جمہوریت پر ریفرنڈم کی ضرورت


اٹھارہ برس پہلے آج ہی کے روز ایک سیاہ رات نے اس ملک کو اپنی آغوش میں لیا تھا اور پاک فوج کے برطرف شدہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیراعظم نواز شریف پر طیارہ اغوا کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ نواز شریف گرفتار ہوئے اور متعدد الزامات میں قصور وار ٹھہرائے گئے جبکہ عدالت عظمیٰ نے آئین سے بدعہدی کرنے والے فوجی کمانڈر کو اعزاز بخشا۔ نہ صرف اس کے اقدام کو درست قرار دیا گیا بلکہ انہیں تین سال تک آئین میں من چاہی ترامیم کرنے کا حق بھی دے دیا گیا۔ اس طرح تقریباً ساٹھ سال پہلے 7 اکتوبر 1958 کی رات کو ملک میں عوامی حاکمیت کے خلاف فوجی و عدالتی قیادت کے درمیان جس گٹھ جوڑ کا آغاز ہوا تھا، وہ جاری رہا۔ پاکستان میں ہر فوجی حکومت ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور اس کے معزز ججوں کی کم ہمتی کا منہ بولتا ثبوت رہی ہے۔ نہ تو فوج نے آج تک اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے 4 سابق سربراہان نے آئین کی خلاف ورزی کرکے غیر قانونی و غیر اخلاقی اقدام کیا تھا اور نہ سپریم کورٹ یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ اب ’’نظریہ ضرورت‘‘ کو دفن کر دیا گیا ہے۔۔۔ یہ اعتراف کر سکی ہے کہ ماضی میں قانون و آئین سے ماورا اس نظریہ کو ایجاد کرکے اور اس کے سہارے ملک کے عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنے کی توثیق کرکے سپریم کورٹ بار بار اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی کی مرتکب ہوئی تھی۔ اس بھیانک پس منظر کے باوجود آج جمہوریت پھر ان ہی دونوں اداروں کے رحم و کرم پر ہے اور سیاستدان کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
اس خطے کے عوام نے ایک سیاسی قیادت کی حمایت میں اپنی جمہوری رائے کا اظہار کرکے پاکستان بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو فطری تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ ملک ایک متفقہ آئین کے تحت عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندوں کے ذریعے ہی آگے بڑھے گا۔ اسی لئے ملک میں بار بار فوجی بغاوت کے باوجود عوام نے ہمت نہیں ہاری اور غیر منتخب اور غیر آئینی فوجی حکومتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جمہوریت کے تسلسل کےلئے جدوجہد جاری رکھی۔ اس جہدوجہد میں سینکڑوں لوگوں نے جان کی قربانی دی اور ہزاروں لوگ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن ملک کے عوام کے دلوں سے جمہوری نظام پر یقین کمزور نہیں کر سکے۔ تاہم اب لگتا ہے کہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ 60 برس میں 30 سال حکومت کرنے کے باوجود فوج بدستور ملک کا مقبول ترین ادارہ ہے۔ اسے یہ مقبولیت صرف سرحدوں کی حفاظت کرنے اور آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے کی وجہ سے حاصل نہیں ہے۔ بلکہ اس مقبولیت کی ایک وجہ یہ بنا دی گئی ہے کہ ’’بدعنوان اور ملک دشمن‘‘ سیاستدانوں سے صرف فوج ہی ملک کو بچا سکتی ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کےلئے یعنی عوام کا جمہوریت پر ایمان اور یقین کمزور کرنے کےلئے فوجی اداروں نے تسلسل سے کام کیا ہے۔ ملک کے مذہبی گروہوں اور میڈیا کے بہت بڑے حصہ نے اس پراسرار سرگرمی میں عوام کی ذہنی تربیت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ آزادی اظہار اگرچہ جمہوریت کا بنیادی اصول ہے اور جمہوری نظام ختم ہونے کی صورت میں سب سے پہلا وار آزادی اظہار اور خبروں کی آزادانہ ترسیل پر ہی کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں ایسے دانشور صحافی موجود ہیں جو جمہوریت کے مقابلے میں فوج کی قوت اور اعتبار میں اضافہ کا سبب بنتے رہے ہیں۔
بلا شبہ اس عمل میں سیاستدانوں کی بدعنوانی، نااہلی، مصلحت کوشی اور ہوس اقتدار نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ملک میں جمہوریت اور عوام کے حق انتخاب کو مشکوک بنانے کا مقصد صرف سیاستدانوں کی کمزوریوں کی وجہ سے حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ اس کےلئے ضروری تھا کہ ملک کے عوام کو یقین دلایا جائے کہ وہ جس ووٹ کو اہم سمجھتے ہیں اور جس کی طاقت سے ملک میں حکومتیں قائم یا تبدیل ہوتی ہیں، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس نظریہ کو راسخ کرنے کےلئے ایک طرف عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ سیاستدان مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جو ووٹ لے کر حکومت تو بناتا ہے لیکن عوامی بہبود کے کام کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اس کی بجائے وہ اپنی حیثیت اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے صرف اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تاثر کو پختہ کرنے کےلئے تسلسل سے سیاستدانوں کی بدعنوانیوں کی المناک کہانیاں عوام تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ان کہانیوں کو ابھی تک کسی سیاستدان کے خلاف کسی عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکا لیکن برس ہا برس کی پیہم مشقت کی وجہ سے اب یہ سوال اٹھانے ہی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ اگر سیاستدان بدعنوان ہیں تو ان کے خلاف الزامات ثابت کیوں نہیں ہوتے۔ اگر کہیں سے ایسا ’’غیر ضروری‘‘ سوال سامنے آ جائے تو اس کا یہ مستک جواب ازبر کروا دیا گیا ہے کہ جو سیاستدان ووٹ لے کر اقتدار سنبھالتے ہیں، وہ پورے نظام کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں۔ اس لئے ملک کا عدالتی نظام ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس طرح عوام کو یہ پختہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ خواہ کسی پارٹی یا لیڈر کو ووٹ دے لیں، برسر اقتدار آنے کے بعد وہ سب ایک ہی رویہ اختیار کریں گے۔ گویا عوام کے پاس بہتر و متبادل کا راستہ ہی موجود نہیں ہے جو جمہوریت کی بنیاد بھی ہے۔ اس مسلسل پیغام سے جو مایوسی، بے چینی اور خوف پیدا ہوتا ہے، وہ اس وقت پاکستان کے گلی کوچوں میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے جمہوریت پر زیادہ خطرناک وار اس تاثر کو راسخ کرنے کی صورت میں کیا جا رہا ہے کہ ملک میں فیصلے نہ تو پارلیمنٹ کرتی ہے اور نہ ہی منتخب حکومت بلکہ یہ تو محض لاچار ادارے ہیں۔ اصل فیصلہ فوج کے ادارے کرتے ہیں۔ وہیں کہیں خفیہ در و دیوار کے پیچھے کوئی ’’اسکرپٹ رائٹر‘‘ موجود ہیں جو ہمہ وقت یہ تحریر کرنے میں مصروف رہتے ہیں کہ آئندہ اس ملک میں کیا ہونے والا ہے۔ وہی یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا سیاستدان یا سیاسی پارٹی انتخابات جیت سکتی ہے اور کون سا لیڈر اب ناپسندیدہ قرار پا کر راندہ درگاہ ہو چکا ہے اور اسے ووٹ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انتخابی نتائج پر عوام کا اعتبار ختم کرنے کےلئے تواتر سے یقین دلوایا جاتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی جاتی ہے۔ اگر سیاستدانوں کو معتوب کرنا مقصود ہو تو یہ نعرہ بلند ہوتا ہے کہ کسی خاص سیاسی گروہ یا پارٹی نے دھاندلی کا اہتمام کرنے کےلئے پورا نظام اغوا کر لیا تھا اور اگر ووٹ کی حیثیت اور لوگوں کے حق انتخاب کو مشتبہ بنانا مطلوب ہو تو بتایا جاتا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کس کو ووٹ دیتے ہیں۔ آخر میں نتیجہ تو وہی برآمد ہوگا جو ’’اسکرپٹ رائٹر‘‘ نے پہلے سے مرتب کر دیا ہے۔ یعنی اس سیاسی پارٹی یا سیاستدان کو حکومت بنانے کےلئے ’’منتخب‘‘ کروایا جائے گا جو پیا من بھاتا ہوگا۔ تاہم یہ حیرت کی بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے یہی چہیتے منتخب ہونے کے بعد ایسی سول حکومت بنانے میں کیوں کر کامیاب ہو جاتے ہیں جو مسلسل ملٹری اختیار کو چیلنج کرتی ہے یا اس کے منصوبہ کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ اس صورتحال میں اس سوال اور اس کے جواب کو بھی غتربود کر دیا جاتا ہے کہ اگر یہ خفیہ اور پراسرار اسکرپٹ رائٹر یا اسٹیبلشمنٹ اس قدر بااختیار اور طاقتور ہے تو الزام سیاستدانوں پر کیوں عائد ہوتا ہے۔ اور پھر یہ کیسے ممکن ہو جاتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ منتخب ہو جاتے ہیں جو نظریہ پاکستان سے لے کر ملک کی سلامتی تک کےلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔
ووٹ کی اہمیت پر سے یقین ختم کرنے کےلئے یہ بھی طے کروا لیا گیا ہے کہ لوگوں کی رائے سے پہلے بعض ایسے اصول ہیں جن پر نہ تو رائے دی جا سکتی ہے اور نہ ہی انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حیرت انگیز طور سے یہ اصول غیر واضح ہیں اور ان کے معانی پر اختلافات موجود ہیں۔ لیکن وہ بہرحال ریاست اور ملک کی بقا کی بنیاد بن چکے ہیں۔ ان میں نظریہ پاکستان کو اولیت حاصل رہی ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس نظریہ کے حوالے سے چونکہ کئی ٹھوس متبادل تفاہیم سامنے لائی گئی ہیں، اس لئے اب نظریہ پاکستان کو ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ سے اسلام سے محبت اور اب ختم نبوت پر ایمان سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ملک میں کون ایسا بدبخت ہوگا کہ وہ جمہوریت کےلئے اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنے کا حوصلہ کر سکے۔ خاص طور سے جب ایسا اختلاف کرنے کی صورت میں صرف سرفروشان اسلام کے ہاتھوں جان ہی کو خطرہ لاحق نہ ہوتا ہو بلکہ اسے ملک دشمن یا اسلام کے خلاف سازش کا حصہ قرار دے کر اچانک غائب کرنے کا اندیشہ بھی لاحق رہتا ہے۔ اس طرح اس ساری بحث کو سمیٹ کر کمال مہارت سے اس نکتہ پر اکٹھا کر دیا گیا ہے کہ ملک میں نظریہ پاکستان، اسلام اور ختم نبوت کی محافظ اب صرف فوج ہی ہے۔ سیاستدانوں پر اس حوالے سے اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت کی بنیادیں ہلانے اور فوج کو قوت بخشنے کےلئے اس سے موثر ہتھکنڈہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے ڈی جی آئی ایس پی آر بھی برملا خود کو ’’بنیاد پرست‘‘ قرار دیتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ فوج ختم نبوت کے اصول پر آنچ نہیں آنے دے گی۔
تو کیا عجب ہے کہ ملک کے سیاستدان جوابی وار کرنے کےلئے فوج اور اعلیٰ عدالتوں کے دروازے ان سب لوگوں پر بند کرنے کی بات کرتے ہیں جو ختم نبوت پر مکمل ایمان لانے کا حلف نامہ جمع کروانے سے قاصر ہوں۔ اس کھینچا تانی میں البتہ سیاستدان خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ انہیں مسلسل دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں عوام میں جمہوریت کے خلاف رائے مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔ اس وقت ملک کی جمہوری حکومت اور ادارے یوں کام کر رہے ہیں کہ ہر زبان پر یہ سوال ہے کہ ملک کا اصل حکمران کون ہے۔ تو دست بستہ عرض کی جا سکتی ہے کہ اس قضیہ کو نمٹانے کےلئے جمہور کے ووٹ سے بنے اس مک میں عوام سے ہی پوچھ لیا جائے کہ انہیں جمہوریت درکار ہے یا ملک کا وجود۔ ماضی کے تجربہ کی روشنی اور مسلسل کی گئی کوششوں کے نتیجہ میں اس بات کی قوی امید رکھنی چاہئے کہ ایسے ریفرنڈم کا نتیجہ بھی حسب توقع ہی سامنے آئے گا۔

اسی بارے میں: ۔  بلاتخصیص احتساب کے لئے یکساں سزا ضروری

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 688 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali