زاہدہ حنا سے مکالمہ۔۔۔


اردو کی نامور ادیب زاہدہ حنا نے فہمیدہ لالہ رُخ کے نام سے قیام پاکستان سے تقریباَ نو ماہ قبل 5 اکتوبر 1946ء کو ہندوستان کے صوبے بہار کے علاقے سہسرام میں معروف کتاب دوست شخصیت محمد ابوالخیر کے گھر جنم لیا جو قیام پاکستان کے بعد بذریعہ بحری جہاز3 جنوری 1948ء کو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ کراچی چلے آئے۔ بچپن میں بیمار رہنے کے سبب کسی سیانے نے نام تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تو زاہدہ بانو نام اختیار کیا گیا۔ تاہم اسکول کے رجسٹر میں ان کا اندراج زاہدہ ابوالخیر کے نام سے ہوا۔ لیکن ادبی دنیا انہیں زاہدہ حنا کے نام سے جانتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل زاہدہ آپا سے ایک نشست ہوئی اس دوران ان سے ہونے والا مکالمہ آپ بھی پڑھئے۔۔۔

 س۔ آپ اپنے ادبی سفر کے دوران لاتعداد ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں،کچھ یاد ہے کہ پہلا ایوارڈ کب حاصل کیا تھا؟

ج۔ دراصل آٹھویں جماعت میں، میں نے ایک تحریری مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ اس میں مجھے Appreciation کاایوارڈ ملا تھا۔ اور میں دوسرے نمبر پر آئی تھی۔ پہلے نمبر پر کوئی اور تھا۔ کون تھا مجھے نہیں معلوم اور اس کے بعد سے اب تک ایوارڈز تو بہت سے ملے لیکن جو ایک دو قابل ذکر ہیں میرا خیال ہے کہ ان کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ ایک تو مجھے 2001 ءمیں ہندوستان کے صدرنے دیا سارک لٹریچر ایوارڈ۔ اور یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ جو میرا پہلا اعزاز آپ کہیں وہ 2001 ءمیں ملا تھا اور 1961ءمیں مجھے وہ Citationملا تھا جس کا ابھی آپ نے ابتدا میں ذکر کیا ہے تو یہ 40 سال کا سفر تھا۔ اس کے بعد پھر مجھے 2006ءمیں حکومتِ پاکستان نے دیا صدارتی ایوارڈ جسے پرائڈ آف پرفارمنس بھی کہتے ہیں لیکن میں نے وہ لینے سے انکار کر دیا کیونکہ جب 12اکتوبر 1999ءکو پرویز مشرف نےCoup کیا تھا تواس کے بعد جو میرا کالم چھپا تھا وہ 17 اکتوبر1999ء کو چھپا تھا تو اس وقت سے میں ان کے خلاف لکھ رہی تھی۔ ان کے نہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ میں آمریت کے خلاف لکھ رہی تھی اور جمہوریت کے حق میں لکھ رھی تھی تو میں نے پھر ایک خط لکھا جو کالم کے طور پر بھی چھپا۔ میں نے کہا کہ جس حکومت کے خلاف اور جس نقطہ نظر کے خلاف میں اتنے عرصے سے لکھ رہی ہوں تو میں اس حکومت کے سربراہ ایک آمر سے میں کوئی ایوارڈ نہیں لے سکتی۔ اور میں نے واپس کر دیا تھا پھر 2011 ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ ایوارڈ مجھے پھر سے دیا اور مجھے ایوارڈ سے زیادہ اس بات کی خوشی ہے کہ جو اس کاCitation تھا اس پر یہ لکھا گیا تھا کہ یہ ایوارڈ ان کو2006ءمیں فوجی آمر نے دیا تھا لیکں انہوں نے انکار کر دیا تھا اسے لینے سے۔ تو اب ہم انہیں دوبارہ سے دے رہے ہیں وہ میں نے پھر قبول کیا تھا۔

س۔ آپ براڈ کاسٹر بھی ہیں اور دنیا کے تین بڑے نشریاتی اداروں ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور وائس آف امریکہ سے بھی منسلک رہیں تو یہ تجربہ کیسا رہا؟

ج۔ دیکھئے اگر میں یہ کہوں کہ ابھی بھی میں براڈ کاسٹر ہوں تو یہ غلط بات ہو گی۔ میں نے ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس کے لئے سات برس ہفتہ وار ایک پروگرام کیا تھا جو خطوط سے متعلق تھا جس میں خطوط کے جوابات ہوتے تھے لیکن اس میں میرا خیال ہے کوئی ایسی بات ہو گی جو لوگوں کو پسند آئی اور پھر وہ سلسلہ چلتا رہا اور سات برس کے بعد پھر میں نے اسے چھوڑااور وہ بھی اس لئے چھوڑا تھا کہ میں انگلینڈ جا رہی تھی چونکہ BBC میں میرا تقرر ہو گیا تھا بطوراسسٹنٹ پروڈیوسر اور میں وہاں ساڑھے چار سال کے لئے گئی تھی BBC۔ لیکن میرا اتنا جی گھبرایا وہاں کہ میں ڈیڑھ سال کے بعد واپس آگئی استعفٰی دے کر اور جہاں تک وائس آف امریکہ کا تعلق ہے تو یہاں پاکستان میں وائس آف امریکہ کا ایک دفتر کراچی میں تھا اور وہاں سے ڈرامہ انٹرویو اور دیگر تمام پروگرام بذریعہ Tapes جاتے تھے واشنگٹن پھر وہاں سے وہ نشر ہوتے تھے اور صرف وائس آف امریکہ، خبریں وہاں سے نشر کرتا تھا وہاں میں نے کوئی ڈھائی سال کام کیا اور اس کے چھوڑنے کا لطیفہ یہ ہے کہ اس زمانے میں ویت نام جنگ عروج پر تھی۔ ظاہر ہے 1968-69ء کا زمانہ تھا اور امریکیوں کے جو مظالم تھے وہ بھی عروج پر تھے تو جو مظاہرے وغیرہ ہوتے تھے یا بیانات دئیے جاتے تھے تو میں اس میں شریک ہوتی تھی اس بیان پر دستخط ہوتے تھے میرے۔ اپنے ہی دوست میں سے کسی نے وہ Clipping ہمارے Information Officer کے پاس پہنچا دی John Constable Mr. ان کا نام تھا۔ ایک دن انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ بھئی یہ تمھاری تصویریں ہیں کیا؟ میں نے کہا کہ جی بالکل۔ تم نے یہ دستخط کئے ہیں؟ میں نے کہا جی بالکل۔ تو انہوں نے کہا بھئی یہ عجیب بات ہے کہ وائس آف امریکہ کے لئے تم کام کرتی ہو اور وہاں مظاہروں میں تم شریک ہوتی ہو۔ میں نے کہ بھئی اس لئے شریک ہوتی ہوں کہ آپ لوگ غلط ہیں۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم غلط ہیں تو پھر تمھیں ہمارے لئے کام نہیں کرنا چاہئے اور اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ تم اپنے اس روئیے کو ترک کر سکتی ہو تو بصد شوق کام کرتی رہو۔ میں نے کہا آپ نے بات بالکل بجا کہی ہے تو میں اب کام نہیں کر سکتی چونکہ آپ کی یہ اصولی بات درست ہے سو وہ میں نے چھوڑ دیا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  مسگار کی ماروی

س۔ آپ نے ٹی وی کے لئے بھی بہت عمدہ ڈرامے تحریر کئے، اس سلسلے کا آغاز کیسے ہوا؟

ج۔ میں آپ سے عرض کروں کہ مجھے ٹی وی کے لئے لکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہارون رند مرحوم بہت اچھے زبردست پروڈیوسر تھے پی ٹی وی کے۔ وہ میرے پیچھے کوئی ڈھائی برس لگے رہے۔ ادی لکھو، ادی دور تک بات جاتی ہے۔ ادی اخبار کے کالم سے کیا ہوتا ہے۔ خیر انہوں نے مجھے اتنا پریشان کیا کہ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں لکھوں گی لیکن اس میں کوئی پیغام ہو گا۔ کہنے لگے کہ ہاں ہاں بالکل میرا وعدہ۔ پھر میں نے پہلا جو ٹی وی کے لئے طویل دورانیے کا کھیل لکھا۔ ” زرد پتوں کا بن“ وہ ہارون رند مرحوم کے لئے لکھا تھا۔ اوروہ بہت اچھا تجربہ رہا اور ہارون رند مرحوم نے بھی بہت ہی ایمانداری سے اس میں کسی قسم کی کتر بیونت نہیں کی۔ اور وہ چلا اور بہت پسند کیا گیا۔ اب میں چونکہ چیزوں کا ریکارڈ نہیں رکھتی اس لئے حتمی طور پر مجھے یہ نہیں معلوم کہ پتا نہیں جرمنی سے یا کسی ایسے ملک سے اس ڈرامے کو بھی کوئی ایوارڈ بھی ملا تھا۔ اس کے بعد میں نے ساحرہ کاظمی کے لئے لکھا اور اس میں قینچی چلی تھی میرے ایک ڈائیلاگ کے اوپر۔

س۔ وہ ڈائیلاگ کیا تھا؟

ج۔ ہاں ڈائیلاگ یہ تھا کہ کہانی کچھ ایسی ہے کہ ایک نانی ہے اور تین نواسیاں ہیں اور نانی جو ہے نا وہ نواسیوں کو ہر وقت کہتی رہتی ہیں کہ یہ کرو یہ نا کرو۔ اب اس میں ایک لمبی کہانی تھی۔ لیکن خیر سحاب قزلباش اس میں نانی بنی تھیں۔ اور مرینہ خان کے لئے ایک مکالمہ لکھا تھا میں نے وہ کاہل سی تھی اُس ڈرامے میں۔ نانی کہتی ہیں کہ بھئی یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ ہر وقت پڑی ہوئی سو رہی ہیں آپ۔ یہ کوئی طریقہ ہوتا ہے؟ وہ کہتی ہے کہ نانی سونے دیں۔ جی نہیں چاہ رہا کام کرنے کا۔ تو وہ کہتی ہیں کہ بہت غلط بات ہے تو مرینہ کہنے لگی واہ یعنی میں چھٹی کروں تو غلط بات ہے۔ اور دیکھئے آپ Holy Testament  میں آیا ہے کہ خدا نے چھ دن میں دنیا بنائی ہے اور ساتویں دن آرام کیا۔ تو ظاہر ہے ساحرہ کاظمی نے کہا بھئی کیوں ہماری نوکریوں کے پیچھے پڑی ہو تو وہ جملہ Edit ہوا تھا۔

س۔ آج کل ہمارے ٹی وی چینلز اور سینما گھروں میں ہندوستانی اور دیگر غیر ملکی ڈراموں اور فلموں کی یلغار ہے اس رجحان کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

ج۔ دیکھئے میں نے بڑا شور مچایا تھا کہ ہندوستانی فلمیں جو دکھائی جاتی ہیں تو اُن کو فوراَ بند ہو جانا چاہیے۔ چونکہ ہماری فلم انڈسٹری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ جب ہمارے یہاں ” وعدہ “ ”یکے والی“ اور ” حمیدہ “ اور اس قسم کی بے پناہ اور بہت عمدہ فلمیں بن رہی تھیں۔ تو اس وقت انڈین فلمیں بند ہو گئی تھیں۔ پاکستان میں فلم نگری کے لوگوں نے جال موومنٹ چلائی تھی اور اس کے نتیجے میں انڈین فلمیں بند ہو گئیں۔ اور اس کے بعد ہماری فلم انڈسٹری جس طرح سر کے بل گری ہے تو وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اب آج یہ عالم ہے کہ ہم اگرچاہیں بھی کہ اپنے پکچر ہاؤسز میں پاکستانی فلمیں دکھائیں تو فلمیں نہیں ملتیں دکھانے کو۔ اچھا اب اسی طرح شور مچ رہا ہے ٹرکش ڈراموں کے بارے میں۔ ہندوستان کے بارے میں تو یہ کہا جاتا تھا کہ بھئی یہ تو کافرانہ جو ریاست ہے اس کی بنائی ہوئی فلمیں ہیں۔ اور اس میں ہندوازم کا پرچار ہو رہا ہے اور بدعت ہے وغیرہ وغیرہ جو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں کہ ان کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے۔ اب جو ٹرکش ڈرامے آتے ہیں ان پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔ دراصل مشکل یہ ہے کہ ہم محنت کرنے کو راضی نہیں ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم محنت کریں اور اچھے ڈرامے بنائیں چونکہ اچھے ڈرامے تو دیکھے جاتے ہیں اور ٹرکش ڈرامے بھی جو دیکھے جا رہے ہیں وہ اس لئے دیکھے جا رہے ہیں کہ ان کے اندر ایک نیا ذائقہ ہے، نئے چہرے ہیں۔ نیا ماحول اور منظرنامہ ہے۔ ہم ہر چیز کو جو اپنی دشمنی پر محمول کر لیتے ہیں۔ میرا یہ خیال ہے کہ وہ نہیں ہمیں کرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ٹرکش ڈرامے ہماری سوسائٹی کے لئے مخرب الاخلاق ثابت ہو رہے ہیں۔ تو ہمیں یہ سوچنا چاہئے بلکہ میں تو یہ سوال کرتی ہوں کہ بھئی اگر آپ ترکی کو ایک مسلمان ملک مانتے ہیں اور آپ ترک دوستی کے قصیدے گاتے ہیں تو اتنا آپ کو کیا اعتراض ہے؟ کیا اس لئے کہ وہاں شراب پیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟ کیا اس لئے کہ وہاں جو اور معاملات ہیں وہ دکھائی دیتے ہیں۔ اور مجھے جو سب سے زیادہ Fascinate کرتا ہے ٹرکش ڈرامہ وہ ”میرا سلطان“ ہے اور اسے میں نے تو شروع سے دیکھا ہی نہیں کوئی اس کی ڈیڑھ سو قسطیں پونے دو سو قسطیں نکل گئیں اچانک جب ایک دن میری نظر پڑی اس پر تو میں بیٹھ گئی اور پھر میں دیکھتی ہی چلی گئی اور میں اب تک دیکھ رہی ہوں اس سے دو کام ہوئے۔ ایک تو میری ذاتی ایسوسی ایشن یہ تھی کہ جب میں نویں میں تھی تو ہمارے اسکول کی طرف سے سالانہ فنکشن بڑا زبردست ہوتا تھا ڈرامے بھی ہوتے تھے اس میں ایک ڈرامہ ہوا ”کوسم سلطان“ کے نام سے وہ ایک ٹرکش کردار ہے خاتون کا جیسے آپ اس میں دیکھ رہے ہیں ”حرم سلطان“ کا ہے تو اس میں وہی بادشاہوں اور وزیر کی لڑائی وغیرہ وغیرہ۔ یہی محلاتی سازشیں جن کا رونا پیٹنا ہم ہر وقت مچاتے رہتے ہیں۔ تو جناب اس میں، میں وزیر بنی تھی اور پھر یہ ہوا کہ بادشاہ کے حکم سے مجھے قتل کیا گیا تو میرا سر لایا گیا اب وہ میرے خون سے لتھڑا ہوا ظاہر ہے لپ اسٹک وغیرہ پتہ نہیں جو کچھ بھی لگایا گیا ہوگا۔ ہماری ٹیچر نے تھوڑا اصل رکھا ہوا تھا۔ تو ظاہر ہے لوگ بہت ہی پریشان ہوئے اور بہت Clapping وغیرہ ہوئی تو اس وقت کا میرا Fascination تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ”میرا سلطان“ میں مجھے خلافتِ عثمانیہ کی اور مغل سلطنت کی پوری تاریخ نظر آتی ہے اورہم اگر اسے سنجیدگی سے دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ ہماری تنزلی ہمارے زوال کے اسباب کیا ہیں؟ آپ مثال کے طور پر یہ دیکھیں کہ اگر آپ پیٹرِ اعظم کی بات کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ بھئی ہمارے پاس بحری جہاز ہونا چاہیے کیونکہ بحری قوت بنے بغیر ہم حکومت نہیں کر سکتے تو پیٹر اعظم تخت سنبھالنے کے بعد جرمنی چلا جاتا ہے۔ اور وہاں جا کر خود وہ جہاز بنانے کی تربیت لیتا ہے اور اس کے بعد روس ایک عظیم بحری طاقت بن کر اُبھرتا ہے۔ یہاں جب ہم سلطان کو دیکھتے ہیں تو اس میں یا تو وہ بیٹھے ہوئے نقاشی کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے جو ہونے والے سلطان ہیں سرود اور بربط بجا رہے ہیں۔ یا پھر وہ اپنی محبوباؤں کے لئے جڑاؤ انگوٹھیاں بنا رہے ہیں۔ تو اگر ہم ان چیزوں کو تفریحی طور پرنا دیکھیں بلکہ اس کو بھی ایک ڈیوٹی کے طور پر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے زوال اور ان کے زوال کے کیا ا سباب ہیں۔ دراصل میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ ہمیں کیا میسج دینا چاہتے ہیں چونکہ ان کے اب بعض ڈرامے میں نے نہیں دیکھے ہیں لیکن تعریفیں بہت سنی ہیں۔ ”عشقِ ممنوع“ کی اور ”عفت “ کی اور ڈرامے ہیں۔ لیکن یہ تو ہمیں سیکھنا چاہیے اور بطور خاص اگر آپ کو تاریخ سے کوئی دلچسپی ہے تو ” میرا سلطان “ دیکھنا بہت ضروری ہے تاریخی پس منظر میں۔۔

اسی بارے میں: ۔  جمہوریت کے سو برس (دوسرا حصہ)

س۔ آپ ہندوستان کے اخبارات کے لئے بھی لکھتی ہیں؟ روزنامہ ایکسپریس میں بھی باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں، سندھی اخبارات میں بھی لکھتی ہیں تو ان سب کے لئے مواد کہاں سے اکٹھا کرتی ہیں،اور کبھی کبھار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو دیگر کالم نگاروں کی نسبت زیادہ آزادی ہے؟

ج۔ دیکھئے ہندوستان کے لئے جو میں لکھتی ہوں ” بھاسکر کے لئے۔ ”پاکستان ڈائری“ اس کا نام ہے۔ تو جو واقعات پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ ان کے بارے میں میں لکھتی ہوں کہ بھئی کیا ہو رہا ہے کیا نہیں ہو رہا ہے۔ سندھی اخبار ”عبرت“ کا جو میرا کالم ہوتا ہے وہ عموماَ بہت سیاسی ہوتا ہے اور وہ بہت سخت ہوتا ہے اس کا لہجہ سخت ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سندھی اخبار اپنے لکھنے والوں کو جتنی گنجائش دیتے ہیں وہ اردو اخبار نہیں دیتے عمومی طور پر۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو کے اخبات تھڑے پر پڑھے جاتے ہیں۔ عوامی ہیں اور جو بطور خاص پنجاب میں پڑھے جاتے ہیں کراچی میں پڑھے جاتے ہیں۔ تو ان کا جو پڑھنے والا ہے اس کو اتنا جسے کہنا چاہیے کہ Indoctrinate کر دیا گیا کہ وہ بہت سی چیزوں کو برداشت نہیں کرتا۔ اچھا میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ اردو میں بھی میں بہت Liberty لے لیتی ہوں بہت آزادی سے لکھتی ہوں اور بطور خاص میں بہت داد دوں گی ایکسپریس کی انتظامیہ کو کہ آج کی تاریخ تک تیرہ سال ہو گئے ہیں ان کے لئے لکھتے ہوئے اور ہفتے میں ان کے لئے میں دو کالم لکھتی ہوں انہوں نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہیں کہا کہ یہ لکھیے اور یہ نا لکھیے یا یہ جملہ بہت سخت ہے اسے نکال دیجئے۔ آزادی مجھے دی ہوئی ہے انہوں نے اور شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں آزادی لیتی بہت ہوں تو وہ مجھے آزادی دیتے بہت ہیں

س۔ کچھ نقاد کا خیال ہے کہ آپ کی تحریروں میں اردو ادب کی ایک اور سرکردہ ادیبہ قرةالعین حیدر کا انداز جھلکتا ہے۔ تو کیا ایسا شعوری طور پہ ہے یا لا شعوری طور پہ؟

ج۔ نہیں دیکھئے یہ یقینی طور پر شعوری نہیں ہے لیکن لا شعوری یقیناَ ہوگا اور جو لوگ کہتے ہیں تو اس میں کچھ نہ کچھ تو سچائی ہوگی اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ جو Shade نظر آتا ہے۔ اس کے دو اسباب ہیں ایک تو تاریخ سے میری گہری دلچسپی اور دوسرا یہ ہے کہ ہندوستان میں جو ایک تہذیب تھی جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا تھا اس سے میری بہت وابستگی ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ اس کے چونکہ شیڈز آتے ہیں تو وہ عینی آپاکے ہاں ہی ملتے ہیں وہ امام ہیں اس طریقہ تخلیق کی تو اس لئے شائد یہ کہا جاتا ہے اور میں اس کو بالکل برا نہیں جانتی۔

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 28 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz