ڈانلڈ ٹرمپ: نفرت کی پنیری کون بو رہا ہے؟


mujahid ali  امریکی صدارتی مہم میں اسلام اور مسلمانوں کا ذکر بنیادی اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔ ابھی نامزدگی کے لئے مہم جوئی ہو رہی ہے تاہم اس دوران اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے امیدواروں کے درمیان بحث ہورہی ہے۔ دنیا کی سیاست میں مسلمانوں کے اثرات اور مسلمان ملکوں میں ابھرنے والے گروہوں اور شدت پسندانہ نظریات کے پیش نظر اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جولائی میں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد صدارت کے دونوں امیدواروں میں اس بارے میں بحث جاری رہے گی اور مسلمانوں کے حوالے سے پالیسیاں نکتہ چینی کا سبب بنیں گی۔ فی الوقت ری پبلکن پارٹی کے نمایاں امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے خوف کی فضا پیدا کر رہے ہیں اور امریکی ووٹروں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صرف وہی انہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے لاحق خطرات سے نجات دلا سکتے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار ٹرمپ کے ہتھکنڈوں کو سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ قرار دے کر اس رویہ کے نتائج سے خبردار کر رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے متعدد ملکوں میں آباد اکثر مسلمانوں کی زندگیوں پر امریکی صدارتی انتخابات کے ان مباحث کا براہ راست اثر مرتب نہیں ہوتا لیکن اس حوالے سے جو باتیں اور طرز عمل سامنے آ رہا ہے، اس پر غور کرنے اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر کو تبدیل کرنے کی ذمہ داری بہرطور مسلمانوں اور ان کے لیڈروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔

کل رات ری پبلکن پارٹی کے درمیان مباحثے میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں جارحانہ اور متعصبانہ رویہ اختیار کرنے والے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ موقف اختیار کیا کہ مسلمان امریکہ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اس نفرت کا ادراک کرتے ہوئے ، اس سے نمٹنے کے لئے تیار کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کو اگرچہ اپنی پارٹی کی قیادت کی تائید حاصل نہیں ہے لیکن وہ اب تک نامزدگی کے عمل میں سب سے آگے ہیں۔ انہیں ری پبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار نامزد ہونے کے لئے 1237 ڈیلیگیٹس کی ضرورت ہے اور وہ اب تک 458 ڈیلیگیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مدمقابل امیدواروں میں ٹیڈ کروز ان کے نزدیک ترین ہیں لیکن ان کے حامی ڈیلیگیٹس کی تعداد ٹرمپ سے ایک سو کم ہے۔ اس لئے یہ حیران کن بات نہیں ہو گی کہ وہ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار نامزد ہونے کے اہل قرار پائیں۔ عوام کی حمایت کے پیش نظر پارٹی قیادت کے پاس بھی انہیں مسترد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہو گا۔ عام طور سے مبصرین یہ قرار دے رہے ہیں کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار نامزد ہوتے ہیں اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے ہیلری کلنٹن ان کے مدمقابل ہوتی ہیں تو کلنٹن کے لئے یہ مقابلہ جیتنا بہت آسان ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں البتہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا لب و لہجہ زیادہ سخت اور کھردرا ہو جائے گا اور وہ کلنٹن کی نسبتاً لبرل پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے درحقیقت مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بنائیں گے۔

اس صورت میں ری پبلکن پارٹی کے لیڈر بھی ٹرمپ کے اس جارحانہ منفی رویہ کی حمایت کریں گے کیونکہ 8 سال تک وائٹ ہاﺅس سے دور رہنے کے بعد پارٹی بہر صورت اپنے امیدوار کو کامیاب کروانے کی کوشش کرے گی۔ ان حالات میں ٹرمپ کے اس دعویٰ کو زیادہ اہمیت بھی حاصل ہو جائے گی کہ وہ ایسے ووٹروں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو رہے ہیں جو درحقیقت ری پبلکن پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے۔ اگر ری پبلکن پارٹی کسی صورت نامزدگی کے آخر تک کسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی کہ نامزد ہونے والا امیدوار اور ان کے حامی عام ووٹر کو متاثر کرنے اور ساتھ ملانے کے لئے وہی لب و لہجہ اور نعرے استعمال نہیں کریں گے جو ٹرمپ بروئے کار لا رہے ہیں۔ یعنی ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار نامزد ہوں یا نہ ہوں انہوں نے مقبولیت حاصل کرنے کا نسبتاً نیا طریقہ اختیار کیا ہے، اسے مسترد کرنا کسی بھی امیدوار کے لئے آسان نہیں ہو گا۔ تمام تر اصولوں اور واضح مقاصد کے باوجود جمہوری سیاست بالآخر ووٹروں کی حمایت کے ذریعے ہی کی جاتی ہے اور اگر امریکی ووٹروں کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خوف اور پریشانی موجود ہے تو کوئی بھی امیدوار اپنے طریقے سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایسے ووٹر کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس حوالے سے یہ معاملہ صرف امریکی سیاست تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں آباد مسلمانوں کے مفادات کا معاملہ بھی بن جاتا ہے۔

بلاشبہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نشانہ تو امریکہ میں آباد مسلمان بنیں گے اور انہیں سماج میں موجود نفرت اور تعصب میں اضافہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن ہاتھی کے پاﺅں میں سب کا پاﺅں کے مصداق اس کا اثر دیگر مغربی ممالک میں آباد کثیر مسلمان آبادیوں پر پڑنا بھی لازم ہے۔ لیکن یہ معاملہ کا صرف ایک پہلو ہے۔ دنیا چونکہ مواصلت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تجارت اور نقل و حمل کی وجہ سے اب بہت چھوٹی ہو چکی ہے تو مسلمان اکثریت والے ملک بھی اس نفرت کے اثرات کو محسوس کریں گے۔ بلاشبہ جب تعصب اور نفرت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو معاشروں کے سب ہی حصے اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن وہی گروہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرتا ہے جسے اس نفرت کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یہ معاملہ کرہ ارض پر آباد سب مسلمانوں کے مفادات کا معاملہ بن جاتا ہے۔ البتہ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان انفرادی یا گروہی طور پر اور ان کے سربراہان اور لیڈران اس سنگینی سے آگاہ ہیں اور کیا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی حالت اور اسلامی ملکوں کی حکومتوں کے رویہ تو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ یا تو انہیں اس صورتحال کی سنگینی کا احساس نہیں ہے یا وہ اس اہل نہیں ہیں کہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف تیزی سے پھیلنے والی اور غم و غصہ کی شدت کو سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری کریں۔

یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اس بحث کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ امریکی صدارتی دوڑ میں شامل ایک شخص کس قسم کے منفی اور نفرت انگیز خیالات کا اظہار کر رہا ہے بلکہ اس کا تعلق مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں عام طور سے غیر مسلم ممالک میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب سے ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر کی آبادیاں مسلمانوں سے خطرہ محسوس کرنے لگی ہیں۔ دنیا کی کل آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ایک چوتھائی سے قدرے کم ہے۔ اس صورت میں بقائے باہمی پر یقین اور اس اصول کو اختیار کرنے کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں یہ تاثر قوی سے قوی تر ہوتا چلا گیا ہے کہ مسلمان عام طور سے اس اصول کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ خود کو حکمرانی کا اہل قرار دیتے ہوئے باقی دنیا کی سب قوموں کو محکوم بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ کسی بھی قسم کا اچھا یا برا خواب دیکھنا شاید کوئی بری بات نہیں ہے لیکن جب ایک عقیدہ سے وابستہ سب لوگوں کے بارے میں یہ اندیشہ تقویت پکڑنے لگے کہ وہ صرف اپنے وجود اور اصول کو درست مانتے ہوئے دوسروں کے حق زندگی اور حق رائے کو مسترد کرنے کے راستے پر گامزن ہیں …. تو صورتحال پریشان کن اور قابل توجہ ہوتی ہے۔ امریکی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے انداز اور ہتھکنڈوں نے دراصل عام امریکیوں میں مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے اسی خوف کو اظہار کا راستہ دکھایا ہے۔ ایسے میں ٹرمپ کے رویے اور سیاست کو تو مسترد کیا جا سکتا ہے لیکن کسی بڑے ملک کی وسیع آبادی میں پائی جانے والی سراسیمگی سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ لازم ہے کہ اسے ختم کرنے اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے کام کیا جائے۔ یہ معاملہ اگر صرف امریکی رائے عامہ تک محدود ہوتا تب بھی شدید پریشانی کی بات تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے علاوہ دیگر مغربی ممالک جن میں کینیڈا ، یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ شامل ہیں، میں بھی یہی صورتحال مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ بلکہ یہ سلسلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں ہے جن کے بارے میں آسانی سے یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے استحصالی اور سامراجی رویوں کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور قوت سے خوفزدہ ہیں۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ غیر مغربی غیر مسلم معاشروں میں بھی مسلمانوں کے بارے میں اسی قسم کے احساسات پروان چڑھ رہے ہیں۔ البتہ ایسے بیشتر معاشروں مثلاً چین یا روس وغیرہ میں عوامی رائے کے اظہار کے کوئی باقاعدہ ذرائع موجود نہیں ہیں، اس لئے وہاں کی صورتحال کے بارے میں عام طور سے خبر سامنے نہیں آ پاتی۔

اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ مسلمان ملکوں میں گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران ابھرنے والے انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کے فروغ کا ایک سبب امریکہ اور مغرب کی ایسی پالیسیاں بھی رہی ہیں جن کا محور ان کے اقتصادی مفادات تھے۔ لیکن ان گروہوں کے طرز عمل کو کسی نہ کسی صورت مسلمان ملکوں میں پذیرائی نصیب ہوتی ہے۔ عام مسلمان دہشت گردی کے اثرات کا سب سے زیادہ نشانہ بننے کے باوجود تیزی سے خود ستائی اور دوسری اقوام کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ رویے اسی مزاج کی پیداوار ہیں جو اسلامی خلافت کے جھنڈے تلے دنیا کو فتح کر کے صرف اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا کروانے کی بات کرتا ہے۔ ہر مسلمان کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ براہ راست یا باالواسطہ طور سے اس قسم کی سوچ یا فکر کو درست سمجھتا ہے۔ کیا اسے ایسے لیڈر اچھے لگتے ہیں جو اسلام کی عظمت کے قصے سنا کر پھر سے پوری دنیا پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی بات کرتے ہیں۔ کیا ایسے مذہبی لیڈر واقعی اسلام کا پیغام عام کر رہے ہوتے ہیں جو دین کی تعلیم دیتے ہوئے دوسرے عقائد اور اقوام کے بارے میں نفرت کا بیج بو رہے ہوتے ہیں۔ اگر ان سوالوں کے جواب اثبات میں ہوں تو ہم آسانی سے اس بے چینی کو سمجھ سکتے ہیں جن کا اظہار پاکستان یا کسی مسلمان ملک سے ہزاروں میل دور، اس وقت امریکہ کے انتخابات میں کیا جا رہا ہے۔ تب ہم یہ محسوس کر سکیں گے کہ اگر ہم اپنے دلوں میں نفرت، تعصب اور دوسروں کے بارے میں غلط فہمیوں کو جگہ دیں گے تو یہ توقع کرنا عبث ہو گا کہ دوسرے ہمارے بارے میں نیک اور خوشگوار احساسات کا اظہار کریں۔ محبت اور نفرت ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے۔ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بچائی جا سکتی۔

انسان صدیوں کا سفر کر کے ترقی اور بہتری کی جن منزلوں کو عبور کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے اسے برقرار رکھنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ نفرت کی بجائے محبت اور تفہیم کو عام کیا جائے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ صورتحال خراب کرنے میں کیا ہمارا بھی کوئی کردار ہے۔ اور کیا ہم اسے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نفرت ہم نے پیدا کی ہے، اسے ہمیں ہی ختم کرنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali