کیوپڈ کا ایک تیر۔۔۔ پرواز سے انجام تک


jamal yasinکیوپڈ ایک ننھا لڑکا ہے، گل گوتھنا سا، ننگ دھڑنگ، گھنگھریالے بال، آٹھ گھڑی بے لباس اور بے حجاب، آنکھ میں شوخی اور ادائوں میں پرکار۔ جب دیکھو، تیر کمان اٹھا رکھی ہے۔ جہاں امنگ بھرا دل دیکھا، صاحب زادے نے چلہ کھینچا۔ گلشن میں بلامبالغہ ہزاروں گل تازہ چھید کر ڈالے۔ بالشت بھر کا لڑکا ہے مگر آفت کا پرکالا۔ ایسے فتنہ روزگار طفل کے ذکر سے بات شروع کرنا خلاف آداب ہے، شرفا کا شیوہ نہیں۔ حضرت امیر مینائی کو یاد کرتے ہیں اور اس بہانے استاد برکت علی خان مرحوم و مغفور کی یاد کا بھی کچھ پہلو نکل آئے گا۔

ناوک ناز سے مشکل ہے بچانا دل کا

درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا

بزرگوں سے سند مل گئی، منزل ملی ، مراد ملی، مدعا ملا۔۔۔ اور آئیے اب بات شروع کرتے ہیں

پہلے پہل وہ مجھے اپنے گھر کی بالکونی میں نظر آئی۔ بوٹا سا قد، گھنگریالے بال، کھلتا ہوا گندمی رنگ، آسمانی کرتا شلوار تن زیب کا زیب تن کیے ہوئے، آنکھوں پر جدید انداز کا دھوپ کا چشمہ چڑھائے ہوئے۔ ہماری طرف ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور اندر چلی گئی۔

1حضرت کیوپڈ اپنے سازوسامان سمیت وہیں کہیں بھنبھنا رہے تھے، موصوف ایسے واقعات کی تاڑ میں ہر وقت محو سفر رہتے ہیں. بس پھر کیا تھا، آو دیکھا نہ تاؤ، دو مونہہ تیر اپنے پشتارے سے نکالا اور داغ دیا۔ آپ لوگوں کے لیے تو مرغ بسمل کا اشارہ ہی کافی ہے۔

یہ دسمبر 1979 کے کراچی کا ذکر ہے، اک تیر تو نے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے۔ کیا وقت تھا اور عروس البلاد کے کیا کیا غمزے تھے۔ بہ قول شخصے اب اسے ڈھونڈو چراغ رخ زیبا لے کر۔ ہم اپنی بہن کے ساتھ ان کی سہیلی کے گھر میں داخل ہو رہے تھے کہ یہ دل فریب شکل نظر آئی۔ عرصہ سے گھر والوں کا اصرار تھا کہ بس بہت ہو گئی اب شادی کر ڈالو۔ تعلیم بھی مکمل ہو گئی اور نوکری کرتے ہوئے بھی سات برس ہو گئے، اتفاق سے اس وقت اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی۔

ہم نے اس بت طناز کو دیکھتے ہی کہہ دیا کہ اگر آپ لوگوں کو اتنی ہی جلدی ہے تو اسی بالکونی والی لڑکی سے کروا دیں۔

اس میں مصلحت یہ تھی کہ چت بھی اپنی اور پٹ بھی اپنی، اگر نہ ہوئی تو کچھ عرصہ اور آزادی کا میسر آ جائے گا، اگر 2ہو گئی تو کیا ہی بات ہے۔

خیر صاحب پھر کیا تھا۔ ہر طرف ایک ادھم مچ گیا۔ ہرکارے دوڑائے گئے کہ اس لڑکی کا حدوداربعہ، اتا پتا معلوم کیا جائے۔ پتہ چلا کہ موصوفہ مکان مالکن کی بھانجی ہیں اور پشاور سے کراچی کی سیر کرنے تشریف لائی ہیں۔ فوراً سلسلہ جنبانی شروع کیا گیا۔ ان کی بڑی بہن کراچی میں رہتی تھیں۔ انہوں نے جھٹ سے اگلے دن ہی ہماری دعوت کر ڈالی۔ آخر پی آئی اے سے آیا بر تھا اور آپ جانتے ہیں کہ 1979 میں اس ادارے کا شمار پاکستان کے صف اول اداروں میں ہوتا تھا۔ اور ان چند اداروں میں سے تھا جہاں تنخواہ چار ہندسوں میں ملا کرتی تھی۔

بس پھر رات کے کھانے پر پاکستان چوک میں واقع ان کے فلیٹ پر پہنچے۔ کھانے میں سب سے انوکھی چیز ٹینس بال کے برابر ( جسے اس زمانے میں خدا جانے ست ربڑی گیند کیوں کہتے تھے) نرگسی کوفتے تھے۔ جو مبلغ ایک عدد ہی ایک آدمی کا پیٹ بھرنے کو کافی تھا۔

رفتہ رفتہ بات ذرا اور آگے بڑھی تو انکشاف ہوا کہ دونوں خاندان عقیدے میں ایک ہی مکتبہ فکر سے منسلک ہیں۔ پھر تو حجابات من و تو چشم زدن میں اٹھ گئے۔ اور دو دنوں کی ملاقات ہی میں ایسا لگنے لگا کہ عرصہ سے دونوں خاندان ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

ہمارے ابو اور ان کے آغا جی کا غائبانہ تعارف اور ملاقات (بذریعہ خطوط) کروائی گئی کہ اس زمانے میں برقی ڈاک کا چلن (بلکہ اگر معاف کریں تو بد چلنی) نہیں تھا۔ آپ کیوپڈ کے تیر کی
کارفرمائیاں دیکھیے کہ صرف ایک ماہ کے اندر وہ دن بھی آ گیا جب ہم اپنے جگری دوست حسن کی ہمراہی میں منگنی کروانے پشاور آن دھمکے۔

4اس زمانے کے آداب و اخلاقیات کے عین مطابق ہونے والی سسرال میں رہائش کا کوئی تصور نہیں تھا اس لیے ہوٹل میں قیام کیا اور شام کو بن ٹھن کے رونمائی کے لیے متوقع سسرال پہنچے۔ وہاں موصوفہ کی تمام کزنز ہمارا انٹرویو کرنے کے لیے زبان کی چھریاں تیز کیے
موجود تھیں۔ پرتپاک استقبال کے بعد بیٹھک میں بٹھایا گیا اور گپ شپ کا سلسلہ شروع ہوا۔ تھوڑی دیر میں سسر صاحب المعروف آغا جی تشریف لائے اور مصافحہ و معانقہ کے بعد ارشاد کیا کہ یارا کمرہ بہت ٹھنڈا ہے۔

ساتھ ہی اونچی آواز میں ایک نعرہ مستانہ لگایا، “او بچے ملکن پخاو۔” یقین کیجیے گا ہم دونوں (حسن اور میں) کے پسینے چھوٹ گئے کہ شاید ان لڑکیوں سے گفت و گو کرتے ہوئے ہم سے کوئی گستاخی سرزد ہو گئی ہے، ابھی ڈنڈا بردار پٹھان آئیں گے اور ہماری دھنائی کر دیں گے۔ اس پریشانی میں کوئی بات بھی نہیں سوجھ رہی تھی اور دوسری طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔

3ذرا سی دیر میں جب دہکتی ہوئی انگیٹھی لائی گئی تو معلوم ہوا کہ ملکن پخاو کا مطلب ہے انگیٹھی دہکاؤ۔ خیر صاحب جان میں جان آئی۔ تھوڑی دیر میں کھانے کا وقت ہو گیا۔ باقاعدہ شاہانہ قسم کا کھانا جس میں گوشت کے آئٹم وافر مقدار میں تھے، کھلا کر، قہوہ پلا کر ہمیں رخصت کیا گیا۔

(جاری ہے) 


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “کیوپڈ کا ایک تیر۔۔۔ پرواز سے انجام تک

  • 12-03-2016 at 1:38 pm
    Permalink

    واہ جمال بھائی! اردو دان کی ہزاروال زبان سے غیریت کا لمحاتی نقشہ کیا کھینچا کہ ہنسا ہنسا کر فشار خون درست کر دیا۔ خوش رہیے ( میں فوج میں کپتان ہوا کرتا تھا۔ آپ کے ایک ساتھی شکور تھے، وہ میرے دوست تھے۔ آپ سے بھی ہیلو ہائے تھی۔ زمانہ بیت گیا، کیا یاد رہا ہوگا)

    • 12-03-2016 at 7:50 pm
      Permalink

      تحریر پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ ذرا روےؐ انور کی زیارت کروایؐیے تو شاید پہچان پاؤں۔

      • 12-03-2016 at 10:44 pm
        Permalink

        مصنفین پر کلک کیجیے، کہیں میرے نام کے ساتھ تصویر بھی ہوگی۔

    • 12-03-2016 at 8:06 pm
      Permalink

      انعام میاں ! آپ نامِ خُدا نوجوان ہیں۔ کہا ں قتل وغارت کے قصوں میں پھنس گئے۔یہ توہم نے آپکے اٰشہبِ قلم کومہمیز دینے کی خاطرلکھا ہے۔

  • 12-03-2016 at 6:25 pm
    Permalink

    واہ انکل (حسنین کو بھائی کہتا ہوں تو آپ انکل ٹھرے)۔

    مگر سنیے اگر ایسی رومانی تحریریں بھی آپ ہی نے لکھنی ہے تو ہم پھر کیا لکھیں۔ ?

  • 12-03-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    واہ! لطف آگیا جناب. یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے . زبان کی ایک نسبتا سنگین تر غلط فہمی کا واقعہ میرے ساتھ ایک بار برازیل میں پیش آ چکا ہے. مگر یہاں لکھنے کا نہیں. شاید ملاقات پرسنانے کی ہمت جٹا پاؤں.

  • 13-03-2016 at 10:59 pm
    Permalink

    ایسی مرصع و مسجع نثر۔واللہ کیا کہنے بلکہ قیا ہی کہنے۔

Comments are closed.