کرکٹ بیٹ کا لالچ اور بھٹو کی شادی


ذوالفقار علی بھٹو ، بائیں سے دوسری کرسی پر – بمبئی میں اسکول کرکٹ ٹیم

ذوالفقار علی بھٹو لڑکپن میں کرکٹ کے اس قدر شیدائی تھے کہ چودہ برس کی عمر میں وہ محض کرکٹ بیٹ کے لیے شادی کرنے پر رضا مند ہوگئے۔ نصرت بھٹو کے گھر والوں کی طرف سے بھٹو خاندان سے رشتے کے لیے سلسلہ جنبانی شروع ہوا تو بھٹو کی پہلی شادی پر اعتراض ہوا، اس پر ان کی والدہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے کی شادی چودہ سال کی عمر میں ہوئی تھی اور وہ اتنے بھولے تھے کہ انھیں کرکٹ کے بلوں کا سیٹ دینے کا لالچ دے کر نکاح کے لیے منا لیا گیا تھا ۔ یہ راز نصرت بھٹو نے ایک انٹرویو میں کھولا، جس کی تصدیق اوریانا فلاسی کو بھٹو کے دیے گئے مشہور زمانہ انٹرویو سے بھی ہوتی ہے، جس میں انھوں نے بتایا ’’جہاں تک میری دو بیویوں کا سوال ہے تو اس حوالے سے میں کیا کرسکتا ہوں؟ انھوں نے میری کزن سے شادی کردی جب میں تیرہ سال کا تھا ۔ میں تیرہ سال کا تھا اور میری بیوی تیس سال کی تھی۔۔۔میں ایک بیوی نہیں چاہتا تھا بلکہ میں کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا۔ میں کرکٹ کا بہت شیدائی تھا۔ مجھے مطمئن کرنے کے لیے مجھے دو نئے کرکٹ بیگ دینا پڑے۔ جب شادی کی رسم مکمل ہوئی تو میں کرکٹ کھیلنے بھاگ کھڑا ہوا۔‘‘ ادھر بھٹو کی پہلی بیوی امیر بیگم کا بیان ہے کہ بمبئی میں انھوں نے گھر میں گیند ڈوری سے باندھ کر چھت کے پنکھے سے لٹکا رکھی تھی ، جس پر وہ بیٹ سے ضرب لگا کر پریکٹس کرتے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی بہن مسز منور الاسلام نے بھی بھائی کی کرکٹ سے دلچسپی کا ذکر کیا ہے اوریہ بتایا ہے کہ عبدالحفیظ کاردار، لالہ امرناتھ اور مشتاق علی ان کے پسندیدہ کرکٹر تھے اور موخرالذکر سے ان کے دوستانہ مراسم تھے۔ بھٹو کے بچپن کے دوستوں میں انھوں نے عمرقریشی کو بھی شمار کیا ہے ۔ یہ وہی صاحب ہیں جو پاکستان میں انگریزی کمنٹری کے بانی اور نامور قلم کار کہلائے۔ عمر قریشی، بمبئی میں سکول میں بھٹو کے ساتھ تھے ، دونوں امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے دوران بھی اکٹھے رہے۔ عمرقریشی کرکٹ کو بھٹو سے دوستی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ پینٹیگولر ٹورنامنٹ میں مسلمان کھلاڑیوں  کا کھیل دیکھنے کے لیے اپنی کلاس بھی چھوڑ دیا کرتے ۔ انہوں نے کرکٹر بننے کا خواب بھی دیکھا ۔ بے فکری کے زمانے میں جب زندگی سے حظ اٹھا رہے تھے، تو جو چیز ان کو اداس کردیتی ، وہ بارش کی وجہ سے کرکٹ میچ کا ختم ہوجانا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  کیا سعودی عرب خانہ جنگی کا شکار ہونے جارہا ہے؟

یہ تو رہا بمبئی میں ان کے کرکٹ سے لگاوٹ کا قصہ، امریکا میں ذوالفقار علی بھٹو اور عمر قریشی کے شوق فراواں میں کمی نہیں آئی ۔ عمر قریشی نے اپنی کتاب ’’As time goes by‘‘ میں لکھا ہے ’’ایک صبح جب میں اسٹوڈنٹ یونین میں بیٹھا تھا تو میں نے زلفی کو ڈیلی ٹراجن (یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا میں طالب علموں کے ایک پرچے) کی کاپی لہراتے، اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ اس قدر پر جوش تھا، جیسے اس کے پاس سانتا کلاز کی موجودگی کا کوئی ثبوت ہاتھ آ گیا ہو۔ اس نے مجھے کارنتھین کرکٹ کلب کی طرف سے دیا گیا اشتہار دکھایا، جسے کرکٹ کے لیے لڑکوں کی تلاش تھی۔ اس نے بڑے اشتیاق سے بتایا کہ لاس اینجلس میں کرکٹ ہے! مجھے یہ سب جان کر زلفی جتنی ہی خوشی ہوئی۔ ہم نے اشتہار میں دیے گئے نمبر پر فون ملایا تو ہمیں آئندہ اتوار، گرفتھ پارک میں ٹرائل کے لیے رپورٹ کرنے کے لیے ہدایت کی گئی۔ میں اور زلفی طریقہ کار کے مطابق ٹرائل میں شریک ہوئے اور ہمیں اپنا حصہ بنانے کے لیے کارنتھین کرکٹ کلب نے زیادہ وقت نہیں لیا۔‘‘

سید مشتاق علی (دائیں) اور وجے مرچنٹ

ذوالفقار علی بھٹو کے ایک قریبی دوست پیلومودی بھی تھے،جنھوں نے ’’زلفی مائی فرینڈ‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی۔ اس میں کرکٹ سے سابق وزیراعظم پاکستان کے شغف اور مشتاق علی سے ان کے تعلق کی بابت خاصی معلومات ملتی ہیں۔:’’ 1943-44ء میں مشتاق علی پنٹینگولر کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے بمبئی آئے تھے۔ ان دنوں وہ کرکٹ کی دنیا کے ہیرو تھے۔ ہر طالب علم ان کی پرستش کرتا تھا اور ان کی مقبولیت اور شہرت کرکٹ کے کھلاڑیوں کے لئے باعث حسد تھی۔ ایک روز بہت سے طلبہ مشتاق سے ملنے کرکٹ کلب میں ان کے کمرہ میں گئے۔ ان میں زلفی اور اس کا ایک دوست عمر قریشی بھی تھا۔ وہیں سے زلفی کا مشتاق سے میل جول شروع ہوا۔ چند دنوں بعد زلفی پھر مشتاق سے ملنے گیا اور اس نے مشتاق کو اپنے گھر چائے کی دعوت دی۔ مشتاق نے بڑی خوشی سے دعوت قبول کر لی۔ زلفی کے گھر مشتاق کے آنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ زلفی نے مشتاق کا اپنے والد، اپنی ماں اور بہنوں سے تعارف کرایا اور اس طرح مشتاق اور زلفی کے گھرانوں کے درمیان قریبی تعلقات کی ابتداء ہوئی‘‘۔

اسی بارے میں: ۔  ملالہ کی والدہ اپنی بیٹی کے بارے میں کیا کہتی ہیں

عبدالحفیظ کاردار پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے۔ بھٹو دور میں صوبائی وزیر اور کرکٹ بورڈ کے چئیرمین رہے ۔ کاردار نے پہلی دفعہ بھٹو کو اس وقت دیکھا، جب وہ پنجاب یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے ساتھ بمبئی گئے ۔ کاردار کے بقول، اس زمانے میں بھٹو کھلاڑیوں کے آٹو گراف حاصل کرنے کے شوقین نوجوان تھے۔ کاردار کا خیال ہے کہ بھٹو برکلے کی بجائے آکسفرڈ کا رُخ کرتے تو وہ نہ صرف انگلینڈ بلکہ پاکستان میں بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل جاتے۔ پاکستان کے پہلے کپتان کے خیال میں، امریکا میں تین سال رہنے سے بھٹو کا جی سیاست میں زیادہ لگنے لگا۔ کاردار نے لکھا ہے کہ بھٹو کرکٹ کھیلنے میں ہی دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ کرکٹ کی تاریخ سے بھی خوب آگاہ تھے ۔ وہ آسٹریلیوی کھلاڑی کیتھ ملر کے فین تھے۔ 1956ء میں آسٹریلوی ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران انھیں اپنے پسندیدہ کھلاڑی سے کاردار نے متعارف کرایا۔ 1975ء میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی میچ کے سلسلے میں کیتھ ملر پاکستان آئے اور بھٹو سے ملے تو انھیں تحائف پیش کئے گئے۔ دونوں کوانیس سال پہلے ہونے والی اپنی پہلی ملاقات یاد تھی۔ وزیر اعظم بننے کے بعد بھٹو نے مشتاق علی کو پاکستان بلانے کا ارادہ بھی کیا لیکن ان کی مصروفیات کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

بھٹو اور حفیظ کاردار

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔