علامہ لالا موسیٰ خان اور انگریزی گالی


\"asadاسی کی دہائی کے پاکستان میں ہر پاکستانی سیاستدان کو یہی کہتے سناکہ وہ اپنے شہر کو پیرس بنا دے گا۔ پیرس اور مغرب سے متاثر ہونے کی روایت شاید پچھلے زمانوں سے چلی آ رہی تھی جب وطن واپسی پر مسافر ہموطنوں کو بتایا کرتے تھے کہ لندن کی سڑکیں سونے کی ہیں اور یہ سادہ لوح سچ مچ یہی سمجھا کرتے تھے کہ مغربی دنیا کی سڑکوں پر تارکول کی جگہ سونے کی تہہ بچھائی جاتی ہے. ایسی ہی مرعوبیت نےہم ایسے بہت سے لوگوں کو اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں لا پٹکا اور آج تک وہیں دھکے کھا رہے ہیں

زمانہ بدل گیا۔ ہوائی جہاز کا سفر عام ہونے سے لوگوں کا یورپ امریکہ جانا معمول بننے لگا لیکن کروڑوں پاکستانی آج بھی سنی سنائی پر گزارہ کر رہے ہیں۔ پرانے وقتوں کے مسافرتو شاید یہ سوچ کر حاشیہ آرائی کرتے ہوں کہ کون لندن یا پیرس جا کر اس دعوے کا امتحان لے گا لیکن زمانہ حال میں بھی ایسے مسافروں کی کمی نہیں جو دوسروں کو مغربی دنیا کے بارے میں الٹی سیدھی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔

پاکستان میڈیا میں ایسی بہت سی شخصیات موجود ہیں جنہیں چار پیسے ہاتھ آنے پر ملک سے باہر سیرسپاٹے کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے اس موقع سے ایک فائدہ یہ بھی اٹھایا کہ الٹی سیدھی کہانیاں گھڑ کر اپنے ملک کے لوگوں کو نہ صرف گمراہ کیا بلکہ اپنے کچے پکے عمرانیاتی علم کو استعمال کرکے عام آدمی کو دن رات یہی باور کراتے رہے کہ ہمارے ملک کے حکمران ہی بدترین لوگ ہیں ورنہ مغربی دنیا تو جنت کا نمونہ ہے۔ لطف کی بات یہ کہ ایسی راگنیاں گانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دیگر معاملات میں دن رات مغرب کو مطعون کرتے اور اقبال کا وہ شعر گنگناتے رہتے ہیں جس کے مطابق شاخ نازک پہ تعمیر کردہ مغربی معاشرے بس کسی بھی لمحہ منہدم ہونے کو ہیں

ہم سب کے قارئین ان مسخروں کی باتوں سے متاثر ہونے والے نہیں لیکن ان کے وسیلے سے شاید یہ تحریر ان آنکھوں تک بھی پہنچ جائے جو ابھی تک مغرب کی چکاچوند سے چندھیائی رہتی ہیں. مغربی ممالک کے بارے میں آج بھی ایسی ایسی داستانیں پاکستانیوں کو سنائی جاتی ہیں کہ سادہ لوح پاکستانی تو ایک طرف مغرب کے لوگ بھی سن کر حیران رہ جائیں

عمران خان کے ایک بڑے وکیل اور بزعم خود پاکستان کے سب سے کھرے اور سچے صحافی درجنوں مرتبہ لوگوں کو بتا چکے ہیں کہ سویڈن میں سوشل سیکیورٹی کا نظام حضر عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور سے متاثر ہو کر بنایا گیا بلکہ اس قانون کا نام ہی عمر کا قانون ہے اس قانون کی شان میں دوسرے کئی پاکستانی صحافی بھی بلاتحقیق قصیدے کہہ چکے ہیں۔ اردو اخبارات کا لگ بھگ ہر صحافی اس بات پر متفق ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹرین میں کھڑے ہو کر دفتر جاتے ہیں۔ انہی بزرجمہروں کی مہربانی سے پاکستانی عوام کی اکثریت اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ یورپ کے ہر ملک کا صدر یا وزیراعظم ڈیڑھ کمرے کے فلیٹ میں رہتا اور پیدل دفتر جاتا ہےاور ان ممالک کا ہر سول، فوجی یا پولیس افسر دیانت کا پتلا ہوتا ہے۔ ہمیں انہی سیانوں کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ مغربی دنیا میں حکومتی عہدیداروں کی سیکیورٹی کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا بلکہ شام کو وزیراعظم یا صدر کسی لوکل شرابخانے میں بئیر پیتے دیکھے جا سکتے ہیں ایسے ہی ایک علامہ لالا موسیٰ خان کا ایک لیکچر کسی نے فیس بک پر پوسٹ کر رکھا تھا جس میں وہ انگریزی زبان کے ایک چہار حرفی ناشائستہ لفظ کی تاریخ بیان فرما رہے تھے۔ پس منظر میں ٹیچرز ڈے کا بینر آویزاں تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے میں لیکچر دینے کے لیے انہیں دعوت دی گئی تھی۔ موصوف اس لفظ کا جو تاریخی پس منظر بیان فرما رہے تھے اس کی اصل انگریزی بولنے والی دنیا کی ایک افواہ نما کہانی ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں لیکن کیا کیجیے سننے والوں میں کون سوال کرنے والا بیٹھا ہے جو علامہ کی علمیت کو کسی قسم کا دھچکہ لگنے کا ڈر ہو اے اس مضمون کے پڑھنے والو اگر ایسے سیانوں کے پیچھے چلتے رہو گے تو اسی کنویں کے مینڈک رہو گے جس کی منڈیروں پر یہ عجوبے دن رات ٹرایا کرتے ہیں

نہیں صاحبان برطانیہ کے وزرائے حکومت کے اردگرد بھی سیکیورٹی والے سائے کی طرح لگے رہتے ہیں صرف ہمارے ہاں کی طرح بڑی بڑی بندوقیں لہرا کر نہیں چلتے کالے سوٹ اور کالے چشمے کے بعد ایک ریڈیو ٹرانسمٹر ان کا واحد ہتھیار ہوتا ہے جس کی برکت سے کوئی ایسا ویسا شخص کسی بڑے عہدیدار کے قریب بھی نہیں پھٹک پاتا، بل کلنٹن برطانیہ تشریف لائے تو جس ہوٹل میں انہیں ٹھہرایا گیا تھا اس کے اردگرد چار چھ سو گز تک تمام عمارتیں ان دو دنوں کے لیے خالی کروا لی گئی تھیں اور ہاں اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچنے والے صحافی، رشوت لینے والے پولیس افسر، بے ایمانی کرنے والے سرکاری اہلکار، کمیشن کھانے والے ٹھیکیدار اور ناجائز فوائد حاصل کرنے والے کاروباریوں کا مغربی دنیا میں بھی توڑا نہیں بات فقط اتنی سی ہے کہ ہمارے بزرجمہر جو خود کو عقل کل سمجھتے ہیں تحقیق کے ہنر سے واقف نہیں اور اگر ہیں تو جان بوجھ کر آپ کے دماغوں میں غلط معلومات بٹھانے پر لگے رہتے ہیں۔

ارے ہاں تو وہ لفظ کیا تھا جس کی گمراہ کن اور من گھڑت تاریخ ہمارے علامہ لالا موسیٰ خان نے بیان کی۔ انگریزی بول چال کا بازاری لفظ ہے۔ شائسہ مجلس میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ فرہاد سے شروع ہوتا ہے اور قیس پر ختم ہو جاتا ہے۔

تعلیمی ادارے میں یوم اساتذہ کے موقع پر طالب علموں کے ساتھ علامہ کی نہایت ع

لمی گفتگو کی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں ہے لیکن بر بنائے فحاشی \”ہم سب\” پر اس کا لنک نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ علامہ موصوف کوئی ڈیڑھ برس قبل اپنے اخباری کالم میں بھی یہ من گھڑت قصہ لکھ چکے ہیں۔ کالم کا لنک حاضر ہے، اسے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

اسد ضیا حسن کی دیگر تحریریں
اسد ضیا حسن کی دیگر تحریریں

2 thoughts on “علامہ لالا موسیٰ خان اور انگریزی گالی

  • 12-03-2016 at 3:01 am
    Permalink

    کیا بات ہے جناب کیا یہ لیکچر پائنیر سکول میرپور میں دیا گیا تھا ویسے جس بندے نے یہ کالم لکھا ہے آپ کو بھی ماننا پڑے گا کہ اس کو پڑھ کر پرانے لاہور کے قصہ گو یاد آ جاتے ہیں

    • 12-03-2016 at 4:10 pm
      Permalink

      اختر چوہدری صاحب پائنئیر کالج میں جانوروں کا داخلہ منع تھا

Comments are closed.