ہوسکتا ہے کہ اردو بولنے والوں کےلئے ایک نئی سیاسی پارٹی کا قیام عمل میں لایا گےا ہو، بہرحال اس سے قطع نظر ان الزامات کی طرف آتے ہیں جو مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم کی قیادت پر لگائے ہیں۔

انیس قائم خانی اور مصطفی کمال کا ایم کیو ایم کو ترقی کی طرف لے جانے میں بہت بڑا حصہ ہے، دونوں رہنماﺅں نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اس کاز کے لئے وقف کی ہوئی تھی اور آج اسی پارٹی کے کارکن اور رہنما انہیں گالیوں سے نواز رہے ہیں۔ جبکہ وہ خود بھی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ مصطفی کمال نے جو کہا وہ حرف بہ حرف سچ ہے۔ مگر شومئی قسمت ہمارے یہاں عقل اور ضمیر کے بجائے عہدوں اور دولت کوفوقیت دی جاتی ہے۔ بقولِ مصطفی کمال کہ ”میں تین سال پہلے جب خاموشی سے پارٹی اور ملک چھوڑ گےا تھا اس کے بعد سے میرا ضمیر مجھے ملامت کررہا تھا“ ہوسکتا ہے کہ یہ سچ بھی ہو کیونکہ اﷲ جسے چاہے ہدایت دے اور ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مصطفی کمال اور انیس قائمخانی کے دل میں یہ بات ڈال دی ہو کہ تمہیں مرنے کے بعد مےرے پاس ہی آنا ہے تو کیا جواب دو گے۔ شاید انہیں اپنی آخرت سنوارنے کا خیال آگےا ہو، یہ سب باتیں مفروضات میں ہی شمار کی جائیں گی کیونکہ دلوں کا حال اﷲ ہی جانتا ہے اور آنے والا وقت ان سب باتوں کی تصدیق یا تردید ضرور کردے گا۔

اب سب سے برا اور کڑا وقت ایم کیو ایم پر ہے کہ سرفراز مرچنٹ نے جو الزامات ایم کیو ایم پر لگائے ہیں تقریباً وےسے ہی الزامات مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے بھی لگادئےے ہیں۔ سرفراز مرچنٹ کے دعوﺅں کی تحقیقات کے لئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک جائزہ کمیٹی بھی بنا دی ہے، اور اسی دوران مصطفی کمال کے الزامات بھی کسی اچنبھے سے کم نہیں ہےں۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا مگر زمینی حقائق تو ایم کیو ایم کے خلاف ہی ہیں۔ ایم کیو ایم رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے بھی اےسے الزامات لگتے رہے ہیں، مگر مےرے علم کے مطابق وہ الزامات اور وقت کچھ اور تھا اور یہ الزامات اور وقت کچھ اور ہے۔ یہ وقت ایم کیو ایم کے لئے بہت ہی زیادہ بھاری ہے۔ جہاں ایک طرف لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ متحدہ قائد کے خلاف بڑی تندہی سے تفتےش کررہی ہے اور ثبوتوں پر ثبوت اکٹھے کئے جارہے ہیں، کئی گواہان کے بیانات بھی قلمبند کئے جاچکے ہیں۔ وہیں دوسری طرف پاکستان میں بھی ایم کیو ایم اور ان کے قائد کے خلاف ایک بڑے محاذ کی تیاری بھی کی جاچکی ہے۔

ایک اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جس وقت مصطفی کمال اپنی اچانک ہونےوالی پریس کانفرنس میں اپنے سابق قائد کے خلاف الزامات اور اپنے ملک اور پارٹی چھوڑنے کے بارے میں تفصیلاً بتارہے تھے اُسی دوران کچھ علاقوں میں ایم کیو ایم کے خلاف ریلیاں بھی نکالی گئیں اور ”ویلکم مصطفےٰ کمال“ کی وال چاکنگ بھی کی گئی۔ اب یہ کیا ایک پوری پلاننگ کے تحت سب کچھ ہوا ہے ےا صرف وہ لوگ جو ایم کیو ایم سے بے زار ہیں انہوں نے ایسا کیا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر یہ حقیقت ضرور ہے کہ پورے پاکستان بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کے اردو بولنے والوں یعنی مہاجروں کو جو ایم کیو ایم سے بے زار تھے جس کا مصطفی کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں تفصیلاً ذکر کیا ہے انہیں مصطفی کمال کی صورت میں اردو بولنے والوں کو ایک نیا لیڈر ضرور مل گےا ہے۔ اب مصطفی کمال مہاجر کارڈ کو صحیح کھیلتے ہوئے مہاجروں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرکے انہیں قومی دھارے میں شریک کرکے 20 لاکھ شہداءپاکستان کی روحوں کےلئے تسکین کا باعث بن کر اُن کی اُمیدوں پر پورا اُتریں گے ےا وہ بھی آفاق احمد کی طرح گوشہ گمنامی کی سیاست کرتے رہیں گے:


Comments

FB Login Required - comments