قصہ ناصر کاظمی کے پالتو کتوں کا


 کتا بالعموم اس لئے بھونکتا ہے کہ اسے اپنے یا اپنے مالک کے لئے خطرہ محسوس ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھی اسے یہ خطرہ اتنا زیادہ لگتا ہے کہ وہ کاٹنے کو دوڑتا ہے، لہذا اگر ہاتھ میں چھڑی یا چھتری نہ ہو تو کتے کو دیکھ کر راستہ بدل لینا چاہئے؛ جانور ہے، کیا پتا اس وقت اُس کے دماغ میں کیا چل رہا ہو؟

میں اس وقت ساتویں یا آٹھویں جماعت میں تھا۔ ہمارے ایک پڑوسی نے ایک چھوٹا سا سفید رشین (Russian) ، بے ضرر سا، کتا پالا ہوا تھا۔ ہم اکثر آتے جاتے اسے بلی کی طرح بیٹھے یا ایک دائرے میں چکر لگاتے دیکھتے۔ وہ کسی سے کچھ نہ کہتا۔ بھونکتا بھی کم کم ہی تھا۔ لیکن ایک دن پتا نہیں کیا ہوا کہ وہ مجھے دیکھ کر بھونکتا ہوا میری طرف لپکا اور میرا ٹخنہ دبوچ لیا۔ میں نے پاﺅں چھڑایا تو اس نے دوسرا ٹخنا پکڑ لیا۔ میں نے بھاگ کے جان بچائی۔ گھر آکے بتایا تو باجی (ہماری والدہ) بہت پریشان ہوئیں۔ میں نے جرابیں اتاریں تو کتے کے دانتوں کے نشان نمایاں طور پر نظر آئے۔ کچھ عرصہ قبل منٹگمری میں ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک نو سالہ لڑکا کتے کے کاٹنے سے مر گیا تھا۔ اسے آخری غسل دیے جانے کا منظر میں نے اپنی چھت سے دیکھا تھا۔ اس المیے کی یاد ہمیں دہلانے لگی۔ چاچا عنصر دفتر سے آئے تو قدرے بے چین سے دکھائی دیئے۔ باجی نے خیریت پوچھی تو بولے کہ سب ٹھیک ہے، بس کچھ تھک گئے تھے۔ جب انہیں میرے ساتھ ہونے والی واردات کا علم ہوا تو سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔ کہنے لگے، ”یہ ہونا ہی تھا۔ میں صبح سے ڈر رہا تھا، یہ سوچ سوچ کر کہ کوئی مصیبت آنے والی ہے۔“

”کیا ہوا؟“ باجی مزید پریشان ہو گئیں۔

”میرے سیکشن کے کچھ ساتھی رشوت لیتے ہیں۔ مجھے بھی اس رستے پہ لگانے کی کوشش کرتے تھے لیکن میں ہمیشہ انہیں ڈانٹ دیتا تھا۔ آج ان میں سے ایک نے کچھ روپے میری جیب میں زبردستی ڈال دیئے، یہ کہتے ہوئے کہ تم نے تو رشوت نہیں لی، یہ پول میں سے تمہارا حصہ ہے۔ میں نے پہلے تو بہت منع کیا، پھر کچھ ضرورتوں کا خیال آ گیا۔ کل اس کے منہ پہ ماروں گا یہ نوٹ۔“ چاچانے بتایا اورپھرمجھے میو ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ سات ٹیکے لگیں گے پیٹ میں۔ اتنی بڑی سوئی دیکھ کے ایک دفعہ تو میری جان نکل گئی۔ مجھ سے زیادہ تکلیف چاچا کو ہوئی۔ گھر آکے انہوں نے ایک پرانا واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا:

”باجی، آپ کو یاد ہے جب یہ چھوٹا سا تھا، منٹگمری میں ایک دن میں نے اور عزیز (چاچا کے ہم عمر، میرے ماموں) نے محلے میں کسی کی مرغی پکڑ کے دعوت اڑانے کا پروگرام بنایا تھا۔ ہم صحن میں اسے ذبح کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ گھر میں شور پڑ گیا: گڈو کو (یعنی مجھے) کیا ہو گیا! اندر آکے دیکھا تو اس کے ہاتھ پاﺅں اکڑ رہے تھے اور آنکھیں ابل رہی تھیں۔ کوئی کہہ رہا تھا ڈاکٹر کو بلاﺅ تو کسی نے کہاکہ ہسپتال لے چلو۔ مجھے مرغی کا خیال آیا۔ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ یہ جلد ہی ٹھیک ہو گیا۔ آج دوسری دفعہ نصیحت ہوئی۔“ کچھ دیر سب خاموش رہے۔ چاچا نے بات جاری رکھی:”اباجی کہا کرتے تھے کہ جس مال پہ تمہارا حق نہ ہو، اسے اپنی ذات یا خاندان پہ استعمال کرنے کا سوچنا بھی مت۔ سمجھو کہ وہ زہر ہے۔ “

اسی بارے میں: ۔  تپڑ ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر!

”لیکن رشوت کے پیسے تو آپ نے رکھے تھے، کتے نے مجھے کیوں کاٹا؟“ میں نے پوچھا۔

”ہاں، اسے چاہئے تھا کہ مجھے کاٹتا۔“ چاچا ہنستے ہوئے بولے۔ ”لیکن وہ میرے لیے کم سزا ہوتی، اور شاید میں اس سے کوئی سبق نہ سیکھ پاتا۔ بچوں کی تکلیف اپنی تکلیف سے کہیں زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ تم ابھی نہیں سمجھو گے۔“ چاچا نے کہا۔

چاچا عنصر نے تمام عمر اکاﺅنٹنٹ جنرل کے دفتر میں ملازمت کی اور ڈپٹی اکاﺅنٹنٹ جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ملازمت کے آخری حصے میں کئی سال محکمہ خوراک میں ڈیپوٹیشن پہ رہے۔ ان کے بعض ساتھیوں نے لاکھوں بنائے لیکن چاچاجی کوصرف اپنی تنخواہ اور ٹی اے ڈی ڈی سے غرض تھی۔ بعض دوست مذاق میں انہیں وہمی اور بزدل ہونے کا طعنہ دیتے تھے اور وہ ہنس کے اپنی بزدلی کا اعتراف کرتے۔ دیکھا جائے تو بددیانتی کے لئے دلیری بلکہ دیدہ دلیری چاہئے جبکہ ایک دیانت دار شخص، اگر خدا کو مانتا ہو تو خدا سے ورنہ اپنے آپ سے ڈرتا ہے۔

چچا عنصر کا طرز عمل غیر معمولی نہیں تھا۔ بیشتر لوگوں کا یہی رویہ تھا۔ پڑوس اور سکول میں میرے دوست ملازمت پیشہ یا کاروباری گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے گھر والے اپنی ’لگی بندھی‘ آمدن پہ قانع تھے۔ بڑے بڑے کنبے محدود آمدنی میں گذارا کرتے اور اس پہ شرمساری محسوس نہ کرتے۔ سائیکل ایک معزز سواری تھی۔ کاراور ٹیلیفون صرف اعلی سرکاری افسران یا بڑے کاروباری حضرات کے پاس ہوتے۔ ٹیلویژن، ٹیپ ریکارڈر اور موٹر سائیکل بھی ستر کی دہائی میں عام ہوئے۔ میرے ایک دوست کے والد سول سیکرٹیریٹ میں سیکشن افسر تھے۔ وہ دفتر پیدل جایا کرتے اور کہتے کہ یہ صحت کے لئے اچھا تھا۔ کالج میں میرے ایک ہم جماعت کے والد محکمہ انہار میں اچھے عہدے پہ فائز تھے۔ ان کا بھی یہی طور تھا۔ ایک اور دوست، زاہد علی ظہیر نے بتایا کہ اس کے دوست کو اپنے والد، جسٹس اے آر شیخ سے اس بات پر ڈانٹ پڑی کہ اس نے ان کے کمرے سے سرکاری پنسل لے کے استعمال کی تھی۔ مشرقی پاکستان کے ایک گورنر کے بارے میں خبر چھپی کہ انہوں نے اپنی تعیناتی کی مدت پوری ہونے پر چارج چھوڑتے وقت اپنے فاﺅنٹین پین کی سیاہی سرکاری دوات میں خالی کی۔

اسی بارے میں: ۔  شام کی جنگ ....اعصاب کا امتحان

آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں کہ مذکورہ واقعے کے بعد ہمیں کتوں سے نفرت ہو گئی ہو گی۔ ہرگز نہیں۔ منٹگمری میں ہمارے نانا نے بھینسیں رکھی ہوئی تھیں اور چھوٹے ماموں نجم الحسن نے ایک السیشن کتا پالا ہوا تھا۔ جب بھینسوں کو نہلانے کی غرض سے قریب کی ایک ندی پہ لے جایا جاتا تو میں اور میرا بھائی حسن بھی ساتھ جاتے۔ وہاں وہ السیشن پیراکی کے جوہر دکھاتا۔ ماموں ہمیں پاس پڑوس کے کتوں کا احوال سناتے۔ ایک بار انہوں نے بتایا کہ شہر میں ایک السیشن کتے کیس نے دھوم مچائی ہوئی تھی۔ ہوا یہ کہ اس کی اپنے سے کہیں بڑے اور خونخوار کتے سے لڑائی ٹھہری ۔عام خیال تھا کہ وہ دیو لمحوں میں کیس کو چیر پھاڑ دے گا لیکن کیس نے اچک کے اپنے حریف کا کان دبوچ لیا اور پھر اپنے جسم پہ پنجوں سے زخم کھاتا رہا لیکن وہ کان نہیں چھوڑا۔ اس طرح اس کے حریف کا منہ، یعنی دانت غیر فعال ہو گئے ۔ بے بسی اورتکلیف کی شدت نے اسے بالآخر مغلوب ہونے پر مجبور کر دیا۔

پاپا کے دوست منیر احمد شیخ انفرمیشن سروس میں تھے۔ ان کے پاس ایک السیشن کتا تھا جس کا نام جمی تھا۔ منیر انکل لاہور سے کسی دوسرے شہر منتقل ہونے لگے تو انہوں نے بتایا کہ ان کے لیے جمی کو ساتھ لے جانا ممکن نہیں تھا۔ ہم نے کہا ہم لے لیتے ہیں۔ ہم اس کا بہت خیال رکھتے؛ اس کے لیے ایک ’گھر‘ بنوایا؛ اسے باقاعدگی سے نہلاتے اور اچھا کھلاتے پلاتے ۔ کبھی کبھی کسی کتے سے اس کی لڑائی کا اہتمام بھی کرتے جس کی تیاری کی خاطر اسے چھیچھڑے ابال کے کھلایا کرتے تاکہ وہ ’خونخوار‘ ہو جائے۔ ایک دن ہماری تائی کا ہمارے ہاں آنا ہوا۔ انہیں جمی کا پتا چلا تو بہت پریشان ہوئیں؛ باجی سے کہنے لگیں کہ اس کا نام بدلو کیونکہ یہ ان کے بھتیجے کا نام تھا۔ مجھے پہلی جماعت میں پڑھی ہوئی انگریزی کی کہانی کا خیال آیا جس میں سکول ماسٹر کے کتے کا نام سلطان تھا۔ ہم جماعتوں کے مذاق اڑانے پر گھر آکے میں نے باجی سے بہت بحث کی تھی کہ میرا نام سلطان کیوں رکھا گیا تھا۔ کئی برس بعد ہمارا جمی بیمار ہوا اور جان سے گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد چچا انتظار حسین نے ہمیں ایک سفید رشین کتا دیا، بالکل ویسا جس نے مجھے کاٹا تھا۔ معلوم ہوا کہ ماضی شکل بدل کے مستقبل میں نمودار ہوتا ہے اور پھر ماضی بن جاتا ہے۔

(زیرِ اشاعت کتاب، ’ایک شاعر کی سیاسی یادیں‘ سے اقتباس)

±


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔