قصہ چہار درویش


خریدارانِ متاعِ غم، بچشمِ چھم چھم، درویشِ دوم کی داستانِ ہجرت اس کی زبانی یوں دراز کرتے ہیں کہ:
”سیاہ افق پر نورِ سحر جلوہ فگن ہوتا تھا کہ یہ درویش ابنِ درویش رختِ سفر اور گناہوں کا بارِ گراں اٹھائے جنگل سے روانہ ہوا۔ غریب زادہ دن بھر پا پیادہ بھٹکتا، ٹھڈے کھاتا شام ڈھلے ایک ملکِ خدادا جا پہنچا۔ یا حیرت! چہار سو انبوہِ مرد و زن و شورِ جاں سوز اور مثلِ آفتاب فروزاں برقی چراغ۔ واللہ! اس شہرِ آسیب و پُرفریب میں گھامڑ کو کچھ سجھائی نہ دیوے تھا۔ سبک رفتار موٹروں کا تماشا کرو تو جان جاوے اور مستورات کے شوقِ خود نمائی پر نظر خطا ہووے تو ایمان جاوے۔ یہ درویشِ سادہ ساکنانِ ملکِ عجیب و غریب سے مرعوب تھا، جنہیں بنتِ حوا کے چہرے پر نقاب اور تیزاب ڈالنا مرغوب تھا۔ خاک زادہ موٹروں کے شور سے ڈر کے بھاگا اور خاک چھانتا شہر سے باہر ایک کچی بستی جا پہنچا۔ قبل مسیح کی اس بستی کا ایک چکر لگایا، جس پر تھا آسیبِ غربت کا مہیب سایہ۔ پس خاکسار واپس سڑک کنارے آیا اور ٹاہلی کے نیچے گدڑی بچھا کے ڈیرہ جمایا۔

اس ہجرتِ خود اختیاری، سرا سر خواری میں فقیر نے عجب مردانِ آزاد دیکھے کہ ووٹ سے لے کر گواہی تک بیچتے‘ مگر ضمیر کا بیوپار ہرگز نہ فرماتے تھے۔ ہر کام میں ٹھگی کے مرتکب ہوتے مگر ایمان کے پکے تھے۔ بے ایمانی کے دشمنِ جاں تھے اور کرپشن نام کے کسی ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے کارِ خیر پر یک زباں و یک جاں تھے۔ دودھ میں پانی ملانے والا بھی بدعنوانوں کو احتساب کے شکنجے میں کسنے کے واسطے بے چین ہووے تھا اور ذخیرہ اندوز بھی یہی چاہوے تھا۔ جعلی ویزوں کا بیوپاری بھی کرپشن کے ناسور سے نالاں اور دو نمبر ادویات بنانے والا بھی پریشاں۔ شیخ کو بھی اس ناسور کے نام سے مروڑ اٹھتے تھے اور رند کو بھی مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ رشوت خور کلرک بھی اپنی درانتی کرپشن کی جڑوں سے ہٹانے پر آمادہ نہ ہووے تھا اور بیت المال کو والدِ بزرگوار کی جاگیر جاننے والا افسر بھی ان جڑوں میں تیزاب انڈیلتا جاوے تھا۔ مشکوک کمائی سے ایستادہ پُرتعیش محلات کے مکیں رہنمائے ملت بھی ناسور ہذا کا ستیاناس کرنے کے واسطے کمربستہ تھے اور دودھ سے نہائے اہلِ صحافت بھی اسے غارت کرنے پر تلے تھے۔ بخدا شوق احتساب انہیں نچلا نہ بیٹھنے دیوے تھا۔ فقیر زادے نے کسی کرپٹ ٹولے سے واسطے نجات کے احتساب اور انصاف کے حسیں ملاپ کا ہونقوں کی طرح تماشا کیا۔

ایک دن صبح دلنواز کا سمے تھا کہ اچانک ایک ماہ رخِ کنجاہ، مالکِ حسنِ بے پناہ، مثلِ ہیر وارث شاہ اپنی چمکتی موٹر سے اس ادائے دلربا کے ساتھ اتری کہ جیسے دل میں اتر رہی ہو۔ واللہ! اس کے عارض و رخسار سے شفق کے رنگ پھوٹتے تھے اور آفتاب ان سے روشنی مستعار لیوے تھا۔ وہ بادامی چشم قیامت کی چال چلتی میری پیوند لگی گدڑی پر آ کے بہ عجز و انکسار بیٹھ گئی تو ٹاٹ مخمل ہو گیا اور مغرور اس کا ہر کھٹمل ہو گیا۔ جھگی فقیراں آباد ہو گئی اور طبیعت اس گناہگار کی شاد ہو گئی۔ اس ملکۂ سلطنتِ حسن کی زباں سخنِ شیریں کہتی تھی اور چشم فلک آفریں آفریں کہتی تھی۔ معلوم پڑا کہ وہ دلِ ناداں کے جھانسے میں آوے تھی اور واسطے اپنے خاوندِ بادہ خوار و ناہنجار سے خلع لینے قاضی کی عدالت جاوے تھی تاکہ اپنے رانجھے کے عقد میں آوے اور من کی مراد پاوے۔ دھت تیرے کی! وہ اس حقیر کو کوئی اللہ والا اور پیر سمجھی تھی‘ جو اسے تعویذ و دعا دیوے کہ قاضی کا دل پگھلا دیوے۔ اس درویشِ نیم خواندہ نے عرض کیا کہ بی بی میں تو خود مجسمِ خطا ہوں اور محتاجِ دعا ہوں۔ اس جاہل حسینہ نے اس سخنِ انکسارانہ کو ادائے فقیری جانا اور آنکھوں سے جمنا بہائی تو عاجز کے دلِ نابکار میں پشیمانی اتر آئی۔ پس واسطے اس کا دل رکھنے کہہ دیا کہ جا بی بی فقیر ابن فقیر نے تیرے لیے دعا کی۔ وقتِ دوپہر یہ غریب زادہ بعد از آوارگی سستاتا تھا کہ وہ کافر ایسی شاداں و فرحاں لوٹی کہ اس کے پائوں زمین پر نہ پڑتے تھے۔ قاضی نے اس کے حق میں فیصلہ سنایا تھا اور اس بندہء سادہ کو پھنسایا تھا۔ وہ احمق چھم چھم نِیر بہاوے تھی، اپنے دودھیا ہاتھوں سے اس گناہگار کے پائوں دباوے تھی اور لوگوں کو اس کی کرامات سناوے تھی۔ شرم سے خاکسار کی پیشانی کا پسینہ مثلِ چناب بہتا تھا مگر واللہ! بڑا دلفریب ماحول تھا اور بندے کا دل ڈانواں ڈول تھا۔ رخِ زیبا پر پڑی زلفِ پُرشکن نے اس کے مرمریں ہاتھ سے سنورنا چاہا تودلِ وحشی نے ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا۔ سخت نفس کشی کا مرحلہ طے کرکے حسینہ گل بدن کو اپنے پائوں سے اٹھایا تو اس امیر زادی نے بھاری نذرانہ میری گدڑی کے نیچے دبایا۔

شامتِ اعمالِ ماصورتِ نادر گرفت… اس خطاکار کی شہرت شہر میں بکھرے گند کی طرح پھیل گئی کہ پہنچا ہوا بزرگ جنگل سے وارد ہوا ہے۔ پس جو بھی اس کے پاس جاوے ہے، من کی مراد پاوے ہے۔ عاجز بڑا چلایا کہ مَن آنم کہ من دانم، مگر عقل کے اندھوں کو بجز میری کراماتِ نام نہاد و بے بنیاد کے کچھ سجھائی نہ دیوے تھا کہ پیر پوجا و شخصیت پرستی ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ بخدا! ضعیف الاعتقاد مرد و زن کا ہجومِ بے کراں اس ناتواں پر پل پڑا۔ کوئی کسی لڑکی سے چکر چلاوے تھا مگر اس کا باپ روڑے اٹکاوے تھا‘ تو کوئی اس بے نوا سے اپنے محبوب کو قدموں میں ڈھیر کراوے تھا۔ کوئی اپنی ساس کا میرے تعویذ سے دھڑن تختہ کراوے تھی‘ تو کوئی مجھ سے اپنے ٹھرکی مجازی خدا کو تارک العورات بنواوے تھی۔ کوئی اس جاہل مطلق سے پرائز بانڈ کا انعام نکلواوے تھا اور کوئی بے روزگار واسطے روزگار کے تعویذ لکھواوے تھا۔ کسی کم عقل کے بھیجے میں یہ بات نہ آوے تھی کہ اگر یہ کم بخت اتنا ہی پہنچا ہوا ہوتا تو ٹاہلی کے نیچے پھٹی گدڑی میں پڑا ہوتا؟

پھر ایک ملگجی شام سیاست کی عقربی کہکشاں کا ایک ستارہ آدھمکا، جو عوام کے لیے کھوٹا تھا مگر اقتدار کے لیے لوٹا تھا۔ وہ بدعنوانی کا بحرِ بے کراں تھا مگر بتوسط میری دعا کے وزارت کا خواہاں تھا۔ سخت غصے کے عالم میں اپنا عصا اس کی کمر پر جمایا تو اس بے حیا نے ضربِ ڈنڈا کو اس جعلی پیر کے مریدوں میں اپنا شمار جانا اور بیڑا پار جانا۔ تیسرے دن کیا دیکھتا ہوں کہ پولیس کا چھکڑا ہوٹر بجاتا تھا اور اس دو نمبریے کی موٹر پر جھنڈا لہراتا تھا۔ اس حرام خور نے اپنے آپ کو ان پھٹی ایڑیوں والے پائوں پر گرایا اور خطاکار کو شرمایا۔ پس اس کے کارندوں نے مسکین زادے کو اٹھا کے موٹر میں ڈالا اور شہر سے باہر اس خزانہ چور کی ایک خالی حویلی میں پہنچایا، جو درویش کا آستانہ قرار پایا۔

واللہ! آستانے میں آباد ہو کے یہ حقیر بے ضمیر ہوا اور سب کا پیر ہوا۔ یہ جھوٹا ”سائیں سچی سرکار‘‘ مشہور تھا اور بڑا ہی مسرور تھا۔ خرقہ پوش اب ریشم و کمخواب ہنڈاوے تھا اور من و سلویٰ اڑاوے تھا۔ اس جاہلِ مطلق کے وارے نیارے ہوئے اور عقل کے کورے اس کے مرید سارے ہوئے۔ میرے مصاحب و چیلے ساون میں مانندِ حشرات الارض نکل آئے اور خود اس بے حیا کے بھی بال و پر نکل آئے۔ آستانے میں تعویذ گنڈوں کی ریل پیل ہوئی اور دولت میری رکھیل ہوئی۔ اس ریاکار کی عیاری بصد ہوشیاری سب پہ بھاری ہوئی اور رفع عاجزی و شرمساری ہوئی۔ یہ بے شرم اب نصیبے کا سکندر ہے مگر حقیقت میں جعلی قلندر ہے۔

قصہ مختصر دوستو! تم سہ درویشوں کے ساتھ جنگل میں جو وقت گزرا، خوب گزرا۔ اب رخصت درویشی کا قرینہ ہوا اور ساتھ ہمارا قصہ پارینہ ہوا۔ یہ ریاکار اب درویش نہیں، بندہء مکار ہے اور واسطے تم درویشوں کی مصاحبت کے بے کار ہے۔ پس سائیں سچی سرکار تمہیں الوداع کہنے کے واسطے آئے تھے، جو اب واپس آستانے کو جاویں ہیں کہ مریدانِ باصفا واسطے ان کی راہ دیکھنے کے ایڑیاں اٹھاویں ہیں۔ اے رفیقانِ گزشتہ! اگر کبھی ضمیر اجازت دیوے تو آستانہ عالیہ سائیں سچی سرکار کا چکر ضرور لگانا کہ ؎
کبھی تم اِدھر سے گزر کے تو دیکھو
”بڑی رونقیں ہیں فقیروں کے ڈیرے‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔