میری شاعری ماں کے ہونٹوں سے مسکراتی ہے


ممتاز شاعر ندا فاضلی (مقتداحسن) 12 اکتوبر کو دہلی میں پیدا ہوئے۔وہ مشاعروں میں  مقبول تھے اور ایک نغمہ نگارکے طور پر بھی ان کی غیر معمولی  اہمیت تھی۔ان کے اتنے اشعار اور نغمے عوامی حافظے کا حصہ ہیں کہ ان کے پڑھنے اور سننے والوں کی تعداد کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔چوں کہ  نوح ناروی کے شاگرد تھے ،اس لیےادبی حلقوں میں نوح ناروی اورداغ دہلوی کے جانشین کی حیثیت سے مشہور تھے ۔ ندافاضلی کے والدین ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے تھے ، لیکن ندا فاضلی نے ہندوستان کو ہی اپنا ملک مانا۔ان کی زندگی میں کافی جدوجہد تھی ،ایک زمانے میں انہوں نےروزگار کی تلاش میں در در کی خاک چھانی۔زندگی کے ہر رنگ کو قریب سے دیکھااور اس کو اپنی شاعری میں کامیابی سے پیش کیا۔وہ اپنی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں؛

’’میری شاعری نہ صرف ادب اور اس کے قارئین کے ادبی رشتے کو ضروری مانتی ہے بلکہ اس کے معاشرتی سیاق کو اپنا معیار بھی بناتی ہے۔ میری شاعری بند کمروں سے باہر نکل کر چلتی پھرتی زندگی کا ساتھ نبھاتی ہے اور اُن حلقوں میں بھی جانے سے نہیں ہچکچاتی، جہاں روشنی بھی مشکل سے پہنچ پاتی ہے۔ میری شاعری ماں کے ہونٹوں سے مسکراتی ہے۔ بہن کے آنچل سے سرسراتی ہے۔ بچوں کے ساتھ اسکول جاتی ہے۔ جوانی کے ساتھ اٹھلاتی ہے، دھوپ میں جھلستی ہے ۔ برسات میں نہاتی ہے اور وقت آنے پر ناانصافیوں کے خلاف آوازبھی اُٹھاتی ہے‘‘۔

ندافاضلی نے فن کار کی دنیا کے حوالے سے یہ بات کہی تھی کہ ؛ایک ہی دنیا میں فن کار کی دو دنیائیں ہوتی ہیں ایک اسے وراثت میں ملتی ہے دوسری اسے خود تعمیر کرنی پڑتی ہے۔’انہوں نے دوسری  دنیا کی تعمیر کی بلکہ وراثت میں ملنے والی دنیا بھی ان کے لیے عام دنیا نہیں تھی ۔والدین کی ہجرت ،معاشی تنگی اور ان سب سے بڑھ کر ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں میں انہوں نے اپنے لیے اور فن کے لیے ایک دنیا بنائی ۔ان کے فن کی دنیا میں ہر آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی تجربہ موجود ہے ،جس کے ساتھ وہ رو سکتا ہے ،گا سکتا ہے اور باتیں کرسکتا ہے۔صحیح معنوں میں ندافاضلی ہمارے زمانے کے میں ادبی لحاظ سے جتنے اہم شاعر تھے اتنے ہی عوام کے محبوب نظر تھے ۔

شمیم حنفی کے بقول ؛ندا کی شاعری میں اور نثر میں آنکھ ادراک کے بنیادی وسیلے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کنہیا لال کندن نے لکھا کہ؛وہ میری نسل کے ادیبوں میں اردو ہی نہیں ٗایشائی ادبی زبانوں میں عصر حاضر کی آواز ہیں۔’اور وارث علوی کے بقول ؛ جنھیں(ندافاضلی) ایک بار پڑھا تو دوسری بار پڑھنے کی ہوس جاگتی ہے۔’

ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ’ سفر میں دھوپ تو۔۔۔’ ہوگی والی غزل نریندر مودی نے 9 مارچ 2016 کو راجیہ سبھا میں پڑھی تھی۔

مشہور اشعار ملاحظہ کریں؛

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا

ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے

کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا

بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو

چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

بشکریہ

دی وائر اسٹاف


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔