فی الحال فوج اور عدلیہ کے احتساب کا ارادہ نہیں


حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن ایک نئے احتساب کمیشن کی تشکیل کے لیے کوشش کر رہی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس نئے کمیشن کے تحت فوج یا عدلیہ کو لانے کا ابھی کوئی امکان نہیں۔ اعدادی برتری کے باجود حکومت اس کمیشن کے مجوزہ بل کو بلڈوز کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور کہتی ہے کہ جب تک اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق نہیں ہوتا اسے منظور نہیں کروایا جائے گا۔

یہ نیا احتسابی عمل ہے کیا؟ کیا کوئی نئی سیاسی کھچڑی پک رہی ہے؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے اور ان کے بچوں کے اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کی بھی روز احتساب عدالتوں میں پیشیوں سے عوام کی حد تک چند لوگوں کو بعض بڑی شخصیات کا احتساب ہوتا اب محسوس ہونے لگا ہے۔ گلی کوچے میں بات کریں تو عام آدمی کو یہ دیکھ کر تسلی ہو رہی ہے کہ بڑی مچھلیوں سے ماضی کے برعکس اب حساب مانگا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2013 سے اس سال مارچ کے چار سالہ دور میں 1200 سے زائد مقدمات کی نیب نے تحقیقات کیں اور 36 ارب روپے سے زائد کی رقم سرکاری خزانے میں واپس لائی۔ چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ مقدمات اسلام آباد اور پنجاب میں یعنی 581 رہے۔ حکومت نے گذشتہ دنوں پارلیمان کو بتایا کہ حساس معاملے ہونے کی وجہ سے یہ مقدمات کن کے خلاف ہیں ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔

لیکن بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اب جب خود بڑی سیاسی شخصیات موجودہ احتساب کے عمل سے گزرنے لگی ہیں تو انھیں اس میں کمزوریاں بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 2013 سے ایک نئے احتساب کے قانون کی تیاری میں مصروف ہے اور حالیہ صورتحال سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  قوم پر زوال کیسے آیا؟

وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر ظفر اللہ خان نے بی بی سی اردو سے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ احتسابی اصلاحات کے لیے پارلیمان نے کل جماعتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے اب تک 13 اجلاس ہوچکے ہیں۔

’سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے موجودہ احتساب کا ظالمانہ قانون 1999 میں بنایا تھا تاکہ نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کو پکڑ سکیں۔ پھر اس میں اتنی ترامیم ہوئی ہیں کہ یہ کافی مسخ ہو چکا ہے۔ ہماری کوشش تھی کہ اسے بہتر بنایا جائے‘۔ نئے کمیشن کی نوک پلک پر ابھی سیاسی جماعتوں کے اندر بحث جاری ہے لیکن ماسوائے پیپلز پارٹی کے دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوج اور عدلیہ کو اس کمیشن کے تحت لانے کا فی الحال ارادہ نہیں ہے۔

بیرسٹر ظفر اللہ کہتے ہیں کہ ‘اس وقت تک کے مسودے میں فوج اور عدلیہ شامل نہیں ہیں۔ ایک سیاسی جماعت نے تجویز دی ہے کہ ہونا چاہیے۔ تاہم ہماری تجویز نہیں کہ انھیں بھی شامل کیا جائے‘۔

ان مجوزہ اصلاحات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اس کی نقل کے حصول کے لیے میڈیا کے نمائندے وزارت قانون کے چکر لگا رہے ہیں لیکن وزیر قانون زاہد حامد اس کی نقل محض اپنے ذاتی بیگ میں رکھتے ہیں۔

لیکن سیاستدانوں کے ایسے ناقد بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ دراصل سیاستدان کبھی احتساب کے لیے تیار ہی نہیں ہوئے۔ فوجی دور میں تعینات ہونے والے نیب کے ایک سابق نائب پراسیکیوٹر ماضی کے ایک مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی سرکاری حیثیت میں نواز شریف کے ایک مقدمے کے سلسلے میں عدالت کو لکھ کر دیا کہ وہ مزید پیش رفت قانون کے مطابق کریں اور ‘اس پر اس وقت نواز شریف اتنے ناراض ہوئے کہ بیان سے باہر ہے’۔

وہ کہتے ہیں کہ سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد پراسیکیوٹرز ہی احتساب کو یقینی بنا سکتے ہیں لیکن ان کا تجربہ ہے کہ سیاستدان ایسے افراد کو تعینات کرتے ہیں جو ان کی ان مقدمات میں مدد کر سکیں۔

اسی بارے میں: ۔  کیا نواز شریف کی سزا صدر ممنون حسین ختم کر سکتے ہیں؟

مشیر قانون ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ موجودہ نیب آرڈینس کی کمزوریاں دور کرنا ہی ان کا مقصد ہے۔

چند مجوزہ ترامیم

کل اختیاراتی چیئرمین نیب کی جگہ اب چار رکنی کمیشن اس بات کا تعین کرے کہ کسے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جائے اور کس کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔ کمیشن کے دیگر اراکین سابق جج یا جرنیل یا 22 گریڈ کا سابق سرکاری افسر بھی ہو سکتا ہے۔ ان اراکین کی قابلیت کا معیار بھی چیئرمین جیسا ہی ہو گا۔

احتساب عدالت کو ضمانت پر رہائی دینے کا اختیار ہو۔ موجودہ قانون میں احتساب عدالت کو رہائی کا اختیار نہیں لیکن ہائی کورٹ میں رٹ کے ذریعے ایک راستہ نکالا گیا تھا۔ حکومت کہتی ہے کہ یہ بین الاقوامی معیار کے مطابق قانون نہیں۔

احتساب عدالت کو جائیداد کی قرقی کا اختیار دینا

پولیس کی طرز پر اگر کوئی نیب افسر غلط معلومات کی بنیاد پر کسی کے خلاف اگر کارروائی کرتا ہے تو اسے بھی گرفتار کیا جا سکے

پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی کے قانون کو ضم کر کے ایک بہتر قانون بنایا جائے گا

حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے قانون کے جائزے کے لیے آخری اجلاس میں اختلاف کرتے ہوئے اپنی سفارشات جمع کرانے کا اعلان کیا ہے جس سے اس قانون کی منظوری میں مزید تاخیر ہونا یقینی ہو گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 877 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp