ایک بات جامعہ ملیہ کی اور کچھ ذکر دہلی  کا


Tasneefرومی نے کہا تھا

بر سماع راست ہر کس چیر نیست

طعمہ ہر مرغ کے انجیر نیست

(سچی بات سننے پر ہر شخص قادر نہیں ہے۔ انجیر، ہر حقیر پرندے کی خوراک نہیں ہوتی۔)

رومی کی کمال بات یہ ہے کہ وہ بنیادی معاملات کی بات کرتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ انہوں نے سچ کہنے سے زیادہ سچ سننے کو اہمیت دی ہے، یعنی اس کی توفیق ہر کس و ناکس کو کہاں ملتی ہے۔ جو سچ ہمارے دل کا ہے وہی ہماری دنیا کا ہے۔آج کے اس خط میں آپ کو اپنے علاقے کی روداد سنائوں گا، تاکہ آپ ان گلیوں سے واقف ہو جائیں، ان باتوں اور چیزوں سے، جن کے ساتھ میں زندگی گزارتا ہوں۔ بالکل سچ اور آپ بس اس سچ کو سنیں، محسوس کریں  اور یہ سوچیں کہ ہماری زمینوں اور ذہنوں میں کتنا اشتراک ہے،میں کوشش کروں گا کہ جہاں تک ممکن ہو میں اس تہذٰیبی اشتہار بازی سے باز رہوں جس کی ذمہ داری ہماری حکومتیں اپنے سر لیتی ہیں۔

P03میرا گھر جس جگہ ہے، اس علاقے کا نام ذاکر نگر ہے، ڈاکٹر ذاکر حسین کے نام پر یہ جگہ آباد ہے، جن کا مقبرہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہے، اور جامعہ کے قبرستان سے ذرا فاصلے پر اپنے جلو میں ایک چھوٹا سا میوزیم لیے وہ سفید مقبرے کی چادر اوڑھے سڑک کنارے آرام کررہے ہیں۔وہی ذاکر حسین جو کبھی ہندوستان کے صدر جمہوریہ بھی رہے ہیں، ان کے مقبرے کے پیچھے ایک براق جیسی چمچاتی ہوئی سفید مسجد بھی ہے، جس کی خوبصورتی جدید اسلامک فن تعمیر کی عمدہ مثال ہے۔دہلی عمارتوں کا شہر ہے، جامعہ کے نزدیک بھی بہت سی عمارتیں ایسی ہیں، جن کی تاریخی اہمیت ہے، یہ جو علاقہ ہے ذاکر نگر، یہ اوکھلا میں آباد ہے ، اوکھلا میں اور بھی بہت سے دوسرے علاقے شامل ہیں، جیسے جامعہ نگر، ذاکر نگر، نیو فرینڈس کالونی، مسیح گڑھ، سری نواس پوری ، ابوالفضل انکلیو وغیرہ وغیرہ۔ مجھے خود بھی علم نہیں تھا، لیکن ایک دفعہ جب میں نے اپنے چھت سے پورے علاقے کی ایک تصویر لے کر فیس بک پر اپڈیٹ کی تھی تو کنہی صاحب نے کہا تھا کہ آپ کا علاقہ پرانی دہلی سے بہت مشابہہ ہے اور کچھ کچھ لاہور سا بھی دکھائی پڑتا ہے۔لاہور نہیں دیکھا اور نہ ہی اصغر وجاہت کا ڈرامہ ‘جس لاہور نہیں ویکھیا’ دیکھ سکا ہوں۔ لیکن آج یہ ڈرامہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹیج کیا جارہا ہے اور میری کاہلی کی انتہا کہ دو قدم ہل کے وہاں نہ پہنچا، سو کر اٹھا اور یہ مکتوب لکھنے بیٹھ گیا۔خیر لاہور سے مشابہت کا تو مجھے خاص علم نہیں، لیکن ہاں پرانی دہلی سے یہ علاقہ کچھ ملتا جلتا ہے۔پرانی دہلی کے بھی بہت سے آثار مٹ گئے ہیں، وہاں کی سڑکیں پاٹ پاٹ کر ایسی کردی گئی ہیں کہ اب بہت سی کوٹھیوں کی کھڑکیاں تہہ خانوں میں کھلنے والے روشن دانوں کا متبادل ہوگئی ہیں۔اس علاقے میں بھی پتلی پتلی گلیاں ہیں، ہر گلی کا ایک نمبر ہے اور اس نمبر کا ایک جال ، جو ہر گلی کو کسی نہ کسی طرح مین سڑک سے جوڑ دیتا ہے، میں صبح دفتر کے لیے گھر سے نکلتا ہوں، لمبی اور پتلی سی گلی کی آنت میں تیرتا ہوا سڑک پر انڈیل دیا جاتا ہوں، وہاں سے کبھی پیدل ، کبھی سائیکل رکشہ پر بٹلا ہائوس چوک پر آتا ہوں، چوک سے بس اسٹینڈ کی دوری یہی کوئی آدھے کلو میٹر کی ہوگی۔سڑک ویسے بھی بہت چوڑی نہیں ہے، پھر دونوں طرف ریڑھیوں، ٹھیلوں وغیرہ کی قطار ساتھ ساتھ چلتی ہے، جہاں یہ قطار ختم ہوتی ہے، جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مشہور قبرستان اونچی دیواروں کے ساتھ ہمراہ سفر شروع کردیتا ہے۔اس قبرستان کی لمبی لمبی لال دیواریں بس ابھی کوئی پچھلے سال ہی بنی ہیں، جب لیجیسٹو اسمبلی کی ممبر شپ کے امیدواروں کا اشتہاری میلہ لگا ہوا تھا، اور پرانے ایم ایل اے نے اس دیوار کو اس امید میں بنوایا تھا کہ شاید انتخاب میں نتیجے اچھے آجائیں۔مگر ایسا ہوا نہیں کیونکہ پچھلے سال عام آدمی پارٹی کی کچھ ایسی ہوا چلی کہ اس کا ننھا فلیگ تھام کر بھی اگر کوئی کھڑا ہوگیا تو لوگوں نے اس کی عمر، نسل اور رنگ دیکھے بغیر اسے ڈھیروں ووٹ سے نواز دیا۔

بہرحال ایم ایل اے تو بدل گئے، مگر حالات نہیں۔خیر، تو میں قبرستان کے قریب سے گزر رہا تھا، یہ قبرستان بہت پرانا ہے، جامعہ نے گوالوں کی زمینیں خرید کر اسے وسیع کیا تھا اور ہرسال p02مرنے والوں کی ایک لمبی فہرست اسے دائم آباد رکھتی ہے۔خوشونت سنگھ نے کہا تھا کہ مرنے والے کے ساتھ اس سے بہتر سلوک اور کیا ہوگا کہ اسے اسی خا ک کے حوالے کردیا جائے، جس سے اس کا وجود پھوٹا تھا۔میں جب شروع شروع میں اس علاقے میں آیا تھا تو مجھے بچوں کے ایک ادیب غلام حیدر نے میر کا ایک اچھا سا شعر سنایا تھا، قبرستان پر، آپ  بھی اس کی لذت میں شریک ہوجائیں۔

ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں

ان خاک نشینوں نے کیا کیا نہ سہا ہوگا

قبرستان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بڑے چھوٹے کا کوئی فرق نہیں، کالے گورے کی ناپ تول نہیں، اور اس چیز کی کوئی گنجائش نہیں، جس کے دم پر دنیا اتنی خراب ہوئی ہے، یعنی کہ اختلاف رائے۔بس سب کا اتفاق ایک طویل خاموشی پر ہے، ایک ڈٹی ہوئی، اڑیل خاموشی ۔ جیسے ہوا ئوں کے پہرے دار، نوکیلی ٹوپیاں لگائے، نیکروں میں ادھر سے ادھر گشت لگا رہے ہوں اور ان کی پیلی آنکھوں سے ابلتے ہوئے خوف نے سب کو جما رکھا ہو۔اس قبرستان میں قرۃ العین حیدر بھی دفن ہیں،بڑی بی کی زندگی پانی کے جہازوں سے لے کر دھول بھرے صحرائوں کی ایک طویل سرگزشت ہے۔خاندانوں، رشتوں، جہانوں اور وقت کے بہت سے پنوں پر ان کی سانسوں نے تحقیق و تخلیق کے گھوڑے دوڑائے ہیں۔سید محمد اشرف نے قرۃ العین حیدر کی موت کے بعد ایک چھوٹا سا مضمون لکھا تھا، کبھی وقت ملے تو پڑھنا، ایسی شاندار تحریر ہے کہ اپنی زندگی میں محض ایک ایسے نثر نگار سے جذباتی رشتہ قائم کرکے ایک ایک سطر پر مرجانے کا جی چاہتا ہے۔

بہرحال ، میں بھی کہاں قبرستان کے پھاٹک کے اندر داخل ہوگیا، اسی قبرستان کے آس پاس چلتی پھرتی سڑک ہے، جس پر’گرامین سیوا’نام کی چھوٹی لاریاں اور ‘الیکٹرونک رکشے’ چلا p04کرتے ہیں۔گرامین سیوا یعنی دیہی علاقوں کی خدمات کے لیے چلنے والی وہ خیراتی لاریاں، جن پر پانچ دس روپے دے کر آٹھ سے دس کلومیٹر کا سفر کیا جاتا ہے۔میں بھی اسی لاری میں اکثر اپنے دفتر تک جایا کرتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اور سادھن نہیں ہے۔اب میٹرو کی لائنیں بچھی ہیں، مگر میٹرو اس سال کے آخر سے چلنا شروع ہوگی۔لیکن لاری میں بیٹھنا بھی کوئی کم دلچسپ تجربہ نہیں ہے۔میں ہمیشہ کنارے کی سیٹ چنتا ہوں، کھڑکی کے کنارے نہیں، بلکہ جہاں سے چڑھا اترا جاتا ہے، اس کنارے کی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اندر بیٹھ جائے، بعض اوقات وہ چھ لوگوں کی جگہوں پر آٹھ ، نو لوگوں کے بیٹھ جانے کی وجہ سے ٹھس جاتا ہے، اور ٹھسے سے نہ بیٹھ پاتا ہے نہ اتر پاتا ہے۔کبھی کبھار جب بھیڑ زیادہ ہوتی ہے تو میں منزل سے پہلے ہی اتر جاتا ہوں اور کچھ دور پیدل چل لیا کرتا ہوں۔اس چھوٹی سی لاری سے باہر کا سارا منظر دھول، ٹریفک، ہارن اور گالیوں یا دھبڑ دھبڑ کی آوازوں میں ڈوبا رہتا ہے۔سڑک کے گڑھے اتنے ہیں، یا سڑکیں اتنی ہی خراب ہیں جتنی ہماری ذہنی حالتیں۔میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی شخص نے ان گڑھوں کی وجہ سے سرکاری نظام یا ایم ایل اے صاحبان کو گرامین سیوا میں بیٹھ کر برا بھلا کہا ہو، کیونکہ اب یہ ہماری عادتوں میں شمار ہوگئی ہیں، اسی طرح  جیسے انقلاب فرانس کے بعد چالیس برس سے بند قیدی صرف اس لیے دوبارہ جیلوں میں چلے آئے تھے کہ انہیں بیڑیوں کے بغیر نیند ہی نہیں آتی تھی۔کتے اس علاقے میں بہت زیادہ ہیں، میرے شناسا جانتے ہیں کہ میں کتوں سے بہت ڈرتا ہوں، وہ کہیں سے بھی آجائیں، ادھر ادھر، گھومتے پھرتے تو اچانک میرے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔سنا ہے جیمز جوائس بھی کتوں سے بہت ڈرتا تھا ، اس لیے اس اشتراکی نکتے کو مضبوط کرنے کے لیے اب ان سے مزید ڈرنا شروع کردیا ہے۔یوسفی نے لکھا ہے کہ جو شخص کتوں سے نہیں ڈرتا اس کے حسب نسب پر شک کیا جانا چاہیے اورمجھے بھی ان سے اس معاملے میں اتفاق ہے کہ کتے کے وجود کا مقصد دنیا میں سوائے اس کے اور کوئی نہیں تھا کہ پطرس اس پر ایک مضمون لکھ دیں اور اب تو یہ مقصد بھی پورا ہوگیا ہے، لیکن میرے نزدیک کتے کا ایک اور مقصد فیض کی وہ بری سی نظم بھی ہوسکتی ہے، جس کا عنوان ‘کتے ‘ہے۔

بہرحال دفتر کی روداد کیا سنائوں، بس رئیس فروغ کی زبان میں اتنا سمجھ لیں کہ

کیا جانیے کہ جبر ہے یااختیار ہے

دفتر میں تھوڑی دیر جو کرسی نشیں ہوں میں

بانی نے لکھا تھا

دن کو دفتر میں اکیلا، شب بھرے گھر میں اکیلا

میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا

pjamia-Millia-Islamiaمیں نے اپنے لیے اسی دفتر کی نگرانی کرتے رہنے والی چوکیدارانہ زندگی سے انحراف کو چنا ہے۔مجھے دفتر کا ماحول پسند نہیں آتا۔ نوکری کرسکتا ہوں نہ سرمایہ داری، ایک میں مجبوری ہے تو دوسرے میں لاچاری۔بہرحال بات میرے علاقے کی تھی۔شام کو دفتر سے گھر آتے وقت اکثر میں، سالم سلیم اور زمرد مغل اوکھلا ہیڈ پر بیٹھک جماتے ہیں۔اوکھلا ہیڈ ، ذاکر نگر سے نزدیک ایک بہت چھوٹا سا علاقہ ہے، جو کہ دراصل ایک چوک کا نام ہے۔اوکھلا چونکہ پہاڑی علاقہ ہے، اور جمنا ندی کے بالکل کنارے آباد ہے، اس لیے یہاں زمین سطح مرتفعی شکل میں ہے۔ کہیں سے اوبڑ، کہیں سے کھابڑ۔ہم لوگ جہاں بیٹھتے ہیں، وہ جگہ سڑک سے ذرا نیچے کی جانب ہے۔ایک چائے خانہ ہے، اس کے ساتھ سٹی ہوئی کچھ گیراج نما دوکانیں ہیں، ایک خالص سبزی پسندوں کا ہوٹل ہے اور اس کے عقب میں ایک چھوٹا سا مندر، یہیں کئی بار رام لیلا کا پروگرام ہوتا ہے، شادیاں ہوتی ہیں تو بھی منڈپ ، پنڈال سجائے جاتے ہیں۔یہاں بہت سے لوگ چائے پیتے ہیں اور سیاسی ، سماجی موضوعات پر تبادلہء خیال کرتے ہیں۔ہمارا موضوع بھی یہی دو چیزیں ہوتی ہیں، بس ساتھ ساتھ ادبی زوال پر گفتگو ، بہت سی چغل خوریوں کے ہلکے اور موٹے گھونٹوں کے ساتھ نگلی جاتی ہے۔اوکھلا ہیڈ کے نزدیک ایک ٹیلہ ہے، جسے ریت کا ٹیلہ کہا جاتا ہے۔ندی خراب ہوگئی، لیکن ٹیلا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔اس پر اب لوگ زیادہ دکھائی نہیں دیتے، بس کبھی کبھار کچھ سوئر منڈراتے ہوئے دککھائی دیتے ہیں، شاید اس لیے کہ جمنا کے قریب گندگی بہت ہوگئی ہے۔لیکن سنا ہے کہ لوگ پہلے ادھر خوب جاتے تھے اور جمنا کے کنارے بنی ہوئی سڑک، یہ ٹیلہ یہ سب یہاں کے لوگوں کے لیے ممبئی کے جوہو، چوپاٹی کی سی اہمیت رکھتا تھا۔میں نے تو خیر سمندر دیکھ رکھا ہے اور اس کی گود میں پورے سترہ سال گزارے ہیں، اس لیے مجھ پر دریا کبھی اپنا رعب نہیں جماسکتا، لیکن پتا نہیں کیوں گنگا جمنا کو ماں کا سا درجہ دینے والوں نے اس کی اتنی توہین کیوں کی ہے، اسے اتنا خراب، اتنا مٹ میلا اور بدبودار بنادیا ہے کہ اس کی خوبصورتی اب پرانے وقتوں کی بات بن کر رہ گئی ہے۔ذاکر نگر یا جامعہ نگر میں زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے، بلڈنگیں اونچی نیچی، دور دور تک پھیلتی چلی جارہی ہیں، دریا روز بروز سکڑتا جارہا ہے، یہاں کا پانی جلد اور بالوں کے لیے خراب ہے، آب و ہوا میں ایک قسم کی شدت ہے، سردی اس بار تو کم پڑی ہے، لیکن میرا دس سال کا تجربہ کہتا ہے کہ دہلی کی سردی اس لیے زیادہ مشہور ہے کیونکہ لوگ یہاں کی گرمی سے خوف کھاتے ہیں۔مگر اب موسم آگے کی جانب دھکیلے جانے کے باوجود گرمیاں وقت سے پہلے آگئی ہیں۔

قصابوں کی دوکانیں، ان کے آگے زبان لٹکائے ہوئے کتے، سلوں پر منڈراتی ، بھنبھناتی مکھیاں، قطار میں لگے ہوئے لوگ، چھوٹے بڑے کھانے کے ہوٹل، نئے قسم کیs Pizza Shop، بیوٹی پارلر ز اور میڈیکل اسٹورز وغیرہ سبھی کچھ تمہیں یہاں دیکھنے کے لیے مل جائے گا۔دوکانوں کے بینر پورے دہلی شہر میں سب سے زیادہ اسی علاقے میں اردو میں ملیں گے۔خوبصورت دیواروں پر چمٹے ہوئے اگلے پچھلے پروگراموں کے پوسٹرز، چھتوں پر بے موسم کبوتر اور پتنگ بازی کرتے شوقینوں کی عجیب و غریب آوازیں،سڑک پر تھوکتے، پیکیوں کے چھینٹے اڑاتے، سگرٹیں پھونکتے، پیدل چلتے لوگ۔ بلڈنگوں  پر نصب موبائل کمپنیوں کے ٹاور، دو عمارتوں کے درمیان جھولتے ہوئے سیاسی بینر، عید یا دیوالی کی لکھی ہوئی مبارکبادیں۔پائریٹرڈ ڈی وی ڈیز کا چلتا ہوا بیوپار، شاہ رخ خان کے ہیئر سٹائل کو مقبول بناتے ہوئے سیلون اور سبزی ، مونگ پھلی، اچار اور پانی بیچنے والوں کی اونچی اونچی آوازیں، بھیک مانگنے والوں کی دھاندلیاں، اور ہزاروں بار سیور کا کام ہوجانے کے باوجود ، گندے پانی، کیچڑ کی پھیلتی ہوئی بو اور دوسروں کے گھروں کے آگے پھینکے جانے والے کوڑا کرکٹ سے یہ علاقہ متحرک اور آباد ہے۔

پھر  بھی میں اس علاقے میں پچھلے دس سال سے رہ ررہا ہوں، کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، اب تک بیس، اکیس گھر اور چار سے پانچ نوکریاں تبدیل کرچکا ہوں۔شام کو فاطمہ خان کے یہاں جاتا ہوں جو میری گزشتہ چھ سال سے بہت اچھی اور قریبی دوست ہے۔کچھ وقت گزار کر چلا آتا ہوں، تعلقات لوگوں سے کم ہیں، میرے علاقے میں کھڑکیاں بہت زیادہ ہیں، مگر گھروں میں رہ کر دور دراز کے شہروں، ملکوں کا سفر کرنے والوں، انٹرنیٹ کی دنیا کی مدد سے پوری دنیامیں ایک کلک پر کہیں بھی پہنچ جانے والوں کے پاس ان کھڑکیوں میں آنے کا وقت شاید نہیں ہے، اس لیے وہ اکثر سنسان رہتی ہیں۔مگر میں نے ان گلیوں کو کھڑکیوں سے بہت دیکھا ہے۔لیکن اس سب کے باوجود کچھ ہے کہ اس شہر سے اب بھی اجنبیت کا ایک تعلق ہے، جو ختم نہیں ہوتا،جیسا کہ رسول حمزہ توف نے کہا ہے کہ آپ جس جگہ جائیں  ، اس شہر میں اس قدر ہی گھومیں پھریں کہ اس سے ایک اجنبیت کا تعلق ٹوٹنے نہ پائے، جس دن میں نے اس شہر کو پوری طرح جان لیا، اس میں رہ کر کیا کروں گا۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ایک بات جامعہ ملیہ کی اور کچھ ذکر دہلی  کا

  • 12-03-2016 at 6:10 am
    Permalink

    umda..

  • 12-03-2016 at 2:04 pm
    Permalink

    شہر بنائے
    دوپایہ حیوانوں نے
    سیمنٹ ، اینٹوں اور لوہے
    کے جنوں کے ابدان میں قمقمے
    گاڑ دیے
    جن کے پیچھے
    حسن سے لے کر اکراہ تک
    پیار سے لے کر نفرت تک
    فن سے لے کر بدذوقی تک
    کے پیوستہ شجر کیے
    لیکن وہ انسان
    کہاں ہیں
    جو غاروں میں جیتے تھے
    ڈرتے تھے پر لڑتے تھے

    اب تو سڑکوں کے شکموں پر
    ایسی مشینیں روان دواں
    جو انسان کو پیسے کی
    چکی میں پیسنے کی امداد
    فراہم کرتی ہیں
    ایمبولینسیں
    نان ایمبولینٹ لوگوں کو
    یہاں وہاں لے جاتی ہیں

    اور پھر جھوٹ کا اک بازار
    اور منافقت کا تہوار
    کہاں ہے میرا وہ نیزہ
    جو اک لاٹھی پر میں نے
    پتھر جوڑ بنایا تھا
    تاکہ میں تم سب کے ساتھ
    ایک لڑائی لڑوں
    اس سے پہلے
    کہ ہم ڈائنوسار کی مانند
    سب “فوسل” بن جائیں

Comments are closed.