حشر کی جھلکیاں دنیا میں!


2005کے زلزلے میں کچھ واقعات ایسے بھی ریکارڈ ہوئے جو آنکھیں کھولنے اور دل دہلا دینے کے لیے کافی تھے۔ مظفر آباد، بالا کوٹ، اور نواحی علاقوں میں تباہی سب سے زیادہ ہوئی۔ انہی علاقوں میں ایک بس مسافرو ں سے بھری جارہی تھی، بس میں سانپ نمودار ہو گیا۔ جس مسافر کی جھولی میں گرا، اس نے غیر ارادی طور پر اسے پکڑا اور کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ باہر ایک شخص موٹر سائیکل چلاتا جا رہا تھا، سانپ اس پر گرا، اسے کاٹ لیا، معلوم نہیں وہ شخص فوراً مر گیا، یا تھوڑی دیر بعد۔ بہر حال اس کا اتہ پتہ معلوم کرنے کے لیے اس کے سامان کی، جو موٹر سائیکل پر لدا تھا، تلاشی لی گئی۔ اس میں سے ایک نسوانی بازو ملا جس نے طلائی چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ یہ بازو عورت کے جسم سے چوڑیوں کی خاطر کاٹا گیا تھا۔

تینوں آسمانی مذاہب، اسلام، عیسائیت اور یہودیت کا روز، آخرت پر ایمان ہے۔ اس دن برے کاموں کی سزا اور نیک کاموں کی جزا ملے گی۔ مگر قدرت سزا اور جزا کا عمل دنیا میں بھی اہل دل کو دکھا دیتی ہے۔ ہا ں اس کے لیے دیکھنے والی آنکھ، سمجھنے والا ذہن اور لرزنے والا دل چاہیے۔

1958میں ماؤزے تنگ نے چڑیو ں کو ختم کرنے کا حکم دیا اس کی حکومت کا خیال تھا کہ چڑیاں اناج کھا جاتی ہیں، اندازہ لگایا گیا کہ ایک سال میں ایک چڑیا چار پاؤنڈ اناج ہڑپ کر جاتی ہے۔ چنانچہ پورے ملک میں چڑی مار مہم شروع ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ چڑیو ں نے غیر ملکی سفارت خانوں میں پناہ لے لی۔ پولینڈ کے سفارتخانے سے مطالبہ کیا گیا کہ چڑیو ں کو مارنے دیا جائے۔ مگر سفارتخانے نے انکار کردیا۔ اس پر چینی عوام سفارتخانے کے باہر جمع ہو کر احتجاجاً ڈھول بجانے لگے، بہر طور چڑیوں کو مارنے کا نتیجہ الٹ نکلا۔ دو سال بعد چین کو احساس ہوا کہ کیڑے مکوڑوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے، جو چاول کی فصل کو تباہ کررہے ہیں۔ قدرت کا حساب سائنٹفک تھا۔ چڑیا ں کیڑے مکوڑوں کو کھاتی تھیں اور اس کے معاوضے میں جو اناج کھاتی تھیں وہ اس مقداد سے بہت کم تھا جو کیڑے مکوڑو ں نے کھا جانا تھا۔ اب حکم ہوا کہ چڑیوں کو نہ مارا جائے مگر نقصان ہو چکا تھا۔ چڑیاں ناپید تھیں اور اربوں کھربو ں کیڑے چاول پر پل پڑے تھے۔ ایسا ہولناک قحط پڑا کہ تقریباً تین کروڑ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

چودھویں صدی میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی ریاستیں الگ الگ تھیں۔ 1348 کے لگ بھگ انگلینڈ پر طاعون نے حملہ کیا۔ اسے ”بلیک ڈیٹھ ”کہا جاتا ہے، برسٹل لندن کے بعد دوسر ابڑا شہر تھا، ان دنوں صفائی کا رواج بھی نہ ہونے کے برابر تھا برسٹل میں ہزارو ں لوگ مرے، یہاں سے یہ دوسرے شہروں میں پھیلا، دو سو میتیں روز ٹھکانے لگائی جانے لگیں، خاکروب سارے مر گئے، گلیاں لاشوں سے اٹ گئیں۔ پھر ایک ایک گڑھے میں پچا س پچاس میتین دفن ہونے لگیں۔ 1350تک آدھا لندن صاف ہو چکا تھا۔ سکاٹ لینڈ نےموقع کو غنیمت جانا، ان کا ایمان تھا کہ انگلینڈ کو گناہوں کی سزا مل رہی ہے، سکاٹ لینڈ کی فوج نے حملہ کردیا، مگر طاعون نے بہت جلد حملہ آور فوج کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پانچ ہزار فوراً مر گئے۔ گھبرا کر فوج واپس مڑی ساتھ ہی طاعون کے جراثیم بھی تھے۔ ایک تہائی آبادی طاعون کی نذر ہوگئی۔ سکاٹ لینڈ میں سردی زیادہ تھی۔ نمونیہ بھی طاعون کے ساتھ شامل ہو گیا اور یوں سکاٹ لینڈ کو بد نیتی کی پوری پوری سزا ملی۔

اکاسی سالہ لوشیا نو امریکی ریاست نیو میکسکو میں رہتا تھا، اس نے گھر کے صحن میں خشک پتو ں کو آگ لگائی، اتنے میں وہ گھر کے اندر گیا، اسے گھر کے اندر چوہا نظر آیا، اس نے چوہے کو پکڑا اور باہر لاکر سلگتے جلتے پتو ں پر ڈال دیا کہ جان چھوٹے، چوہے کو آگ لگی تو وہ دوڑ کر واپس گھر کے اندر بھاگا، وہ شعلوں میں جل رہا تھا اور مسلسل ایک سے دوسرے کمرے میں بھاگ رہا تھا، جہاں جہاں سے گزرا آگ لگاتا گیا۔ تھوڑی دیر میں لوشیا نو کا پورا گھر جل رہا تھا، شعلے آسمان تک پہنچ رہے تھے، آگ بجھانے والے محکمے کے سربراہ کا بیان تھا کہ ایسی آتش زنی اس نے اپنے پورے کیرئیر میں نہیں دیکھی تھی۔

فوری انصاف کا ایک واقعہ چین میں پیش آیا، جہاں وہ گاڑی پارک کرنا چاہتا تھاوہاں ایک لاوارث کتا بیٹھا تھا۔ چینی نے کتے کو پاؤں سے ٹھوکر ماری۔ کتا بھاگ گیا، اور چینی گھر کے اند ر چلا گیا، تھوڑٰ ی دیر گزری تھی کہ کتا واپس آیا، اب وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کے ساتھی، دوسرے کتے بھی تھے۔ ان سب نے گاڑی پر حملہ کردیا، ونڈسکرین پر چڑھ کر دونوں وائپر چبا ڈالے، جہا ں جہاں نقصان پہنچا سکتے تھے پہنچایا، سامنے والے پڑوسی نے پورے واقعے کی فلم بنائی، اور دوسرے دن مالک کو دکھائی، گاڑی لکیروں اور خراشوں سے بھری تھی، گاڑی پر جگہ جگہ ڈینٹ پڑے تھے، کتے نے ٹھوکر کا بدلہ لے لیا تھا۔

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز واقعہ کیلی فورنیا کے ایک ڈاکٹر کا ہے، یہ بچوں کے امراض کا ماہر تھا، اس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا، اور یہ گاڑی کے اندر انتہائی زخمی حالت میں پھنس گیا۔ ایمرجنسی ٹیم آئی، اس ٹیم کے ایک نوجوان رکن ٹروکی نے ڈاکٹر کو گاڑی سے نکالا۔ اور ہسپتال پہنچایا، جہاں وہ ڈیڑھ ماہ داخل رہا، اور اس کا علاج ہوتا رہا۔

یہ ٹروکی کون تھا؟ یہ وہ بچہ تھا جو موت کے منہ میں تھا، اور تیس سال پہلے اسی ڈاکٹر نے اسے بچانے کے لیے دن رات ایک کردیا تھا۔ ٹروکی پیدا ہوا تو اس کا وزن صرف تین پاؤنڈ تھا، یہ قبل از وقت پیدائش کا کیس تھا، بچنے کا امکان صرف پچاس فیصد تھا۔ ڈاکٹر نے دن رات محنت کی اور اسے بچا لیا۔

ابنِ بطوطہ اپنے سفر نامے میں ایک عجیب واقعہ لکھتا ہے۔ جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس وقت وہ سری لنکا میں تھا، اس نے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے ہاتھی کے بچے کو مارا، پکایا اور کھا گئے، ایک شخص نے یہ گوشت کھانے سے اجتناب کیا، رات کو سب سو رہے تھے، ہتھنی آئی، وہ ایک ایک کے پاس جاتی تھی، اسے سونگھتی تھی، اس نے سب کو مار دیا، مگر جس نے گوشت نہیں کھایا تھا، اسے چھوڑ دیا۔

ایک کہانی بچپن میں پڑھی تھی کہ ہاتھی کی درزی سے دوستی ہوگئی، ہاتھی دریا پر جاتے ہوئے درزی کے پاس رکتا، درزی اس کی سونڈ پر پیار سے ہاتھ پھیرتا۔ اس ملاقات کے بعد ہاتھی اپنی راہ چلا جاتا۔ ایک دن درزی نجانے کس منفی اور غضب ناک موڈ میں تھا کہ ہاتھی آیا تو درزی نے اسے سوئی چبھو دی۔ ہاتھی چلا گیا۔ دریا سے اس نے سونڈ میں پانی بھرا اور واپس گزرتے وقت ساراپانی دکان میں انڈیل دیا اور۔ سارا مال خراب کردیا۔

اگر ہم آنکھیں اور دماغ کھلا رکھیں تو ہر روز ایسے واقعات ہمارے سامنے پیش آتے ہیں، جو سزا اور جزا کے فلسفے کو آسان ترین شکل میں ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں، لنگڑے آدمی کی نقل اتارنے والا اکثر و بیشتر حالات میں لنگڑا ہوجاتا ہے۔ یہ کالم نگار ایک شخص کو جانتا ہے، جس کی عمر رسیدہ والدہ کا سر رعشہ سے ہلتا تھا، ایک بار اس نے ماں کو غصے میں طعنہ دیا کہ سر ہلاتی رہتی ہو۔ اب وہ خود معمر ہے، اس کا سر رعشہ سے ہلتا ہے، اور ہاتھ بھی مستحکم نہیں۔ اس کالم نگار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک بیورو کریٹ (مسٹر میم) نے اپنے ایک ساتھی، (مسٹر نون) کے خلاف سازش کی، اسے معلوم تھا کہ مسٹر نون۔ لاہور سے اسلام آباد کبھی نہیں آئے گا۔ اس نے اس کا تبادلہ کرا دیا، مقصد یہ تھا کہ ایک آسامی خالی ہوجائے، مسٹر ن کا تبادلہ ہوگیا۔ یہ ضروری تھا، نہ اس کا کوئی فائدہ تھا۔ وہی ہوا جو متوقع تھا، مسٹر نون نے ترقی کے مواقع کو لات ماری اور استعفیٰ دے دیا۔

سازش کامیاب ہوئی، مگر چند سال ہی گزرے تھے کہ ایک اور صاحب نے مسٹر میم کیساتھ وہی عمل دہرایا، جو مسٹر میم نے مسٹر نون کیساتھ کیا تھا۔ میم صاحب اللہ کے حضور حاضر ہوچکے ہیں، نون صاحب حیات ہیں۔

یہ سارے واقعات لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ دلچسپی کا سامان مہیا کیا جائے، اصل نکتہ یہ ہے کہ کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ دیکھ رہاہو، ہر کام حسنِ نیت کیساتھ کرنا چاہیے، کسی کو نقصان پہنچانے کا، کسی کیخلاف سازش کرنے کا، کسی کی کمزوری کا مذاق اڑانے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے، اس کائنات کا کام جس جس تدبیر سے چلایا جارہا ہے، اس میں بال برابر ظلم کی بھی گنجائش نہیں، اور رمق بھر نیکی بھی ضائع نہیں ہوتی۔

خالقِ کائنات کا لقب مدبر الامر، یوں ہی نہیں، امور کی تدبیر وہ یوں کرتا ہے کہ حساب برابر ہوتا جاتا ہے۔ یہ اس دنیا کی بات ہے، دوسری دنیا میں جو حساب کتاب ہوگا اس کا تو تصور ہی محال ہے۔
تلیں گے کس ترازو پر یہ آنسو اور یہ آہیں
اسی خاطر تو میں روزِ جزا کو مانتا ہوں
ایک ایک خراش، ایک ایک زخم کے وزن کرنےکا ساماں ہوگا، مگر ادھر ادھر غور سے دیکھیے۔ اس دنیا میں بھی سزا اور جزا کا عمل جاری ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔