لڑکوں کا احتجاج کا حق تو بنتا ہے


چند روز پہلے پشاور کی ایک نجی یونیورسٹی میں تقسیم اسناد کی تقریب ہوئی جس کے مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا ظفر اقبال جھگڑا تھے۔ کیونکہ گورنر تمام یونیورسٹیوں کے چانسلر ہوتے ہیں اس لئے گورنر کو لازمی مہمان خصوصی بنایا جاتا ہے حتی کہ اُس کی دی ہوئی تاریخ پر تقسیم اسناد کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ان تقریبات میں بلکہ تمام تقریبات میں لڑکیوں کو بطور خاص اگے بٹھایا جاتا ہے تاکہ میڈیا میں کوریج ہو سکے جو کہ اج کل ایک ضرورت بن گئی ہے کیونکہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ مذکورہ یونیورسٹی میں بھی یہی کچھ ہوا۔ جب تقسیم اسناد کی باری آئی تو لڑکیاں سب سے آگے تھیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں اسناد تقسیم کی گئیں مگر اخبارات میں ڈان ، نیوز، نئی بات وغیرہ سب میں لڑکیوں کی تصاویر شائع ہوئیں جن کو گورنر خیبر پختونخوا ڈگریاں دے رہے تھے۔ اُن میں سے ایک بھی لڑکے کی تصویر میڈیا میں نہیں آئی۔ بلکہ ایک صحافی دوست کے بقول جب لڑکوں کو ڈگریاں دی جارہی تھیں تو اُس وقت اخبارات کے فوٹوگرافرز کو باہر نکالا گیا تھا۔ اب فوٹو گرافر باہر کیسے گئے انہیں کیا لالچ دیا گیا تھا؟ یہ ایک الگ بحث ہے۔ عموما لڑکیوں کے معاملے میں ایسا کیا جاتا ہے کہ بعض اداروں میں فوٹوگرافرز کو کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکیوں کی ویڈیو اور تصاویر نہ بنائیں مگر یہاں الٹ کیا گیا۔ لڑکوں کے وقت انہیں چلتا کردیا گیا۔ جو کہ ان لڑکوں کے ساتھ زیادتی ہے اور اس پر لڑکوں کا احتجاج کرنے کا قانونی حق بنتا ہے مگر ان کے لئے کوئی تنظیم نہیں جو کہ ان کے حق میں آواز اُٹھا سکے خیر سے کچھ صحافی دوستوں نے دوسرے دن سوشل میڈیا پر یہ ایشو ہائی لائیٹ کیا مگر کوئی ٹرینڈ نہیں بن سکا۔۔

 دیکھا جائے تو میڈیا میں لڑکی اور عورت کے بغیر کوئی بھی چیز نہیں بکتی اور پھرتعلیمی ادارے اس دوڑ میں کہاں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ انہیں تو بہت زیادہ میڈیا مارکیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے وہ ہر ممکن اقدامات کرتے ہیں۔ اس ادارے میں بھی یہی کچھ ہوا۔ لڑکیوں کی تصاویر میڈیا کو شائع کرنے کے لئے ریلیزکی گئیں جبکہ لڑکوں کو اگنور کر دیا گیا کیونکہ ان اداروں کو بھی پتہ ہے کہ لڑکوں کی تصویروں کو کوئی جگہ نہیں دیتا۔ اگر لڑکیوں کی تصاویر ہوتی ہیں تو وہ ضرور بہ ضرور جگہ پاتی ہیں۔

اگر سوچ کی گرہیں کھول دی جائیں تو تاثر بات سامنے آتی ہے کہ لڑکیاں اور خواتین میڈیا کی ضرورت بن گئی ہے ان کے بغیر یہ نہیں چل سکتے کیونکہ ریٹنگ کا زمانہ ہے اور انسان پیدائشی خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اس لئے میڈیا پر بھی خواتین کا چھا جانا لازمی امر ہے۔ جب صحافت کا حصہ تھے تو ہم نے دیکھا تھا ہمارے دوست خواتین کے پروگراموں کو شوق سے کور کرنے جاتے تھے اور فوٹوگرافر حضرات تو ادارے کے اُس پروگرام میں موجود ہوتے جہاں خواتین ہوتیں۔ اور وہاں رپورٹرز کو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا کیونکہ لوگوں کو خبر سے زیادہ تصویر شائع کرنے میں دلچسپی ہوتی ہے۔ آپ کسی بھی پروگرام کو دیکھیں یا اخبارات کے پیجز اٹھا کر دیکھیں آپ کو نظر آئے گا کہ خواتین کو ہی ہائی لائیٹ کیا ہو گا۔ جہاں خاتون کی ضرورت نہیں ہوگی وہاں بھی خاتون موجود ہوگی کیونکہ اس سے مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ اور یہ پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں ہورہا ہے۔ کہ خواتین کو شوپیس کے طور پر پیش کرکے کروڑوں کمائے جا رہے ہیں۔

اداروں میں جب کوئی فنکشن منعقد کیا جاتا ہے تو خواتین کو بطور خاص بلایا جاتا ہے جو وہاں کام کرتی ہیں۔ اور ان کو ہمیشہ پہلی رو میں مہمان خصوصی کے سامنے بٹھایا جاتا ہے جہاں سے وہ پرامینینٹ ہو کر نظر اکرمحفل کو چار چاندلگائیں۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں ہسپتال میں پروگرام ہوتا ہے تو مہمان خصوصی پر پھول نچھاور کرنے کے لئے لڑکیوں کوہی آگے رکھا جاتا ہے۔ جب میں طالبات اور نرسیں شامل ہوتی ہیں۔ بطور خاص خوبصورت چہروں کو سامنے رکھا جاتا ہے جن کو عشر کا نام دیا جاتا ہے۔ تاکہ محفل میں خوبصورتی ہو۔ میڈیا والے جب کوریج کےلئےآتے ہیں تو زیادہ ساٹ خواتین کے لئے جاتے ہیں کیونکہ رپورٹ بنانے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر رپورٹ میں لڑکی موجود ہے تورپورٹ چلےگی ورنہ نہیں۔ اس کے لئے رپورٹرز اداروں میں جاکر یہی ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ ہمیں لڑکیوں کے انٹرویوز کرنے ہیں تاکہ رپورٹ چل سکے۔

 کچھ عرصہ کے لئے سرحد یونیورسٹی میں میڈیا کی ذمہ داری میرے کندھوں پر تھی تو ہم نے محسوس کیا کہ ہمارے ادارے کی تصاویر اخبارات میں نہیں شائع ہورہی تھیں تب ایک صحافی دوست نے مشورہ دیا کہ اگر میڈیا میں کوریج چاہئیے تو تصاویر لڑکیوں کی اخبارات کوبھیجا کریں لازمی امرہے کہ وہ اخبارات میں شائع ہوں گی اور یہ نسخہ کیمیا ثابت ہوا۔ خبر نہ بھی ہوتی تو تصویر لازمی ہوتی۔ آپ آج کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں پیج ٹو پر جائیں کہیں نا کہیں کسی ادارے کی تصویر لگی ہوگی وہ سرکاری یونیورسٹی کے کسی تربیتی ورکشاپ کی ہوسکتی ہے جس میں مہمان خصوصی کے ساتھ خواتین لازمی ہونگی اور وہی تصویر اخبار کی زینت بنی ہو گی۔ میرے صحافی دوستوں کا اعتراض بجا ہے کہ لڑکوں کو توجہ نہیں دی جاتی تومجھے وہ ایک جواب دیں کیا وہ اپنے رپورٹ میں لڑکی کا ویو لازمی نہیں لیتے تاکہ ان کی رپورٹ چل سکے؟ کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان خواتین کی وجہ سے خوبصورتی ہے اور میڈیا کا کاروبار چمکتا ہے۔ اس لئے انہیں اخبارات میں جگہ دی جاتی ہے۔ کیونکہ یہی یوزز اینڈ گراٹیفیکیشن تھیوری ہے کہ لوگ میڈیا کو متاثر کرتے ہیں تب میڈیا انہیں وہ چیز دکھاتی ہے۔۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔