کینسر کے مریض کی تیمارداری میں کن چیزوں سے بچنا چاہیے؟


اکتوبر کا مہینہ کینسر، خاص طور سے چھاتی کے کینسر کے بارے میں آگہی پھیلانے کا مہینہ ہے۔

کینسر یا سرطان ایک خطرناک بیماری ہے اور یہ بہت سی اقسام اور صورتوں میں سامنے آتی ہے مگر جیسے ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا اسی طرح کینسر کی ہر قسم جان لیوا نہیں اور بر وقت تشخیص اور علاج سےبھی اس مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔

کل ہی میرے علم میں یہ بات آئی کہ ایک بہت عزیز خاتون اس بیماری کا شکار تھیں اور پچھلا پورا سال علاج کے مرحلے سے گزرتی رہیں۔ انہوں نے اپنے انتہائی قریبی عزیزوں کے علاوہ سب سے اس بیماری کو چھپائے رکھا۔ میرا اس دوران بارہا ان سے آمنا سامنا ہوا مگر میں نے ان کے سر پر ڈھکے ہوئے دوپٹے کو اپنے ہی دل میں ان کے نظریات میں تبدیلی سے منسلک کیا اور اس سے آگے کچھ سوچا ہی نہیں۔

اتفاق سے ایک مشترک دوست سے مجھے ان کی اس بیماری کے بارے میں معلوم ہوا اور یہ بات پتا چلی کہ کیونکہ کیمو تھیراپی کے مرحلے میں ان کے بال جھڑ گئے تھے اس لئے انہوں نے دوپٹہ ایک خاص طرح سے اوڑھنا شروع کر دیا تھا۔

یہ بات درست ہے کہ ہر شخص مختلف صورت حال اور تکالیف میں مختلف طور سے پیش آتا ہے۔ کچھ لوگ ہر غم یا پریشانی ہر کسی کو بتا دیتے ہیں اور کچھ صرف اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں مگر مجھے ایسا بھی لگا کہ ان کے اس بات کو شاید خود تک محدود رکھنے میں ایک ہاتھ ہمارے معاشرتی رویے کا بھی ہے۔

بہت سے لوگ بنیادی طور پر بری نیت نہ رکھنے کے بوجود دوسروں کے ذاتی معاملات میں اس حد تک دخیل ہو جاتے ہیں کہ ایسی صورتحال مددگار ثابت ہونے کی بجائے تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔

بعض اوقات لوگ مریض سے حد درجہ کی ہمدردی ظاہر کرنے کے لئے اس کو بتاتے ہیں کہ اوہ تم تو بہت کمزور ہو گئے ہو، تم تو پہچانے ہی نہیں جا رہے یا تمہیں دیکھ کر تو میں پریشان ہی ہو گیا۔

کیا ایسی ہمدردی کسی کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے یا اس کا حوصلہ بڑھا سکتی ہے؟ ہرگز بھی نہیں۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہم نے تو سنا تھا تم بیمار ہو مگر تم تو بھلے چنگے نظر آ رہے ہو۔ مریض کی ظاہری شخصیت پر تبصرہ کرنا آخر کیوں ضروری ہے؟

یہ بات درست ہے کہ کسی بھی شناسا، عزیز یا دوست کی اس بیماری کی خبر انسان کو تکلیف دیتی ہے، دکھ اور خدشات میں مبتلا کر دیتی ہے مگر کوشش یہ کرنا چاہیے کہ ان خدشات کا اظہار ہم مریض سے نہ کریں۔

سب سے پہلے تو اگر مریض میری شناسا خاتون کی طرح خود اس بات کو چھپا رہا ہو تو اس سے برملا یہ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔

اگر اس کے کسی قریبی عزیز سے یہ بیماری آپ کے علم میں آئے اور آپ یہ جانتے ہوں کہ یہ بات سب کو پتا ہے تو آپ اس سے اس بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اگر آپ کو پروا ہے تو اپنے الفاظ سے زیادہ اعمال سے اس کو اپنی پروا دکھائیں۔

اسی بارے میں: ۔  بلوچستان کا پہناوا اور روایتی کھانے

اگر کچھ سمجھ میں نہ آئے توبس یہ ہی بتا دیں کہ مجھے نہیں پتا کہ مجھے کیا کہنا چاہیے مگر مجھے تمہاری پروا ہے۔

ایک بہت عام رویہ جو بیماری کہ بارے میں ہم دیکھتے ہیں، وہ ہے دوسرے کی مثال دینا۔ اچھا ہمارے فلاں رشتہ دار کو بھی یہی بیماری تھی۔ انہوں نے فلاں علاج کروایا اور دس دن میں بھلے چنگے ہو گئے۔ یا ہمارے فلاں رشتہ دار تو اس بیماری سے چل بسے۔  کینسر کی ہر قسم مختلف ہے اور ہر شخص کا کینسر علم میں آنے کی سٹیج بھی فرق ہو سکتی ہے۔

دوسروں کی مثالیں دینےکی بجائے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ علاج کہاں سے کروا رہے ہیں اور اگر وہ صرف دعا اور جادو ٹونا نہیں بلکہ ایک صحیح ہسپتال ہے تو بس اپنے اطمینان کا اظہار کر دیں۔ کوئی مشورہ بھی اس وقت تک نہ دیں جب تک کہ آپ سے طلب نہ کیا جائے۔ ایسے علاج تو ہر گز مت بتائیں جو آپ نے اپنے سامنے کام کرتے نہیں دیکھے اور  ایسے معالجوں کا بھی حوالہ مت دیں جنہوں نے کسی اور بیماری کا تو درست علاج کیا تھااور اس مرض کے علاج کا بھی دعوی کرتے ہیں۔

یہ بھی نہ کہیں کہ شکر ہے تمہیں کینسر کی یہ قسم لاحق ہوئی اور دوسری نہیں، دوسری تو بہت مہلک ہے۔ مریض کو تو جو تکلیف ہے وہ تو ہے، اس سے مزید بڑی اور جان لیوا بیماری کے ذکر سے اس کی تکلیف کم تو نہیں ہو گی۔

کسی بھی اور مرض کی طرح اس بیماری کی وجہ مریض کو قرار مت دیں۔ مثلا تم تو فلاں ناقص چیز کھاتے تھے، اس لئے تمہیں یہ مرض ہو گیا۔ نہ ہی اس کے گھر والوں کو نشانہ بنائیں کہ ہاں بھئی اتنا ناخوش رکھا تھا اس شخص کو اس لئے اس کو کینسر ہو گیا۔ نہ ہی اس کی زندگی پر تبصرہ کریں کہ ہائے تم نے بہت دکھ دیکھے اپنی زندگی میں اس لئے تمہیں یہ بیماری ہو گئی۔

ہمارے ہاں کسی بھی بیماری کی صورت میں عیادت کے لئے آنے والا ایک پوری کہانی سننا چاہتا ہے کہ بیماری کس طرح علم میں آئی، اس وقت کون کون موجود تھا جب اس مرض کی علامات کا پتا چلا، پھر کس کس ڈاکٹر نے کیا کہا اور عموما ان باتوں کو پوچھتے ہوئے یہ تک خیال نہیں رکھا جاتا کہ اگر مریض پاس موجود ہے تو بار بار ایسی باتیں سننے سے اس کو کیسا محسوس ہو گا۔

اگر آپ واقعی یہ سب جاننا چاہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب جان کر آپ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں تو مریض کے قریبی عزیز کو کسی اور کمرے میں لے جا کر یہ باتیں پوچھ لیں، مگر اگر آپ خود ڈاکٹر نہیں اور جان کر کوئی مدد نہیں کر سکتے تو پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کیا کپتان دل بڑا کرے گا؟

اگر آپ مریض کے قریبی دوستوں میں سے ہیں تو اس سے پوچھ لیں کہ کیا وہ آپ سے اس اپنی بیماری کے بارے میں بات کر کے اپنا دل ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اس کی بات سنیں، اس کے خدشات سنیں مگر اگر وہ نہ چاہے تو نہ کریدیں اور نہ ہی مجبور کریں اور اس بات کا برا نہ مانیں کہ اس نے دل کی بات آپ سے کیوں نہ کی۔  اگر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو اور اپنا دھیان اس موضوع سے ہٹانا چاہتا ہو تو بہتر ہے کہ اس سے بیماری کے موضوع سے ہٹ کر ہلکی پھلکی باتیں کریں۔

ہمارے ہاں عیادت کے وقت یہ بھی اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا فلاں شخص عیادت کے لئے آیا تھا؟ خصوصا خاندان کے وہ لوگ جن سے مریض کی کسی بھی وجہ سے بول چال بند ہو۔  یہ کسی بھی شخص کو ایسے لوگوں کے بارے میں یاد دلانے کا ایک درست موقع نہیں ہے۔ اس سے آپ اسے صرف ذہنی اذیت دیں گے۔

مریض اور اس کے گھر والوں کو اتنی دعائیں، ورد اور وظیفے مت بتائیں کہ اگر وہ نہ پڑھ سکے تو وہ خوف اور احساس جرم میں مبتلا ہو جائیں۔

جب مریض علاج کے مرحلے سے گزر کر روزمرہ کے معمولات اور سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دے تو آپ بھی اس کے ساتھ نارمل طریقے سے پیش آئیں اور ہنسی مذاق بھی کریں۔ اس سے معمول کا نارمل برتاو کریں۔ آپ کینسر کے مریض سے ہاتھ ملا سکتے ہیں، اس کو ہاتھ لگا سکتے ہیں، اس کے ساتھ کھا پی بھی سکتے ہیں اور اس کی بیماری آپ کو ہرگز بھی نہیں منتقل ہو گی۔

مریض کے ساتھ فاصلہ اور چھوت چھات بھرا رویہ مت رکھیں۔  ہاں زکام اور کھانسی کی صورت میں اگر ان کے زیادہ قریب جا کر اپنی بیماری انہیں نہ دیں تو بہتر ہے۔

کینسر میں مبتلا شخص خود بھی ذہنی اندیشوں اور اتار چڑھاو سے گزر رہا ہوتا ہے لیکن آپ اس کی ذہنی حالت نہیں سمجھ سکتے۔  مگر آپ اس شخص سے رشتے اور تعلق کے مطابق اس کے لئے موجود رہ سکتے ہیں، اس کی مالی مدد کر سکتے ہیں، گھر کے امور میں اس کے کام آ سکتے ہیں، ہسپتال میں اس کی پسند کا کھاناپہنچا سکتے ہیں۔   تھوڑا سا محتاط رہ کر اور تھوڑا سا خیال رکھ کے ہم خود بھی سکون میں رہیں گے اور مریض کی دل آزاری کا سبب بھی نہیں بنیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 50 posts and counting.See all posts by maryam-nasim