پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں


wajahatوطن عزیز تبدیلیوں کے دھانے پر ہے۔ مشکل یہ ہے کہ تبدیلی کی سمت واضح نہیں ہے۔ آندھی کا غبار بھی موجود ہے ، ابر بھی گھرا کھڑا ہے، مٹی کا رنگ بھی متغیر ہے، طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔ دلوں میں ولولہ بھی سر اٹھا تا ہے اور وسوسے بھی موجود ہیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ہم تبدیلیوں کو روک سکتے ہیں تو یہ ممکن نہیں۔ تبدیلی تو آنا ہے۔ ہم تبدیل ہونے سے انکار بھی کر دیں تو چاروں طرف اس قدر تبدیلی آرہی ہے کہ بدلے ہوئے تناظر میں ہماری قدر پیمائی بہرصورت تبدیل ہو جائے گی۔ قدر پیمائی کو دوسرے لفظوں میں درجہ بندی بھی کہا جا سکتا ہے۔ درجہ بندی سے یاد آیا کہ معیشت کی دنیا میں مختلف ممالک کی معاشی طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی گلو بل کمپیٹیٹیو انڈیکس سے پیمائش کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے 140 ممالک کی درجہ بندی میں ترقی یافتہ ملکوں کو چھوڑیے، مشرق وسطیٰ سے ہمیں کیا لینا دینا، مشرقی بعید تو بہت دور کی دنیا ہے ، اپنے جنوبی ایشیا کے چار ممالک کو لے لیتے ہیں۔ اس صف میں بھارت کا درجہ 55 ہے۔ سری لنکا ذرا ہٹ کے 68 نمبر پر ہے اور پھر خاصے فاصلے پر بنگلہ دیش 107 نمبر پر کھڑا ہے ۔ پاکستان کا درجہ 126 ہے۔ اس اشاریے کا رقبے اور آبادی سے کوئی تعلق نہیںکیونکہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان ان چاروں ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ زور وہ اور ہے پاتا ہے بدن جس سے نمو…. اصول یہ ہے کہ جو قومیں تبدیلی سے انکار کا رویہ اپنا لیتی ہیں وہ تبدیلی کا رخ متعین کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔ ایک ایسی کشتی کی مانند جس کے پتوار پانی میں گر جاتے ہیں اور وہ لہروں کے رحم و کرم پر ڈولتی ،ڈوبتی اور ابھرتی ہے۔ منجدھار سے نکلتی ہے تو گرداب آلیتا ہے۔ تختے کی فکر کی جاتی ہے تو بادبان ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ایسے میں غور کرنے کے معاملات یہ ہیں کہ ہم جہاں ہیں ، یہاں تک کیسے آئے ۔ دوسرے جہاں پہنچے ہیں وہ کن راستوں سے گزرے ہیں۔ ہم جانا کہاں چاہتے ہیں نیز یہ کہ ہم نے وہاں تک پہنچنے کے لیے کون سا وسیلہ چنا ہے اور کیا زاد راہ اپنے ساتھ لیا ہے ۔

ان دنوں ذرائع ابلاغ کی مذمت کا چلن ہو رہا ہے۔ ابلاغ خبر کی ترسیل کو کہتے ہیں۔ معلوم انسانی تاریخ میں ذرائع ابلاغ کی سب سے بڑی ناکامی قریب پانچ سو برس پہلے وقوع پذیر ہوئی تھی۔ دلی پر اکبر اعظم کی حکومت تھی اور لندن میں الزبتھ اول برسراقتدار تھی۔ استنبول میں عثمانیوں کا طوطی بولتا تھا اور پیکنگ میں شہنشاہ شہر ممنوعہ کی وسعتوں میں فرمان جاری کرتا تھا۔ رومتہ الکبریٰ میں اسقف اعظم کا حکم چلتا تھا اور سینٹ پیٹرزبرگ میں زار کے دربار کی رنگینیاں تھیں۔ جرمنی کے ایک شخص گٹن برگ نے کاغذ پر حروف چھاپنے کی ایک مشین بنائی۔ یہ مشین علم کے فروغ کا اسم اعظم تھی۔ علم کمزور کو طاقت عطا کرتا ہے۔ مشکل کو آسان کرتا ہے۔ مسئلے کو حل کرتا ہے۔ تکلیف کو آسودگی میں بدلتا ہے۔ جسے نشاة ثانیہ کہا جاتا ہے اس کی حقیقت صرف یہ ہے کہ دنیا کے اس حصے میں جسے آج مغرب کا نام دیا جاتا ہے یہ خبر پھیل گئی کہ علم کے ذریعے دنیا تبدیل کی جا سکتی ہے اور جسے مشرق کہتے ہیں وہاں یہ خبر محلات کی غلام گردشوں میں دفن کر دی گئی۔ اس سے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک خلیج پیدا ہو گئی۔ انسانی تاریخ میں یہ ابلاغ کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔ پروفیسر ابلاغ حسین اسے ”میڈیا کی عظیم ناکامی“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ گیانی آدمی ہیں، میڈیا کو ابلاغ کے اصطلاحی معانی میں استعمال کرتے ہیں۔ صحافی، ٹیلی ویژن اینکر اور کالم نگار کی مذمت تو محض اس لیے کی جا رہی ہے کہ ہم اپنی مرضی کی خبر سننا چاہتے ہیں اور مشکل یہ ہے کہ جو ہوا ہی نہیں، اس کی خبر کیسے دی جائے اور جو نہیں ہونے کا، اس کی پیش گوئی کیسے کی جائے۔ کچھ قوموں نے اس خلیج میں سرنگ تعمیر کی ہے، اس کھائی پر پل پر باندھ لیا ہے اور کچھ گروہ اس پل کو مسمار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے جزیرے پر من مانی بانسری بجا سکیں۔ مشرق اور مغرب کی تفریق بے معنی ہے کیونکہ مشرق اور مغرب میں انسان رہتے ہیں ۔ انسان ایک ہی حیاتیاتی اکائی ہیں جسے مفروضہ شناختوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ آج کی دنیا میں مشرق اور مغرب کے یہ دو جزیرے کس طرح نمودار ہوئے۔
سولہویں اور سترہویں صدی میں علم نے چار دروازے کھولے۔ تلاش (Exploration )، دریافت (Discovery )، ایجاد (invention ) اور اختراع (Innovation) ۔ان چاروں دروازوں میں داخلے کے لیے ضروری تھا کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ دہلیز سے آگے قدم رکھیں گے تو ایک ایسی دنیا سے واسطہ پڑ سکتا ہے جہاں چھوڑی ہوئی بستیوں کا سکہ بے کار ہو جائے گا۔ ایسا قدم اٹھانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مانوس سے جدائی کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور نامعلوم کی جستجو کا بیڑا اٹھایا جائے۔ یقین کی آسودگی کو گمان کا امکان دیا جائے۔ انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد…. منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں…. ۔ اقبال کو لیکن یہ بھی معلوم تھا کہ…. آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔ علم کے جس راستے پر قدم رکھا جائے، دنیا بدل جاتی ہے۔ روزگار کے وسیلے بدل جاتے ہیں ، رہن سہن کے رنگ بدل جاتے ہیں، سیاست کے ڈھنگ بدل جاتے ہیں۔ قوم کی تعریف بدل جاتی ہے ، ریاست کا چوکھٹا تبدیل ہو جاتا ہے، معیشت کا بندوبست بدل جاتا ہے۔ ناانصافی اور استحصال نے جہالت کی فصیلیں اٹھا رکھی ہیں اور علم کا ہر لفظ ان فصیلوں میں نقب لگاتا ہے۔ ہوائے دل کے لیے کھڑکیاں کھولتا ہے۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نے ڈیڑھ سو برس سے جدیدیت کی مزاحمت پر کمر باندھی ہے۔ ہم نے سرسید کو نیچری قرار دیا ۔ علی گڑھ والوں پر تجد د کی پھبتی کہی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ا ٓزادی کے قائدین کو اینگلو محمڈن کا لقب دیا۔ ترقی پسند تحریک پر مادر پدر آزاد ی کا بہتان باندھا۔ آمریت کی مزاحمت کرنے والوں پر الحاد کا الزام رکھا اور دہشت گردی کی مخالفت کرنے والوں کو لبرل فاشسٹ کہا۔ سوال آج بھی وہی ہے جو کل تھا کہ آج کی دنیا سے مفاد کی بھیک مانگنا ہے یا پیداوار،تخلیق اور تحقیق کے ذریعے اپنا استحقاق پیدا کرنا ہے۔ ورنہ ہم قدیم کی حقیقت بھی جانتے ہیں اور جدیدمیں تکرار تمنا کے عناصر بھی پہچانتے ہیں۔واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں….
پاکستان میں سوچ اور عمل کی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے ۔ روایتی طور پر خود کو دائیں بازو کا خدائی فوجدار قرار دینے والا طبقہ سخت جھنجلاہٹ کا شکار ہے اور جس طبقے پر جدیدیت کی تہمت باندھی جاتی ہے اس کا فکری انتشار بھی پوشیدہ نہیں۔ جاننا چاہیے کہ جس طرح 90 ءکی دہائی میں کٹھ پتلیوں کی حکومت ناکام ہوئی ، موجودہ عشرے میں جمہوریت کا عکس بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ بنیاد پرستی پرچھائیوں کی جنگ تھی اور دہشت گردی میں سائے سے سایہ نبرد آزما تھا۔ اگر ہم کٹھ پتلی ، عکس ، سائے اور پرچھائیں کے کھیل کو ختم کرنے پر تیار نہیںاور سمجھتے ہیں کہ اقتصادی کاریڈور تعمیر کرنے سے خوش حالی کا دروازہ کھولا جا سکے گا تو اس خواب کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ایک کرسی اور چھوٹا میز سڑک کے کنارے رکھ لیجئے اور محصول چونگی جمع کیا کریں۔ اقتصادی کاریڈور کا جادو بھرا خیال ہمارے دماغ عالیہ پر نہیں اترا ۔ چین دنیا کے مختلف خطوں میں متعدد راہداری راستے تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ چین کے اپنے زمینی حقائق ہیں اور ہماری حقیقت یہ ہے کہ مقابلے کی منڈی میں 140 جھنڈے گڑھے ہیں اور ہمارا جھنڈا 126 نمبر پر ہے۔ اپنے جھنڈے کی توہین مقصود نہیں لیکن اگلی صفوں میں قدم رکھنا ہے تو اس جھنڈے کو علم، ہنر، انصاف ، مساوات اور شفافیت کے رنگ دیے جائیں۔ یہ جو ہم سرمایہ دار ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ، اشتراکی حکیم کا نسخہ آزماتے ہیں، شیخ کی بیعت کرتے ہیں، پیر مغاںکو ہوش کا نذرانہ دیتے ہیں، کبھی وید کی چوکھٹ لیتے ہیں، کبھی آکوپنکچر کی سوئی چبھوتے ہیں۔ ان ٹوٹکوں سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ قدیم اور جدید کی بحث کے زاویے بدل چکے ۔ مشرق اور مغرب کی منافرت پیدا کرنے میں ہمارا بھلا نہیں۔ کتاب پر مخطوطہ غالب رہے گا تو علم کو فروغ نہیں مل سکتا، تمدن پر ریاست کا تحکم رہے گا تو تحفظ کا چلن نہیں ہو سکے گا۔ عورت اور مرد میں سیاسی، معاشرتی اور قانونی امتیاز قائم رکھیں گے تو معیشت کا افلاس ختم نہیں ہو گا۔ ہمیں پرانے لوگوں کا خوف ختم کرکے نئے آدمی کو خوش آمدید کہنا چاہیے ۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

  • 12-03-2016 at 2:55 am
    Permalink

    ہم تو نئے آدمی کو خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں لیکن وہ آئے تو سہی

Comments are closed.