بلاول، آصفہ، بختاور۔ لب آزاد کرو بیٹا


جب بھی سندھ کے حالات پر بات کرو تو غیر سندھی یہ کہتے ہوئے ٹوٹ پڑتے ہیں کہ اور بولو زندہ ہے بھٹو!
سندھ کے سیاسی، انتظامی، سماجی، معاشی حالات پر بات کرو تو یہ جواب تو آتا ہی ہے لیکن اگر قتل کا بھی کوئی انفرادی عمل سوشل میڈیا پر سامنے آ جائے تو ہر طرف سے آوازے کسے جاتے ہیں کہ اور بولو زندہ ہے بھٹو۔
ایسا صرف تب ہوتا ہے جب بولنے والا یا لکھنے والا سندھی ہوتا ہے۔
اور لہجہ یہ ہوتا ہے کہ بھُگتو۔ اور بھُگتو۔ اور ووٹ دو پیپلز پارٹی کو۔ !

جیسے سندھیوں کا اپنی مرضی سے ووٹ دینا جرم ٹھہرا۔ جیسے ایک ایک سندھی صرف اور محض پیپلز پارٹی کا ووٹر ہو، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں!
یھی وجہ ہے کہ اکثر اس متعصب ردعمل کی توقع ایک سندھی بولنے والے لکھاری کو سندھ کے مسائل اردو میں لکھنے سے روکتی ہے۔

مگر شکر ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ن لیگ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان و لندن سمیت ہر سیاسی جماعت اور ہر سیاست دان، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا چیخ چیخ کر بھٹو اور بی بی کو زندہ کر رہے ہیں اور ان کی شہادت کے ہار اپنے اپنے گلے میں ڈال رہے ہیں اور ان کے خون میں رنگا تمغہ سیاست اور جمہوریت کے سینے پر سجا رہے ہیں۔

بھٹو اور بی بی سندھ میں کیوں زندہ ہیں اور ان کے زندہ ہونے کا فلسفہ سندھ کو کیا دیتا ہے اور پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد پر سیاسی ارتقاء کو کتنی آکسیجن مہیا کرتا ہے، گو کہ یہ ایک علیحدہ اور وسیع موضوع ہے، مگر صد شکر کہ وقت نے موجودہ پیپلز پارٹی کے اعمال سے زندہ بھٹو کو آزاد کر دیا اور بھٹو کا کہا ثابت ہو گیا کہ وہ تاریخ میں زندہ رہے گا اور آج دونوں باپ بیٹی کی شہادت پاکستان کا مشترکہ سیاسی سرمایہ ہوئی۔

اب مجھے موجودہ پیپلز پارٹی کے کچھ ایسے اعمال پر بات کرنی ہے جس کے جواب کی امید فقط بلاول، بختاور اور آصفہ سے کی جا سکتی ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے یہ نوجوان (خاص طور پر بی بی کی بیٹیاں) کبھی کبھی کچھ ایسا بھی بول جاتے ہیں جو کم سے کم امید کا ایک عدد دیا ہی جلا دیتا ہے، پھر چاہے تیز ہوا کے رُخ پر ہی کیوں نہ رکھا ہو وہ دیا!

ایک وڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے فریال ٹالپر کی، جس میں وہ بڑی دھونس اور بادشاہی تکبر کے ساتھ شہداد کوٹ کے عوام سے یوں مخاطب ہیں جیسے ملازموں کو قطار میں کھڑا کرکے وارننگ دی جا رہی ہو کہ اگر تم میں سے کسی نے بھی چوری کرنے کی کوشش کی تو سب کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔ کیا لب و لہجہ اور الفاظ استعمال کر رہی ہیں کہ۔

شہداکوٹ کے رھواسیو!
قمبر شھداد کوٹ سے دور سے آنے والو!
کان کھول کر سن لو
ایک ہی نعرہ ہے، بھٹو کا نعرہ ہے!
ایک ہی نشان ہے وہ تیر کا نشان ہے!
سارے تماشے بند ہونے چاہیں!
اور تیر کو ووٹ دینا ہے 11 تاریخ
اور کسی کے دماغ میں بھی اگر کوئی بدی ہے تو برائے مہربانی اپنے دماغ سے نکال دے!

شروع کے الفاظ اردو میں ہیں اور آخری دھمکی سندھی میں ہے، جو ظاہر ہے مزید براہِ راست ہو جاتی ہے کہ تم لوگ ہو کیا چیز! میرے پیر کی جوتی! تمہیں تو میں دیکھ لوں گی اگر ذرا سی بھی گڑبڑ کی تو!

اسی بارے میں: ۔  کیا سائنس کو کلمہ پڑھانا ممکن ہے؟

گو کہ اردگرد کھڑے چند چمچوں کی واہ واہ اور داد و تحسین کی محض چند تالیاں ہی سنائی دے رہی ہیں۔ سامنے بیٹھا شہداد کوٹ اور قمبر اور شہداد کوٹ سے دور سے ٹریکٹر ٹرالیوں میں بھر کر لائے گئے عوام دکھائی نہیں دے رہے مگر خاموشی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ عوام سکتے کے عالم میں ہیں۔ ادی کے قدموں میں لاکر پھینکے گئے عوام کو تصوّر کی آنکھ سے دیکھ سکتی ہوں میں، کیونکہ میں بھی انھی میں سے ہوں۔

ہیپاٹائٹس سی سے زرد ہوئے چہروں والے عوام۔ ننگے پاؤں۔ میلے کچیلے۔ گدھا گاڑیوں پر مریضوں کو کھینچتے ہوئے۔ قصائی گھر کے سے ہسپتالوں میں بے یار و مددگار پڑے ہوئے۔ حکمِ حاکم کے پابند۔ مجبور و بے بس۔ بے روزگار اور بینظیر انکم سپورٹ کی ہڈی پر پلنے والے، جنہیں شوگر ملوں سے خوفزدہ اور گندم کے سرکاری نرخ پر باردانے کے لیے سفارشیں کرواتے اور زرعی قرضوں پر پلتے چھوٹے زمیندار اپنے حصّے کےووٹر کے طور پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور بسوں میں بھر بھر لاتے ہیں اور فریال کے قدموں میں پیش کرتے ہیں مالِ غنیمت کی طرح۔ محسوس کر سکتی ہوں کہ یہ لوگ کس طرح آخری سانس تک روکے سن رہے ہوں گے یہ دھونس!

اوپر سے غضب در غضب!
سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی کرسی پر بیٹھے آغا سراج درانی بھری محفل میں فرماتے ہیں کہ میں پشاب کرتا ہوں ان ووٹوں پر!
ایک اور وڈیو میں ایک اور اسمبلی میمبر برھان چانڈیو بھرے جلسے میں ووٹرز سے مخاطب ہیں کہ کونسا احسان کرتے ہو؟ پانچ سال میں ایک ٹکے کا ووٹ ہی تو دیتے ہو!

سندھ میں اگر بھٹو اور بی بی زندہ ہیں تو وہ جمہوریت کے لیے سندھ باسیوں کا اب تک وہ زندہ شعور ہے جو بھٹو سے بھی پہلے موجود تھا جس کی وجہ سے 23 مارچ 1940 میں لاہور میں قرار داد پاکستان کے وقت سندھ کے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے سر حاجی عبداللہ ہارون نے قیام پاکستان کی قرار داد پیش کی تھی۔

جس کی وجہ سے 1947 میں سندھ ایک قانون ساز عملِ رائے دہی کے ذریعے پاکستان کا حصہ بنا اور جس کے لیے جی ایم سید نے قیام پاکستان کے لیے تحریک آزادی میں ایک اہم کردار ادا کیا اور سندھ اسمبلی میں قرارداد پاکستان پیش کرکے اسے بھاری اکثریت سے منظور کروایا تھا۔
بھٹو کی قیادت میں انھی سندھی ووٹروں نے ایوبی آمریت کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی اور جمہوری سیاسی نظام کا سبق سیکھا۔

جمہوریت کا یہ شعور ہی تھا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستانیوں کے آمرانہ اور متعصبانہ رویّے تلے پستے بنگالیوں کے لیے کھلے عام آوازِ حق بلند کرنے لیے اُس وقت کے سندھی صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ طلبا اور اساتذہ واضح طور پر کھڑے تھے (کہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے سندھی کے جدید شاعر انور پیرزادو کو ان کے مرنے کے بعد حکومتِ بنگلہ دیش نے شکرگزاری کے طور پر بنگلہ دیش کا قومی ایوارڈ دیا) گو کہ آج سب ہی مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے لیے نوحہ خوانی کرتے ہیں اور شامِ غریباں کا اہتمام کرتے ہیں مگر اب! جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!

لیکن جہاں ایک طرف بھٹو پر یہ من گھڑت الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے اُس طرف تم اور اِس طرف ہم کا نعرہ لگایا تھا، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیخ مجیب نے اسٹیبلیشمنٹ کے ہاتھوں ستائے ہوئے اور احتجاج کرنے پر بنگالیوں کی طرح غدار قرار دیے گئے جی ایم سید کو پیغام بھیجا تھا کہ آؤ مل کر علیحدگی کی تحریک چلاتے ہیں مگر جی ایم سید متفق نہ ہوئے۔ انھیں یقیناً یہ پتہ تھا کہ سندھی اس وقت بھٹو کے پیچھے کھڑے ہیں اور پاکستان کا مزید بٹوارہ کرنے کے لیے نہیں اٹھ کھڑے ہوں گے۔

اسی بارے میں: ۔  میرے ابا جان، سائنسی تحقیق اور جانو جرمن

بھٹو کے ہاتھوں کی ہوئی تربیت کا نتیجہ ہے کہ سندھ میں علیحدگی کی تحریک کبھی بھی جڑ پکڑ نہ سکی۔ کھیتوں کھلیانوں میں ہل چلاتا عام سندھی تک بھٹو کے نام پر ووٹ دے یا کسی اور کے نام پر مگر دیتا پاکستان کو ووٹ ہے۔ حالانکہ سندھ میں بلوچستان سے کہیں زیادہ علیحدگی پسند سوچ کو ذہنی طور پر باشعور کیا گیا ہے، جس میں قوم پرست جماعتوں سے کہیں زیادہ دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کا حصہ رہا ہے اور ایسا مضبوط اور جوشیلا حصہ ہے وہ کہ ایک سندھی اس کے شعلوں سے خود کو بچا نہیں پاتا۔
مگر جب ووٹ کا وقت آتا ہے تو ووٹ پاکستان کے باکس میں ڈلتا ہے۔

ضیا کے سیاہ دور کے خلاف ایم آر ڈی تحریک بھٹو کی ہی تربیت اور اس کی بیٹی کی لیڈرشپ کا ہی نتیجہ تھی، جس میں عام بھوکا ننگا کسان سندھی تک شامل تھا۔ کھلی گولیوں کی بوچھاڑ اور کوڑوں کی بارش اور قید و بند کی سختیوں اور صعوبتوں کے باوجود کسی موڑ پر بھی یہ تحریک علیحدگی کی تحریک نہیں بنی اور پاکستان میں جمہوریت کے لیے ڈٹی کھڑی رہی۔
یہاں تک کہ بینظیر کی شہادت کے ردعمل میں مشرف کی آمریت کے سامنے جو سندھ میں الاؤ بھڑک اٹھا تھا اسے پاکستان کھپے کے نعرے سے ٹھنڈا کرنا پڑا۔
یہ ہے بھٹو اور اس کی بیٹی کا کارنامہ جو انھیں سندھ میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔
یہ ہے وہ ووٹ اور ووٹر جو بھٹو اور اس کی بیٹی پاکستان کو دے کر گئے ہیں۔

جس ووٹ پر آج سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی پیشاب کر رہے ہیں اور میمبر اسمبلی برھان چانڈیو اسے ووٹر کا احسان نہیں بلکہ دو ٹکے کا ووٹ کہہ رہے ہیں اور جسے فریال تالپور صرف اس لیے آنکھیں دکھا دکھا کر تڑی دے رہی ہیں کیونکہ وہ آصف زرداری کی بہن اور بلاول، بختاور، آصفہ کی پھوپھی، بینظیر کی نند اور ذوالفقار علی بھٹو کی سمدھن ہیں! اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔
مگر بلاول، آصفہ اور بختاور کو اب بولنا ہی ہوگا، کیونکہ اب وہ اس عمر پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی نہتی اور دھان پان سی لڑکی دکھتی ماں نے پاکستان کی سیاہ ترین آمریت کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ ان نوجوانوں کے سامنے تو اپنے ہی اردگرد کے چند بدزبان ہیں۔

انہیں اب اپنے لب آزاد کرنا ہی ہوں گے اور اپنے اردگرد کے بدزبانوں کے لب سینا ہی ہوں گے۔ ورنہ بھٹو اور اس کی بیٹی تو زندہ رہیں گے مگر کسی اور کے ہو جائیں گے اور پیپلز پارٹی تھوکنے اور پشاب کرنے اور آنکھیں دکھانے والوں کی آخری جمع پونجی نہ بن کر رہ جائے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 55 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah