مِلنے میں دیر لگا دیتے ہو!


naseer nasirفرخ یار! ملنے میں دیر لگا دیتے ہو
یہاں تک کہ بارشیں پرانی ہو جاتی ہیں
اور ہوا بوڑھی ہو جاتی ہے
اور چھت پر پڑی ہوئی آہنی کرسیوں کا پینٹ اترنے لگتا ہے
اور دروازے کی گھنٹی
خاموش رہ رہ کر بجنا بھول جاتی ہے
اور مین گیٹ ذرا سی آہٹ پر خوامخواہ راہ گیروں
اور گھر کے سامنے کام کرتے ہوئے مزدوروں کے ساتھ الجھتا رہتا ہے

فرخ یار! ہم دیہاتی لوگ ہیں
ہمارے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے
چاہے ہم زندگی بھر نیند میں جھولتے رہیں
اور نظمیں لکھتے رہیں
شہروں میں تنہا ہوتے ہوئے بھی خوش رہنا
ہمارا المیہ نہیں جینیاتی مجبوری ہے
ہم ملاقاتوں کے اتنے حریص ہوتے ہیں
کہ ملنے والوں کی آنکھیں بھی
10689844_798957716832360_3778129587023325783_nبسکٹوں کی طرح چائے میں ڈبو ڈبو کر ہپ کر جاتے ہیں
درخت اور جھاڑیاں
ہمارے جسموں پر اگی ہوئی ہیں
اور فصلی بوٹیاں
دور دور تک ہمارے اندر پھیلی ہوئی ہیں
اور آکاس بیلیں
ہماری روحوں سے لپٹی ہوئی
ہماری ہریالی پر پلتی رہتی ہیں

فرخ یار ! ہم ہر حال میں زندہ رہتے ہیں
اور موت کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے
خدا کو عینی گواہ بنا لیتے ہیں
اور عمر بھر ضمانتوں پر ہوتے ہیں
اور گھروں کے دروازے اونچے رکھتے ہیں
تا کہ ہوا سیدھی گزر سکے
اور ہسپتالوں میں جانے سے گبھراتے ہیں
اور میتیں سرد خانوں کے بجائے
برآمدوں اور دالانوں میں رکھتے ہیں
اور ہماری عورتیں
محرابوں اور ستونوں کے ساتھ لگ کر آنسو بہاتی ہیں
اور ناشتوں میں انڈوں اور پراٹھوں کے انبار لگا دیتی ہیں
اور مرنے والوں کی یادیں
ابھاروں کی طرح سینوں سے لگا کر رکھتی ہیں

11127822_872576782803786_4517151538734218285_nفرخ یار! لمحے کاؤنٹر پر پڑے ہوئے سکے ہیں
جو اب گنتی میں متروک اور ڈی ویلیو ہو چکے ہیں
اور نئے نوٹوں کی گڈیاں
زمانوں کی فاختائیں ہیں
تمہارے ہاتھ سے اڑ کر
نہ جانے کہاں چلی جائیں، کس شاخ پر جا بیٹھیں
خواہشیں بینکوں کی برانچوں کی طرح ہیں
ایک سے دوسری، دوسری سے تیسری
تیسری سے چوتھی
آگے اور آگے
شہر در شہر پھیلتی چلی جاتی ہیں
لیکن گاؤں کی مٹی اور درختوں کی چھال
جس جگہ کی ہو وہیں رہتی ہے
مٹی کا قرض قسطوں میں نہیں اتارا جا سکتا
یہ وہ کھاتہ ہے
جس میں نہ جانے کتنے قرنوں کے ڈپازٹس ہیں
صدیوں کے واوچر ہیں
تہذیبوں کے ورثے ہیں
کتبے اور نسب نامے ہیں
زمان و مکاں کا جمع خرچ ہے
تاریخ کے پنے ہیں، مزروعوں کے رجسٹر ہیں
زمینوں کے خسرے ہیں، کھیوٹ اور کھتونیاں ہیں
مواضع اور پٹوار خانے ہیں
جسموں، روحوں، رشتوں، خوابوں اور یادوں کے بٹوارے ہیں
فرخ یار! تم سے کتنی بار کہا ہے
نظموں کی کتاب پاس رکھا کرو
مٹی تم سے اور کچھ نہیں
اپنے الفاظ واپس مانگے گی

10155913_798964973498301_805589123172213542_nفرخ یار! تمہیں جو مشروب پسند ہے
وہ میں نہیں پیتا
پھر یہ کیا ہے؟
جو ہمارے درمیان چھلکتا رہتا ہے
اگرچہ زندگی دریا کے پانی کی طرح بہتی ہے
لیکن ہم کنارے نہیں کہ اسے دیکھتے رہیں
ہم انسان ہیں،
عام ہی سہی (یہ میں اپنے بارے میں کہہ رہا ہوں)
ہمیں کسی نہ کسی منزل کی جانب تو چلنا ہے
اور کہیں نہ کہیں تو رکنا ہے
جہاں ہم سکون سے اپنی اپنی قبروں میں اتر سکیں
موت سے فلرٹ کرنا بظاہر اچھا لگتا ہے
اور اکثر شاعر کرتے ہیں
لیکن جب وہ آتی ہے
تو ہر لفظ کے معانی بھلا دیتی ہے
اور ہر چیز کے نقش مٹا دیتی ہے
یہاں تک کہ پاس بیٹھے ہوؤں کے چہرے بھی دھندلا جاتے ہیں
اور لمحہ بھر کے لیے دنیا کومے میں چلی جاتی ہے

فرخ یار! جہاں ہم ہیں
وہاں آسمان کم اور زمین زیادہ ہے
کھیت، پگڈنڈیاں اور راستے ہیں
ٹبے، کھائیاں، پڑیاں اور ٹھیکریاں ہیں
کیکروں، پھلاہیوں اور بیریوں کی چھدری چھاؤں میں
سمٹ کر سوئی ہوئی دوپہریں ہیں
دائمی انتظار میں حنوط کی ہوئی ملگجی شامیں ہیں
اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیے مارتا بچا کھچا وقت ہے
فرخ یار! رات اگر آنکھوں سے دیکھی جا سکتی
تو ہم سے بینا کون ہوتا
یہ تو دلوں، دروازوں، دریچوں اور گلیوں سے گزرتی ہے
اور اساروں پساروں میں پھیل جاتی ہے
اور دن اگر طلوع ہوا ہوتا
تو ہم عینک کے بغیر بھی اسے دیکھ لیتے

فرخ یار! ڈاٹوں اور کنگوروں والا گھر جلدی بنا لو
وہاں رہ کر
تم مجھے آسانی سے یاد کر سکو گے
کرائے کے مکانوں میں
انسانوں کی طرح
یادیں بھی آکسیجن کی کمی کا شکار رہتی ہیں
فرخ یار! کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن تم آؤ
اور گھنٹی بجاؤ
اور دروازہ کھلے
اور سامنے کوئی نہ ہو
اور پورچ میں کھڑی دم بخود ہوا منہ کھولے ہوئے
کچھ کہنے کی کوشش میں سرسراتی رہ جائے
میں تو وہاں نہ ہوتے ہوئے بھی تمہیں دیکھ لوں گا
پہچان بھی لوں گا
اور گلے بھی لگا لوں گا
لیکن تم ۔۔۔۔۔۔ تم مجھے دیکھ نہیں پاؤ گے
رو بھی نہ سکو گے
اور ہونقوں کی طرح
میری لاوجود موجودگی کو گھورتے رہ جاؤ گے
فرخ یار! ملنے میں دیر نہ لگایا کرو!!


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “مِلنے میں دیر لگا دیتے ہو!

  • 12-03-2016 at 2:07 pm
    Permalink

    ایلڈس ہکسلے نے بسترِمرگ پر اپنی تمام عمر کا خلاصہ کہہ ڈالا،’ہم پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ہمیں شیکسپیئراور بیتھوون سے بھی کچھ آگے کی طلب محسوس ہونے لگتی ہے۔۔۔‘۔ نصیر احمد ناصؔر صاحب پر یہ کیفیت ماشأاللّٰہ اچھی خاصی جواںعمری میں ہی آشکار ہو چکی ہےجوکسی عام انسان کو دنیا سے بیگانہ کر کے صوفی بنا دیتی ہے اور کسی تخلیق کار سے الہامی کییفیت سے قریب تر تخلیق کروا ڈالتی ہے۔ تب لیو ٹالسٹائی ’پیالہ‘ لکھ ڈالتا ہے اورنصیر احمد ناصؔر ’ملنے میں دیر لگا دیتے ہو‘ تخلیق کرتا ہے۔ ڈبلیو ایس مروین’یسٹرڈے‘ لکھتا ہے تو وزیر آغا’اتنی دیر کیوں کر دی‘۔۔۔ ایک حیرت کدہ ہے یہ جہاں اور ہم سب خوش نصیب کہ نصیر احمد ناصؔر جیسے حیرت زدہ لوگوں کی کیفیتِ درونی سے گاہے آگاہی حاصل کرتے رہتے ہیں اور کسی حد تک اس ابدی حیرت میں حصّہ دار۔

    کس قدر ہنگامہ آرائی ہے سارے شہر میں
    پھر بھی اک مانوس تنہائی ہے سارے شہر میں

  • 12-03-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    شکریہ کامران

  • 12-03-2016 at 7:10 pm
    Permalink

    میں نے “فیس بک” پر شیئر کر دی آپ کو داد دینے کی خاطر۔

    • 12-03-2016 at 8:18 pm
      Permalink

      شکریہ مجاہد مرزا صاحب

  • 13-03-2016 at 3:04 am
    Permalink

    ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ
    فرخ یار! تمہیں جو مشروب پسند ہے
    وہ میں نہیں پیتا
    پھر یہ کیا ہے؟
    جو ہمارے درمیان چھلکتا رہتا ہے
    اگرچہ زندگی دریا کے پانی کی طرح بہتی ہے
    لیکن ہم کنارے نہیں کہ اسے دیکھتے رہیں
    ہم انسان ہیں،
    عام ہی سہی (یہ میں اپنے بارے میں کہہ رہا ہوں)
    ہمیں کسی نہ کسی منزل کی جانب تو چلنا ہے
    اور کہیں نہ کہیں تو رکنا ہے
    جہاں ہم سکون سے اپنی اپنی قبروں میں اتر سکیں
    موت سے فلرٹ کرنا بظاہر اچھا لگتا ہے
    اور اکثر شاعر کرتے ہیں
    لیکن جب وہ آتی ہے
    تو ہر لفظ کے معانی بھلا دیتی ہے
    اور ہر چیز کے نقش مٹا دیتی ہے
    یہاں تک کہ پاس بیٹھے ہوؤں کے چہرے بھی دھندلا جاتے ہیں
    اور لمحہ بھر کے لیے دنیا کومے میں چلی جاتی ہے۔
    واہ

  • 13-03-2016 at 10:37 am
    Permalink

    شکریہ تنویر حسین صاحب

  • 15-03-2016 at 10:42 am
    Permalink

    میں اس وقت اپنی حیرتوں ہی کے شمار میں لگا ہوں۔ بڑی حیرت تو یہ ہے کہ یہ نظمیں پڑھتے پڑھتے میری سانس اکھڑنے لگتی ہے۔ تو ان نظموں کو کہنے لکھنے کے لیے کتنا بڑا ظرف چاہیے ہوگا

Comments are closed.