شرمین عبید چنائے اور بوسٹن کے پادری


rashid-ahmad-2wانسانی جلد کو لمحوں میں پگھلا کر پانی بنادینے والا تیزاب جب کسی ناتواں چہرے پر گرتا ہے اور آنکھوں، نتھنوں اور منہ کی ہیئت بگاڑ کر متاثرہ کو ایک ایسی ناقابل بیان اذیت سے دوچارکرتا ہے جس کا تصور بھی رگ وپے میں ہیجان برپا کردیتا ہے۔ اس موضوع پر بننے والی ڈاکومینٹری میں یا ویسے ایسی مظلوم خواتین کے چہرے دیکھتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ کئی تکلیف دہ آپریشنز کے بعد بھی یہ چہرے اس قدراذیت ناک ہوتے ہیں کہ ان پر نظر پڑتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ خوف سے بدن میں لہو جمنے لگتا ہے۔ جس تن لاگے وہ تن جانے۔ جس کسی کو یہ بیان مبالغہ لگے وہ یوٹیوب پر جاکر اپنی تشفی کرسکتا ہے۔

مقدمہ یہ ہے کہ شرمین عبید چنائے مغرب کی شہہ سے ایسے موضوعات پرفلمیں بناتی ہے جن سے پاکستان عالمی برادری میں بدنام ہو۔ ملک میں کارنامے انجام دینے والے کچھ کم نہیں لیکن شرمین کوایسے موضوعات نظر ہی نہیں آتے۔ یہ ہے وہ بیانیہ جسے اگر مزید پھیلا لیا جائے تو اس میں وہ بات بھی شامل کی جاسکتی ہے جس کےتحت ملالہ یوسف زئی اور ڈاکٹر عبدالسلام بھی مغرب کے آلہ کار تھے اور پاکستان کو بدنام کرنے پر انہیں نوبل انعام دیا گیا۔

گو یہ بیانیہ مدت ہوئی اپنی موت آپ مرچکا مگر جب بھی مغرب میں کسی پاکستانی کی عزت افزائی ہوتی ہے اس بیاننئے کی باسی کڑھی میں بھی ابال آتا ہے۔ اگر یہی معیار رکھنا ہے کہ مغرب صرف ان فلموں کی پذیرائی کرتا ہے جن میں پاکستان کو بدنام کیا جاتا ہے تو پھر طالبان کی بنائی اس ویڈیو کو اکیڈمی ایوارڈ ملنا چاہئے تھا جس میں پاکستانی فورسز کے جوانوں کے سروں سے فٹبال کھیلا جارہا ہے۔ اس سے زیادہ پاکستان کو بدنام کرنے والی بات کونسی ہوگی، مگر وہاں تو کسی ایسی ویڈیو کی پذیرائی نہیں ہوئی بلکہ ایسی چیزوں پر طالبان کے خلاف نفرت پہلے سے زیادہ ہوئی۔

اب لگے ہاتھوں یہ بھی سن لیں کہ انہی اکیڈمی ایوارڈز میں جس فلم نے میلہ لوٹا وہ تھی ’’سپاٹ لائٹ‘‘ (Spotlight) اور اس فلم کے ڈائریکٹر تھے، ٹام میک آرتھی۔ اس فلم نے سال کی بہترین فلم کے ساتھ ساتھ ایک اور ایوارڈ بھی جیتا۔ یہ وہی فلم ہے جس میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پادریوں کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے والے بچوں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ بچے تھے جنہیں مذہب کے نام لیواؤں کی طرف سے  زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ فلم پوری دنیا میں ہِٹ ہوئی اور آسکر کا میلہ بھی لوٹ لیا، مغرب نے اس فلم کو اس حد تک سراہا کہ دو اکیڈمی ایوارڈ سے نواز دیا۔ اب اگر یہی معیار ہے کہ مغرب میں وہی فلمیں پسند کی جاتی ہیں جن میں کسی ملک کو بدنام کیا گیا ہو تو امریکہ سے زیادہ کون بدنام ہوگا، لیکن وہاں کسی نے نہیں کہا کہ ہم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا لیا ہے، ہم نے دنیا کے سامنے خود کو ننگا کردیا ہے، ہمیں اپنے زخم ہرے رکھنے کی عادت پڑ گئی ہے، بلکہ وہاں اس موضوع کو ہائی لائٹ کرنے پر سب نے فلم بنانے والوں اور اس کہانی کو سامنے لانے والے اخبار کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں ایوارڈز سے نوازا۔

مغرب میں چرچ یا چرچ کی زیادتیوں سے متعلقہ موضوعات پر بننے والی یہ پہلی فلم نہیں بلکہ ان گنت فلمیں اس موضوع پر بن کرمعاشرہ سے داد وصول کر چکی ہیں۔ گوگل پر ایسی فلموں کی فہرست ملاحظ کی جا سکتی ہے جنہوں نے چرچ کی بنیادیں ہلا دیں لیکن وہاں کبھی یہ آواز نہیں اٹھائی گئی کہ ہم صرف خود کو بدنام کرنے والے موضوعات پر ہی فلمیں بناتے ہیں، بلکہ حقائق پر مبنی فلموں کو سند قبولیت ملتی رہی۔ چرچ کے خلاف بننےوالی فلمیں اور ڈاکومینٹریز انٹرنیٹ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

نہ صرف چرچ بلکہ وائٹ ہاوس اور امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلقہ موضوعات پر بھی بے شمار فلمیں بنی ہیں جن میں ایک چھوٹے سے گروہ کے ہاتھوں وائٹ ہاوس کو تباہ کرتے اور امریکی صدر کو یرغمال بنتے دکھایا گیا ہے، لیکن وہاں کسی مذہبی اور سیاسی جماعت نے یہ دہائی نہیں دی کہ اس طرح ہم خود دشمن کو راستہ دکھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں ایک ایسی ہندوستانی فلم پر پابندی لگا دی گئی جس میں ایک کاالعدم جماعت کے سربراہ کو پکڑتے دکھایا گیا تھا۔ یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جو ہمیں  آگے بڑھنے سے پاوں پکڑ کر روک رہا ہے۔ خود ترحمی کا ایسا عالم ہے کہ خود کو دنیا کا مظلوم ترین طبقہ کہہ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ دنیا ہمیں مظلوم سمجھ کر ہم پر رحم کرتی رہے اور ہم اپنی غربت، بے بسی اور کم مائیگی کا رونا روتے رہیں۔

ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ جب کوئی سچ بولے تو یہ کہہ کر اس کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سچ تم نے پہلے کیوں نہیں بولا؟ پہلے تمہارا ضمیر کیوں نہیں جاگا؟ یہی کچھ فکری بونے شرمین جیسی لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ تم نے عزت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین پر تو فلم بنا لی، اے لیول میں پوزیشن حاصل کرنے والی کے متعلق فلم کیوں نہیں بنائی؟ بندہ پوچھے حضور آپ کو یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آتی کہ ہر بندہ ہر کام نہیں کرسکتا۔ ہر ایک کی اپنی فیلڈ ہیں۔ ہر ایک کے اپنے موضوعات ہیں۔ ہر ایک کا اپنا کمال فن ہے۔ پنکھے کا کام ہوا دینا ہے نہ کہ روشنی کرنا اور بلب روشنی دے سکتا ہے ہوا نہیں۔ شرمین پر جس کام کے نہ کرنے کا آپ الزام لگا رہے ہیں وہ خود کرلیں، لیکن اپنے حصے کی شمع جلانے کے بجائے یہ لوگ دوسروں کے دیئے بجھانے کی زیادہ فکرمیں ہیں۔

دوسری بات یہ کہ رونا کس بات پر ہے؟ کیا یہ وہی ملک نہیں جہاں خواتین کے ساتھ آئے دن اجتماعی زیادتیاں ہوتی ہیں اور مجرم کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ کیا یہ وہی سرزمین نہیں جہاں خواتین کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا جاتا ہے۔ کیا یہ وہی دھرتی نہیں جہاں خواتین کوجہیز نہ لانے پر پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ کیا یہ وہی مملکت خداداد نہیں جہاں کاروکاری کے نام پر لڑکیوں کو اس لئے ماردیا جاتا ہے کہ وہ پسند کی شادی کرنے کی معصوم خواہش کا اظہار کر بیٹھتی ہیں۔ کیا یہ وہی پاکستان نہیں جہاں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے پر حکومتی وزیر کہتا ہے کہ یہ ہماری روایات کا حصہ ہے۔ کیا یہ وہی خطہ نہیں جہاں جائیداد بچانے کی خاطر لڑکیوں کی شادی قرآن مجید سے کرکے انہیں زندگی کی خوشیوں سے محروم کیا جاتا ہے۔ کیا یہ حقیقتیں نہیں؟ کیا یہ ننگی سچائیاں نہیں؟ اگر ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر رونا کس کا؟ شکوہ کس بات کا؟ سب کچھ سچ تو ہے اور سچ کو سامنے لانا اسے نمایاں کرنا سازش کیسے ہوگیا؟ یہ ہے وہ مائنڈ سیٹ جو ہماری جڑوں میں لگاتار گرم پانی ڈال رہا ہے، جس سے جان چھڑائے بغیرہماری ترقی کا سفر شاید دائرہ کا ہی سفر ہو جہاں بقول منیرنیازی حرکت  تیز ترہوتی ہے مگر سفر آہستہ۔


Comments

FB Login Required - comments

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

One thought on “شرمین عبید چنائے اور بوسٹن کے پادری

  • 13-03-2016 at 8:14 am
    Permalink

    لوگ اپنے حصے کا دیا جلانے کی بجائے دوسروں کے چراغ بجھانے کی فکر میں ہوتے ہیں
    چہ خوب ۔ ۔ ۔ ۔ بہت ہی عمدہ inspirational
    سلامت رہیں

Comments are closed.