ید بیضا، پٹی، پکول اور دہشت گردی


husnain jamal (3)دہلی کی ایک وکیل ہروندر کور چودھری جی نے گذشتہ سال 60 لطیفوں کی ایک فہرست دو کروڑ سکھ برادری پر بنائے جانے والے لطیفوں پر پابندی عائد کرنے کی غرض سے سپریم کورٹ میں پیش کی۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ پر تقریباً پانچ ہزار ویب سائٹس ایسی ہیں کہ ہیں جو لطیفے فروخت کرتی ہیں اور ان میں سکھوں کو بے وقوف، احمق، گنوار، نالائق، بدھو، انگریزی زبان سے ناواقف اور بے وقوفی اور احمق پن کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی یہ بات بالکل درست تھی کہ یہ لطیفے باعزت زندگی گزارنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں اس لیے ان لطیفوں کو پھیلانے والی سائٹس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

یہ خبر تقریباً اسی متن کے ساتھ انہی دنوں ایک بہت مشہور خبر رساں ادارے نے شائع کی۔ وہ ادارہ جو اپنی آزادی اظہار کی پالیسی پر فخر کرتا ہے، اس خبر میں آگے چل کر کیا کہتا ہے، دیکھیے گا؛

“اس عجیب اپیل کی سماعت پر راضی ہونے والے جج اس بات پر حیران ہیں کہ آخر وہ اس طرح کی پابندی کیوں چاہتی ہیں۔ ججوں کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ان لطیفوں کو پرمزاح انداز میں لیتے ہیں۔ اس میں بے عزتی نہیں ہوتی، ہاں مزاح کا عنصر ضرور شامل ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے نزدیک اپنے چیمبر میں بیٹھی مسز چودھری کا کہنا ہے کہ وہ اس توہین کو یوں ہی برداشت نہیں کرتی رہیں گی۔”

دیکھیے یہ ایک سادہ سی خبر تھی اس میں صرف ایک لفظ، جی ہاں صرف ایک لفظ نے وہ تعصب (صحافتی زبان میں Angling) شامل کر دیا جو کسی اشاعتی ادارے کو زیب نہیں دیتا۔ وہ لفظ تھا “عجیب”۔

IMG_2940اب ایک مرتبہ دوبارہ یہ خبر اس لفظ کے بغیر پڑھیے، کیا مکمل غیر جانب داری نہیں محسوس ہوتی؟ تو بس جان لیجیے کہ ذرائع ابلاغ اور خصوصاً پرنٹ میڈیا پر چھپنے والا ایک ایک لفظ اسی اہمیت کا حامل ہے خصوصاً جب بات کسی ایک برادری کے حوالے سے ہو رہی ہو۔ اور یہ جملے یاد رکھیے گا آگے بات کریں گے۔

انسان نہ پیدائشی طور پر کسی سے نفرت کرتا ہے اور نہ ہی کسی ثقافت کا استہزا اس کے مزاج میں شامل ہوتا ہے۔ یہ معاشرتی رویے ہیں کہ جو اسے یہ سب سکھاتے ہیں اور غیر محسوس طریقے سے وہ ان کا اسیر ہوتا چلا جاتا ہے۔

اپنے قومی مزاج کی بات کیجیے۔ سکھ، پٹھان، بنگالی اور بیوی، یہ چار کردار آپ کے لطیفوں میں بنیاد کی پہلی اینٹ ہیں۔ ایک آواز آئے گی، جی یہ گوروں کی سازش تھی، سکھوں اور پٹھانوں پر لطیفوں کی شروعات انہی کے دور میں ہوئی۔ ان کو جن اقوام نے سخت مزاحمت دی، وہ ان کے خلاف لطیفے گھڑتے رہے اور ان کی مسلسل تحقیر کرتے رہے۔ درست ہے، لیکن جی گورے کو گئے ایک عمر بیت گئی اب تو اپنا قبلہ درست کر لیجیے۔ آپ نے بنگالی بھائیوں کو بھی اس مہم میں شامل کیا اور سانحہ اکہتر کا منہ دیکھا۔ پھر آپ کی اپنی بیویاں ہیں جو بہرحال کسی کی بیٹیاں بھی ہیں کسی کی بہنیں بھی ہیں اور اگرچہ اس بات سے آپ کو کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن فقیر کے مطابق وہ عین آپ ہی کے جیسی اور برابر اہمیت کی حامل ایک انسان IMG_2941ہیں۔ تو ہر لطیفے میں بیوی کیوں شامل ہو جاتی ہے بھئی؟ یہ کون سا غبار ہے جو کبھی پٹھانوں، کبھی سکھوں، کبھی بنگالیوں اور کبھی اپنی ہی عورتوں کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

مزاح کے بعد استہزا اور اس کے بعد باقاعدہ نفرت کا دور شروع ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہہ لیجیے کہ پہلے آپ کسی کا مذاق اڑاتے ہیں، پھر اس پر طنز کرتے ہیں اور جب پیٹ نہیں بھرتا تو باقاعدہ نفرت شروع کر دی جاتی ہے۔ یہ نفرت وہ مقام ہے کہ جو ایک بار اگر دماغ میں گھر کر جائے تو ستر ولیوں کی دعا بھی اسے بہ مشکل ہی باہر نکالتی ہے۔

یہاں وہ بات شروع کرتے ہیں کہ جو اس مضمون لکھنے کی وجہ ہوئی۔ تقریباً ایک ماہ پیشتر اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا، پہلی نظر میں ہی دل خفا ہوا کہ یار یہ کوئی بات ہے کہ آپ نے پورا کا پورا اشتہار پشاوری ٹوپی داڑھی اور پگڑی والوں کے خلاف بنا ڈالا، لکھنے کا سوچا مگر کوئی اور معاملات سامنے آ گئے ہوں گے تو ذھن سے نکل گئی بات۔ آج یار عزیز، جان برادر ظفر اللہ خان المعروف ید بیضا نے کالم کاری کی اور یہ بات چھیڑی تو فوراً دکھ کے احساس نے گھیر لیا اور سوچا کہ مصرعہ طرح پر اپنی غزل بھی کہہ لی جائے۔ پھر جب غزل چھڑی تو سید جون ایلیا کا یہ شعر یاد آ گیا،

بس فائلوں کا بوجھ اٹھایا کریں جناب
مصرعہ یہ جون کا ہے اسے مت اٹھائیے

IMG_2942تو بس اب جیسے تیسے وزن اٹھا لیا، آگے بات کرتے ہیں۔ پہلی تصویر میں پگڑی شلوار قمیص اور واسکٹ میں دہشت گرد ملبوس ہیں۔ دوسری میں فرشی نشست ہے اور شال اوڑھے، پگڑی باندھے ایک دائرے میں دہشت گرد کسی بحث میں ہیں۔ تیسری میں پگڑی باندھے ڈرائیور دہشت گردوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، چوتھی میں پکول (بھائی ظفر سے ہی اس کا نام معلوم ہوا، وہی ٹوپی جو ہمارے پٹھان بھائیوں کی پسندیدہ ہے) پہنے اسلحے کی خرید و فروخت جاری ہے اور نیچے شٹل کاک برقعہ دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ ڈاڑھی تمام تصاویر میں قدر
مشترک ہے۔

پکول کی ہی بات کر لیتے ہیں۔ جب یہ تصویر دیکھی تھی تو کئی واقعات یاد آئے تھے۔ ایک مہربان سفید بالوں والا کلین شیو چہرہ، جسے سب نانا مجید کے نام سے جانتے تھے، ایبٹ آباد کے ایک سینیما میں مینیجر تھے۔ ہم بچوں کو “پادری بٹنگ” کہتے تھے۔ جب بھی پشاور آتے تو ہم سب ان کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے، مزے مزے کی باتیں سناتے۔ آغا طالش، علاوالدین اور نہ جانے کس کس کے قصے سنتے، ان بزرگان کو حالاں کہ امی یا ماموں وغیرہ جانتے تھے کہ ان کی فلمیں دیکھی تھیں ہم تو بس قصے سنتے اور مزے اڑاتے۔ تو نانا مجید بھی سردیوں میں ہر وقت پکول اوڑھے رہتے۔ کیا مجال جو کبھی ان کا چہرہ اس خاکی ٹوپی کے بغیر تصور میں آئے۔

دادی جان کے خاکے میں فقیر نے کہیں لکھا تھا کہ ابا کمرے میں آئے، ٹوپی اتار کر بستر پر پھینکی اور روتے ہوئے کہنے لگے، بیٹا تمہاری دادی اللّہ میاں کے پاس چلی گئیں۔ اس وقت کی دو یادیں دماغ میں آج تک تروتازہ ہیں، ایک ابا کے آنسو، جو پہلی بار دیکھے تھے اور ایک وہی پکول، پشاوری گرم ٹوپی جو انہوں نے سر سے اتار کر پھینکی تھی۔

سوات کا سفر درپیش تھا، دفتری نوعیت کے معاملات تھے، سفر سے ایک دن پہلے پشاور جا کر ماموں کے یہاں قیام کیا۔ طے یہ تھا کہ اگلے روز دفتر کے ساتھیوں کے ہمراہ نکل جائیں گے۔ ایسے ماں جائے خدا ہر کسی کو دے، بہت حسین یادیں ہیں، اس بچپن کی جو پشاور میں گزرا اور انہیں مامووں کے ساتھ۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں یہیں گزرتی تھیں۔ خیر تو بختیار ماموں سے کہا کہ ماموں ایک ٹوپی لینی ہے وہ پٹی والی (پٹی اس کپڑے کا نام ہے کہ پکول جس سے بنتی ہے)، تو ماموں نے الماری سے ایک نئی نکور سفیدی مائل سرمئی رنگ کی پکول نکالی اور دے دی کہ جا بچہ عیش کر۔ اس سے پہلے گڈو ماموں ایک اور کابلی کام والی گول ٹوپی دلا چکے تھے وہ گرمیوں میں کٹاس کے سفر میں کام آئی تھی۔تو اب یہ گریس فل قسم کی پکول پہنے سوات اور کالام کا سفر شروع ہوا۔ جہاں دھوپ پڑتی پکول کو آگے سے کھینچ کر پی کیپ بنا لیا جاتا، کالام جاتے ہوئے جہاں مٹی بس میں آتی وہاں اس کو کھول کر ناک تک کر لیا جاتا، جب سردی ہوئی مہربان پکول IMG_2943نے پیشانی اور کان ڈھانپ لیے، اور جیسے ہی گرمی لگی تو دوبارہ اوپر کر لی یا گود میں رکھ کر اسی میں موبائل اور عینک بھی رکھ دئیے۔ کیا کثیر المقاصد ہتھیار ہے بھئی یہ پکول، زندہ باد پکول، زندہ باد شائقین پکول!

یہی معاملہ واسکٹ کا ہے اور بالخصوص پٹی کی واسکٹ کا، اسی کپڑے کی واسکٹ جس کی پکول بنتی ہے۔ سوات کالام کے سفر میں وہ واسکٹ بھی ہمراہ تھی اور ایک عدد شال بھی۔ کالام کی بے رحم سرد رات اور بغیر دھوپ کی صبح میں یہی زاد راہ تھا جو فقیروں کے کام آتا تھا نہیں تو آج مزاریں ہی رہ جانی تھیں یادیں نہ ہوتیں۔ تو اس وقت صبح چائے پیتے ہوئے یہ غریب روزگار وہی پکول ٹوپی پہنے تھا، وہی پٹی کی واسکٹ تھی جو شاید مینگورہ سے دس کلومیٹر آگے اسلام پور کے کسی سہولت کار نے بنائی تھی اور ہلدی رنگی وہی شال اوڑھے تھا کہ جو دہشت
گرد دکھائی دینے کا اکسیر نسخہ ٹھیرا ہے۔

واپسی پر اس حلیے کا خمیازہ بھی بھگتا۔ ٹیکسی پر کہیں نکلنا ہوا تو سوات شہر کے چوک میں فوجی بھائیوں نے روک لیا۔ عین چوک پر جامہ تلاشی ہوئی۔ بہت عوامی قسم کا لطف آیا، وہاں سے پھر میر خوار پوچھتے پچھاتے ہوٹل پہنچے۔

پھر وہ پگڑی ہے کہ جس میں آج تک ہم نے مہربان بزرگوں کی تصویریں دیکھیں۔ مولانا کفایت حسین کی ایک آئل پینٹنگ آج بھی ماموں کے پاس کہیں ہو گی جو نانا کے کمرے میں لگی رہتی تھی۔ پگڑی تو خدا زندگی رکھے اپنے عثمان قاضی بھائی نے بھی کیا خوب صورت باندھی تھی ایک تصویر میں۔ اجمل نیازی صاحب بھی آج تک باندھتے چلے آتے ہیں۔ ملتان کے گاو¿ں دیہاتوں میں کتنے ہی شفیق چہرے شدید گرمی میں سر پر سفید پگڑی باندھے آج بھی دکھائی دیں گے کہ یہ گرمی کا توڑ بھی ہے۔

تو یار ظالم لوگو، اے حکومت میں رہنے والو، اے اس طرح سے ثقافت کو اشتہاروں میں رولنے والو، یہ ٹوپی ، پگڑی، واسکٹ، شال یہ چیزیں تو بابا زمینی حالات، موسم کے شدائد اور علاقوں کی تہذیب اور ان کے رنگوں کی پیداوار ہوتی ہے۔ ان رنگوں کی پیداوار کہ جو محبت میں گندھے ہوتے ہیں۔ جس طرح شروع کے پیراگراف میں صرف ایک لفظ سے خبر مکمل جانب دار اور IMG_2946ایک برادری کے خلاف متعصب ہو گئی اسی طرح آپ کا اشتہار پورا کا پورا سرحد (کے پی کے لکھنے میں وہ مزا نہیں آتا بھئی) اور بلوچستان کے بھائیوں کو کتنا برا لگے گا کیا آپ نے کبھی سوچا۔ اب دہشت گرد تو سندھی ٹوپی اور اجرک بھی پہنتے ہیں، کوئی کروشئیے کی ٹوپی میں بھی ہوتا ہے، دھوتی بھی باندھ کر آ سکتے ہیں، شلوار قمیص تو خیر سانجھی ہی ہے تو کیا کل ان سب پر بھی ایسی ہی ان کہی پابندی ہو گی؟

رہی بات ڈاڑھی کی تو بھئی وہ ہمارے دادا کے بھی تھی، نانا نے بھی رکھی، ہمارے بھی ہے، اور ویسے بھی زیادہ تر پرانے لوگ باریش رہنا پسند کرتے تھے چاہے مشرق کے ہوں یا مغرب کے۔ تو اگر چہرے یا سر کے بالوں سے دہشت گرد کی شناخت کا تعلق ہے تو حکم کیجیے سرکار ساری قوم کلین شیو ہونے کو بھی تیار ہو جائے گی۔ بس شرط یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو امن مل جائے۔

“استرا” بہ کف گروہ غلاماں ہے منتظر
آقا کبھی امن کی خبر تو سنائیے


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 143 posts and counting.See all posts by husnain