احمدیوں کی بھیانک سازشیں اور غداریاں۔ ایک چشم کشا داستان


کیپٹن صفدر کا بھلا، کیپٹن صفدر کی خیر۔ کس کو خبر تھی کہ ایسا لعل بدخشاں بھی اپنی گڈری میں ہے۔ سنا تھا کہ بچہ حافظ ہو تو ماں باپ بھی ساتھ بخشے جاتے ہیں۔ کسی نے یہ نہ بتایا کہ قطب دوراں داماد ہو تو جنت میں کیسا محل ملتا ہے۔ مریم بی بی کی جوہر شناس نظر کو داد دینے کو دل کرتا ہے۔ ان کا انتخاب نہ ہوتا تو پارلیمان کا جھومر آج یا لبیک پارٹی کا شریک چئیرمین ہوتا اور بس۔ اب تو اعلی حضرت سرکار ہیں، مرشد ہیں، اسلام کی آن کے محافظ ہیں، مقننہ کا بذات خود ایمان ہیں۔ ابھی تو کپتان صاحب کی تحریک پر اسمبلی میں نعت کو کارروائی کا حصہ بنانے کا احسان ہی قوم اتار نہ پائی تھی کہ یہ خلق شگاف تقریر بھی پارلیمانی کارروائی کا حصہ بن گئی۔ حتی المقدور سرکاری بنچوں پر داد دی گئی اور اپوزیشن ٹک ٹک دیدم بیٹھی رہی۔ جن کے نصیب کی بارشیں تھیں وہ کہیں اور برس گئیں۔ تقریر کے بعد پارلیمان کے کوریڈور میں بھی ورد ممتاز قادری اور عامر چیمہ سے ایمان مزید تازہ ہوا۔

عزت مآب نے کچھ حوالے دیے، کچھ اشارے کیے اور کچھ باتیں کنایے میں کہہ گئے۔ وقت بھی دامنگیر تھا اور شاید کچھ مصلحتیں اب بھی پیروں سے لپٹی تھیں کہ کھل کر انہوں نے اس غدار امت اور غدار ملت قبیلے کی مکمل تاریخ بیان نہ کی، بس اتنا کہہ کر رہ گئے کہ ایسوں پر اعتبار کیونکر ممکن ہے۔ قوم کو ولی دوراں کی بات پر شک کرنا تو نہیں چاہیے پر کچھ بقراطی خواہ مخواہ کے سوال اٹھا رہے ہیں۔ وقت ہے کہ ایسے گستاخوں کا منہ بند کر دیا جائے اور اگر پھر بھی بند نہ ہو تو گستاخی کی سزا تو در رضویہ سے روز نشر ہوتی ہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کتنوں نے بتایا ہے کہ احمدیوں کی غداری اور سازشوں کی داستان طولانی ہے پر اب تک کسی نے یہ داستان مرتب نہیں کی۔ ہم نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ اعزاز بھی کپتان صاحب کے سر سجے، ہم بھی اس کار خیر میں شریک ہو جائیں تو پیش ہے مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ احمدی قبیلے کے جرائم کی فہرست۔ اس کا مطالعہ کیجیے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ داماد اول کے مطالبات میں ایسا کیا غلط تھا

1۔ 1857 کی جنگ آزادی کامیاب ہو جاتی اور انگریزوں کا بستر گول ہو جاتا اگر مرزا الہی بخش امت مغلیہ کے ساتھ غداری نہ کرتے۔ حال ہی میں ہونے والے ایک ڈی این اے تجزیے سے یہ پتہ لگا ہے کہ مرزا الہی بخش اور مرزا غلام احمد ایک ہی شجر سے پیوستہ تھے۔ اور کیا ثبوت چاہیے کہ قادیانیت انگریزوں کا لگایا ہوا پودا ہے

2۔ 1914 میں چھڑنے والی پہلی جنگ عظیم میں بھی عرب اور ترک مخاصمت کا بیج بونے والا خاندان درپردہ قادیانی مسلک سے متاثر تھا۔ وہ الگ بات کہ قادیانیت کے عالمی منظر نامے پر آنے میں ابھی کچھ سال باقی تھے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ شریفوں کا یہ خاندان آج بھی ایک عرب ریاست میں حکمران ہے۔ اس جنگ میں انہی کی وجہ سے خطے کی معصوم جانیں جنگ کا ایندھن بن گئیں

3۔ 1941 میں دوسری جنگ عظیم میں احمدی جاگیرداروں نے انگریز وفاداری نبھاتے ہوئے ہزاروں لوگوں کو جبری اتحادی افواج میں بھرتی کروایا اور اس کے بدلے خوب خوب زمینیں سمیٹیں۔ ان میں سے کچھ خاندان اب بھی مملکت پاکستان کے ستون ہیں۔

4۔ 1937 سے 1942 تک احمدیہ تحریک کی حمایت سے یونیینسٹ پنجاب میں حکمران رہے اور مسلمانوں کی سچی نمائندہ جماعت مسلم لیگ کا راستہ مسدود رہا۔

5۔ احمدی رہنماؤں نے تحریک پاکستان کی ڈٹ کے مخالفت کی۔ مسلم لیگ میں پھوٹ پڑوانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پاکستان کے قیام کو گناہ عظیم قرار دیا۔ قائداعظم کو کافر اعظم کے خطاب سے نوازا۔ 1943 میں ایک احمدی نے قائداعظم پر قاتلانہ حملہ بھی کیا پر کوئی سازش مسلمانان ہند کے اجتماعی عزم کو متزلزل نہ کر سکی اور پاکستان ایک حقیقت بن گیا۔ بعد ازاں یہی احمدی رہنما جو قائداعظم کو کافر اعظم کہتے تھے، منافق بن کر انہیں اپنا ہیرو کہنے لگے۔

اسی بارے میں: ۔  امن پسندوں کے خلاف بھارت اور پاکستان کی جنگ

6۔ 1946 سے 1948 تک کے عرصے میں احمدی عربوں نے ایک سازش کے تحت اپنی زمینیں اونے پونے داموں یہودی مہاجرین کو فروخت کر ڈالیں۔ مسلمان عرب شور مچاتے رہے پر کسی نے طوطی کی نہ سنی۔ اس طرح یہودیوں کو سرزمین عرب میں اپنے پیر جمانے کا موقع ملا اور 14 مئی 1948 کو اسرائیل کا خنجر عرب سینے میں پیوست ہو گیا۔ انہی خدمات کے صلے میں احمدی کمیونٹی کو اسرائیل میں آج بھی خصوصی پروٹوکول حاصل ہے۔

7۔ 1948 کو احمدیوں نے شمال مغربی سرحدی صوبے میں فسادات کا ڈول ڈالا جس کو کچلنے کے لیے عبدالقیوم خان کو بھابڑہ میں گولی چلانی پڑی۔ ہزار بارہ سو کی لاشیں گریں تو فسادات کا منصوبہ خود ہی دم توڑ گیا اور عوام کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ رہی

8۔ 1953 میں پھر فسادات کا منصوبہ بنا۔ اس دفعہ احمدی منظم تھے اور ان کی قیادت ان کی پشت پر کھڑی تھی۔ لاہور کی سڑکوں کو سینکڑوں کے خون سے نہلا دیا گیا۔ فساد کا زور توڑنے کے لیے بالآخر گورنر جنرل غلام محمد کو لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑ گیا۔ کئی سرکردہ فسادی گرفتار ہوئے۔ ان پر قتل کے مقدمات قائم ہوئے۔ موت کی سزا بھی سنا دی گئی پر امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ پر سب کو معافی مل گئی۔ آنے والے کئی عشروں تک یہ معافی شدہ پاکستان کے سینے پر مونگ اور باقی جملہ دالیں دلتے رہے۔

9۔ 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی برطرف کی تو مولوی تمیز الدین نے عدلیہ سے امیدیں باندھ لیں پر ایک پرو احمدی جج نے ان کی تمناؤں کا خون کرتے ہوئے نظریہ ضرورت کا طوق ہمیشہ کے لیے پاکستانی جمہوریت کے گلے میں ڈال دیا۔ ان سے اختلاف کا حوصلہ ہوا تو ایک صاحب ایمان جسٹس کارنیلئیس کو، پر احمدی لابی کی وجہ سے ان کی آواز دبا دی گئی

10۔ 1954 میں احمدیوں کی ایما پر ایک جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اسی جرنیل نے ملک و قوم کی تمناؤں کا مزید خون کرتے ہوئے 1965 میں ایک بوگس صدارتی انتخاب کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناح کو اقتدار سے محروم رکھا۔ مسلمانوں کی بددعاوں کو رنگ لاتے ایک عشرہ بیت گیا تب کہیں یہ رسوا ہو کر ایوان اقتدار سے رخصت ہوا پر جاتے جاتے اقتدار پھر ایک ایسے جرنیل کو سونپ گیا جسے درپردہ احمدیوں کی آشیرباد حاصل تھی

11۔ اگست 1965 میں جنرل اختر حسین ملک کے شاندار آپریشن جبرالٹر منصوبے کو بھی فوج کے احمدی عناصر نے سبوتاژ کر ڈالا اور کشمیر فتح کرنے کا سنہری موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ جنگ میں بھی ہم جیت رہے تھے کہ ہمارے انہی فیلڈ مارشل نے احمدیوں کے بہکائے میں آ کر تاشقند میں دھان پان سے شاستری کے آگے گھٹنے ٹیک کر سیز فائر کر لیا جن کا ذکر پہلے آ چکا ہے

12۔ 1971 میں احمدیوں نے سازش کر کے مشرقی پاکستان میں دھونس اور دھاندلی سے شیخ مجیب کو انتخابات جتوائے۔ پھر جنگ چھڑی اور ہم جنگ میں فتحیاب ہونے کو ہی تھے کہ احمدیوں کے ایک اور پسندیدہ جرنیل نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال کر قیامت تک قائم رہنے والے پاکستان کے دو ٹکڑے کروا دیے۔ قیامت کا بھی تھا گویا کوئی دن اور۔

13۔ 1974 میں بالآخر احمدیوں کو اقلیت قرار دیا گیا۔ احمدی بھٹو کی پارلیمنٹ کے اس اقدام سے سخت آزردہ ہوئے اور جلد ہی 1977 میں انہیں اپنے انتقام کا موقع مل گیا۔ ملک بھر میں ایک پر تشدد تحریک نظام احمدیہ برپا کی گئی جس کا نشان پورا چاند تھا۔ درجنوں معصوم جانیں گئیں۔ مارشل لاء لگا اور احمدیوں کی ایماء پر ایک کمزور مقدمہ چلا کر بھٹو کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ پہلے ایک جج مشتاق حسین نے بھٹو کو موت کی سزا سنائی پھر ایک اور جج انوار الحق نے سپریم کورٹ میں اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان ججوں کے پیچھے کون سی لابی تھی۔ ایک راسخ العقیدہ جج دراب پٹیل سے ہمت پا کر دو اور ججوں نے فیصلے سے اختلاف کیا پر چار تین کی اکثریت سے1979 میں بھٹو تختہ دار پر لٹکا دیے گئے اور امت مسلمہ کے اس بطل عظیم سے اس طرح احمدیوں نے اپنا انتقام لے لیا

اسی بارے میں: ۔  سندھ کی سیکولر ثقافتی مزاحمت

14۔ 1981 میں عدلیہ کو PCO پر حلف دلوایا گیا۔ کسی احمدی جج نے چوں نہیں کی۔ نہ کرنے والوں میں پھر وہی امت مسلمہ کا درخشاں ستارہ دراب پٹیل سر فہرست تھا

15۔ احمدیوں کی نمائندہ جماعتوں نے جرنیل کے دور میں پر پرزے نکالے۔ پاکستان سے آگے بڑھ کر اب انہوں نے تصوراتی گہرائی کے نام پر افغانستان میں اپنی سازشوں کا جال بچھا دیا۔ احمدی رہنما خود تو جہاد پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن پاکستانی بھولے بھولے مسلمان بچوں کو انہوں نے افغان جہاد کے نام پر گمراہ کر کے اپنے مربی امریکا سے خوب مال کمایا۔ ان کی مہربانی کے طفیل پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئین گھر گھر کی کہانی بن گئی۔

16۔ ابھی یہ کام چلتا رہتا کہ جرنیل صاحب ایک حادثے میں چل بسے۔ پر احمدی اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہ آئے۔ کسی بھی نمائندہ حکومت کو انہوں نے دو ڈھائی سال سے زیادہ چلنے نہ دیا حتی کہ 1999 میں ایک دفعہ پھر جمہوریت کا ڈبہ گول ہو گیا اور ایک اور جرنیل صاحب کا آفتاب اقتدار کے آسمان پر چمکنے لگا۔ احمدیوں نے ایک غیر متحدہ مجلس برائے علم بنائی اور جرنیل صاحب کی خدمت تن من دھن سے بجا لائے۔ ان کا سہارا نہ ہوتا تو جرنیل نو سال کبھی نہ گزار پاتا

17۔ جرنیل کے دور میں ایک طرف تو احمدیوں کی ایک تنظیم ان کے ہاتھ مضبوط کرنے میں جٹی تھی وہیں ایک گہری سازش کے تحت دوسرے دھڑے ملک میں انتشار کی نئی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ اس دھڑے نے اسلام آباد میں احیائے قادیانیت کی تحریک برپا کر ڈالی۔ جرنیل کو یہ تحریک ایک آنکھ نہ بھائی اور اس نے سختی سے اسے کچل ڈالا۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اس کو بہانہ بنا کر احمدی ایک سیاہ جھنڈے کے تحت منظم ہو گئے اور تحریک طاغیان پاکستان کا ڈول ڈال دیا گیا۔ غیر متحدہ مجلس علم بھی درپردہ ان کے ساتھ ملی رہی اور ملک میں تشدد اور خونریزی کا ایک سیلاب آ گیا۔

18۔ احمدیوں کی سازشوں کے نتیجے میں مسلح دھڑوں نے ریاست سے بغاوت کرتے ہوئے سوات، وزیرستان اور دیگر قبائیلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے مستحکم کر لیے۔ نہتے شہری تہہ تیغ کر دیے گئے۔ آج کئی برس گزرنے کے بعد بھی یہ عفریت قابو نہیں آ سکا اور ستر ہزار سے زائد پاکستانی اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں

19۔ احمدیوں نے عبادت گاہوں کو بھی نہیں بخشا۔ لاہور میں ایک بڑی عبادت گاہ پر حملے میں سو سے زائد عبادت گزار مار دیے گئے اور احمدی میڈیا میں لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ یہ تو عبادت گزاروں کے ساتھ ہونا ہی تھا۔ یہ ان کی اپنی ریشہ دوانیوں کی سزا ہے۔ ناطقہ سر بگریباں رہا

20۔ جرنیل کے ہی دور میں انکشاف ہوا کہ احمدی لابی کے بہکانے پر ایک سائنس دان نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے سودے شمالی کوریا اور ایران سے کر ڈالے ہیں۔ اقوام عالم میں اس بزعم خود سائنسدان کی اس حرکت سے پاکستان کی انتہائی سبکی ہوئی

21۔ ان گزرے سالوں میں جرنیل کو بالآخر رخصت ہونا پڑا۔ جمہوریت کا ننھا پودا ابھی تھوڑا قدآور ہوا ہی تھا کہ احمدی پانامہ کے ساحلوں سے ایک نیا پینڈورا کا صندوق اٹھا لائے۔ ایک کے بعد ایک حملہ ایسا ہوا کہ تقریبا امیرالمومنین میاں نواز شریف کو محل اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔ کل ہی کی تو بات ہے

تو بھائی اب بھی جس کو احمدیوں کی معصومیت پر اصرار ہے وہ جا کر اپنی بھینس چرائے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
نوٹ: یہ ایک طنزیہ تحریر ہے۔ اس میں الفاظ کے لغوی کی بجائے معنوی مفہوم پر غور کرنا ہو گا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 94 posts and counting.See all posts by hashir-irshad