ملالہ آکسفورڈ میں برقع پہنا کرے گی


پانچ برس پہلے طالبان نے مجھے گولی مار دی تھی کیونکہ میں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بات کرتی تھی۔ آج میرا آکسفورڈ میں پہلا دن ہے۔ اس مرتبہ میں محتاط ہوں۔ پانچ برس پہلے میرا خیال تھا کہ طالبان سوات سے شکست کھا کر جا چکے ہیں، ادھر اب کوئی خطرہ نہیں ہے اور ویسے بھی کسی عورت یا بچی کو گولی مارنا پختون ولی کے خلاف ہے، اس لئے میں محفوظ ہوں۔ میرا خیال غلط نکلا۔ وہ تو شکر ہے کہ میں دوپٹہ اوڑھنے کی عادی ہوں۔ اس لئے جب طالبان لڑاکے نے مجھے گولی ماری تو اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ دوپٹے میں میرا سر کس جگہ ہے۔ شاید اسی دوپٹے کی وجہ سے بچت ہوئی ہو گی۔

بہرحال اب میں نہایت محتاط ہوں۔ ٹویٹر پر آنے کے بعد مجھے احساس ہو چکا ہے کہ طالبان صرف سوات میں ہی نہیں ہیں بلکہ لاہور کراچی کے علاوہ ادھر برطانیہ میں بھی ان کی کمی نہیں ہے۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ آکسفورڈ جانے کے لئے ایسا لباس پہنوں گی جس میں کوئی مجھے ارد گرد کے ماحول سے الگ نہ سمجھے اور میں ہجوم میں چھپ جاؤں۔ یہ بہت آسان تھا۔ میں نے صندوق میں سے روایتی نیلا شٹل کاک برقع نکالا اور وہ پہن کر آکسفورڈ کا رخ کیا۔

راستے میں معمولی سی دقت ہوئی۔ دو جگہ گاڑی کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی اور تیسری جگہ آکسفورڈ کے گیٹ پر طلبہ کا ایک گروہ سڑک کے کنارے میدان میں کھڑا دکھائی نہیں دیا تھا جہاں میری گاڑی چلی گئی تھی۔ پہلے تو وہ نہایت غصے میں میری طرف لپکے لیکن جب میں گاڑی کا دروازہ کھول کر نکلی تو وہ خوف سے پیلے پڑ گئے۔ ”وی آر سوری پروفیسر سیوریس سنیپ“۔ ایک لڑکی نے کانپتے ہوئے کہا اور پھر وہ سب وہاں سے تیزی سے غائب ہو گئے۔ وہ سب مجھے ہیری پوٹر کا ظالم ٹیچر پروفیسر سیوریس سنیپ سمجھے رہے تھے حالانکہ سیورس سنیپ کالا لبادہ پہنتا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  بیگم اکبر جہاں: ایک کشمیری عورت کی سیاسی استقامت

میں تیزی سے کلاس کی طرف لپکی۔ مجھے دیکھتے ہی دروازے پر موجود بھیڑ چھٹ گئی۔ وہ تو میں میٹل ڈیٹیکٹر سے گزری تو انہیں یقین آیا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ پتہ نہیں کیوں وہ ڈر رہے تھے۔ وہی اسلاموفوبیا۔ اور کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ ایک دروازے اور دو ستونوں سے ٹکرا کر میں بخیر و عافیت کلاس روم تک پہنچ گئی۔

میں نے کلاس میں بھی برقعے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ٹیچر نے پہلے پہل تو اعتراض کیا مگر جب میں نے اسے بتایا کہ یہ میری قوم کی امنگ ہے کہ میں آکسفورڈ کے عام طلبہ و طالبات کی مانند جینز جیکٹ پہننے کی بجائے برقع پہنوں اور اسے ایک سیکولر ہونے کی وجہ سے دوسروں کی روایات کا احترام کرنا چاہیے تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد کچھ دیر میں برقعے کے اندر ہی فون پر گیم کھیلتی رہی، پھر کانوں کو ہیڈ فون لگا کر کچھ دیر میوزک سنا۔ آخر میں تھوڑی دیر جھپکی بھی لے لی اور فریش ہو گئی۔ اب میں برقعے کے فوائد کی قائل ہو چکی ہوں۔ کلاس کے بعد تمام لڑکے لڑکیوں نے مجھے گھیر لیا۔ وہ سب اپنے لئے ایک ایک برقع خریدنے کے خواہش مند تھے۔ میں آرڈر لے آئی ہوں۔ اب کل آکسفورڈ کا پورا ڈیپارٹمنٹ برقعے پہن کر گھوم رہا ہو گا اور اس مرتبہ طالبان گولی مارنے آئے تو ان کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ میں کون ہوں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ کہ کوئی طالبانی سوچ رکھنے والا یہ تنقید نہیں کر سکے گا کہ میں نے کیسا لباس پہنا ہوا ہے۔ اسے بھی نہیں پتہ چلے گا کہ میں کون ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  یاور حیات سے ایک یادگار ملاقات

اسی بارے میں

ملالہ یوسف زئی کے لباس پر قابل مذمت تنقید 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 731 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar