جوہر چھلاوا۔۔۔ آ گیا ہے


ٹن ٹنا ٹن ٹن۔ گھنٹیوں اور تالیوں کی گونج میں… تھا جس کا انتظار وہ شاہکار۔ آ رہا ہے نہیں، آ گیا ہے۔ مولا جٹ اور وحشی گجّر کی کھڑکی توڑ کامیابی کے بعد دیسی بلا بدتر فلمز کا عظیم الشان بلاک بسٹر جوہر چھلاوا اب آپ کے سامنے نمائش کے لیے پیش ہے۔ آپ اسے دیکھنا نہ چاہیں، آپ اسے جاننا نہ چاہیں، اس کے سائے سے بچ کر نکلنا چاہیں تب بھی یہ ممکن نہیں… ہر گھڑی آپ کے ساتھ ساتھ چھلاوا کا چھلاوا، جوہر چھلاوا… گلیوں میں، محلّوں میں، چھوٹے موٹے بازاروں میں، سڑک کے کنارے کسی اوٹ سے، کھڑے ٹھیلوں کے سائے میں، دیواروں کے بیچ جہاں بہت سے نعرے اور مفید مشورے درج ہوتے ہیں، بینرز اور پوسٹرز کے سائے میں، رکشوں کی سیٹ پر، منی بس کے پچھلے بمپر پر ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے… میرا مطلب ہے چاقو… گاڑ دینے کے بعد عنقریب آپ کے سامنے ہوگا… وہ اینڈ اونلی۔ ہی از نیور لونلی… جوہر چھلاوا۔ ٹکٹ خریدنے کی زحمت اور لائن میں لگتے کی کوفت سے بچ جائیے۔ نہ ٹیلی فون ملانے کی ضرورت نہ میسیج بھیجنے کی اہمیت۔ وہ خود ہی آپ کے پاس چلا آئے گا۔ آپ کو ڈھونڈ نکالے گا۔ آپ چھپنے کی کوشش کریں تب بھی اس سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں اس لیے کہ اس کی نگاہیں ہر طرف ہیں اور ان کا مقصد صرف یہی ہے… آپ کو ڈھونڈ نکالیں۔ آپ کے بدن کا کوئی حصّہ… کوئی بھی حصّہ ہوسکتا ہے اس لیے کہ چھلاوا اس کے بارے میں ضد نہیں کرتا… بس اتنا سا حصّہ۔ پھر اس کے چاقو کے وار ہیں اور آپ۔ ہر طرف کھچا کھچ تے ڈزا ڈز۔

آپ کو جوہر کا ان مول مزہ آجائے گا۔ پھر دیکھیے یہ فلم بارہ مصالحے کی چاٹ ہے۔ اس میں فلم کے آسمان کی کڑکتی ہوئی بجلیاں اور ان کے ہوش ربا رقص۔ فلم انڈسٹری میں ایسے رقص آپ نے دیکھے ہوں گے نہ سُنے ہوں گے۔ ایسی تڑپ اور پھڑکن… جس عورت کے چاقو مارا جاتا ہے آپ کو پتہ ہے وہ کیسے رقص کرتی ہے۔ اس کو رقصِ بسمل کہتے ہیں۔ آئیے اس زندہ ناچ کا لُطف اٹھائیے۔ اس میں ڈانس کے ساتھ تھرل بھی ہے، ایڈونچر بھی، انٹرٹیٹمنٹ بھی… زبردست کاروں کی دوڑ۔ مشکوک شخص کی موٹرسائیکل کے پیچھے پولیس کی گاڑیوں کی تیز دوڑ۔ بریک چرچرانے کی آواز۔ آپ سیٹ کا کنارہ پکڑ لیں گے، ہونٹوں کو دانت سے کاٹ لیں گے۔ کبھی مجرم آگے ہیں کبھی پولیس۔ گلستان جوہر کی خطرناک گھاٹیوں اور پہاڑی سلسلوں میں کامیابی کے ساتھ فلمائے جانے والے مناظر۔ یقین کیجیے ان میں کیمرہ ٹِرک نہیں ہے۔ کار کی دوڑ سے بڑھ کر سسپنس اور ایڈونچر۔ زور زور سے موسیقی بجتی ہے اور آپ کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے… گلستان جوہر کی سڑک پر ایک اکیلی لڑکی… وہی منظر۔ تیز موسیقی، سیاہ سفاک ہاتھ۔ پھر ایک چیخ ابھرتی ہے…

اسی بارے میں: ۔  ایک خاتون ڈاکٹر کا حالِ دل - دوسرا حصہ

یہ بین الاقوامی معیار کی فلم ہے۔ اسے بنکاک کے شعلے، منیلا کے انگارے اور کولمبو کے کمینے جیسی کامیاب بین لاقوامی فلموں کے معیار پر بنایا گیا ہے۔ اس فلم سے پاکستان فلم انڈسٹری کی گرتی ہوئی ساکھ دوبارہ اٹھ کھڑی ہوگی جیسے قیامت کے دن مُردے کے اٹھ کھڑے ہونے کی بشارت ہے۔ اس میں نئے چہرے متعارف کرائے گئے ہیں۔ برقعہ پوش خواتین، دوپٹے سر پر ڈالے ہوئے لڑکیاں… یہ کون ہیں؟ بوجھ تو جانیں۔ صحیح بوجھنے والے کو موٹرسائیکل انعام میں۔ لیکن ٹہریے۔ موٹرسائیکل آج کل ذرا مشکوک ہو گئی ہے۔

اس فلم میں آپ کو نامعلوم افراد کا مزہ بھی آئے گا۔ اسکوٹر پر جانے والا اجنبی… ایک نامعلوم فرد! اس میں کنگ کانگ کی گرج بھی ہے۔ وحشی درندے کے سامنے مجبور حسینہ۔ وحشی درندے نے اسے اپنی ہتھیلی پر اٹھا لیا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، جوہر موڑ سے جوہر چورنگی تک ساری لڑکیوں میں کھلبلی مچ جائے گی۔ پھر تیز موسیقی بجے گی، ایک لڑکی چاقو سے زخمی ہو جائے گی اور یہ فلم ایک نئی کامیابی حاصل کرے گی۔

سسپنس ہی سسپنس، وہ خوف کہ لذّت سے آنکھیں بند ہونے لگیں۔ نامعلوم افراد، سرکٹا انسان، زندہ لاش اور بے بہن کا بھائی جیسی شاہکار فلموں کے بعد ان سے بھی آگے نکل جانے کو تیار___ جوہر چھلاوا!

لیکن ٹہریے۔ یہ محض ہارر فلم نہیں ہے۔ اس میں بے مثال کامیڈی بھی ہے۔ قہقہے ہی قہقہے۔ جوہر کے پولیس والوں کی ٹامک ٹوٹیاں۔ ہنستے ہنستے آپ کے پیٹ میں بل پڑجائیں گے۔ رنگیلا اور منّور ظریف کی یادیں تازہ ہو جائیں گی۔ ہیلمٹ والے اسکوٹر سوار کے پیچھے دوڑتے ہوئے پولیس والے، نامعلوم اسکوٹر سوار کی تیزی، پولیس والوں کی سُستی، لڑکیوں میں خوف، پھر ایک چیخ …

اسی بارے میں: ۔  بولان سے جمنا تک (دوسرا حصہ)

ذرا غور کیجیے اس فلم کی تیاری میں کتنی محنت صرف ہوئی اور کتنی لاگت۔ کیا نہیں ہے اس فلم میں۔ حکمرانوں کی بدحواسیاں۔ پولیس والوں کی بے وقوفیاں، لڑکیوں کی آہیں اور سسکیاں۔ لڑکوں کی مجبوری۔ چاقو کی چمک، خون کی مہک۔ جواں گرم خون… میڈیا کا شور۔ عوام کی بے بسی۔ یہ بے مثال فیملی انٹرٹیٹمنٹ ہے، اس لیے کہ یہ فلم آپ فیملی کے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔ اسے دیکھنا اکیلے دُکیلے کا کام نہیں۔

جلدی کیجیے۔ ایسا نہ ہو یہ فلم ڈراپ سین کی طرف چلی جائے۔ میڈیا کو کوئی نیا مشغلہ ہاتھ آجائے، کوئی نئی خبر کوئی نئی سنسنی… کیا خبر کوئی نئی اداکارہ پیٹھ دکھا دے… ہتھوڑا گروپ اور تیزاب سے جھلسنے والی لڑکی کے بعد بڑی تحقیق اور اعلا درجے کی اسکرپٹ کے بعد ایسی فلم سامنے آئی ہے جو لڑکیوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کرے، سڑکوں گلیوں سے دور کرے…

آج ہی دیکھیے، پہلی فرصت میں دیکھیے۔ اس فلم کی نمائش جاری ہے مگر انتظار نہ کیجیے۔ اس کی ہدایات پر عمل کیجیے اور اپنے گلی محلے کے لیے تیار کیجیے۔ شہر شہر گائوں گائوں بس یہی پکار… جوہر چھلاوا، جوہر چھلاوا!

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔