پاکستان کی بن بیاہی مائیں اور ناجائز بچے کچھ کہتے ہیں -1


کچھ دن گزرے ایک مشہور عالم دین کو سننے کا اتفاق ہوا۔ حضور کا موضوع سخن حسب معمول مغرب کی اخلاقی گراوٹ اور ہمارے ملک میں عورت کی عزت کے موازنے پر تھا۔ جوش خطابت میں جہاں بہت اور باتیں ہمارے کانوں کے بیچ کی گئیں وہاں اعداد و شمار سے بھی یہ بات تقریبا اتمام حجت تک پہنچائی گئی کہ عزت، عفت اور عصمت کے تقدس کو مغرب نے کیونکر چوک میں رکھ کر نیلام کر دیا ہے اور کیسے شاخ نازک پہ بنا اب ان کا آشیانہ کچھ پل کا مہمان ہے۔ تقریر میں بہت دیر ایک لذت آشنائی کے عالم میں مولانا نے انتہائی تفصیل سے یہ نقشہ کھینچا کہ کیسے مغرب میں بن بیاہی ماؤں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔ کیسے پندرہ اور چودہ سالہ بچیوں کی گود میں شادی کے بغیر بچے ہمک رہے ہیں اور ناجائز اور حرامی نطفوں کا یہ سیلاب کیسے مغرب کی اخلاقی قدروں کو ملیا میٹ کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ملک ضیاداد کا ذکر چھیڑا کہ ہم میں لاکھ برائیاں سہی پر ہماری بچیوں کی عفت محفوظ ہے۔ ہمارے یہاں بن بیاہی مائیں نظر نہیں آتی، ہمارا خاندانی نظام ابھی بھی استوار ہے۔ یہیں سے نجات کا رستہ نکلے گا۔ پھر انہوں نے دجالی میڈیا کو مطعون کرنا شروع کیا جو غیر اخلاقی اقدار کے فروغ میں جٹا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کو نشانے پر رکھا گیا۔ مانع حمل طریقوں پر شست باندھ کر کے پے در پے ”فیر“ کیے گئے۔ کنڈوم کا ذکر خاص بڑی دیر تک نوک زبان پر دھرا رہا۔ حاضرین کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ یہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ ان شیطانی ہتھکنڈوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہو۔

ہر کچھ دن بعد ایسی ہی ایک تقریر کہیں نہ کہیں سننے کو مل جاتی ہے۔ اخبارات اور بلاگنگ سائٹس پر کتنے ہی کالم انہی دعووں اور انکشافات کے سر پر شائع ہوتے ہیں۔ ہمیں یقین دلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی کہ ہم معاشی، مالی، تیکنیکی یا دفاعی لحاظ سے لاکھ کمزور سہی پر ہمارا اخلاقی وجود بہت توانا ہے۔ ہماری قوم جو اس بات کا یقین رکھتی ہے کہ سبز پوش بزرگ بم کیچ کر کے ڈی فیوز کر سکتے ہیں، جن اور چڑیلیں برگد کے درختوں میں گھونسلے بنا کر رہ سکتے ہیں، شوگر کے مریض کا علاج دیسی پھکی سے ممکن ہے، جادو اور نظر بندی حقیقت ہیں اور آمریت جمہوریت سے بہتر ہے۔ وہ یہ بھی مان لیتی ہے کہ اخلاقی اکھاڑے میں ہم رستم زماں سے کم نہیں ہیں۔ رشوت، دھوکہ دہی، جعلی ادویات، کیمیکل زدہ خوراک، بال صفا پاوڈر والے دودھ، آلودہ دریا، غلیظ سمندر، کچرے سے اٹی گلیاں اور بازاروں میں ہونے والی ہر بداطواری کو ایک طرف رکھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے مبلغین کا موضوع نہیں ہیں۔ ان کی سوئی تو بس عورت، جنسیات، ناجائز بچوں اور قبل از عقد مشروع تعلقات کے ریکارڈ پر برسہا برس سے پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں یہ ان کا ترپ کا پتہ ہے جس کا کوئی جواب مغرب کے کسی مداح کے پاس نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان کے ننھے منے غلام

اخلاقی اقدار اپنی اصل میں ہیں کیا اور ان کا تعین یا موازنہ کس پیمانے پر کیا جائے گا، یہ ایک الگ بحث ہے پر کسی معاشرے کے اخلاقی انحطاط یا اخلاقی برتری کی بنیاد جنسی معاملات پر ہر گز استوار نہیں ہوتی۔ پاکستان کا معاشرہ بہت سے حوالوں سے ایک رجعت پسند اور سخت گیر معاشرہ ہے۔ مذہبی اور معاشرتی حدود وقیود کا دائرہ عورت کو مرکز مان کر کھینچا گیا ہے اور ذرا سا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس کا مقصد عورت کو تحفظ فراہم کرنے سے زیادہ اسے مرد کے دست قدرت کا محتاج رکھنا ہے۔ پاکستان میں اسقاط حمل قانونی طور پر جرم ہے۔ شادی کے بغیر جنسی تعلقات نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ معاشرہ اسے قتل سے بڑا گناہ گردانتا ہے۔

ہمارے پاس ریپ اور adultery کے لیے ایک ہی لفظ ہے اور وہ ہے زنا۔ کچھ مہربانی ہوتی ہے تو ایک زنا بالرضا بن جاتا ہے اور ایک زنا بالجبر۔ مذہبی تعزیر انتہائی سخت ہے۔ اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ زنا کا ملزم سنگسار کرنے کے لائق ہے اور اس میں بالجبر اور بالرضا میں کوئی تمیز نہیں ہے۔ قطع نظر اس حقیقت کے کہ قرآن میں رجم یا سنگساری کی سزا کا کوئی تصور موجود نہیں ہے، سخت گیر مسلم اکثریت اسے جزو ایمان سمجھتی ہے اور جب جب جہاں جہاں موقعہ ہاتھ آیا ہے، اس کا نفاذ کیا گیا ہے۔ تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی حوالے بھی ان موضوعات پر سخت موقف رکھتے ہیں۔ مذہب کی تمیز سے ہٹ کر بھی پوری سرزمین ہند میں شادی کے بغیر جنسی تعلقات کو غیر اخلاقی جرائم میں اعلی ترین مقام حاصل ہے اور ایسے تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان کی مڈل اربن کلاس میں اس حوالے سے رکھی جانے والی روایتی سوچ میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے لیکن ہندوستان کے دیہی علاقوں اور پاکستان یا بنگلہ دیش میں عوام اور قانون دونوں اس ضمن میں کسی رعایت کے قائل نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  خدمت کارڈ .... زندہ باد

اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھائی جائے، یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ یہ مضمون آزادانہ یا شادی کے دائرے سے باہر جنسی تعلقات کی حمایت میں نہیں ہے۔ نہ ہی یہ چھوٹی بچیوں کے ماں بننے کے حق میں کوئی دلیل ہے۔ جس مغرب پر ہم انگلیاں اٹھاتے ہیں وہ بھی اس کو کوئی صحت مند رویہ نہیں سمجھتے۔ فرق یہ ہے کہ وہ ایک حقیقت پسند رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انسانی جان کے تقدس کو اولیت دیتے ہیں اور عفت اور عصمت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔ اس کے برعکس ہمارا رویہ فراریت کا ہے۔ ہم ریت میں گردن دیے رکھنا چاہتے ہیں اور ہمارے نزدیک ہمارا عزت اور غیرت کا خود ساختہ تصور انسانی جان پر مقدم ہے۔ رویوں کے اس فرق کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اصل میں موضوع یہ ہے۔

ایک عرصے تک میرا تعلق صحت کے شعبے سے رہا۔ ہاسپیٹل مینجمنٹ کی کرسی پر بیٹھ کر ایسا بہت کچھ میرے مشاہدے میں آیا جس کے بارے میں ہمارا معاشرہ ریت میں گردن دیے رکھنے کو ہی بہتر سمجھتا ہے۔ ہم خود انکاری کی اس منزل پر براجمان ہیں جہاں سے ہمیں سات سمندر پار کی سوئی تو صاف دکھتی ہے پر قریب کا شہتیر آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں اسقاط حمل غیر قانونی اور غیر شرعی سمجھا جاتا ہے وہاں ہزاروں کلینکس اور ہسپتال دن رات اسقاط حمل میں مصروف ہیں۔ ہر شہر میں بہت سے ڈاکٹر اور مڈوائف اپنی روزی کا نوے فی صد اسقاط حمل کے کیسز سے کماتے ہیں اور ان میں کئی معروف نام بھی شامل ہیں۔


آخری حصہ

پاکستان کی بن بیاہی مائیں اور ناجائز بچے کچھ کہتے ہیں -2


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 94 posts and counting.See all posts by hashir-irshad