ملت کا پاسباں ہے کپتان صفدر اعوان


کیپٹن محمد صفدر اعوان کی قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر نے قوم کے قلوب گرما دیے ہیں۔ شدت جذبات سے سب کا خون کھولنے لگا ہے۔ سب کو امید ہو گئی ہے کہ مریم نواز شریف کے وزیر اعظم بنتے ہی ملک میں وہ انقلابی تبدیلیاں آئیں گی کہ لوگ 1974 کی احمدی ترمیم کو بھول جائیں گے۔ اور یہ امید کس شخص سے بندھی ہے؟ میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن محمد صفدر اعوان سے۔

کہاں وہ نواز شریف جو ہندو شہریوں کی مذہبی تقریب میں جاتے تو کہتے کہ مجھے ہولی دیوالی پر بلایا کریں، میں خوشی سے شامل ہوں گا، لاہور میں احمدی عبادت گاہ پر حملہ ہو اور اسی نوے احمدی اس دہشت گردی میں مارے جائیں تو کہہ دیں کہ احمدی ہمارے بھائی ہیں، علی الاعلان کہہ دیں کہ ملک کے لئے ترقی کا راستہ لبرل ہونے میں ہے۔ بجائے اس بات کے کہ غازی ممتاز قادری شہید کو بہادری کا بڑا اعزاز دیا جائے، یہ نواز حکومت ان کو پھانسی کے تختے پر چڑھا دیتی ہے۔

اور کہاں کیپٹن صفدر، جو حق کا ساتھ دینے سے پہلے یہ نہ سوچیں کہ میاں صاحب اور پارٹی کا موقف کیا ہے اور کیپٹن کے متضاد موقف سے ان کو کیا سیاسی نقصان پہنچے گا۔ کیپٹن صفدر وہ مرد میدان ہیں جو غازی ممتاز قادری شہید کی درگاہ پر جاتے ہیں اور سینہ ٹھونک کر گویا یہ کہتے ہیں کہ بالکل ٹھیک کیا کہ گورنر سلمان تاثیر کو مار دیا۔ جس وقت نیب سے شریف خاندان کے تمام ممبران بچ جاتے ہیں، اس وقت یہ بہادر کیپٹن صفدر ہی ہوتا ہے جو پکڑا جاتا ہے۔

کہاں احمدیوں کو اپنا بھائی کہنے والے میاں نواز شریف اور کہاں کیپٹن صفدر جو ببانگ دہل کہتے ہیں کہ احمدی ملک کے لئے زہر قاتل ہیں، عدلیہ میں بیٹھے لوگ یہ حلف نامہ دیں کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں، فوج اور سرکاری اداروں میں اعلی عہدوں پر بیٹھے احمدیوں سے ملکی سلامتی کو بچانے کی خاطر ان کو نکال دیا جائے اور فوج میں ان کی بھرتی پر پابندی لگائی جائے۔ کیپٹن صفدر کی اسمبلی میں تقریر دیکھ کر ہر ذی شعور شخص اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ وہ لبیک تحریک کے پیر خادم حسین رضوی کو کہیں پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ میاں نواز شریف چاہے لاکھ سر پٹکیں، جب تک کیپٹن صفدر جیسے جوان مسلم لیگ نون کی صفوں میں موجود ہیں، یہ جماعت لبرل نہیں ہو سکے گی۔

مثل مشہور ہے کہ ہر فرعونے را موسی۔ یعنی ہر فرعون کے لئے خدا کوئی موسی اتار دیتا ہے۔ فرعون کے محل میں حضرت موسی پیدا ہوئے تو اس کا اقتدار ختم ہو گیا۔ نواز شریف کی لبرل فرعونیت ختم کرنے کا سبب ہمیں کیپٹن صفدر کی شکل میں دکھائی دے رہا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک شاعر نے لازوال ملی ترانہ لکھا تھا، ”ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح، ملت ہے جسم جان ہے محمد علی جناح“۔ قائداعظم سے بے پناہ عقیدت اپنی جگہ مگر یہ بات ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہیے کہ ان سے بعض غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔ مثلاً ان کی مسلم لیگ کی صفوں میں شامل احمدیوں کے متعلق یہ رائے تھی کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہو گی کہ پاکستان بنانے والی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے دو برس تک صدر رہنے والے سر ظفر اللہ خان کو انہوں نے نہ صرف یہ کہ پاکستان کی سرحد کا تعین کرنے کی ذمہ داری سونپی بلکہ ان کو اپنا وزیر خارجہ بھی مقرر کر دیا۔ اس عہدے پر سر ظفر اللہ خان سنہ 1954 تک فائز رہے۔ ان کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو بظاہر یہ پاکستان اور مسلمانوں کے بہت ہمدرد تھے، شاہ فیصل تک ان کو ”میرے بھائی“ کہہ کر مخاطب کرتے تھے مگر کیپٹن صفدر درست کہتے ہیں کہ اعلی عہدے پر بیٹھا یہ شخص ملک کے لئے زہر قاتل تھا۔ یہ سر ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ کی ناقص کارکردگی تھی کہ 1971 میں امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ پاکستان کی مدد کرنے نہیں آیا۔ سنہ 65 کی جنگ میں کشمیر پر قبضہ نہ کر سکنے کی وجہ بھی ایک احمدی جنرل اختر ملک تھے جو جنرل یحیی خان کو اپنی جگہ کمان سونپ کر آ گئے۔ بدقسمتی سے چونڈہ کے محاذ کا کماندار بریگیڈئیر ایک احمدی عبدالعلی ملک کو مقرر کر دیا گیا تھا۔ سبز پوش بزرگ عین وقت پر وہاں نہ پہنچتے تو کشمیر کے علاوہ سیالکوٹ اور سارا شمالی علاقہ ہاتھ سے جاتا۔

مختصر یہ کہ قائداعظم سے احمدیوں کے معاملے میں غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔ کیپٹن صفدر سے نہیں ہوئیں۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا ہے کہ کیپٹن صفدر کو خراج تحسین پیش کیا جائے؟ ہماری رائے میں دو اقدامات کرنے چاہئیں۔ پہلا یہ کہ قائداعظم یونیورسٹی کا نام کیپٹن صفدر یونیورسٹی رکھ دیا جائے۔ اگر یہودی قادیانی لابی کے دباؤ کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم اس میں موجود ”پروفیسر عبدالسلام سینٹر فار فزکس“ کا نام تبدیل کر کے ”کیپٹن صفدر سینٹر فار فزکس“ رکھ دیا جائے۔

کیپٹن صفدر کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے دوسرا اہم قدم یہ اٹھانا ہو گا کہ ان کو قائداعظم ثانی قرار دیا جائے اور وطن عزیز کے تمام سکولوں میں صبح اسمبلی کے وقت ملی ترانہ پڑھا جائے ”ملت کا پاسباں ہے کپتان صفدر اعوان، ملت ہے جسم جان ہے کپتان صفدر اعوان“۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 756 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar