کیپٹن صفدر اندر سے خوف زدہ ہیں


یہ کیپٹن صفدر نہیں، ان کے اندر کا خوف بول رہا ہے۔ وہ خوف جو ہم میں سے ہر کسی کے اندر بکل مار کر بیٹھا ہوا ہے۔

مذہبی انتہا پسندوں نے ایک ایسی فضا بنا دی ہے کہ ہر آدمی کا اسلام مشکوک ہو گیا ہے۔ اسے اب بلند آہنگ ہو کر اسلام کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت فراہم کرنا ہے۔ بصورتِ دیگر، اسے یہ خوف لاحق ہو چکا کہ کہیں کوئی مخالف اس کے کسی لفظ کو سیاق و سباق سے اٹھا کر، اسے توہینِ مذہب کا مرتکب یا ختمِ نبوت کا منکر نہ قرار دے دے۔ اسے یہ خوف ہے کہ اس کی وضاحت کسی نے نہیں سننی۔ پھر جو کرنا ہے ہجوم نے کر نا ہے۔ ہجوم کیا کر تا ہے، یہ ہر صاحبِ عقل جا نتا ہے۔ گوجرانوالہ کے حافظ محمد فاروق کی کہانی ایک دفعہ پھر ذھن میں تازہ کر لیں۔

یہی خوف ہے جو کپٹن صفدر کے لہجے میں بول رہا ہے۔ نواز شریف صاحب کے خلاف مذہبی بنیادوں پر ایک مہم کا آغاز ہو چکا۔ اس سے پہلے وہ غیر مسلم پاکستانیوں کے اجتماعات میں جو گفتگو کر چکے، اس کے تناظر میں، اس تبدیلی کے اسباب تلاش کیے جا رہے ہیں، جو امیدوار رکنیت کے حلف نامے میں کی گئی اور پھر واپس لے لی گئی۔ مقننہ کے دونوں ایوان متفقہ طور پر اصل فارم کو بحال کر چکے۔ اس کے باوجود نواز شریف کو توہینِ مذہب کا مجرم قرار دینے کی مہم جاری ہے۔ کپٹن صفدر کو خوف ہے کہ کہیں اس مہم کا دائرہ وسیع نہ ہو جائے۔

ان کا یہ خوف، اس کے باوجود بے بنیاد نہیں ہے کہ وہ ایک روایتی مذہبی آدمی ہیں۔ ایک خانقاہ سے بھی تعلق ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ان ہی کی تحریک پر اسمبلی میں نعت پڑھنے کی قرارداد منظور ہوئی۔ اس موقع پر صفدر صاحب کا کہنا تھا کہ ان کا اسمبلی میں آنے کا مقصد پورا ہوگیا۔ ان کے خیال میں لوگوں نے انہیں اسی کارِخیر کے لیے منتخب کیا تھا۔ اس طرح کا مذہبی پس منظر رکھنے والے ایک آدمی کو بھی اگر آج اپنا اسلام ثابت کرنے کے لیے اتنا بلند آہنگ ہونا پڑتا ہے تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

تیس پینتیس سال پہلے تک صورتِ حال بالکل مختلف تھی۔ کسی مسلمان کو کبھی اس بات کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اسے لوگوں کے سامنے اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرنا ہے۔ اس کے مسلمان ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ معاشرے میں مسلمان کی عمومی شناخت کے ساتھ رہتا ہے۔ جہاں تک جان ومال کے تحفظ کا معاملہ ہے تو کسی غیر مسلم کو بھی کبھی یہ اندیشہ نہیں تھا کہ غیر مسلم ہونے کے سبب، اس کی جان اور مال کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے۔ آج صورتِ حال بدل چلی۔ کیپٹن صفدر جیسا مذہبی آدمی چلا چلا کر اعلان کر رہا ہے کہ اسے مسلمان مانا جائے۔ وہ اسمبلی میں’ممتاز قادری زندہ باد‘، ’قادیانیوں کا جو یار ہے۔ غدار ہے، غدارہے۔ ‘کے نعرے بلند کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے خوف زدہ لوگ کیا عوام کی قیادت کا حق رکھتے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  بولتے کیوں نہیں میرے حق میں، آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟

قادیانی مسئلے کے باب میں دوباتیں واضح رہنی چاہییں۔ مذہبی دلائل سے قطع نظر، قادیانیوں نے اس معاملے میں پہل کی اور خود کو امتِ مسلمہ سے الگ کیا۔ انہیں تو مسلمانوں سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ انہیں غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا؟ مرزا غلام احمد صاحب نے بیان کیا کہ جو مسیح موعود کا انکار کرتا ہے، وہ کافر ہے (حقیقتہ الوحی)۔ مرزا صاحب کے بڑے بیٹے اور دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے لکھا: ”کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ (آئینہ صداقت)۔ بعد میں بعض افراد نے اس بات سے رجوع کیا اور یہ کہا کہ وہ مرزا صاحب کو نہ ماننے والوں کو بھی مسلمان کہتے ہیں۔ تاہم قومی اسمبلی میں ان کے نمائندے نے پہلے موقف ہی کا اعادہ کیا۔ اس کے جواب میں مسلمانوں کا جواب وہی ہو سکتا تھا جو قومی اسمبلی کا فیصلہ ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ محض انتہاپسند مو لویوں کا مقدمہ نہیں۔ علامہ اقبال جیسے روشن خیال مفکراور غلام احمد پرویز صاحب جیسے لبرل خیال کے حامل سمجھے جانے والے مذہبی دانش وربھی قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ پرویز صاحب کا کہنا تو یہ ہے کہ 1935ء میں جب بہاول پور کی عدالت نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا توجج صاحب نے ان ہی کے ایک مضمون سے متاثر ہو کر یہ فیصلہ دیا تھا۔ پرویز صاحب نے غلام احمد قادیانی اور قادیانیوں کے باب میں اپنا موقف تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب”ختمِ نبوت اور تحریکِ احمدیت“ میں بیان کیا ہے۔

تاہم مسلمان علما پر ایک سوال کا جواب واجب ہے۔ تصوف کی روایت میں بہت سے لوگ کسی نہ کسی شکل میں نبوت کے تسلسل یا کسی مامور من اللہ ہستی کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کو امت کا حصہ مانا گیا ہے۔ ان کے خلاف نہ صرف کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ انہیں اپنے اسلاف میں شامل کیا گیا ہے۔ اس تضاد کی توجیہہ کیا ہے؟ میرے نزدیک تو سیدنا محمد ﷺ کے بعد، دین کے باب میں کوئی الہام حجت نہیں۔ یہ آپ ﷺ ہی کا منصب ہے کہ آپ دین کے بارے میں جو کچھ فرما دیں، وہ حجت ہے۔ آپ کے بعد یہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

آج سوال یہ نہیں کہ قادیانی مسلمان ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بطور غیر مسلم کیا انہیں وہ حقوق میسر ہیں جو پاکستان کا آئین بلاامتیازِ مذہب اپنے تمام شہریوں کو دیتا ہے؟ کیا یہ آئین متفقہ نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا کیپٹن صفدر کے مطالبات غیر آئینی نہیں؟ کیا ن لیگ کی قیادت کو اس تقریر کا نوٹس نہیں لینا چاہیے؟ کیا انہیں یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے خوف کو پورے معاشرے پر مسلط کر دیں؟

اسی بارے میں: ۔  ماشٹرنی کا پرس

نواز شریف صاحب کو کریڈٹ جا تا ہے کہ انہوں نے اسلام کی روح کے مطابق پاکستان کو ایک معتدل معاشرہ بنانے کی شعوری کوشش کی۔ انہوں نے مذہبی اقلیتوں میں احساسِ تحفظ پیدا کیا۔ ان کے خیالات اور اقدامات میں قائد اعظم کے تصورِ ریاست کی جھلک دکھائی دی جو انہوں نے 11 اگست 1947 ءکو مجلس دستور ساز میں پیش کیا۔ نواز شریف صاحب ایک مذہبی پس منظر رکھتے ہیں۔ کوئی باشعور آدمی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ وہ کوئی ایسی بات کہیں گے جو مذہب کے بنیادی مقدمات کے خلاف ہو۔ اسی لیے قوم نے فی الجملہ ان کے خیالات اور اقدامات کی تائید کی۔

کپٹن صاحب نے اپنے خوف کے سبب اس ساری پیش رفت پر پانی پھیرنے کی کوشش کی۔ لازم ہے کہ ن لیگ ان کے اس طرزِ عمل اور تقریر سے اعلانِ لاتعلقی کرے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو خوف سے آزاد کرے۔ اگر بڑی سیاسی جماعتیں بھی انتہا پسندی کے خوف میں مبتلا ہو گئیں تو پاکستان ایک بار پھر ان اندھیروں میں ڈوب جائے گا جو تین چار عشروں سے اس ملک پر طاری ہیں۔

اس قوم کو بھی سوچنا ہوگا کہ آج مسلمانوں کو کیوں اپنا اسلام ثابت کر نا پڑتا ہے؟کون لوگ ہیں جنہوں نے اکثریت کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے؟ اسلام میں اگر کلیسا نہیں ہے تو کچھ افراد اور گروہوں نے کیوں لوگوں کے کفر اور اسلام کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے؟ سیاسی مقاصد کے لیے کہیں یہ مذہب کا سوئے استعمال تو نہیں؟ اگر کیپٹن صفدر جیسے لوگ خوف زدہ ہیں تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا؟ کیا ریاست انتہا پسندوں کے ہاتھوں بے بس ہو چکی؟

نواز شریف صاحب کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ اس قوم کو کیسی قیادت دے رہے ہیں؟ کیا وہ اس محنت کو ضائع کر دیں گے جو انہوں نے پاکستان کو ایک معتدل معاشرہ بنانے کے لیے کی؟ موروثی سیاست کو اگر جاری ہی رکھنا ہے تو کم از کم سیاسی بصیرت کی شرط تو ضرور عائد کی جانی چاہیے۔ اولاد کی محبت میں اعلیٰ آدرشوں کو تو برباد نہیں کر نا چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔