پھنسے ہم رہیں گے


پاکستان جنگ زدہ ملک کے پڑوس میں ہونے کے سبب خارجہ پالیسی میں یکسانیت لانے سے قاصر رہا ہے۔ کیونکہ افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے حالات تبدیل ہوتے رہے ہیں۔بھارت کی جانب سے مسلسل معاندانہ رویہ اور گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان کےبہتر معاشی حالات کے سبب بھارت کوئی نہ کوئی رنگ میں بھنگ ڈالنے والا قدم ضرور اٹھاتا رہتا ہے۔ ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اس المناک کہانی کا موجودہ رخ ہے۔ ورنہ اگر بھارت شروع سے ہوش کے ناخن لیتا تو اب تک برطانوی ہند کی تقسیم کے المناک واقعات کی کڑواہٹ ماضی کا قصہ بن چکی ہوتی۔ بہرحال سردست تو انہی حالات میں پاکستان کی خارجہ حکمت عملی ترتیب دی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی خارجہ حکمت عملی میں قومی سلامتی اور معاشی تحفظ کو بنیادی اساس قرار دیا جا سکتا ہے۔ چین ، امریکہ اور یورپی یونین کا موضوع پھر سہی مگر ابھی افغانستان ، ایران اور عرب دنیا کے حوالے سے ترجیحات کو مختصراً زیر بحث لانا چاہوں گا۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کے فقدان کا ہے ۔ دونوں ممالک کی رائے یہ ہے کہ طرفین مخلص نہیں ہیں۔ اس میں ایک دوسرے پر الزامات کا انبار لگا دینے سے ماضی کا تجربہ ہے کہ کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اگر کچھ وقتی طور پر حاصل ہو بھی جاتا ہے تو وہ ان الزامات کے سایوں سے فرار حاصل نہیں کر پاتا اور نتیجتاً کہیں گم ہو جاتا ہے۔ افغان طالبان سے بات چیت کرنے سے اگر معاملہ کسی سمت بیٹھ سکتا ہے تو اس کو ضرور کر گزرنا چاہیے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ بھی مکمل طور پر افغانستان کے ساتھ ہو۔

نہ کہ کوئی ایک جارحانہ واقعہ سب کچھ ملیا میٹ کر دے۔ افغان طالبان سے مذاکرات کے نتائج کے طور پر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے مراکز قصہ پارینہ بن جانے چاہئیں اور یہ افغان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہونا چاہیے۔ مگر ان سب کے لئے اعتماد سازی کی ضرورت ہے اور بالخصوص پاکستان میں ہر مئوثر عنصر کی پالیسی سازی میں شمولیت وطن عزیز کے لئے بہت اہم ہے۔ ایران سے ویسے تو ظاہر بظاہر تعلقات بہتر ہی ہیں۔

مگر یہ حقیقت ہے کہ اس میں گرمجوشی نہیں پائی جاتی۔ پاکستان اور ایران سرحد پر موجود کچھ شدت پسند تنظیموں کی وجہ سے نالاں ہیں مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ابھی تک دونوں ممالک ان تنظیموں کے حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل ترتیب نہیں دے سکے۔ اور اس فقدان کی وجہ سے کبھی کبھی ریاستی سطح پر بھی خفگی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ان حالات کے باعث پاکستان اور ایران باہمی تجارت کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایران کے بین الاقوامی سطح پر غیر یقینی مراسم بھی پاک ایران تعلقات کے آڑے آتے رہے ہیں۔ مگر بات صرف اتنی سی نہیں ہے۔ راقم الحروف انہی کالموں میں انگنت بار یہ رائے پیش کر چکا ہے کہ پاکستان کو ایران سے بعض معاملات پر لگی لپٹی بغیر گفتگو کرنی چاہیے۔ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ایران کو آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں موجود کسی بھی نوعیت کی تحریک سے حقیقی معنوں میں لا تعلق ہو جائے اور اس کے تعلقات صرف پاکستان کی ریاست سے ہوں بس۔

اس وقت یہ انتہائی بدقسمتی کا پہلو ہے کہ وطن عزیز میں اس نوعیت کی کچھ جماعتیں مصروف کار ہیں جو اپنے آپ کو علی الاعلان پڑوسی ملک کی اعلیٰ قیادت سے جوڑتی ہیں۔ کیا کوئی بھی ملک ایسی سیاسی سرگرمی کی اجازت دے سکتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے آپ کو کسی دوسرے ملک کی قیادت سے براہ راست جوڑے یقینا نہیں تو پاکستان کو بھی اس صورتحال کو ختم کرنا ہو گا۔ اور اس کے لئے بہترین طریقہ کار ایران سے براہ راست بات کرنا ہو گا۔ کیونکہ ریاستی طاقت کے استعمال سے تو یہ معاملہ مزید بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔ سعودی عرب اور عرب دنیا آج کل خود کچھ باہمی تنازعات کے سائے میں جی رہے ہیں اور ہم کوشش کر رہے تھے کہ پرائی آگ میں کود پڑیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان میں اس حوالے سے قومی مفادات کے تحت حکمت عملی اختیار کی گئی حالانکہ سیاسی قیادت کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ بہرحال وہ وقت تو گزر گیا ۔

معاملہ یہاں بھی ایران والا ہی ہے کہ پاکستان میں موجود مختلف گروہوں سے ان عرب ممالک کے تعلقات کو پاکستان کو بالکل برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ اور یہاں بھی دو ٹوک گفتگو کرنی چاہیے۔ ویسے بھی یمن جنگ کی ابتدا میں پاکستان کی جانب سے ٹرخا دینے کے بعد قیمت چکانے جیسے بیانات آنے یا دلوانے کے بعد یہ مزید ضروری ہے کہ ان ممالک کو از سر نو احساس دلایا جائے کہ بس۔ اور تعلقات بھی صرف ریاست پاکستان سے ہی ہونے چاہئیں۔ اگر ابھی بھی پاکستان کی ریاست نے ان معاملات میں اپنے آپ کو آدھا تیتر آدھا بٹیر والی پالیسی کے تحت ہی رکھا اور اس سے کم اہمیت کے مفادات کو حاصل کرنے کی غرض سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیاتو ایران اور عرب ممالک سے تعلقات کے حقیقی ثمرات سے بھی ہم محروم رہیں گے اور ان ممالک کو بھی مطمئن نہیں رکھ پائیں گے۔ پھر اس کے بعد دنیا ہمیں ڈو مور کہے یا ہم دنیا کو ڈو مور کہیں حقیقت یہ ہے کہ پھنسے ہم ہی رہیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔