قیدی وجاہت مسعود روزنامچہ لکھتا ہے


پاکستان کی 70 سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ہم نے یہاں ہر پل محاصرے کی کیفیت میں گزارا۔ کبھی سوِل و ملٹری بیورو کریسی نے ہمیں محاصرے میں لیا، تو کبھی خود سیاستدان بھی محاصرہ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ کہیں جاگیر دار اور صنعت کار عوام کا محاصرہ کرتے دکھائی دئے تو کبھی ایسا مرحلہ آیا کہ انصاف کے نام پر عدلیہ نے ہمارا محاصرہ کر لیا۔ آج کل ہم پھر محاصرے میں ہیں اور دہشت گردوں کو عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جو ملک غلامی سے نجات پانے اور آزاد فضا میں سانس لینے کے لیے حاصل کیا گیا تھا وہاں ہر شخص کسی نہ کسی مقتدر قوت یا طبقے کا اسیر ہوگیا۔ اور اسیر بھی ایسا کہ اسے اپنی اسیری پر ماتم کرنے یا خود کو اسیر کہنے کی اجازت تک نہیں تھی۔ محاصرہ کرنے والوں نے ہم غلاموں کو حکم دیا کہ ہم خود کو آزاد اور خود مختار سمجھیں اور ہم نے ان کے حکم پر سرِتسلیم خم کر لیا۔ اس ماحول سے نکلنے اور محاصرے کو توڑنے میں کلیدی کردار صحافیوں، ادیبوں اور شاعروں کو ادا کرنا تھا۔ وہ کچھ عرصہ مزاحمت بھی کرتے رہے، انہوں نے کوڑے کھائے، نظر بندیاں اور جلا وطنیاں بھی کاٹیں۔ مگر پھر یوں محسوس ہوا کہ جیسے وہ خود محاصرے کے عادی ہو گئے ہیں یا انہوں نے بھی اوروں کی طرح مایوسی کے عالم میں حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اور وہ ایسا کیوں نہ کرتے محاصرہ کرنے والوں نے تعبیر تو دور کی بات، خواب دیکھنے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ پھر بھی چند سر پھرے ایسے تھے جنہوں نے سچائی کا پرچم سر نگوں نہ ہونے دیا۔ وہ” کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت“ کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے لہو لہو بدن کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور جو دل پہ گزرتی تھی فگار انگلیوں کے ساتھ رقم کرتے رہے۔ انہی میں سے ایک وجاہت مسعود ہے جس نے حوصلہ نہ ہارا اور محاصرے کا روزنامچہ قلم بند کرنا شروع کر دیا۔ اس کا پہلا روزنامچہ آج سے آٹھ برس قبل ”محاصرے کا روزنامچہ“ کے نام سے منظرعام پر آیا تھا۔ یہ وہ کالم تھے جو انہوں نے مشرف دور میں بی بی سی کے لیے تحریر کیے تھے۔ بظاہر تو یہ کالم تھے لیکن درحقیقت یہ پاکستان کی تاریخ کی وہ داستان تھی جو اس سے پہلے منظرعام پر نہیں آئی تھی۔ وہ تمام کالم چونکہ بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئے اس لیے وجاہت مسعود کو آزادی اظہار کا موقع بھی خوب ملا۔ سو انہوں نے ایسی بہت سی باتیں بھی کہہ دیں جو ہمارے آزاد میڈیا میں ناگفتہ رہ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر لیاقت علی خان قتل کیس میں غلام محمد کا یہ جملہ کہ ” لیاقت کے قتل کا سارا الزام مجھ پر ہی کیوں دھرا جا رہا ہے، مشتاق احمد گورمانی بھی تو شریک تھا“۔ یا یہ تفصیل کہ 1965ء کی جس جنگ میں ہم فاتح قرار دیئے جاتے ہیں اس میں بھارت کے 3000 اورہمارے 3800 فوجی مارے گئے، ہوائی جہازوں اور ٹینکوں میں ہمارا دوگنا نقصان ہوا اور بھارت کے 201 مربع میل کے مقابلے میں پاکستان کا 702 مربع میل رقبہ بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ انہی کالموں میں وہ ایبٹ آباد کے ایک مدرسے میں قائم عقوبت خانے سے قیدیوں کی برآمدگی کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایڈیشنل جج نے مولانا الیاس قادری سے تین لاکھ روپے رشوت لے کر مدرسے میں پولیس کی مداخلت کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا۔

اسی بارے میں: ۔  تاریخ کا آخری جنم

وجاہت مسعود کے کالموں کا نیا مجموعہ ”محاصرے کا روزنامہ (1) “کے نام سے حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ اس میں 2012-13ء کے دوران پاکستانی اخبارات میں تحریر کیے گئے کالم شامل کیے گئے ہیں۔ اور کتاب کا نام یہ ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے کالموں کا دوسرا، تیسرا یا شاید اس سے زیادہ حصے بھی منظرعام پر آئیں گے۔

پاکستانی اخبارات میں کالم نگاری کے لیے بہت سی حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں کالم اب عوام کے دلوں تک نہیں بلکہ دربار تک رسائی کے لیے تحریر کیے جاتے ہیں۔ گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ہیلی کاپٹروں پر دورے اور پھر ان کی روداد کالموں کا بنیادی موضوع بن گیا ہے۔ کالم نگار حکمر انوں کے ساتھ اندرون و بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں۔ وزرائے اعلی کی چھاپہ مار ٹیموں کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور پھر سب اچھا کی رپورٹ قارئین کے گوش گزار کر دیتے ہیں۔ نظریات کا بھی اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ دائیں بائیں کی تمیز” لیفٹ رائیٹ” کے چکر میں ختم ہو گئی۔ پاکستان میں آزادی صحافت اب صرف سرکاری اشتہارات اور نیوز پرنٹ کی آزادانہ ترسیل ہی کو سمجھا جاتا ہے۔ اس ماحول میں بھی وجاہت مسعود نے کوشش کی کہ جو کچھ جس حد تک بیان کیا جا سکتا ہے، کر دیا جائے۔ زیرنظر کتاب کا پیش لفظ نامور صحافی اور دانشور آئی۔ اے رحمان نے تحریر کیا ہے۔ اس کے علاوہ خالد احمد، اجمل کمال، عارف وقار کی آراء بھی اس کتاب میں شامل کی گئی ہیں۔ جمہوری ادوار میں تحریر کئے گئے یہ کالم اس نسل کا نوحہ ہیں جنہوں نے اس ملک کو پاکستان کو قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر بنانا چاہا۔ جنہوں نے عوام کے حقوق کی بات کی۔ جنہوں نے آمریت کے خلاف مزاحمت کی اور حقیقی جمہوریت کا خواب دیکھا۔ یہ سب خواب بالآخر چکناچور ہو گئے۔ رائیگانی کا ایک مسلسل احساس ہے جو ان کالموں میں قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ یہ وہ اداسی ہے جو ہمارے وجود کا حصہ بن چکی ہے۔ کچھ آنسو ہیں جو چھلکتے ہیں تو اب انہیں صاف کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ جن کے شانے آنسو بہانے کے لیے ہمیں میسر تھے ان سب کو دہشت گردوں نے ایک ایک کر کے ہم سے جدا کر دیا۔ اور المیہ ہے کہ ہم ان کی موت پر کھلے عام رو بھی نہیں سکتے۔

اسی بارے میں: ۔  \"ہم سب\" پر ٹریفک کیسے جام ہوتی ہے

”قائد کی قبر کس نے کھودی؟، بے وقت کی راگنی، تفصیل میں نروان، حادثہ تھا ملال کچھ تو ہو، ہم اداس کیوں ہیں؟، چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں، لکھو کہ راہوار تھک گئے ہیں، ایک آنکھ ہنستی ہے، نیا سال کئی سال سے نہیں آیا، اٹھو اب ماٹی سے اٹھو جاگو میرے لعل، گنو ہیں قبروں پہ پھول کتنے، اور ہم نے اپنے ارمانوں کو کس مٹی میں بونا ہے“ جیسے کالموں میں وجاہت مسعود اپنے فن کی بلندیوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ وجاہت مسعود کے کالموں کی دو بنیادی خوبیوں کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کے کالموں میں ہمیں تحقیق اور جستجو دکھائی دیتی ہے۔ آج کے کالموں میں تو کیا یونیورسٹیوں کے تحقیقی مقالوں میں بھی اب یہ خوبی نظر نہیں آتی۔ وجاہت ماضی کے دریچوں سے جب حقائق تلاش کرتے ہیں تو ان کی صحت کا بھی مکمل خیال رکھتے ہیں۔ وہ مفروضوں پر بات کرنے کی بجائے اعدادوشمار اور تاریخی حوالوں کے ساتھ اپنے کالموں کو آراستہ کرتے ہیں۔ یہ محنت کا کام آج کے سہل پسند کالم نگار نہیں کرتے۔ اس لیے نہیں کرتے کہ لائبریریوں، پرانے مسودوں اور کتابوں کی چھان بین کرنے بیٹھیں تو ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، گورنرہاﺅس یا وزیراعلی ہاﺅس کا جہاز چھوٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

وجاہت مسعود کے کالموں کی دوسری خوبی حسنِ تحریر ہے۔ خوبصورت اور تخلیقی جملے، ادبی چاشنی، اردو، فارسی اور پنجابی مصرعوں کا برمحل اور برجستہ استعمال ان کالموں میں وہ حسن پیدا کرتا ہے کہ پڑھنے والا بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وجاہت کا شعر و ادب کے ساتھ والہانہ تعلق ہے۔ وہ حادثاتی کالم نگار نہیں۔ وہ وسیع مطالعے اور مشاہدے کے بعد ادب کے راستے صحافت میں آئے۔ اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ صحافت کے وقار میں اضافہ انہی صحافیوں نے کیا جنہوں نے صحافت کی بجائے ادب کو اپنی شناخت بنایا۔ جو صحافت یا کالم نگاری کو نہیں ادب کے ساتھ غیرمشروط وابستگی کو اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فاشسٹ لبرل کا طعنہ مسکرا کر سنتے ہیں، جو روشن دنوں کے خواب دیکھتے ہیں اور ان کی تعبیر کے لیے محاصرے میں رہ کر بھی روزنامچہ تحریر کرتے ہیں۔

بشکریہ گرد و پیش 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔